منوں مٹی تلے سوئے انسانوں پر منرل واٹر، وظائف روحانی اور مٹھائیوں کی برسات
گزشتہ دنوں قبرستان جانے کا اتفاق ہوا، محرم الحرام کی وجہ سے تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، مرد و خواتین جوق در جوق آتے جا رہے تھے۔ قبریں چراغوں، اگربتیوں اور پھولوں کی پتیوں سے مزین تھیں اور بہت سے تو وہاں پر موجود افراد میں شرینی وغیرہ بھی بانٹ رہے تھے۔ مرد و خواتین قبروں کے سرہانے مقدس آیات پڑھنے اور دعا و مناجات میں مصروف تھے۔
ایک منظر نے تو خاصا حیران سا کر دیا، کچھ افراد قبروں کے سرہانے لگے پودوں اور کتبوں کو منرل واٹر سے دھونے اور پودوں کو پانی دینے میں لگے تھے۔
یہ سب مناظر دیکھ کر ایک لمحے کے لیے سوچوں میں کہیں کھو سا گیا کہ کیا زندہ انسانوں کو بھی اتنی وقعت یا اہمیت دی جاتی ہے؟
دوسرا سوال یہ پیدا ہوا کہ منوں مٹی تلے دفن ان افراد کو جو نجانے کب کے زمین کا رزق بن چکے کو ان سب پرتعیش قسم کے انتظام و انصرام کی کوئی ضرورت ہوگی اور کیا اس قسم کے بندوبست سے ان کو کوئی نفع پہنچے گا؟
قبروں کے ارد گرد موجود افراد کے چہروں سے یہ حقیقت واضح طور پر جھلک رہی تھی کہ وہ اپنی تشنہ آ روزوں کا کفارہ ادا کرنے آئے ہوئے ہیں، کبھی یہی انسان ان کے بیچ رہا کرتے تھے کون جانے کہ یہ انہی کے بیچ اور انہی کے ہاتھوں کس کس اذیت سے گزرے ہوں گے؟
اور ممکن ہے زندہ انسانوں کا یہ جم غفیر اپنے اپنے مرحومین کے ساتھ زندگی میں ہونے والی زیادتیوں کا کفارہ ادا کرنے ہی آئے ہوں مگر اس اہتمام اب کیا فائدہ؟ جنہیں زندگی میں کبھی پوچھا تک نہیں ہوتا مرنے کے بعد ان ساری لاحاصل سی کاوشوں کا کیا مقصد؟
نجانے کتنے ہمارے گلی محلوں میں آئے روز کسمپرسی کی سی زندگی بسر کرتے ہوئے قبر کی گود میں اتر جاتے ہیں، جو زندگی بھر ایک ایک نوالے کو ترستے رہے مرنے کے بعد اسی کے عزیز و اقارب نجانے کتنی دیگیں اس کے ایصال و ثواب کے لیے دان کر دیتے ہیں اور ستم یہ ہے کہ سارا کھانا وہی لوگ ہڑپ کر جاتے ہیں جنہوں نے زندگی بھر مرنے والے کو دھتکارہ ہوتا ہے۔
مرنے کے بعد وہ سارے عزیز و اقارب اسی مرحوم کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہوتے ہیں جس کی طرف زندگی میں کبھی مسکرا کے نہیں دیکھا ہوتا۔ جو زندگی بھر صاف پانی کو ترستے رہے مرنے کے بعد اس کی قبر پر لگے پودے کو منرل واٹر سے سیراب کرنے اور کتبے کو غسل دینے کا کیا مقصد؟ جو زندگی بھر اپنے بچوں کو شرینی نہ کھلا سکا بعد از مرگ اس کی قبر پر ان سارے تکلفات کیا مقصد؟
جو عمر بھر اپنے بچوں کو تعلیم نہ دلوا سکا مرنے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے مقدس آیات پڑھ کر خود کو تشفی دینے کا کیا فائدہ؟ جو زندگی بھر سسک سسک کر انہی کے سامنے جیتا رہا جو آج اس کی قبر کے سرہانے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور سر جھکائے مناجات میں مشغول ہیں اگر یہی وابستگی و پیار اس کی زندگی میں دکھایا ہوتا تو ممکن ہے اس کی زندگی بھی بہتر ہو جاتی۔
ہائے افسوس کسی کا پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے؟
ہم مرنے کے بعد تو کبھی کبھار قبرستان جانا پسند کر لیتے ہیں لیکن زندگی میں کبھی اس کے آ نگن میں جانا گوارا نہیں کرتے جب اس کو آپ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ نجانے کتنے لوگ اور کتنی نگاہیں راہ تکتے تکتے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں کون جانے؟ طبعی زندگی بسر کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہوتا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس پڑاؤ تک پہنچ پاتے ہیں زیادہ تر تو بیچ چوراہے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
کیسا ظالم سماج ہے کہ جہاں تعریف کے دو بول سننے کے لیے مرنا پڑتا ہے، جیتے جی تو یہ سہولت آپ کو میسر نہیں ہو سکتی۔
منرل واٹر زندگی میں تو نصیب نہیں ہو سکتا البتہ مرنے کے بعد آپ کے عزیز و اقارب آپ کی قبر کو منرل واٹر سے غسل دے کر آپ کی تشنہ خواہش کو ضرور پورا کر سکتے ہیں۔ شیرینی زندگی میں نصیب نہیں ہو سکی تو کیا ہوا مرنے کے بعد آپ کے اپنے آپ کے نام پر دوسروں کو بانٹ کر ثواب دارین حاصل کر لیں گے۔


