گدھ نما مرد: عورتوں کے حقوق کا استحصال


 

آدمی کی فطرت میں جو لالچ، حرص اور عورتوں کی طلب ہے، اس کا احوال ایک لمبی تاریخ کا حامل ہے۔ قدیم زمانوں سے لے کر آج تک، مرد نے اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لئے کئی عورتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ رویہ انسانیت کی اخلاقی حدود کو پار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور مرد کو ایک گدھ کی مانند بناتا ہے جو ہمیشہ بھوک مٹانے کی کوشش میں رہتا ہے۔

آدمی کی فطرت میں عورتوں کی طرف کشش ایک قدرتی بات ہے۔ مگر جب یہ کشش ایک حد سے بڑھ جاتی ہے اور انسان اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لئے ہر حد پار کرنے لگتا ہے، تو وہ گدھ کی مانند بن جاتا ہے۔ گدھ ایک ایسا پرندہ ہے جو مردار خور ہوتا ہے اور پیٹ بھرنے کے بعد بھی لالچ سے مغلوب ہوتا ہے۔ اسی طرح، کچھ مرد اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ہمیشہ مزید عورتوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

مردوں کے لالچ اور ہوس کی شکار ہونے کے بعد بہت سی خواتین نے مشکلات اور اذیتیں برداشت کی ہیں۔ ان کے ساتھ برا سلوک، جذباتی استحصال اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مرد اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے خواتین کو نشانہ بناتے ہیں، انہیں اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، اور ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ رویہ خواتین کی عزت اور خود داری کو مجروح کرتا ہے۔

معاشرتی پہلو سے دیکھا جائے تو ایسے مرد معاشرے کے لئے ایک ناسور بن جاتے ہیں۔ وہ عورتوں کو ایک شے سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور ان کی عزت، خودداری اور حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ ان کے اس رویے سے نہ صرف عورتیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ پورا معاشرہ بھی بدنام ہوتا ہے۔ عورتوں کو ہوس کا شکار بنانے والے مرد معاشرتی روایات اور اقدار کو پامال کرتے ہیں۔

اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسے مرد ایک سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ اپنے لالچ کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ غیر انسانی بھی ہے۔ ایسے مردوں کو سمجھنا چاہیے کہ عورتوں کی بھی عزت اور حقوق ہوتے ہیں اور انہیں صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے استعمال کرنا سراسر غلط ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسے مرد عموماً اپنے اندر کی خالی جگہ کو بھرنے کے لئے کئی عورتوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کی یہ خالی جگہ محبت، توجہ یا قبولیت کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ عورتوں کے ذریعے اپنی اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ایک عارضی حل ہے اور انہیں اپنی اصل مسائل کا سامنا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

آدمی بطور گدھ ایک ایسا موضوع ہے جو ہماری معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی حدود کو چیلنج کرتا ہے۔ ہمیں ایسے مردوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ان کی اصلاح کے لئے اقدامات کرنے چاہیے۔ عورتوں کو بھی اپنے حقوق اور عزت کا دفاع کرنا چاہیے اور ایسے مردوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

ہمیں امید ہے کہ معاشرہ اس مسئلے کو سمجھتے ہوئے اس کے حل کے لئے اقدامات کرے گا۔ عورتوں کو بھی اپنی حقوق کے بارے میں آگاہ رہنا چاہیے اور ایسے مردوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ جب ہم سب مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں گے تو یقیناً ہم ایک بہتر اور محفوظ معاشرہ بنا سکیں گے۔

Facebook Comments HS