تعلیم نسلِ انسانی کی ضرورت
تعلیم حاصل کرنا شیوہ پیغمبری ہے ہر دور میں۔ علم حاصل کرنے کے مختلف طریقے رائج رہے جو بد لتے وقت کے ساتھ ساتھ بد لتے رہے تعلیم حاصل کرنا ہر کسی کے لیے ضروری ہے اسی لیے ہر ملک میں سرکاری سطح پے تعلیمی ادا رے قائم کیے جاتے ہیں ہر ملک کے اپنے طریقے ہیں پڑھا نے کے اور ہر ملک میں سرکاری تعلیمی ادا رے مفت تعلیم دیتے ہیں اسی طرح جب سے پاکستان وجود میں آیا اس وقت سے یہاں بھی سرکاری سکولوں کا قیام عمل۔ میں آیا پاکستان بننے سے پہلے بھی یہاں بہترین سکول اور کالج تھے جو آج بھی اپنے بہترین اساتذہ اور اعلی در جے کی پڑھائی کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت کما رہے ہیں
[ ] ملک عزیز میں اب نجی سکولوں کا کاروبار شروع ہو چکا ہے نجی سکول ہر ملک میں ہوں گے مگر یہاں بات اپنے ملک کی کرتے ہیں بہت سے لوگ جن کے پاس پیسہ ہے وہ سرکاری سکول کی طرف دیکھتے بھی نہیں اپنے بچے وہاں بھیجنے کو۔ اپنے سٹیٹس کے خلاف سمجھتے ہیں اب ان کی دیکھا دیکھی سفید پوش لوگ بھی نجی سکولز کی طرف آ چکے ہیں اور پھر شد ید پریشانی کا شکار بھی۔ ہو رہے ہیں ان اداروں نے بڑھتی۔ ہوئی مانگ کے پیش نظر اپنی ڈیمانڈز بہت بڑھا لی ہیں اور زیادتی کی حدیں پار کر چکے، کتابیں یہ خود پبلش کرواتے اور کا پیوں پے سکول کا نام اس کے علاوہ کوئی کتاب یا کاپی نہیں لے سکتے
یونیفارم تھوڑے سے فرق کے ساتھ ہر کلاس کا الگ جو ہر سال تبدیل کیا جاتا ہے کہ کوئی دوسرا یہ ڈریس استعمال نہ کر سکے
شوز ٹائی کیپ صرف ان کی بتائی شاپ سے ہی۔ لینی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ سکول بیگ بھو ان کے مقرر کردہ ڈیلر سے ہی۔ لینے ہوتے ہیں ہفتے اتوار کی چھٹی اور ایک دن کلر ڈے منا یا جاتا ہے جہاں بچوں کو ایک ہی کلر کے لباس میں آنا ہے اور اسی رنگ کا کوئی فروٹ لے کے جانا ہے ایک ماہ
بعد پارٹی لازمی ہے جہاں بچوں کو بہت سامان لانے کو۔ کہا جاتا ہے اور یوں پھر ایک پارٹی میں دن گزر جاتا ہے ایک بات یہ کہ سٹیشنری سال میں دو بار لی جاتی ہے جو۔ کلاس انچارج کے پاس جمع کروائی جاتی ہے پرائیویٹ سکول بھی مافیا کا روپ دھار چکے ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں، اس لیے کہ یہ سکول حکومتی نمائندوں کے ہیں وطن عزیز میں جہاں ہر چیز کی۔ تجارت ہو رہی ہے وہاں تعلیم کا شعبہ کیسے پیچھے رہ سکتا ہے
اس مافیا سے کیسے نبٹا جا سکتا ہے؟
ملک میں۔ تعلیمی نظام یکساں ہو
ہر سکول میں کوالیفائیڈ اساتذہ مقرر کیے جایں
ہر سکول کا ایک ہی یونیفارم ہونا چاہے
کتابیں اور تعلیمی نظام یکساں
ہمیشہ وہ ہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کی تعلیم ان کی قومی زبان میں ہوتی ہے زیادہ فوکس اپنی قومی زبان پے ہو
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات


