وجاہت مسعود کے نام محبت نامہ اور این سیکسٹن کی کہانی
قبلہ و کعبہ!
مجھے آپ کے نظریات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں، WE ARE BOTH ON THE SAME PAGE۔ اور اس اتفاق رائے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مکالمے، جمہوریت اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ایک پرامن انصاف پسند معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔
اپنے تمام تر اتفاق رائے کے باوجود میں قدرے اختلاف کا پہلو اس لیے نکال لاتا ہوں تا کہ آپ سے ادبی مکالمے کا بہانہ ملے۔ میں آپ کو احترام سے دوستانہ طور پر تھوڑا سا چیلنج کرتا ہوں تا کہ آپ ایک اور خط رقم کریں اور میں دوستوں کو آپ کا ادبی، سماجی اور نظریاتی محبت نامہ فخر سے دکھا اور پڑھا سکوں۔
میں آپ سے متفق ہوں کہ صنفی امتیاز اور استحصال معاشرے کی پچاس فیصد آبادی کو متاثر کرتا ہے جو رنگ، نسل، اور جنسی ترجیحات کے استحصال سے کہیں زیادہ ہے لیکن مودبانہ عرض ہے کہ استحصال میں پھر بھی سر فہرست معاشی اور طبقاتی استحصال ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں اور معاشروں میں اسی فیصد لوگ غریب اور بیس فیصد لوگ امیر ہیں اس لیے ECONOMIC AND CLASS EXPOLITATION اسی فیصد لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔
اگر ہم عورتوں کے مسائل پر ہی اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں تو ان مسائل میں بھی جہاں سماجی عوامل اہم ہیں وہیں حیاتیاتی اور نفسیاتی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ مثال کے طور پر وہ عورتیں جو ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں ان کی ڈپریشن میں سماجی عوامل کے ساتھ حیاتیاتی اور موروثی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ بہت سی عورتوں کے خاندانوں میں ڈپریشن کا عارضہ پایا جاتا ہے اور نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کی شخصیت میں مثالیت پسندی اور تخلیقی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں تو وہ غیر روایتی انداز میں زندگی گزارتی ہیں اور روایتی خاندانوں اور سماجوں سے ٹکرانے کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔
جو عورتیں شادی شدہ ہوتی ہیں ان کی ازدواجی زندگی بھی ان کی ڈپریشن کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے ْ

ورجینیا وولف کو ایک محبت اور پیار کرنے والا شوہر ملا جو ان کا بہت خیال رکھتا تھا لیکن پھر بھی ورجینیا وولف نے اپنے کوٹ کی جیبوں میں پتھر ڈال کر سمندر میں قدم بڑھاتے ہوئے خود کشی کر لی۔ یہ علیحدہ بات کہ اپنی خودکشی میں تین دن کی تاخیر اس لیے کی کہ وہ اس جہان فانی سے رخصت ہونے سے پہلے اپنے شوہر لینرڈ وولف کے نام محبت نامے میں کچھ ادبی رنگ بھرنا چاہتی تھیں۔
ورجینیا وولف کے مقابلے میں سلویا پلاتھ کو ایسا شوہر ملا جو بے وفا تھا اور وہ ان کی بے وفائی سے اتنی دلبرداشتہ ہوئیں کہ اس جہان فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ علیحدہ بات کہ سلویا پلاتھ کی خودکشی کے بعد ان کے شوہر ٹیڈ ہیوز نے ان کے لیے محبت بھری نظمیں لکھیں اور ادبی ایوارڈ حاصل کیے۔
*** ***
محترمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب!
میں اپنے موقف کی حمایت مین امریکی شاعرہ این سیکسٹن کی کہانی پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کی کہانی میں حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی سبھی عوامل کارفرما تھے۔ ان کی کہانی ہمیں عورتوں کے مسائل کی ایک ایسی تصویر دکھاتی ہے جو بہت سے لوگوں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہے۔ امید ہے آپ کے لیے بھی اور، ہم سب، کے قارئین کے لیے بھی این سیکسٹن کی کہانی دلچسپی کے چند پہلو لیے ہوئے ہوگی۔
امریکی شاعرہ این سیکسٹن کی کہانی
دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد مسرت و شادمانی سے رقص کرنے کی بجائے این سیکسٹن بے یقینی، اداسی اور نا امیدی کی گہری وادیوں میں اتر گئیں اور خود کشی کے بارے میں سوچنے لگیَں۔ جب ان کی ذہنی بیماری حد سے بڑھ گئی تو انہیں ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ وہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہیں۔
علاج کے دوران جب این سیکسٹن نے اپنے معالج کو ایک نظم دکھائی تو وہ اس نظم سے بہت متاثر ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ این کے ماہر نفسیات نے انہیں بتایا کہ ادویہ اور تھراپی کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری بھی ان کی ڈپریشن کے علاج میں ممد ثابت ہو سکتی ہے۔ این کی حوصلہ افزائی کرتے وقت ان کے ماہر نفسیات کو بالکل اندازہ نہ تھا کہ ان کی مریضہ ایک دن امریکہ کی صف اول کی شاعرہ بن جائے گی، خود سوانحی شاعری کی بانیوں میں شمار ہوگی اور شاعری کے بہت سے انعامات حاصل کرے گی۔
این سیکسٹن انیس سو اٹھائیس میں میساچیوسٹس امریکہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان صاحب ثروت تھا۔ ان کے والد ایک کامیاب بزنس مین اور ان کی والدہ ایک ہردلعزیز خاتون تھیں۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں۔ این کے والدین پرتعیش محفلوں کا اہتمام کرتے تھے جہاں ان کے امیر دوست حد سے زیادہ کھاتے بھی تھے اور پیتے بھی تھے۔ این کے والدین اپنے عیش و عشرت میں اتنے محو رہتے کہ اپنی بچیوں کی دیکھ بھال سے غافل رہتے۔ جب این اور ان کی بہنوں کو ماں باپ کی محبت نہ ملی تو انہوں نے اپنی نانی نانا اور خالہ کی قربت سے اپنی محبت کی پیاس بجھائی۔ بدقسمتی سے جب این تیرہ برس کی تھیں تو ان کی خالہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں سمجھتا ہوں کہ این کو ذہنی بیماری اپنے ننھیال سے وراثت میں ملی۔
این کی انیس برس کی عمر میں الفریڈ سیکسٹن سے شادی ہو گئی۔ شروع میں این خوش تھیں لیکن وہ ہنی مون کا دورانیہ بہت مختصر رہا۔ اس کے بعد این اور ان کے شوہر کے لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے۔ دونوں شراب پی کر گالی گلوچ بھی کرتے تھے اور ایک دوسرے کو مارتے پیٹتے بھی تھے۔ این سیکسٹن جس ذہنی بیماری کا شکار تھیں وہ نفسیات کی زبان میں بائی پولر ڈس آرڈر کہلاتی ہے۔ اس بیماری کا شکار لوگ عام افراد سے کہیں زیادہ اقدام خود کشی کرتے ہیں اور بعض دفعہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔
این کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں لیکن وہ بھی این کی ذہنی بیماری کی وجہ سے ان کی بھرپور محبت سے محروم رہیں۔ اسی لیے این کی بہنوں کی طرح ان کی بیٹیوں کا بھی رشتہ داروں نے خیال رکھا۔
این سیکسٹن کی شاعرانہ زندگی کا آغاز انیس سو ستاون میں ہوا۔ شاعری شروع کرنے کے بعد انہوں نے شاعری کے کئی سیمیناروں میں شرکت کی۔ ان ہی سیمیناروں میں سے ایک بوسٹن یونیورسٹی کا سیمینار تھا جو مشہور شاعر رابرٹ لوول کی رہنمائی میں تھا۔ اسی سیمینار میں این سیکسٹن کی ملاقات سلویا پلاتھ سے ہوئی۔ دونوں شاعرات نے انگریزی شاعری کی اس روایت کو اپنایا جو خود سوانحی شاعری کہلاتی ہے۔ اس شاعری میں سلویا پلاتھ اور این سیکسٹن دونوں نے نہایت ذاتی قسم کی نظمیں لکھیں جو ان سے پہلے انگریزی شاعری میں مفقود تھیں۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ این سیکسٹن اور سلویا پلاتھ کی زندگی اور شاعری دونوں میں مماثلتیں تھیں
دونوں ڈپریشن کا شکار تھیں
دونوں اپنے شوہروں سے نالاں تھیں
دونوں نے غیر روایتی نظمیں لکھیں
اور دونوں نے خود کشی کی۔
این سیکسٹن کو اپنی شاعری کے مجموعے TO LIVE OR TO DIE پر انیس سو سڑسٹھ کا انگریزی شاعری کا معزز و معتبر پلٹزر انعام ملا۔

اس انعام کے بعد این سیکسٹن کا ادب سے لگاؤ اتنا بڑھا کہ وہ انیس سو ستر میں بوسٹن یونیورسٹی میں ادب کی استاد اور انیس سو بہتر میں پروفیسر بن گئیں۔
این سیکسٹن اپنی ادبی زندگی میں جتنی زیادہ کامیاب تھیں وہ اپنی رومانوی اور ازدواجی زندگی میں اتنی ہی ناکام تھیں۔
پچیس برس کی ناہموار اور ناخوشگوار شادی کے بعد این نے انیس سو تہتر میں اپنے شوہر سے طلاق لے لی لیکن طلاق لینے کے چند ماہ بعد وہ احساس ندامت و خجالت کا شکار ہو گئیں اور اپنے شوہر کو واپس بلانے کی کوششیں کرنے لگیں لیکن جب وہ واپس نہ آئے تو وہ ایک دفعہ پھر ڈپریشن کا شکار ہو گئیں۔
چار اکتوبر انیس سو چھہتر کو اپنے ایک ادبی دوست سے ملنے کے بعد وہ گھر گئیں, انہوں نے اپنی والدہ کا کوٹ پہنا گیراج کو بند کیا اور والدہ کی سرخ مرکری کوگر میں بیٹھ گئیں اور انجن چلا دیا۔ این جانتی تھیں کہ گیراج میں اتنی کاربن مونو اکسائیڈ بڑھ جائے گی کہ وہ پہلے بیہوش اور پھر فوت ہو جائیں گی۔
اتفاق کی بات یہ ہے کہ ورجینیا وولف نے تو اپنے کوٹ کی جیبوں میں پتھر ڈال کر سمندر میں ڈوب جانے سے خود کشی کی لیکن این سیکسٹن کی ہم جماعت سلویا پلاتھ نے بھی اپنے گھر کے چولھے میں سر ڈال کر کاربن مونو آکسائڈ سے خود کشی کی۔
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ورجینیا وولف، سلویا پلاتھ اور این سیکسٹن تینوں نابغہ روزگار شاعرات نے نہ صرف غیر روایتی زندگیاں گزاریں بلکہ خود کشی کرتے وقت بھی غیر روایتی طریقے استعمال کیے۔
ان تینوں شاعرات کی شاعری اور زندگی ادب اور نفسیات دونوں ماہرین کے لیے بہت سے سوال اور بہت سے راز لیے ہوئے ہیں۔
قبلہ و کعبہ!
میں نے تو ایک سیکسٹن کی کہانی پیش کر دی۔ اب میں جاننا چاہتا ہوں کہ سینکڑوں کتابیں اور بیسیوں سوانح عمریاں پڑھنے کے دوران وہ کون سی دانشور خواتین تھیں جن سے آپ متاثر اور انسپائر ہوئے۔
آپ کی شخصیت اور تخلیقی صلاحیتوں کا مداح
خالد سہیل





