سابقہ چانسلر انگیلامرکل کی سترویں سالگرہ (پہلی قسط)


/ہم یہ کر سکتے ہیں / اور/اسلام کا تعلق جرمنی سے ہے /

یہ مشہور زمانہ جملے کسی اور نے نہیں بلکہ جرمنی کی سابقہ واحد خاتون چانسلر انگیلا مرکل، جن کا پیدائشی نام انگیلا دوروتھنا کاسنر تھا، نے، وفاقی پریس کانفرنس میں، اکتیس اگست، دو ہزار پندرہ کو کہے تھے۔ بوڈاپسٹ (ہنگری) سے آنے والے، شامی، عراقی اور دیگر مہاجرین کو جرمنی میں خوش آمدید کہنے اور ان کے ساتھ سیلفیاں اتارنے والی خاتون نے ایک ہی سال بعد اپنا بیان مشروط کر دیا کہ یہ مہاجرین صرف اس وقت تک ہی جرمنی میں رہ سکیں گے جب تک ان کے آبائی ممالک میں حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے۔

سترہ جولائی سن اُنیس سو چون کو، یعنی دوسری عالمی جنگ کے بعد ، مغربی جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہونے والی، انگیلا مرکل پہلی شخصیت تھیں جو دو ہزار پانچ سے دو ہزار اکیس تک چانسلر کے عہدے پر براجمان رہیں۔ انگیلا مرکل درحقیقت نہ صرف یورپین یونین بلکہ دنیا کی سب سے طاقتور خاتون تھیں۔

عیسائیت فرقے پروٹسٹنٹ کے پادری، مسٹر کاسنر، اپنی بیٹی کے پیدائشی سال ہی اپنی فیمیلی کے ساتھ، ہیمبرگ سے سابقہ مشرقی جرمنی میں منتقل ہو گئے جہاں انگیلا نے ابتدائی تعلیم پائی۔ گھر کا ماحول مذہبی ہونے یعنی ممکنہ مذہبی تعلیمی کیرئیر، کے برعکس انگیلا مرکل نے فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

جرمن اتحاد سے پہلے کی، مشرقی جرمنی میں گزری ہوئی، ان کی زندگی بالکل غیر سیاسی تھی۔ وہ مشرقی جرمنی کے فزکس مرکزی انسٹیٹیوٹ میں تھیوریٹیکلی کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کر رہی تھیں۔

دیوارِ برلن کی مسماری کے لمحاتِ مسرت، دوسرے مشرقی جرمنی کے باشندوں کی طرح، انہوں نے بھی، مشرقی اور مغربی برلن کی سرحدی گزرگاہوں پر جشن مناتے ہوئے گزارے تھے۔ نو نومبر انیس سو نواسی کو وہ بورن ہومر اسٹراسے نامی گزرگاہ پر تھیں۔

مشرقی جرمنی کی، جمہوری طریقے سے انیس سو نوے میں منتخب ہونے والی واحد اور آخری حکومت میں پہلی دفعہ، نائب حکومتی ترجمان کے سیاسی عہدے پر فائز ہوئیں۔ اسی سال ہی، انہوں نے مغربی جرمنی میں فعال سیاسی جماعت سی۔ ڈی۔ یو میں شمولیت اختیار کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقی جرمنی میں، ایس۔ ای۔ ڈی نامی کمیونسٹ حکمران جماعت کی ڈکٹیٹرشپ کے دوران بھی، وہاں مشرقی جرمنی کی سی۔ ڈی۔ یو جماعت، وہاں کی بلاک جماعتوں کا حصہ تھی اور اس نے، اپنے قوانین و ضوابط میں بھی کمیونسٹ جماعت کی حکمرانی تسلیم کی ہوئی تھی۔ سی ڈی یو نے یہ پیراگراف اتحاد جرمنی کے بعد اپنے قوانین سے نکالا تھا۔ انگیلا مرکل ایس۔ ای۔ ڈی میں اور نہ ہی کبھی مشرقی جرمنی کی سی ڈی یو میں رکن رہیں۔

جرمنی کے پہلے مشترکہ (مشرقی اور مغربی) وفاقی انتخابات میں پہلی دفعہ وہ پارلیمان میں منتخب ہوئیں اور پھر سات دفعہ ہمیشہ اپنے حلقے سے ڈائریکٹ منتخب ہوتی رہیں۔

انیس سو اکانوے میں جرمنی کے چانسلر آنجہانی ہیلمٹ کوہل نے انہیں، مشرقی جرمنی کی رہائشی ہونے کی وجہ سے، نسواں اور نوجوانوں کی وزارت سونپی۔ ہیلمٹ کوہل کی دوسری کابینہ ہی میں انہیں ماحولیات، فطرت۔ اور جوہری تحفظ کا وزیر بنایا گیا۔ انیس سو اٹھانوے سے سن دو ہزار تک وہ سی۔ ڈی۔ یو کی جنرل سیکریٹری اور دو ہزار سے چئیر پرسن منتخب ہوئیں۔ دو ہزار پانچ میں، ایس۔ پی۔ ڈی کے گیرہارڈ شرؤڈر کو شکست دے کر چانسلر بنیں لیکن ایس۔ پی۔ ڈی کے ساتھ ہی الحاقی حکومت تشکیل دی۔ دو ہزار نو میں ایف۔ ڈی۔ پی نامی لبرل جماعت، جبکہ دو ہزار تیرہ اور سترہ میں دوبارہ ایس۔ پی۔ ڈی۔ کے ساتھ الحاق کیا۔
! جاری ہے

Facebook Comments HS