پاپی ”عُرف قُربِ قیامت کی نشانیاں“


(یہ تحریر ڈاکٹر خالد سہیل اور مرزا یاسین بیگ کی مشترکہ کتاب ”پاپی“ کی فیملی آف دی ہارٹ کے زیرِ اہتمام ٹورانٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ رُونمائی میں پڑھی گئی)

……………………………
! خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار
میرا بچپن لاہور کے ایک قدیم علاقے مزنگ کی گلی نمبر چالیس میں گزرا۔
(قہقہہ) ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں میرا یقین کیجیے میں بھی کبھی بچہ رہا ہوں

یہ وہی مزنگ ہے جس میں نام ور شاعر مِیرا جی بھی، جنھیں ہمارے بعض ’پاک باز‘ دوست ”پاپی شاعر“ قرار دیتے ہوئے انتہائی دل چسپی سے پڑھتے ہیں، اسی بستی میں رہا کرتے تھے۔ خود کو پاپی کہنے والا اور کچھ ہو نہ ہو باشعور ضرور ہوتا ہے۔ وہ گناہ و ثواب اور پاپ اور پن کا فرق سمجھتا ہے۔ ہاں تو شاعر یعنی باشعور مِیرا جی کا گھر ہمارے گھر سے چند ہی گلیوں کے فاصلے پر تھا۔

(قہقہہ) ۔ (مِیرا جی کا حوالہ، آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے، محض اپنی اس تحریر کو معتبر بنانے کے لیے دیا ہے ورنہ اس تحریر سے ان کا کچھ علاقہ نہیں ) ۔

اب ہوتا یہ تھا کہ دوپہر کو جب مائیں بچوں کو دھوپ سے بچا کر بغیر اے سی کے ٹھنڈے کمروں میں سُلا کر خود بھی نیند کی وادیوں میں کھو جاتیں تو یہ شریر بچے گھروں سے نکلتے اور مل کر گلی میں دھما چوکڑی مچانے لگتے۔ اسی دوران میں ہمارے محترم پڑوسی حاجی صاحب ظہر کی نماز پڑھ کر مسجد چاہ جھنڈی سے برآمد ہوتے۔ گلی میں دندناتے اور شور مچاتے ہم بچوں کو گُھورتے اور مٹی سے آلودہ گیند سے اپنا سفید کُرتا اور تہہ بند بچاتے ہوئے کچھ یوں گزرتے گویا پُل صراط عبور کر رہے ہوں اور بحفاظت اپنے گھر کی دہلیز پر پہنچ کر ایک لمبی سانس لیتے، گردن موڑ کر ہماری طرف دیکھتے، دو بار بآوازِ بلند استغفراللہ پڑھتے اور اور پھر فرماتے :

(قہقہہ) ۔ ”اوئے، پاپِیو، بندے بن جاؤ، قیامت نیڑے وے۔“

(پاپیو، انسان بن جاؤ۔ قیامت قریب ہے ) ۔ لیکن تب تک ہم گلی میں لڑھکتے گیند کو پکڑنے کی دُھن میں ان کے جملے اور قیامت دونوں کی زد سے بہت دُور نکل چکے ہوتے تھے۔

ایک بات کا احساس مجھے رہ رہ کر ہوتا ہے کہ اُس دور کے بچے آج کے بچوں سے بہت مختلف تھے۔ اُس دور میں بڑے بزرگ مشوروں اور دعاؤں پر مامور تھے اور بچے برداشت اور ادب پر ۔ اب اسے میں دور حاضر میں علم کے وفور بمعنی اوور فلو کی علامت سمجھوں یا اپنی کم اعمالی کا شاخسانہ کہ اب بچے بھی پاکستان سے بلاناغہ ایسے عبرت خیز پیغامات ارسال کرتے ہیں کہ یہ بندہ ناچیز جو خط کے اخیر میں خود کو محض روایتاً عاصی یعنی پاپی لکھا کرتا تھا، قیامت سے پہلے ہی خود کو کٹہرے میں کھڑے کانپتے ہوئے دیکھنے لگتا ہے۔

(قہقہہ) ۔

تاہم آج یعنی اس وقت اگر آپ مجھ میں سرایت خفی کپکپی کو محسوس کر رہے ہیں تو یہ میرے خشوع و خضوع کا کمال نہیں بلکہ زیر نظر اس ’پاکیزہ‘ کتاب کی تاثیرِ جلی کی ایک جھلکی ہے۔ یہ کتاب جس کا نام ”پاپی“ ہے اور جس کا انتساب ہم سب کو اپنے حلقے میں سمیٹ لینے کے درپے ہے، یوں تو یہ ساری کی ساری کتاب قاری کی توجہ چھین لینے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر اس کے اڑتالیس ابواب کے عنوانات میں کشش کا جوہر اور بھی نمایاں ہے۔ اور یہ ضرور کسی ’پاپی‘ مصنف کی شرارت ہے وگرنہ اس کتاب کے مرکزی کردار تو قطعی معصوم صوفی ہیں۔ ایک منزل عرفان سے ہم کنار ہے اور دوسرا یا دوسری جنت کی دربانی کے شعبے سے منسلک ہے۔

جنت کے دروازے تک رسائی کے فردائی امکانات پر بھی بات کی جا سکتی ہے مگر ابھی تو میرے سامنے ماضی کا در وا ہو رہا ہے۔ جس میں میرے مہربان شاعر دوست خالد احمد کشف المحجوب پڑھ رہے ہیں۔ واپڈا کے تعلقات عامہ کے دفتر میں بیٹھے، عین دفتری اوقات میں۔ میرے استفسار پر زیر مطالعہ باب میری آنکھوں کے سامنے کر دیتے ہیں۔

صفحہ کے اوپر باب کا عنوان درج ہے : ’ملامتی صوفی‘ ۔

میں اس باب کوپر سرسری نظر ڈالتا ہوں اور اپنی کم فہمی کا اعلان و اعتراف کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ وہ وضاحت کرتے ہیں۔ پھر صوفی اور درویش پر بات ہوتی ہے۔ اور مجھے پھر سے گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے ابتدائی ایام یاد آ جاتے ہیں۔

کالج میں میرے فارسی کے استاد خواجہ عبدالحمید یزدانی صاحب نے سعدی کی گلستان کا باب دوم در اخلاق درویشان کا آغاز کرتے ہوئے اس لفظ کے جو معنی بتائے اور وضاحت کی ان میں سے ایک یہ تھی کہ یہ لفظ دُر واش سے دُر وش ہوا یعنی موتی جیسا۔ جیسے ہم نام رکھتے ہیں ماہ وش یا مہوش یعنی چاند جیسی۔ بہرحال پھر یہ لفظ دُرویش ہو گیا۔ میں نے اس مفہوم کا ذکر والد صاحب سے کیا تو مسکرا کر فرمانے لگے کہ دُرویش کی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی اپنے تک محدود نہ رکھے۔ بانٹتا رہے۔ سو ان معنوں میں درویش وہ ہے جو موتی یا جواہر لٹاتا ہے۔ موتیوں کی بارش کرنے والا۔ یہ مفہوم مجھے اتنا پیارا لگا کہ مجھے درویشوں کے تصور ہی سے پیار سا ہو گیا۔

ملامتی صوفی اور درویش یا دُرویش کے اس تصور کے ساتھ جب میں کینیڈا میں وارد ہوا تو اس کی عملی تصویر سے بالمشافہ ملاقات کی صورت گری ہوئی۔ میرا اشارہ سٹیج پر رونق افروز دو پاپیوں، میرا مطلب ہے، دو ہستیوں میں سے ایک کی جانب ہے جنھیں ہم خالد سہیل کے نام سے جانتے ہیں۔ ستّر سے زیادہ کتب ان کے کِلکِ جو ہرفشاں سے رقم ہو کر دنیائے علم و ادب کو مالا مال کرچکی ہیں۔

اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تشریف فرما ہیں معروف مزاح نگار اور ٹیلی کاسٹر مرزا یاسین بیگ صاحب جن کے فن و شخصیت کی چہکاروں سے ہم سب اکثر محفوظ ہوا کرتے ہیں۔ تاہم ابھی اس سوچ میں گُم ہوں کہ پاپی کی تخلیق میں ملوث یہ دو حضرات آخر چاہتے کیا ہیں؟

بیگ صاحب رضوانہ کا روپ دھار کر اور خالد سہیل عرفان بن کر کس سفر پر روانہ ہوئے اور اب وہ اپنے اس مکتوبی سفرنامے کی ذریعے ہمیں کہاں کی سیر کروانا چاہتے ہیں؟

گزشتہ دنوں ڈاکٹر صاحب نے یہ کتاب عطا کی تو میں نے فوری طور پر اس کی ورق گردانی شروع کردی۔

کتاب کے نام پر نظر پڑی اور اس پر مرزا یاسین بیگ اور ڈاکٹر خالد سہیل کا نام ساتھ ساتھ دیکھ کر میں سمجھا یہ کوئی عرفِ عام والی شریر کتاب ہے اور پھر خیال آیا کہ مرزا صاحب کہانی اور ناول لکھنے کے خواہاں تھے یہ بجا مگر سوال یہ کہ ہمارے درویشِ موصوف نے انھیں رضوانہ بننے پر آمادہ کیوں کیا۔ انھوں نے بیگ صاحب کو اپنا پرانا تخلیقی خواب شرمندہ تعبیر کرنے کا موقع دیا یا چکمہ اب اس کا فیصلہ کون کرے۔ ہمارے درویش طبعا جیمنائی ہیں اور کارِ محبت میں تسلسل کے قائل ہیں۔ ایک مفروضے کے مطابق وہ غالباَ سوکھے کے دن تھے۔ کوئی اور محبوبہ دست یاب نہ تھی اور درویش نے بیگ صاحب کو رضوانہ کا لباس پہنا کر محبت کی خالی جگہ پر کرلی۔ مرزا بیگ صاحب یوں بھی ”جگہ خالی ہے“ کا اعلان کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

کتاب کھولتے ہی سالِ اشاعت پر نگاہ پڑی 2020۔ اور میں پھر سوچنے لگا کہ یہ تو ناقابلِ فراموش سال تھا۔

(قہقہہ) ۔ دو ہزار بیس میں دو اہم واقعات رونما ہوئے ایک کووڈ نامی عالمی وبا پھیلی اور دوسرے ہمیں پاپی نے آ لیا۔ ہے نا عجیب بات۔

جن احباب کے لیے مکتوباتی ناول یا خطوط پر مشتمل افسانے کا تصور کچھ نیا ہے ان کے لیے عرض کردوں کہ

عالمی ادب میں مکتوباتی ناول کی تاریخ کا آغاز پندرہویں صدی عیسوی میں ایک ہسپانوی ناول سے ہوتا ہے۔ ایسے ناول فرانسیسی جرمن اور انگریزی زبانوں میں بھی لکھے گئے اور ہماری اردو زبان میں بھی۔ فرانسیسی زبان میں ایڈمی بُوغسو یا بُرسالٹ اور جرمن میں گوئٹے کی ایسی تخلیقات مقبول ہوئیں۔ انگریزی زبان میں پہلا مکتوباتی ناول جو بغیر مصنف کے نام کے سن سولہ سو چوراسی میں لندن سے شائع ہوا تھا اسے متنازعہ طور پر ایفرا بیہن سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس کا نام ہے ”ایک شریف زادے اور اس کی ہمشیرہ کے محبت نامے“ ۔

جہاں تک اردو میں فرضی خطوط پر مبنی تخلیقات یا طویل مکتوباتی افسانوں اور ناولوں کا تعلق ہے تو اس کی ابتدا بھی لگ بھگ سو سال پہلے ہو چکی تھی۔ وہ قاضی عبدالغفار کے ”لیلیٰ کے خطوط“ ہوں یا میرزا ادیب کے ”صحرا نورد کے خطوط یا پھر یزدانی جالندھری کے“ قیدی کے خطوط ”یا“ شاگردہ کی ڈائری ”، یہ سب رومانی افسانے ہی تو ہیں مگر یک طرفہ خطوط کی صورت میں۔

ایسا بھی نہیں کہ ایک سے زیادہ مصنفین نے مل کر ایسے ناول نہ لکھے ہوں مگر ان میں کرداری تقسیم یوں نہیں کی گئی جیسے پاپی کے لیے کی گئی ہے یا پھر وہ ناول خطوط کے بجائے مواد کے دیگر ذرائع یا صورتوں پر مشتمل تھے۔ جیسے سن دو ہزار چھ میں پاکستان سے شائع ہونے والا مرزا اطہر بیگ کا مقبول فلسفیانہ ناول ”غلام باغ“ جس میں اسی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف دستاویز وغیرہ کی فرضی نقول شاملِ مواد کی گئی ہیں۔

تفنن برطرف ایک بات بہرحال ہم سنجیدگی اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ناول پاپی مذکورہ صنفِ اظہار میں ایک گراں قدر اضافہ ہے کیونکہ یہ کئی اعتبار سے دیگر اردو مکتوباتی افسانوں اور ناولوں سے مختلف ہے۔ پاپی میں شامل دوطرفہ خطوط میں پیغام رسانی کے لیے روایتی خط و کتابت کے بجائے ای میل کا میڈیم استعمال کیا گیا ہے۔ پھر ان خطوط میں محض رومانویت ہی نہیں پوری جدید زندگی کی تصویر ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔ ان میں آج کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کی عکاسی بھی موجود ہے اور زندگی اور نظریات کے بارے میں صنفی نقطہ ہائے نظر کی ترجمانی بھی۔

اور یہ ترجمانی بھی کچھ ایسے فطری پیرائے میں سامنے آتی ہے کہ کردار جیتے جاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کتاب ایک فکر انگیز طویل فاصلاتی مکالمہ ہے جو قاری پر انسانی تاریخ اور نفسیات کے در بھی کھولتا ہے اور طبقاتی مجبوریوں اور کرداری حوصلہ مندیوں کی داستان بھی سناتا ہے۔ یہ سلسلہ وار خطوط عورت اور مرد کی نفسیات، سائنس اور فلسفے کی راہداریاں عبور کرواتے ہوئے قاری کو جنس، محبت اور دوستی کی ایک مربوط کہانی کے دروازے پرلے جا کھڑا کرتے ہیں جہاں اسے مشرق و مغرب کی زندگی کے امتیازات، شخصیاتی تغیرات اور مذہبی عقائد و تصورات کے دریچے بھی کُھلتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس ناول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ رضوانہ اور عرفان پاکستان میں اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ عرفان کینیڈا میں آ بستا ہے اور ایک ایسے انسان پسند تصور کے مطابق زندگی گزارنا شروع کرتا ہے جس کا تصور بھی پاکستان میں رہنے والی رضوانہ کے لیے کسی گناہ سے کم نہیں۔ حالات و واقعات کروٹ لیتے ہیں اور یہ دونوں ایک بار پھر آمنے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں مگر یہاں کینیڈا میں۔ عرفان رضوانہ کو اپنے لادینی تصورِ حیات اور اپنی بیش قیمت آزاد روی کے حامل طرزِ بودو باش سے بڑے فخر سے متعارف کرواتا ہے اور اس کی افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے تاریخ، فلسفہ، فلم، شعر و ادب، ماحولیات غرض کہ ہر شے کا حوالہ دیتا ہے مگر رضوانہ کو قائل نہیں کر پاتا۔ یوں ان کے رشتے کو رومانس کی آئسنگ سے لذت اندوز ہوئے بغیر محض دوستی کے کیک پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ عرفان کے الفاظ میں کہوں تو :

Friendship is a cake and romance is the icing.
خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار

جدید روایت میں رضیہ غنڈوں سے بچی تھی یا نہیں معلوم نہیں مگر یہاں پاکستانی رضوانہ کو ایک شریف کنیڈین سے صاف

(قہقہہ) ۔ بچا لینے کا سہرا سراسر ہمارے بیگ صاحب کے سر ہے۔ جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ویسے بھی اگر دو رانِ تحریر وہ میتھڈ ایکٹنگ
Method acting

(قہقہہ) ۔ کے اصول کے تحت پوری طرح رضوانہ کے کردار میں ڈھل چکے تھے تو ظاہر ہے اپنی عزت بچانا ان کا فرض بھی تھا۔

سچ کہُوں تو عرفان قمر کی محبت کے پُرلطف واقعات کے رومان پرور حوالے پڑھتے ہوئے ایک بار تو ضرور مجھے اپنے وہ بچپن کے پڑوسی حاجی صاحب یاد آ گئے۔ اگر وہ یہ سب پڑھ سُن لیتے تو ضرور اپنا سفید تہہ بند سنبھالتے ہوئے استغفراللہ پڑھتے، اور کہتے

”اوئے، پاپِیو، بندے بن جاؤ، قیامت نیڑے وے۔ “
(پاپیو، انسان بن جاؤ۔ قیامت قریب ہے )
(قہقہہ) ۔
۔ ۔

پاپی پر یہ مضمون مکمل کرتے ہی میں نے سب سے پہلے اپنی بیٹی رابعہ کو سنایا جو فائن آرٹس کی ذہین طالبہ ہے۔ مضمون سننے کے دوران میں میں نے دیکھا تھا کہ رابعہ زیرِ لب مسکرا رہی ہے۔ مضمون کا آخری جملہ سنا لینے کے بعد میں نے داد طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ گویا ہوئی:

”پاپا، مجھے لگتا ہے کہ میں ان حاجی صاحب کو جانتی ہوں۔“

”وہ کیسے، بیٹی، یہ تو میرے بچپن کی بات ہے اور آپ کینیڈا میں پیدا ہوئیں اور زندگی میں محض ایک بار پاکستان گئی ہیں دادی جان سے ملنے۔ وہ بھی چند برس قبل جبکہ حاجی صاحب مدت ہوئی اللہ کو پیارے ہوچکے۔ تو آپ کیسے جانتی ہیں انھیں؟“

میں نے حیرت سے پوچھا۔
رابعہ نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بس مسکرا کر میری طرف دیکھے جا رہی تھی۔
مجھے تو پتہ نہیں کیوں؟
اگر آپ احباب میں سے کسی کو پتہ ہو تو مجھے بھی بتا دیجیے۔ شکریہ۔

Facebook Comments HS