خیبر پختونخوا میں پھر سے دہشت گردی

پاکستان کا شمار ان بدنصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے حالات انسانی بقا اور امن و سکون کے لیے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا جس میں اب تمام قبائلی علاقے بھی ضم کر دیے گئے ہیں۔ مسلسل بدامنی کا شکار ہے۔ یہ سلسلہ سرد جنگ کو ختم کرنے کے امریکی منصوبے اور ہمارے لالچی اور خود غرض حکمرانوں اور مذہبی جماعتوں کی وطن فروشی سے شروع ہوا جو تاحال جاری و ساری ہے۔ امریکہ نے تو روس کو شکست دے دی۔
وہ مسلسل اس خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی تجارتی پیش رفت کو بھی روک رہا ہے۔ مگر اس کی قیمت یہاں کے معصوم لوگ، پولیس اور فوجی جوان چکا رہے ہیں۔ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے امریکہ ساختہ جہاد کا یہاں ایسا ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ یہاں ہر بندہ امریکہ ساختہ جہاد کے لیے بطور مجاہد تیار ہو گیا۔ یہ سلسلہ اصولی طور پر نوے کی دہائی کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ مگر تاحال یہ جن بوتل میں بند ہی نہیں ہو رہا۔
شروع میں یہ کام صرف افغانستان میں روس کو شکست دینے کے لیے کیا گیا مگر رفتہ رفتہ ہمارے ملک کے اندر بھی شخصی اور ذاتی فائدوں کے لیے با اثر افراد نے اسی کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ یہاں کے عوام کو جو پڑھایا گیا اس نے اس پر یقین کر لیا۔ مگر اب شاید یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکے گا۔ اس لیے کہ اب عوام لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہے۔ اس لیے اب اس صوبہ میں ہر کوئی امن کا خواہاں ہے۔ مگر امن انہیں میسر نہیں آ رہا۔
اس بدامنی میں آخر کس کا فائدہ ہے۔ بیرونی قوتوں کا یقیناً اس میں ہاتھ ہو گا۔ لیکن اس میں داخلی طور پر بھی بہت سارے عوامل ہیں جن کی موجودگی میں اس بدامنی کو فروغ مل رہا ہے۔ سب سے بڑی وجہ سمگلنگ ہے۔ افغان جنگ اور اس کے بعد سے اب تک اس خطے میں جس کام نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے وہ سمگلنگ ہے۔ پرامن حالات میں سمگلنگ کا دھندا چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر امن کے حالات خراب کر کے اس دھندے کو سہولت کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔
یہ سمگلنگ کا دھندا اربوں کا نہیں بلکہ کھربوں کا دھندا ہے۔ اس کام سے وابستہ لوگوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے جس دن سمگلنگ کو ختم کر دیا گیا اس دن ان علاقوں میں کوئی بدامنی نہیں ہوگی۔ یہ اتنا بڑا کاروبار ہے کہ اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا کہ اس کی جڑیں کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان صوبوں میں اس کام میں افغانستانی غیر قانونی و قانونی رہائش پذیر لوگ سہولت کاری کرتے ہیں۔
پاکستان کی نگران حکومت نے کچھ جرات کر کے ان کو نکالنے کا اعلان کیا تھا مگر اس کے بعد اچانک ایسی خاموش چھا گئی جیسے یہ کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی باشندے اس ملک کو اس کی نظام کو پاؤں تلے روند رہے ہیں اور حکومت کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ افغانستان میں بیٹھے ہوئے دہشت گرد کیا من و سلوی کھا کر گزارا کر رہے ہیں۔ انہیں امداد دینے والا کون ہے۔ ان کے لیے یہاں محفوظ پناہ گاہیں کون فراہم کرتا ہے۔
یہ سب سمگلنگ کی وجہ سے ممکن ہو رہا ہے۔ افغانستان سے منشیات کی اتنی بڑی سمگلنگ ہو رہی ہے جس کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہے۔ افغانستان کے اطراف میں دیگر ممالک ان سے اس لیے محفوظ ہیں کہ وہ سمگلروں کے قبضے میں نہیں ہیں۔ جب تک اس سمگلنگ کو ختم نہیں کیا جاتا اور ان سہولت کاروں کو جو افغانستانی ہیں اور اس ملک کے ہر حصے میں مقیم ہیں۔ ان کو اس ملک سے نہیں نکالا جاتا تب تک اس ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے کہ اگر امن قائم ہو گیا تو پھر ان کا کاروبار کیسے چلے گا۔
منشیات کے علاوہ قیمتی معدنیات کی سمگلنگ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ افغانستان اور اب پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور قبائلی علاقہ جات سے کھربوں روپے کے یہ قیمتی معدنیات یہاں سے سمگل ہو کر بلیک مارکیٹس میں فروخت ہو رہی ہیں۔ جن کو امن کی صورت میں ان علاقوں سے گزارنا ممکن نہیں رہے گا۔ گاڑیوں کی سمگلنگ لاکھوں گاڑیاں سالانہ ان علاقوں میں سمگل ہو کر آ رہی ہیں۔ اگر قانون کی عمل داری ہو جائے تو ایسا ممکن نہیں رہے گا۔
اس لیے یہ سمگلنگ کا عفریت یہاں کسی صورت امن لانے کا روا دار نہیں ہو گا۔ اس مقصد کے لیے یہی سمگلرز ان علاقوں میں طالبان کے نام پر مختلف گروہوں کی سرپرستی کرتے ہیں انہیں مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔ ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور جب چاہتے ہیں ان کو استعمال کرتے ہیں۔ کسی زمانے میں امریکہ ساختہ جہاد کے لیے تیار کیے گئے جہادی جب ان کو امریکہ نے پیسے دینے بند کر دیے تھے تب ان کا واحد ذریعہ معاش یہی سمگلنگ تھی جس نے اب ایک منظم کاروبار اور سائنس کی شکل اختیار کی ہے۔
جن لوگوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ افغانستان میں جو طالبان ہیں وہ صرف اسلام کے نام پر حکومت کر رہے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے، اس لیے کہ وہاں موجود مختلف با اثر طالبان گروہوں نے مختلف سمگلنگ کے کاموں، معدنیات کے کانوں اور اسلحہ کے خرید و فروخت کو ہی اپنا ذریعہ معاش بنایا ہوا ہے۔ اس لیے جو گروہ وہاں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں کا رُخ کر رہے ہیں اور یہاں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان چند عشروں میں افغانستانی اور قبائلی سمگلرز اتنے امیر ہو گئے ہیں کہ ان کی دولت کا کوئی شمار ہی نہیں ہے۔
یہ افراد اب متحدہ عرب امارت سے بیٹھ کر یہاں اپنے کاروبار چلاتے ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے یہاں ہنڈی اور حوالے کا کاروبار مسلسل چل رہا ہے۔ پرتشدد جہادی پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرمایہ کاری کر کے مذہبی جذبات ابھار کر کسی بھی خطے کے نوجوانوں اور بچوں کو اس کام میں جھونکا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر پیسہ پیچھے نہ ہو اور شاطر ذہن اس منصوبہ کے پیچھے نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی زندہ مثال فلسطین اسرائیل جنگ کی ہے۔
چونکہ فلسطینوں کے پاس پیسے نہیں ہیں اور نہ کوئی گروہ ان پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اس لیے وہاں دنیا کے کسی بھی ملک سے جہادی جانے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ یہاں تک کہ قرب و جوار میں عربی جو اپنا ملک چھوڑ کر ہزاروں میل دور آ کر دوسرے مسلمانوں یعنی پنجشیریوں اور شمالی اتحاد کے ساتھ لڑ سکتے ہیں وہ اپنے قبلہ اول اور مقدس زمین میں اپنے ہی ہم نسل بھائیوں، بہنوں اور بچوں کا قتل عام کتنے عرصے سے دیکھ رہے ہیں مگر کسی کے جذبہ جہاد کو تحریک نہیں ملی۔
ان جہادیوں کو بنانے کے لیے اگر امریکی حکمت عملی پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں تو آپ ششدر رہ جائیں گے کہ کتنی آسانی سے اس خطے کے لوگوں کو اس کام کے لیے راضی کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ ہم اس مسئلہ کے مستقل حل کی طرف جانے کے بجائے وقتی طور پر اسے طاقت سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے یہ کچھ عرصہ بعد پھر سے سر اٹھاتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں جس شدت سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے وہ بہت ہی تشویشناک ہے۔
جب تک اس پورے خطے سے افغانستان کے ان شہریوں کو جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں اور جن کے پاس نہیں ہیں ان سب کو نہیں نکالا جاتا اور ان دونوں صوبوں کے سرحدوں پر سمگلنگ کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ اس میں معصوم لوگ، پولیس اور فوج کے جوان شہید ہوتے رہیں گے اور ہم ان کا سوگ مناتے رہیں گے۔ ان علاقوں سے لوگ پنجاب اور کراچی ہجرت کرتے رہے گے۔ یہاں خوشحالی نہیں آئے گی۔ روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوں گے، سیاحت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
یہاں سے کاروبار پنجاب منتقل ہوتے رہیں گے۔ اور یہاں کے نوجوانوں میں منشیات کا استعمال مزید بڑھتا چلا جائے گا۔ یہاں کے نوجوانوں کے پاس واحد معاش کا ذریعہ سمگلنگ رہ جائے گا۔ جو لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔ مگر دہشت گردی کے وجوہات اور ان کے سہولت کاروں کو ختم کیے بغیر ہم اس عفریت کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ امریکہ اور دوسری طاقتیں اپنی پروکسی جنگیں اس زمین پر لڑنے میں اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ ہم انہیں اس کے لیے جواز اور میدان فراہم کرتے ہیں۔
قانون کی عمل داری اسی وقت ممکن ہے جب اس ملک میں سب آپ کے اپنے شہری ہوں۔ آپ کے پاس سب کا ڈیٹا موجود ہو، مگر یہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو آپ کے شہری نہیں ہیں۔ یہ لوگ آپ سے شدید نفرت کرتے ہیں اور نقصان پہنچانے یا سہولت کاری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ان کو یہاں رہنے دے رہے ہو تو پھر دنیا کی کون سی طاقت ہے جو یہاں امن قائم کرے۔ سوشل میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں اس پر موجود ہر افغانستانی پاکستان کے خلاف کتنا زہر بھرا پروپیگنڈا کر رہا ہوتا ہے۔
یہ لوگ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں رہ کر یہ سب کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پروپیگنڈے کی وجہ سے اب بہت سارے پشتون نوجوان بھی ان کے ہمنوا بنتے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہ اگر پروپیگنڈا مسلسل کیا جائے تو ایک دن لوگ اسی کو حقیقت اور نجات کا ذریعہ مان لیتے ہیں۔ یہ کام خیبر پختونخوا میں زور و شور سے ہو رہا ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی حکومتی کارروائی کو پشتون دشمن کارروائی کا نام دے کر اس کے خلاف مزاحمت کا درس دیا جاتا ہے۔
اس سب کے پیچھے منظم گروہ کام کر رہے ہیں جن کا فائدہ بدامنی میں ہے۔ جو سمگلر صرف غیر قانونی سگریٹ افغانستان سے سمگل کر کے اربوں روپے کماتے ہیں وہ اسلحہ، منشیات، گاڑیوں، گاڑیوں کے پرزے، الیکٹرانکس، معدنیات اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ سے کتنے کھرب روپے کماتے ہوں گے۔ یہی نہیں کہ یہ سب افغانستان سے آ رہا ہے۔ بلکہ جو یہاں سے وہاں سمگلنگ ہو رہا ہے اس کی پشت پناہی بھی یہی لوگ کرتے ہیں۔ کبھی آپ نے سنا کی کسی دہشت گرد نے کبھی ان سمگلنگ کے ٹرکوں اور سمگلروں پر حملہ کیا ہے۔
کبھی ان کا راستہ روکا ہے۔ کبھی ان سے بھتہ وصول کیا ہے۔ یہ سمگلر اتنے طاقت وار ہو گئے ہیں کہ یہ گزشتہ صوبائی حکومت کے لوگوں سے بھی بھتہ وصول کرتے تھے۔ یہ سب اس وقت بالکل خاموش تھے جب یہ سب کاروبار سہولت سے چل رہا تھا۔ مگر جونہی حکومت کے کچھ محب وطن اور دیانت دار لوگوں نے اس ضمن میں کارروائی شروع کی تو دہشت گردی شروع ہو گئی۔ عجیب و غریب ناموں سے گروہ وجود میں آ گئے۔ کون ہے جو چین کے ساتھ ہمارے معاملات خراب کر رہا ہے۔
کون ہے جو اس ملک میں ترقی نہیں ہونے دے رہا۔ کون ہے جو کراچی کی بندرگاہ سے تورخم تک ان کے لیے سہولت کاری کر رہا ہے۔ یہ جو سسٹم میں کرپٹ لوگ ہیں۔ یہی ان کے سہولت کار ہیں۔ ان کی طاقت ہیں ان کو کون ختم کرے گا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو کون بند کرے گا جس کی آڑ میں پاکستانی معیشت کا ٹھپا بیٹھا دیا گیا ہے۔ کون ہے جو تجارت کی جگہ سمگلنگ کو فروغ دے رہا ہے۔ کون ہے جو ان غیر قانونی افغانستانی شہریوں کو یہاں سے نکالنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
اسی دشمن کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ جس دن یہ سہولت کار مل گیا اور اس کو قانون کے شکنجے میں کس کر سزا دے دی گئی تو یہاں امن بھی ہو گا اور ترقی بھی ہوگی۔ ورنہ ان سہولت کاروں کی موجودگی میں لوگ بھی مرتے رہیں گے اور دہشت گردی بھی بڑھتی رہے گی۔ اور ان کی آشیر باد اور مدد سے یہاں کا نوجوان ایسے راستے پر چل پڑے گا جس کی منزل ان نوجوانوں اور ملک کی تباہی پر منتج ہو گا۔ دہشت گرد کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ لیکن اس بار ان کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کو اس ملک سے نکال دیں اور جو مقامی ہیں انہیں بھی انجام تک پہنچا دیں تو ہی اس آپریشن عزم استحکام کا مقصد پورا ہو گا۔

