امی جی ڈر لگتا ہے

مجھے جب بھی سوتے ہوئے خواب میں ڈر لگتا تو میں ہمیشہ امی جی سے کہتا امی جی ڈر لگتا ہے۔ جاگتے میں الحمدللہ میں کبھی نہیں ڈرا۔ بے شمار بیوقوفیاں کی بے خوف ہو کر کیں۔
امی جی مجھے مختلف دعائیں پڑھنے کو کہتیں۔ اور جو مجھے آتیں تھیں پڑھ لیتا تھا۔ امی جی کو اللہ پاس گئے تیرہ سال سے زیادہ ہو گئے۔ سوتے ہوئے خواب میں ڈر اب بھی لگتا ہے۔ پر میں کسی کو بتاتا نہیں۔ میں بے بسی سے مرنا نہیں چاہتا اور مجھے مرنے سے ڈر بھی نہیں لگتا۔ پر خواب میں ہمیشہ بے بس ہوجاتا ہوں۔ اگر مجھے کوئی سوئے ہوئے کو دیکھے تو محسوس کر سکتا ہے کہ میں سویا ہوا ڈر رہا ہوں۔ کئی دفعہ تو آوازیں بھی دیتا ہوں۔
آج پھر ڈر کر اٹھا تو میرے بچوں کی ماں کہنے لگی کیا ہوا۔ عرض کی خواب میں ڈر گیا کہنے لگیں جب ڈر لگے فوراً آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دیا کریں۔ عرض کی سوتے ہوئے خواب میں کیسے۔ جب جواب نہیں بن پایا خود دوبارہ سو گئی ہے اور میں جاگ رہا ہوں کہ آنکھ لگے گی تو پھر ڈر لگے گا۔ میرا ہر خواب ایک مکمل فلم ہوتی ہے اگر اٹھ جاؤں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جب سوؤں گا وہیں سے شروع ہو جائے گا۔ آیت الکرسی اس لیے نہیں پڑھتا کہ کہیں خواب ادھورا نہ رہ جائے۔
پچھلے مہینے بجلی کا بل چوبیس تاریخ کو آیا کسی سے پیسے لے کر جمع کروایا تنخواہ اٹھائیس تاریخ کو آئی ادھار اتارا اور گھر کا سامان لائے اور انتیس تاریخ کو تنخواہ ختم ہو گئی کوئی بات نہیں زندگی مناسب سی گزر رہی ہے۔ الحمدللہ آج نیا بل آ گیا ہے جو کہ میری تنخواہ کا ففٹی پرسنٹ ہے۔ جمع تو کروا دیں گے ادھار لے کے۔ پر اگلے مہینے گھر کیسے چلے گا یہ ڈراؤنا خواب اب ہر پاکستانی جاگتے میں دیکھ رہا ہے۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ حکومت جس کی بھی آ جائے ان حالات میں کوئی فرق نہیں آ سکتا اس لیے سیاست پر لکھتا نہیں ہوں۔
اور نہ بحث کرتا ہوں۔ میں شکار تبھی کھیلتا ہوں جب گن میرے ہاتھ میں ہو۔ میں کبھی بھی شکار دیکھنے نہیں جاتا کہ کوئی شکار کھیلنے جائے اور میں ساتھ دیکھنے جاؤں۔ مجھے یہ بھی بے بسی ہی نظر آتی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی ایک ویڈیو جس میں ایک نوجوان چھاتی چوڑی کر کے پولیس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور پولیس اس کو گولی مار دیتی ہے۔ وہ بھاگتا نہیں ہے۔ وہ نوجوان کوئی اور نہیں تھا میں ہوں۔
میں کسی بھی سیاسی اور غیر سیاسی دھرنے، احتجاج، جلسہ، جلوس میں نہیں جاتا۔ کیونکہ بھاگنا مجھے نہیں آتا مجھے پتہ ہے وہاں سب سے پہلے مرنے والا میں ہی ہوں گا۔ مجھے خواب بھی یہی آتے ہیں۔ پر میں کیا کروں۔
سوشل میڈیا کے مختلف گروہوں کا میں ممبر ہوں کچھ گروپ کے لوگ زندگی گزار بیٹھے ہیں اور ساری زندگی کچھ نہیں کیا اب ان کے اندر پاکستانیت جاگنا شروع ہو گئی ہے۔ میرے والدین دونوں اللہ پاس ہیں اکثر دوست جن کے والدین ایک یا دونوں حیات ہیں ان سے دعاؤں کی درخواست کرتا رہتا ہوں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی میری طرح یتیم مسکین ہوتے جا رہے ہیں۔ اب دعا کرنے والے ہاتھ کم ہوتے جا رہے ہیں اس لیے روزانہ ہی خواب میں ڈر جاتا ہوں۔ اور اٹھ کر دل ہی دل میں کہتا ہوں امی جی ڈر لگ رہا ہے۔ پر اب نہ تو کوئی دعا بتاتا ہے کہ یہ پڑھ کر سو جاؤ اور نا ہی کوئی یہ کہتا ہے کہ سائیڈ بدل کر سو جاؤ۔
ادھار لے کر زندگی گزارنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے پاکستان کی حکومت چلانا۔ کیونکہ حکم ادھار دینے والے کرتے ہیں بجلی، پانی، گیس، پانی کے نرخ وہ فکس کرتے ہیں اور بدنام حکومت وقت ہوتی ہے۔ 1947 سے لے کر آج تک ایک ہی مادر ملت آئیں جو کہ محترمہ فاطمہ جناح صاحبہ تھی ان کے انتقال کے بعد اب حکومت سیاسی ہو یا فوجی کس ماں کو بتائے کہ اس کو حکومت چلاتے ڈر لگتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے حکومت میں آ کر آپ پیسے کما سکتے ہیں پر سجنوں اے تے دسو ادھار لے کر پیسے کیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ سارا ملک ادھار پر چل رہا ہے۔ اور ہم ادھار لے کر ترقی کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ میرا تو ہاسا ہی نکل جاتا ہے جب کوئی ایک تاریخ بتا کر کہتا ہے کہ ہم اتنے سال بعد ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائیں گے۔ جب وہ سال آتا ہے تو ہم پر مزید قرض چڑھ جاتا ہے۔
میں بھی دوست احباب سے ادھار لے کر شمسی توانائی کا پلانٹ لگانا چاہتا ہوں تاکہ بل کچھ قابو میں آئے پر مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ گرین میٹر کے لئے جو ایک لاکھ روپے واپڈا آفس کو رشوت دینی ہے وہ ادھار لے کر کیوں دوں۔ بس یہی ایک لاکھ میرا شمسی توانائی کا پلانٹ نہیں لگنے دیتا۔
مجھے میرے بڑے بھائی اور دوست سردار محمود مرحوم نے ایک دفعہ بتایا کہ جرمنی نے سیلاب متاثرین کے لئے امدادی پیکج میں پل دیے کہ جہاں سیلاب آئے ان عارضی پلوں کو بنا کر لوگوں کو نکالا جا سکے۔ متعلقہ محکمے نے پل لینے سے انکار کر دیا اور کہا ہم پل خرید سکتے ہیں امداد میں نہیں لے سکتے۔ وجہ کیا ہے تو پتہ چلا خریدنے میں کمیشن ملتا ہے۔ جرمنی نے اربوں روپے کے پلوں کے ساتھ وہ کمیشن بھی ادا کیا تاکہ ان کی امداد قبول کی جا سکے۔ یہ ہے میرا ترقی کرتا پاکستان۔
سیاسی یا فوجی تقریر ہم ہر وقت سننے کے لئے تیار ہیں پر اب ڈر لگتا ہے سوتے میں اور جاگتے میں۔ اوپر سے امی جی بھی اللہ پاس ہیں کس کو بتائیں کہ ڈر لگتا ہے۔ حکومت وقت تو ہماری ماں بننے کو تیار نہیں۔ اور فلموں میں ہی سنا ہے یہ دھرتی ماں ہے۔ پر میری ماں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے کچھ تو انصاف کر بے شک سوتیلی ماں بن کر ہی کر لے۔

