انسانی سماج کی تاریخ: قسط 3


جاگیردارانہ عہد :۔ انسان ہاتھ کی مدد سے زمین ہموار کرتا تھا۔ لیکن جب انسان نے ہل بنا لیا تو اس نے پہلے یہ ہل انسان کی اپنی طاقت سے ہی چلایا۔ بعد میں اس کام کے لئے جانور ( بیل، گھوڑا، اونٹ یا گدھا) کو سدا لیا گیا۔ اب ہل اس کی مدد سے چلایا جانے لگا۔ مندرجہ بالا ایک جانور میں اوسطاً چالیس آدمیوں کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ وہ کام جو چالیس آدمی کرتے تھے۔ اب ایک بیل یا گھوڑا کر رہا تھا۔ یقینی بات تھی جب آلات پیداواری تبدیل ہو گیا۔

تو سماج کے پیداواری رشتوں کا تبدیل ہونا بھی طے تھا اور ایسا ہی ہوا۔ وہ آقا جن کے پاس زیادہ غلام موجود تھے۔ انھوں نے ان کی مدد سے جنگل کے جنگل کٹوا ڈالے۔ ہزاروں ایکڑ زمین کو کاشت کے لئے تیار کر لیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اس زمین کو کاشت کون کرے گا۔ کیو نکہ جو غلام دستیاب ہیں۔ وہ اتنی بڑی اراضی کو زیر کاشت نہیں لا سکتے تھے۔ بڑی سوچ وچار کے بعد وہ آقا جنہوں نے جنگل کٹوائے تھے۔ سب سے پہلے اپنے غلاموں کو غلام سے مزارع میں تبدیل کیا۔ انہیں شادی کا حق دیا۔ اب ان کا اپنا خاندان ہو گا اور زمین کی ایک مخصوص اراضی کا حق مالکیت بھی عطا کیا اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ اگر ایک غلام اب جو مزارع تھا۔ اس نے ایک کنال زمین زیر کاشت لانی ہے۔ وہ پانچ مرلہ زمین اپنے لئے کاشت کرے گا۔ جبکہ پندرہ مرلہ زمین آقا اب جو جاگیردار تھا اس کے لئے کاشت کرنی ہے۔ انھوں نے دیگر غلاموں کو یہ نعرے دیے کہ حق مالکیت اور شادی کا حق دیا جائے گا۔ جو اپنے آقا کے خلاف بغاوت کرے گا۔

یقیناً ان نعروں میں جان تھی ہزاروں سالوں کی غلامی سے نجات کا راستہ تھا۔ بڑی تعداد میں غلاموں کی کامیاب بغاوتیں ہوئی۔ بے شمار چھوٹے آقاؤں نے جاگیردار سے ساز باز کر لی۔ ایک آلات پیداوار کے تبدیل ہونے سے سارا سماجی ڈھانچہ ہی بدل گیا۔ ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے۔ غلام داری دم توڑ جاتی ہے۔ اس نئے عہد میں خوراک کا زیادہ تر انحصار کاشت کاری سے جڑ جاتا ہے۔ خوراک کا مسئلہ خاصی حد تک حل ہو جاتا ہے۔ خشک سالی، ٹڈی دل کا حملہ یا کسی اور قدرتی آفات کے علاوہ اتنی فصل پیدا ہو جاتی کہ آسانی سے پورا سال خوراک مل جاتی تھی۔

ہزاروں سال تک اس سماجی ڈھانچہ میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ اب کسانوں اور سپاہیوں کے پاس خاصہ وقت موجود ہوتا تھا۔ ایک فصل کو بونے اور کاٹنے کے درمیانی عرصہ میں کسان یا مزارع فارغ ہوتا تھا۔ اسی فارغ وقت کی وجہ سے فنون لطیفہ کا ظہور ہوا۔ مختلف کاریگر سامنے آئے کاریگروں نے پٹ سن، کپاس اور ریشم سے کپڑا تیار کیا، چمڑے سے جوتے بنائے، مٹی سے برتن بنائے مختلف دھاتوں سے برتن اور جنگی سامان تیار کیا۔

شروع میں جو بھی کاریگر کوئی شے بناتا تو وہ جاگیردار یا بادشاہ کو تحفہ دیتا بدلے میں اس سے انعام پاتا۔ لیکن جب کاریگروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مختلف معیار کے کپڑے، جوتے اور برتن تیار ہونے لگے تو اعلیٰ معیار کے کپڑے، جوتے اور برتن بادشاہ اور امراء یا جاگیرداروں کے استعمال کے لئے تیار کیے جانے لگے۔ جبکہ رعایا کے لئے کم معیار کے کپڑے، جوتے اور برتن تیار ہونے لگے۔ مزید وقت گزرا تو ایک شے کے بدلے دوسری شے کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

جب تبادلے کا عمل مزید تیز ہوا تو سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کے سکے متعارف ہوئے۔ مہر اور رسید سامنے آئی۔ کاریگروں کے بعد ایک نیا طبقہ پیدا ہوا۔ جس کو تاجر کہا جاتا ہے۔ یہ طبقہ خود کاریگر تو نہیں ہے۔ لیکن کاریگروں کا تیار مال ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر بیچتا ہے۔ شروع میں جہاں جہاں کاریگر موجود ہوتا اس کے پاس جا کر اس سے مال خریدتا اور دوسری جگہ مہنگے داموں فروخت کر دیتا۔ اب مال کی مانگ بڑھ رہی تھی۔

تاجر کو مختلف دیہات سے مال خریدنے میں خاصہ وقت لگ جاتا تھا۔ تجارت کی وجہ سے اس کے پاس پیسے، سکے یا دولت بھی موجود تھی۔ اس نے اپنا وقت بچانے کی غرض سے وہ دستی مشینیں اپنی خرید لی اور کاریگروں کو ایک ہی جگہ بلا لیا۔ اب اس کا وہ وقت بچ رہا تھا۔ جو وہ مال کا آرڈر دینے یا تیار مال اٹھانے پر صرف کرتا تھا۔ اس طریقہ سے اس کے منافع میں اضافہ ہوا۔ ابھی تک ایک کاریگر اسی طرح متعلقہ شے تیار کر رہا تھا۔ جس طرح وہ اپنے گاؤں یا گھر میں کر رہا تھا۔

اس ابتدائی کارخانہ دار کو ایک نیا طریقہ ہاتھ لگا۔ وہ تھا تقسیم محنت کا طریقہ۔ اس طریقہ کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک سوٹ کو اگر ایک درزی تیار کرتا ہے۔ تو اس سے اس کی محنت تقسیم نہیں ہوتی۔ اگر وہ پورا دن سوٹ تیار کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ تین سوٹ تیار کر لے گا۔ اگر اسی کام کو تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ کچھ آدمی سوٹ کاٹ رہے ہیں، کچھ قمیض بنا رہے ہیں، کچھ کاج اور کالر تیار کر رہے ہیں، کچھ شلوار سی رہے ہیں تو ایسا کرنے سے پیداوار میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

اسی طریقہ کو ابتدائی کارخانہ دار نے بھی اپنایا۔ جس سے اس کے منافع میں تو اضافہ ہوا۔ لیکن اس نے اپنے کاریگر کی اجرت میں اضافہ نہیں کیا۔ اب مسلسل اس عمل سے ابتدائی کارخانہ دار کی دولت بڑی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ یہ دولت بڑھتے بڑھتے اس قدر بڑھ گئی کہ اس کارخانہ دار کی دولت بادشاہ کی دولت سے بڑھ گئی۔ یہ کارخانہ دار سوچنے لگا کہ وہ بادشاہ کو کس چیز کا ٹیکس اور راہ داری دیتا ہے۔ مال اس کے کارخانے میں تیار ہوتا ہے۔ اور اس کے کاریگر یا مزدور تیار کرتے ہیں۔ وہ اقتدار میں حصہ لینے کے بارے میں سوچنے لگا۔

Facebook Comments HS