ٹیکس کی بھرمار سے افلاس زدہ سماج ہی جنم لیتے ہیں!


ہم بطور پاکستانی شہری کس بات پر فخر کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟ کیا محض اس بات پر کہ پاکستانی ریاست ”ایٹمی طاقت“ کا حامل ایک ملک ہے جو اسے دیگر اسلامی ممالک میں نمایاں مقام دیتا ہے۔ یا پھر اس بات پر کہ اسے ایک ”اسلامی فلاحی ریاست“ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اسلام کے عروج کے ابتدائی زمانے میں ”ریاست مدینہ“ کی بنیاد رکھی گئی جو کہ خالصتاً عام آدمی کے اعتبار سے ایک ”ٹیکس فری“ ریاست تھی لیکن امیروں اور صاحب استطاعت افراد پر ”زکواۃ“ فرض تھی، اسی طرح زرعی پیداوار پر ”عشر“ فرض تھا، یعنی ریاست مدینہ میں مالدار اشرافیہ پر ٹیکس عائد تھا، تو اس طرح تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ ”ریاست مدینہ“ مسلمانوں کی پہلی ”فلاحی ریاست“ تھی۔

کیا اس کے بعد مسلمان کبھی کوئی فلاحی ریاست قائم کر پائیں ہیں؟ آج پورے عالم اسلام پر نظر دوڑائی جائے تو کہیں بھی ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست نظر نہیں آئے گی، لیکن اس کے باوجود عالم اسلام کی ان ریاستوں میں حکومتی سطح پر عوام کی فلاح و بہبود کو کبھی نظر انداز نہیں کیا گیا، حالانکہ باوجود بعض ممالک میں تو عوام کو سیاسی اور اظہار خیال کی آزادی تک میسر نہیں ہوگی، یعنی ان ممالک میں عوام کو بنیادی سیاسی حقوق کی عدم دستیابی کا سامنا تو ہو سکتا ہے لیکن سماجی اعتبار سے انھیں تمام جملہ بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں جو کسی بھی انسان کے لیے زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں جن میں ”روٹی، کپڑا اور مکان“ سر فہرست ہیں جبکہ تعلیم و صحت، روزگار کی فراہمی، جان و مال کا تحفظ، سستے اور فوری انصاف جیسی ناگزیر سہولتیں بھی نمایاں ہیں۔

اب آئیے ہم پاکستانی ریاست کے فلاحی ریاست ہونے کے دعوے کا جائزہ لیتے ہیں، یقیناً یہ جائزہ اپنے نتائج کے اعتبار سے ہمیں مایوسی اور محرومی کی ایک ایسی داستان سنائے گا کہ ہم خود سے شرمندہ ہوتے نظر آئیں گے۔ کہا جاتا ہے بلکہ مطالعہ پاکستان میں تو یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا قیام ”کلمہ طیبہ“ کے نام پر عمل میں لایا گیا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر اسے ایک اسلامی فلاحی ریاست ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں عوام کی فلاح و بہبود تو دور کی بات بلکہ اسے ”جینے“ کے لالے پڑے ہیں۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر ریاست مدینہ ٹیکس فری ریاست تھی تو پاکستان ایک ”ٹیکس بھری ریاست“ ہے جو اپنی عوام کے ساتھ ”سوتیلی اولاد“ جیسا سلوک کرتی ہے۔ جہاں ”روٹی، کپڑا اور مکان“ جیسی بنیادی سہولت سے بھی ریاست منہ موڑے کھڑی ہے، تعلیم و صحت، روزگار، جان و مال کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی جیسے بنیادی عوامل بھی ریاست (حکمرانوں ) کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ”کالے دھن“ کی اس قدر آمیزش کردی گئی ہے کہ پاکستان میں غریب آدمی تو دور کی بات مڈل کلاس طبقہ کے لیے بھی اپنا گھر بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

تعلیم و صحت کی سہولتیں سرکاری سطح پر اس قدر ناقص ہیں کہ لوگ اس شعبے میں نجی سیکٹر پر انحصار کرنے لگے ہیں، انصاف کی فراہمی کا عالم تو یہ ہے کہ یہاں انصاف ہوتے نہیں بلکہ بکتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، رہی بات جان و مال کی حفاظت تو بڑے شہروں میں ”اسٹریٹ کرائم“ تو چھوٹے شہروں میں بڑے شہروں کی طرح چوری چکاری اور ڈکیتی کی وارداتیں عام ہیں جبکہ قتل و غارت کی ہر قسم کی وارداتیں یہاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ منشیات فروشی سے لے کر ضمیر فروشی تک کے سوداگر یہاں دستیاب ہیں، رئیل اسٹیٹ مافیا سے لے کر سیاسی و معاشی غارت گروں تک ایک ایسی ”اشرافیہ“ جنم لے چکی ہے جو ریاست کو ہر صورت فلاحی ریاست بننے سے دور رکھنا چاہتی ہے جبکہ رہی سہی کسر ”آئین شکنی“ جیسے عوامل نے پوری کر رکھی ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ مضمون ہذا میں ریاست سے مراد ”دھرتی“ نہیں ہے بلکہ یہاں ریاست سے مراد ”طرز حکومت“ ہے۔ رہی بات دھرتی کی تو دھرتی اور سپوت کا رشتہ انمول ہوتا ہے جس کی خوشی اور غم سانجھے ہوتے ہیں، بشرط یہ کہ خوشیوں اور غموں کا یہ معاملہ حقیقی مراحل سے گزرا ہو۔ ہم سب اپنی دھرتی سے محبت کرتے ہیں، یعنی حب الوطنی سے سرشار ہیں اس پر کسی کو رَتی بھر بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔

جہاں تک ”ٹیکس بھری ریاست“ کی بات ہے تو اس ضمن میں بہت سی مثالیں اور دلیلیں دی جا سکتی ہیں لیکن یہاں صرف ”بجلی کے بلوں“ کی بات کی جائے تو حجت تمام ہوجاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف 48 روپے 84 پیسے تک پہنچ چکا ہے اس طرح ٹیکسوں کو ملا کر سلیب کے حساب سے فی یونٹ ٹیرف کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے حالیہ اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بجلی کے صارفین فی یونٹ 8 روپے ٹیکس دیتے ہیں اس کے علاوہ بھی دیگر 7 ٹیکس بجلی صارفین سے لیے جاتے ہیں جن میں جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، ایڈوانس انکم ٹیکس، ایکسٹرا سیلز ٹیکس اور الیکٹری سٹی ڈیوٹی سمیت ٹی وی فیس بھی شامل ہیں۔

دنیا بھر کے مقابلے میں مہنگی ترین بجلی خریدنے والے پاکستانی صارفین کو ”لوڈ شیڈنگ“ کا عذاب بھی سہنا پڑتا ہے، اس عذاب کا کوئی مداوا بھی نہیں ہے۔ نہ بجلی کی ترسیلی کمپنیوں اور حکمرانوں کو اس پر کوئی شرمندگی ہے۔

یہاں سعودی عرب جیسے ملک کی مثال پیش کروں گا جہاں گزشتہ دنوں بجلی کی طویل بندش پر صارفین کو 2 ہزار ریال فی میٹر ہرجانہ ادا کیا گیا ہے۔ سعودی اخبار کے مطابق سعودی صوبے نجران کے علاقے شرورہ میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

سعودی میڈیا کے مطابق قواعد کے تحت بجلی کا تعطل اگر 6 گھنٹے سے تجاوز کر جائے تو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کی جانب سے صارف کو ہرجانے کے طور پر 200 ریال ادا کرنے پڑتے ہیں، اگر بجلی کی بحالی میں مزید تاخیر ہو تو ہر اضافی گھنٹے پر متاثرہ صارف کو 50 ریال مزید ادا کرنا ہوتے ہیں۔ یہ مثال سعودی عرب کی ہے جہاں جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت ہے اور یہاں شہریوں کو بنیادی سیاسی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں لیکن سماجی بنیادی سہولتوں کے اعتبار سے اخلاقیات پر مبنی معیار موجود ہے۔

اگر محض بجلی کے اعتبار سے سعودی عرب جیسا اخلاقی معیار پاکستان میں اپنایا جائے تو یہاں لوڈ شیڈنگ کی ستائی پبلک کو کبھی بجلی کا بل بھی نہ بھرنا پڑے کیونکہ بل تو سارا ”ہرجانے“ سے پورا ہو جایا کرے گا۔ عوام اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ یہاں ایسا کوئی نظام آئے گا، اگر آ بھی گیا تو ریاست آپ کی جیبوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی آڑ میں ڈاکا ڈالے گی، جہاں ہر 15 دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔

ایسی ریاست جہاں پبلک ہر مہینے بجلی کے جھٹکے کھاتی ہو اور آئے روز اس پر پیٹرول بم برستے ہوں وہ کیسے اپنے حواس میں رہ سکتے ہیں جبکہ ایسے میں آپ اس سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ریاست پر فخر بھی کرے، چلو کرلیتے ہیں، کیا اس بات پر کہ یہاں عام آدمی افلاس زدہ ہے؟ اگر ریاستی ٹیکس کی بھرمار اسی طرح سے جاری رہی تو پھر ایسا ہے کہ ہم افلاس زدہ سماج کی بنیاد رکھ رہے ہیں یا رکھ چکے ہیں۔

Facebook Comments HS