عجب قسم کی غضب ملاوٹ


دودھ، گوشت، دوائیوں اور کھانے پینے کی دیگر چیزوں میں ملاوٹ کا تو سنا کرتے تھے، اب مٹی کے برتنوں میں بھی ملاوٹ اور دو نمبری ہونے لگی ہے۔ مثلاً ہمارے ایک واقف کار نان بائی سے بات چیت کے دوران اس نے بتایا کہ یہ خاص تندور کوئی ایک مہینہ پہلے دس ہزار کا لیا ہے، یہ عام تین چار ہزار روپے میں ملنے والے تندور سے دوگنی مدت یعنی کوئی چھ مہینے تک چلے گا۔ اس نے بتایا کہ تندور کو خاص طریقے سے بیکنگ فوائل میں لپیٹ کر نصب کیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے بتایا کہ اس تندور کو پکا کرنے کے لیے اس کو خاص مصالحہ لگایا ہے جس میں دو کلو سرسوں کا تیل، دو کلو دہی اور تین درجن انڈے پھینٹ کر ملائے جاتے ہیں، جس پر مزید کوئی تین ہزار کا خرچہ آیا ہے۔ ہم نے تندور کو دیکھا تو اس میں بڑی بڑی سی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ ہم نے پوچھا کہ پھر یہ دراڑیں کیوں پڑی ہوئی ہیں۔ اس نے بتایا کہ استعمال کی وجہ سے شاید ایسا ہوا ہے، آج تندور بنانے والے کا آدمی آئے گا، پھر ایک کلو سرسوں کا تیل، ایک درجن انڈے اور ایک کلو دہی کا مسالہ بنا کر لگائے گا تو یہ دڑاڑیں ختم ہو جائیں گی اور ہزار روپے معاوضہ لے گا۔ ہم دل ہی دل میں بہت ہنسے کہ جیسے ہی تندور آگ سے گرم ہوتا ہے تو اِن سب ”خاص مصالحوں“ کا اثر تو بھاپ بن کر اڑ جاتا ہو گا اور ان کی نمی اچانک ختم ہونے سے اور بھی جلدی تندور کی دیواروں میں دراڑیں پڑ جاتی ہوں گی۔ حالانکہ یہ تندوری بہت چالاک ہے، کسی کے ساتھ پانچ روپے کی رعایت نہیں کرتا لیکن اناڑی کمہار کے ہاتھوں خوب بے وقوف بن رہا ہے۔

اس پر ہمیں ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ ہم اپنے پہلے مضامین میں ایک سادہ لوح خاتون کا قصہ بیان کر چکے ہیں کہ کیسے اس نے سالم بکری کی سری کی ثوبت پکائی تھی۔ اس خاتون کے گھر والے یہی کمہار کا کام کرتے تھے۔ ان کے برتن بہت مضبوط ہوتے تھے۔ ایک دن کسی نے اس سے مذاق میں کہا کہ تم گھڑے بنانے والی مٹی میں شنگری مصری (چینی کی ایک قدیم قسم جو آج بھی پنساری کی دکانوں پر ملتی ہے ) بھی ملایا کرو، اس سے گھڑے کا پانی بہت ٹھنڈا اور میٹھا ہو گا۔ اس سادہ دل نے برتن بنانے والی چکنی مٹی میں شنگری مصری ملا دی۔ اب جب برتنوں کو بھٹی میں پکایا گیا تو سب ٹیڑھے میڑھے ہو گئے۔ گھر والے حیران ہوئے کہ چلو ایک دو برتن پکائی کے دوران ٹیڑھے ہو جانا معمول کی بات تھی، آج سارے کیوں خراب ہوئے تو اس۔ نے بتایا کہ فلاں کے کہنے پر مصری ملائی تھی۔ گھر والے ہنس کر چپ ہو گئے۔

ہمارے بزرگوں کے مطابق وہ تندور لگانے کے بعد ہر دو تین دنوں کے وقفے سے ٹھنڈے تندور کی دیواروں پر کوئی نرم پتوں والی گھاس جیسے کہ برسیند، شوتلا یا ساگ کو اچھی طرح ملتے تھے، اس سے تندور کی سطح بھی صاف ہو جاتی تھی اور دراڑیں بھی ختم ہو جاتیں، تندور بالکل سبز پڑ جاتا۔ نرم گھاس سے تندور کی سطح پر کوئی خراشیں نہیں پڑتی تھیں۔ اس کے بعد کھٹی لسی میں نمک ملا کر دیواروں پر چھڑکاؤ کرتے تھے، اور آدھا یا ایک گھنٹے کے لیے تندور کو بند کر دیتے تھے۔ اس سے تندور بالکل نیا اور مضبوط ہو جاتا۔ اور روٹی لگانے کے دوران روٹی گرنے لگتی یا اس پر مٹی چپکنے لگتی تو کچھ مزید لسی میں نمک ڈال کر چھڑکتے تو وہ ٹھیک ہو جاتا۔ کبھی کسی نے انڈے، دہی یا سرسوں کا تیل استعمال کرنے جیسی حماقت نہیں کی تھی۔

ہم مٹی کے برتن پسند کرتے ہیں، بچپن سے مٹی کے برتن استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ آج سے کوئی پانچ چھ سال پہلے چٹنی بنانے کے لیے مٹی کی دوری خریدی۔ جیسے ہی اس میں چٹنی بنانی چاہی تو اس کی دیواروں کی مٹی بھی چٹنی میں شامل ہونے لگی۔ ہم نے سوچا کہ شاید غلطی سے خراب بن گئی ہو گی۔ دوسری خریدی تو اس کی بھی یہی حالت ہوئی اور دوری کی دیواروں میں دراڑیں بھی پڑ گئیں۔

اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اب اس شعبے کا پورا علم رکھنے والے کمہار بھی ختم ہو گئے ہیں۔ اس کام میں بھی تھوڑا علم رکھنے والے لوگ آ گئے ہیں جو اپنی طرف سے نئے تجربے کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کام خراب کر دیتے ہیں۔

ڈبل شاہ اور نیم حکیم ہر شعبے میں آ گئے ہیں یا جیسا کہتے ہیں کہ جب تک احمق زندہ ہیں، چالاک کبھی بھوکے نہیں مریں گے۔

Facebook Comments HS