کالاش مرد کا مرتبہ بیویوں کی تعداد سے متعین ہوتا ہے


کالاشی لوگ رومان پسند ہیں۔ اساطیری دیو کی طرح ان کی جان رقص و موسیقی کے طوطے میں ہے۔ اپنے دیوتاؤں کو منانے محبوب کو رجھانے لُبھانے نئی زندگی کو خوش آمدید کہنے اور دنیا سے رخصتی کے سمے انہیں رقص کرنا ہے ڈھول کی ڈھم ڈھم اور بانسری کی تانوں میں ان کے سانس چلتے ہیں۔ ان کے رقص کے نرت بھاؤ اور موسیقی کی تانوں کی مماثلت کسی قوم کے ثقافتی ورثے سے میل کھاتی ہے یا نہیں۔ میں لاعلم ہوں۔ ہر کالاشی مرد عورت محبت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ شادی کے لیے سات نسلی پیڑھیوں کی دوری ضروری ہے۔

” یہ تو ڈاکٹروں والا پوائنٹ ہے۔“ میں نے خود سے کہا اور پھر اس کی طرف دیکھا۔
والدین کی طرف سے ارینج کردہ شادی کی نسبت ٹوالی اپنی دلکشی اور رنگینی کے باعث زیادہ ہر دل عزیز ہے۔
” ٹوالی؟“ میں نے حیرت سے اپنی آنکھوں پر بھنویں اُتارتے ہوئے لڑکے کو گھورا۔
” محبت کرنے والے مرد اپنی محبوباؤں کو بھگا لے جاتے ہیں۔ “

میرا جی چاہا تھا میں کسی نوخیز چُلبلی لڑکی کی طرح زور سے سیٹیاں بجا کر ”واؤ“ کہوں۔ پر ”بوڑھے منہ مہاسے کرنے چلے تماشے“ والی پھبتی میں اپنے اوپر کسوانا نہیں چاہتی تھی۔ دل مسوس کر رہ گئی۔ نیچے والوں کی ہولناکیوں کا تصور ہی حد درجہ لرزہ براندام تھا۔ بد بخت اگر کسی سے دل لگا کر چلی گئی تو پاتال کی تہوں سے نکال کر ٹوٹے ٹوٹے کر دی جاتی ہے۔

” اگر کوئی شادی شدہ بغیر بچے والی عورت کسی دوسرے مرد کو پسند کر لے تو اس کے ساتھ جانے کی صورت میں سابقہ شوہر کے لیے دکن کی ادائیگی ضروری ہے۔“

” دکن؟“ لفظ میرے ہونٹوں پر اُبھرا۔ اور آنکھوں میں استفسار پیدا ہوا۔

کالاش معاشرے کا ایک اہم قانون جس کی رُو سے پہلے شوہر کو اس کی دلجوئی کی خاطر اس کا اپنی شادی پر خرچ کردہ مال کا دوگنا دینا ضروری ہے۔ دکن کی ادائیگی کیے بغیر اغوا کرنے والا مرد اپنی محبوبہ کو چھو نہیں سکتا۔ بے شک وہ اس کے گھر میں ہو اور دکن کا تصفیہ ہونے میں مہینے لگ جائیں۔ بس پھر نہ کوئی گلہ نہ شکوہ نہ لڑائی نہ جھگڑا۔

”چلو باغبان خوش رہے راضی رہے صیاد بھی“ والی صورت حال ہے نا۔

ازدواجی بندھن میں باندھنے کا طریق کار بھی خاصا دلچسپ ہے۔ اغوا کے بعد کی ساری کارروائیوں کے اختتام پر ایک شب گاؤں کے معتبروں کا لڑکے کے گھر کٹھ ہوتا ہے۔ لڑکے والے تین چار بکروں کو بڑے بڑے ٹکڑوں کی صورت دیگوں میں پکاتے ہیں۔ جمع شدہ پنیر اور بالائی نکالی جاتی ہے۔ پوڑے نما روٹیاں بنتی ہیں۔ بکرے کا جگر پکا کر اُسے محفل میں موجود دولہا دلہن کے ہاتھوں میں پکڑایا جاتا ہے ایک بہت قریبی عزیز حاضرین کی اجازت سے تیز چھُرے کے بھرپور وار سے اُس جگر کو دو ٹکڑوں میں کاٹ دیتا ہے۔ ایک ٹکڑے کا مرد کے ہاتھ میں اور دوسرے کا عورت کے ہاتھ میں رہ جانا نکاح کی علامت ہے۔ اس کے فوراً بعد لڑکی کے والد کا اپنے داماد سے کسی قیمتی چیز کا مطالبہ ہے۔ دعائیہ جملوں کے بعد کھانے کا عمل ہے۔

کالاشی مرد جھگڑالو نہیں۔ امن پسند ہے۔ کالاش سوسائٹی میں اس کی حیثیت کا اندازہ اس کی بیویوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔

کمبخت مارے دنیا بھر کے مردوں کو کیسا ہوکا ہے شادیوں کا۔

شلوار پہناؤ رسم میں چھ سال کے بچوں کو پہلی بار سیاہ اُون کی شلواریں پہنا کر بکروں کی قربانیوں دعوتوں اور بچوں کو تنہا پرابہ (دیوتا) بھیج کر کالاشی بنایا جانا بھی ہمارے معاشرے کی ایک دلچسپ رسم ہے۔

اور پھر چاؤ موس تہوار کا سب سے خوبصورت اور دلچسپ پروگرام چانچا۔ تاریک رات کا پہلے پہر کا سناٹا ڈھول کی آوازوں سے تھرا اُٹھتا ہے۔ سیاہ پیرہنوں میں لپٹی گھنگھرو بجاتی نک سک سے آراستہ عورتیں اور چترالی ٹوپیوں پر مرغ زریں کے پروں کے پھول سجائے مرد حضرات ہاتھوں میں چیڑ کی جلتی لکڑیاں تھامے ناچتے گاتے اوپر قربان گاہ کی طرف جاتے ہیں۔ پوری رات برف پر رقص اور مے نوشی ہوتی ہے۔ دیوتاؤں کے حضور قربانیاں اور سردار کا انتخاب۔ سردار کا گوبر کے ٹکڑے میں سوراخ کرنا اور اس میں سے آسمان کو دیکھتے ہوئے پشین گوئیاں کرنا۔ پھر قربانی اور خون کے چھینٹوں کا لوگوں پر چھڑکاؤ۔

لاکھ شارہخان کا انداز بیان سادہ اور افسانوی ٹچز سے مبرا تھا۔ پر میں اپنے تصور کی اُس آنکھ کا کیا کرتی جو وادی کے طول و عرض پر پھیلے کینوس پر ایک ایک منظر کو پینٹ ہوئے دیکھتی تھی۔ یاس میں ڈوبی بڑی لمبی آہ میرے سینے سے نکل کر ہونٹوں تک آئی تھی جس نے پوچھا تھا۔ چاؤموس کو اگر دیکھنا ہو تو دسمبر میں یہاں آنے کی صورت کیا ہے۔

بڑی ابتر۔ اس کا لہجہ قطعیت سے پُر تھا۔

لواری ٹاپ بند۔ Flights کو تو عام دنوں میں بھی موسم کی ذرا سی چھینکوں پر نہ آنے کا بہانہ چاہیے۔ دسمبر میں تو بیچارہ شدید قسم کے فلو میں مبتلا ہو جا تا ہے۔ پشاور سے افغانستان کے شہر جلال آباد کے راستے ارندو موڑ سے جس پر آج کل سفر خطرے سے خالی نہیں۔ یوں اگر چترال پہنچ بھی جائیں تو ہم تک آنے کے لیے دس بارہ فٹ برف سے اٹے راستے حائل ہوں گے۔

چلو قصہ ختم۔

آیون میں گاڑیوں کا اڈہ کبھی آیون کا پولو گراؤنڈ تھا۔ پر اب اڈہ تھا جہاں دُھول اور مٹی اُڑتی تھی۔ سہ پہر کی دھوپ کا جوبن آنکھوں کو چُندھیاتا تھا۔ لوگوں کی گہماگہمی تھی۔ مشروبات کی ایک دکان کے سامنے کھڑے ہو کر پانی کا گلاس پیتے ہوئے میں نے کسی سے پوچھا۔

” سیار بابا کا مزار کہاں ہے؟“

” وہ سامنے والے پہاڑوں کے دامن میں۔“ میں نے تیز دھوپ میں نظریں دوڑائیں۔ سوچا کہ چلو لگے ہاتھوں یہ معرکہ بھی سر کر لوں کہ کھوار کے اس عظیم شاعر کے مزار پر حاضری بھی ضروری ہے۔ تھوڑا سا چلی بھی۔ پر یقیناً کوئی شُبھ گھڑی ہی تھی کہ جس نے بڑھتے قدموں کو روک دیا وگرنہ دھوپ میں یہ لا حاصل مہم جوئی اس شام مجھے چترال سول ہسپتال میں پہنچا سکتی تھی کہ سیار بابا بیچارہ وہاں کہاں تھا۔ اب یا تو لڑکا لا علم تھا یا پھر مجھے بیوقوف بنا گیا تھا۔

Facebook Comments HS