دیہی طرزِ زندگی


والدین چار بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل ہمارا گھرانا گاؤں میں آباد تھا۔ گاؤں سے ملحق تھوڑی سی ملکیتی زمین تھی۔ والد صاحب گاؤں سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر میں ایک سکول میں ٹیچر تھے۔ وہ روزانہ سائیکل پر شہر جاتے۔ وہاں پر سکول میں بچوں کو پڑھاتے اور چھٹی کے وقت گھر واپس آ کر کاشت کاری اور ڈھور ڈنگروں سے وابستہ معاملات نمٹا لیا کرتے۔ اُن دنوں گاؤں میں جن کاشت کار گھرانوں میں کوئی ایک آدھ فرد سرکاری ملازم ہوتا اور انہیں ہر مہینے مستقل طور پر کوئی آمدنی آجاتی تو اسے خوش حال گھرانا تصور کیا جاتا تھا۔

کیوں کہ اہل دیہہ اپنی ضروریات ِ زندگی پیدا کرنے کے معاملے میں مکمل خود کفیل ہوا کرتے تھے۔ گندم اور چاول اُن کی اپنی زمینوں کی پیداوار ہوا کرتیں۔ جو گاؤں کے تمام باسیوں کی ضرورت سے زیادہ ہوتیں۔ کاشت کار اور کسان گھرانوں میں تو گندم گھر کی کھیتی ہوا کرتی۔ گاؤں میں بسنے والے تکنیکی ماہرین اور دست کاری کے شعبے سے وابستہ لوگ مثلاً ً نائی، موچی، تیلی، کمہار، لوہار، ترکھان اور ماچھی وغیرہ اپنی اپنی سال بھر کی خدمات کے عوض کاشتکاروں اور کسانوں سے گندم کی برداشت کے موقع پر ڈیڑھ دو من گندم فی گھرانا وصول کر لیا کرتے۔

مثلاً ایک لوہار سال بھر کسان کے زرعی آلات کی مرمت کرتا اور سال کے آخر میں گندم کی برداشت کے وقت اس سے ڈیڑھ دو من گندم وصول کر لیتا۔ اگر گاؤں کے ایک لوہار کے پاس ایسے پندرہ بیس کاشت کار گھرانے بھی موجود ہوتے تو سال کے آخر میں اس کے گھر میں بھی اپنی خدمات کے عوض پچیس تیس من گندم پہنچ جایا کرتی۔ جو اس کی سال بھر کی ضرورت کے لیے کافی ہوتی۔ اپنی اپنی تکنیکی خدمات کے عوض سال کے آخر میں گندم کی شکل میں اکٹھا معاوضہ وصول کرنے کا یہ نظام سیپی کا نظام کہلاتا تھا۔

اس طرح گاؤں کے یہ تکنیکی ماہرین جنہیں کمی کہا جاتا تھا۔ اپنی اپنی خدمات کا سالانہ معاوضہ کاشت کاروں سے گندم کی شکل میں وصول کر کے اپنی غذائی ضروریات کو با آسانی پورا کر لیا کرتے۔ ان لوگوں کے علاوہ باقی غیر کاشت کار گھرانے گندم کی برداشت کے مختلف مراحل میں زمین دار کا ہاتھ بٹاتے اور مزدوری گندم کی صورت میں وصول کرتے۔ پہلے مرحلے میں گندم کی کٹائی کر کے اس کے گٹھے باندھ کر انہیں ایک ہی جگہ پر ایک بڑے مترتب ڈھیر کی شکل میں جمع کر لیا جاتا اور یہ گٹھوں کا ڈھیر پڑ کہلاتا تھا۔

غیر کاشت کار گھرانے گندم کی کٹائی کرتے اور فی ایکڑ کٹائی کی مزدوری ڈیڑھ یا دو من گندم وصول کر لیتے۔ دوسرا مرحلہ گھائی کا ہوا کرتا تھا اس میں کانٹے دار درختوں کے بھاری ٹہن اکٹھے باندھ کر ایک بغیر پہیوں کی گاڑی سی تیار کی جاتی اُسے پھلا کہا جاتا تھا۔ گندم کے چند گٹھوں کو کھول کر پڑ کے اندر پھیلایا جاتا یہ پھلا بیلوں کی مدد سے بکھرائی گئی گندم کے اوپر گول دائرے میں مسلسل پھرایا جاتا رہتا۔ گندم کو پھلے اور بیلوں کے پاؤں کی مدد سے مسل کر سٹے سے الگ کیا جاتا اور باقی خشک پودے کو بھی باریک بھوسے میں تبدیل کیا جاتا یہ گندم کی برداشت کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔

گاؤں میں مثل مشہور تھی کہ شدید سردیوں کے موسم میں بھی جب بیلوں کو گھائی کے وقت کی یاد آجاتی ہے تو اُن کا جگال باہر آ جاتا ہے۔ اس موسم میں گھائی کی تیاری کے لیے بیلوں کو دیسی گھی کھلایا جاتا اور گھائی کے عمل میں بیلوں کو ہانکنے والے فرد کی حالت بھی خاصی ناگفتہ ہوا کرتی تھی وہ اس عمل کے بعد جب شام کو گھر آ کر نہایا کرتا تھا تو جیسے ہی وہ جسم پر پانی ڈالتا تو پورے جسم پر گویا آگ سی لگ جاتی کیوں کہ اس کا پورا جسم گندم کا ناڑ لگنے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے دکھائی نہ دینے والے زخموں سے چور چور ہوتا تھا۔

غرض کہ گھائی کا یہ سست رفتار سلسلہ ہفتوں جاری رہتا۔ تب کہیں جا کر گندم کے پودوں کو بھوسے اور دانوں کے ایک ڈھیر میں تبدیل کیا جاتا۔ اب برداشت کا تیسرا مرحلہ شروع ہوتا۔ جسے اڑائی کہا جاتا تھا اڑائی ایک ٹیکنیکل کام تھا اور ہر کسان اور کاشت کار کے بس کا روگ نہیں تھا اس عمل میں استعمال ہونے والا اوزار تر نگل کہلاتا تھا۔ بانس کی ساڑھے چار پانچ فٹ لمبائی کی ڈانگ کے ایک سرے پر لکڑی کا ہی بنا ہوا انسانی ہاتھ اور انگلیوں سے مشابہ ایک پنجہ سا فٹ کیا ہوتا۔

اس پنجے کی مدد سے گندم ملے بھوسے کو اوپر ہوا میں اچھالا جاتا۔ بھو سہ ہوا سے اُڑ کر تھوڑا دور چلا جاتا اور گندم کے دانے وہیں پر ہی گر جاتے۔ اس عمل سے گندم کو بھوسے سے الگ کیا جاتا۔ اڑائی کا عمل صرف اسی وقت ممکن تھا جب ہوا مناسب رفتار سے چل رہی ہوتی ہوا ساکن ہو یا زیادہ رفتار سے چل رہی ہوتی تو یہ عمل ممکن نہیں تھا۔ کیوں کہ ہوا ساکن ہونے کی صورت میں اڑائی کرنے سے گندم اور بھوسہ ایک دوسرے سے الگ ہی نہیں ہوا کرتے تھے اور زیادہ رفتار سے ہوا چلنے کی صورت میں ایک تو گندم کا کچھ حصہ بھوسے میں شامل ہو کر گندم کے ڈھیر سے دور بھوسے میں ہی جا گرتا اور دوسرا بھوسہ بھی اپنے سابقہ ڈھیر سے بہت آگے جا کر گرتا۔ جس کو بعد میں اکٹھا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے زیادہ تیز ہوا میں اڑائی کرنے سے گندم اور بھوسہ دونوں کا ہی نقصان ہوتا۔ جب ایک بار اڑائی کا عمل شروع ہوجاتا اور گندم اور بھوسے کی علیحدہ علیحدہ ڈھیر یاں بننا شروع ہو جاتیں۔ اس عمل کو تندی لگانا کہا جاتا۔ جب ایک بار تندی لگ جاتی تو پھر اڑائی کا عمل صرف اُسی وقت ممکن ہوتا جب ہوا کی سمت بھی تندی کے مطابق ہوتی اس کے علاوہ کسی بھی اور سمت میں ہوا چلنے پر بھی عموماً اڑائی کے عمل سے گریز کیا جاتا۔ کیونکہ اس سے بھوسے کے زیادہ ضیاع کا اندیشہ ہوا کرتا تھا۔

اڑائی کے دوران ایک فرد جھاڑو کی مدد سے گندم کے ڈھیر کے اوپر گرنے والی گھنڈیوں کو علیحدہ ایک ڈھیری کی شکل میں جمع کرتا جاتا۔ گھنڈی دراصل گندم کے سٹے کا وہ سخت سا حصہ ہوتا جس سے گندم ابھی تک علیٰحدہ نہیں ہوئی ہوتی تھی اڑانے کے عمل کے دوران ان گھنڈیوں کو بھی علیٰحدہ کیا جاتا اور پھر بیلوں کے پاؤں کے نیچے ان کو اچھی طرح سے کچل کر گندم کو اس سے علیٰحدہ کیا جاتا گندم کے پودوں سے گندم نکالنے کا عمل ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل ہوا کرتا تھا۔

اس سارے عمل میں تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ کا عرصہ صرف ہوتا۔ اس دوران کی جانے والی مشقت میں کاشت کار گھرانوں کے افراد کے ساتھ ساتھ غیر کاشت کار گھرانوں کے افراد بھی مختلف مراحل پر شامل ہو کر اپنی محنت کا معاوضہ بھی گندم کی صورت میں ہی حاصل کر لیتے۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہوجاتی تو یہ بوہل کہلاتی تھی بوہل کے تیار ہونے پر گاؤں کے غریب غربا لوگ اور چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں اس میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے وہاں پر جمع ہو جا یا کرتے فصل کا مالک گندم کو تول کر بوریوں میں بھرتا جاتا اور آخر میں اس کا کچھ حصہ وہاں پر موجود افراد میں بھی تقسیم کر دیتا۔

شاید سارا دن کھلے ماحول میں رہنے کی وجہ سے یہ لوگ بھی بڑے کھلے دل کے مالک ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے مستحق افراد میں مفت گندم بانٹتے ہوئے ان کے ماتھے پر شکن تک نہ آتی بلکہ اس سارے عمل کو بڑی خوشی اور خوش دلی سے انجام دیا جاتا۔ اس طرح ایک گاؤں میں پیدا ہونے والی گندم مرحلہ وار گاؤں کے تمام کاشت کار اور غیر کاشت کار گھرانوں میں پہنچ جاتی۔ جو اُن کے سالانہ غذائی ضرورت کے لئے عموماً کافی ہوا کرتی تھی۔ زندگی کی بنیادی ضرورت خوراک کا انتظام ہونے پر گاؤں کے باسی مطمئن ہو جاتے۔

پانی گاؤں کے کنویں یا گھروں میں لگے ہوئے نلکوں سے سب کو مفت میں مل جاتا۔ باقی کپڑوں کے بارے میں انہیں زیادہ فکر نہیں ہوا کرتی تھی۔ مل گئے تو واہ بھلی نہ ملے تو پرانے کپڑوں کی مرمت کر کے ہی کام چلا لیا جاتا اور شادی بیاہ کے موقعوں پر ایک دوسرے سے مانگ تانگ کر جوتے اور کپڑے پہن لینا دیہی ثقافت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ اس طرح دیہات میں زندگی کا پہیہ بھلے سست رفتاری سے ہی سہی لیکن چلتا رہتا تھا۔

Facebook Comments HS

One thought on “دیہی طرزِ زندگی

  • 19/07/2024 at 1:42 شام
    Permalink

    مل جل کر کام کرنے میں بڑی برکت ہوتی تھی۔

Comments are closed.