مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث


ثقافت دو طرح کی ہوتی ہے۔
ثقافت کا مادی پہلو۔
اور ثقافت کا غیر مادی پہلو۔
کسی نے بہت پہلے کہ دیا تھا کہ
”دنیا بہت قدیم ہے مگر ہر دور میں اس کی جدت، تروتازگی پہلے سے بہت آگے ہوتی ہے“

یہ جو جدت ہے یہ سائنس اور ایجادات کی رہین منت ہوتی ہے اور ایجادات کا تعلق اشیاء سے اور مادی ثقافت کے ساتھ ہے۔ مادی ثقافت کا تعلق غیر مادی ثقافت کے ساتھ دو طرح سے ہے۔ موافقانہ تعلق۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہمارے اس تبدیلی یا ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کا مزاج بھی بدل گیا ہے۔ اسے ثقافتی اثر پذیری بھی کہا جا سکتا ہے۔ اور یہ ایک بنیادی فرق بھی ہے ماڈرن گھرانوں اور روایت پسند مڈل کلاس کے درمیان۔

کہ ماڈرن گھرانے تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فوراً اور پُھرتی سے قبول کر لیتے ہیں جبکہ روایت پسند اُس وقت قبول کرتے ہیں جب ان کے پاس کوئی آپشن قبول کرنے کے سوا نہیں بچتا۔ اور وہ خود کو یہ تسلی بھی دیتے رہتے ہیں کہ ہاں جی۔ الحمدللہ! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہم اس جدت پسندی کی آلودگی سے محفوظ ہیں۔ اس رویے کے سکیل میں دیہاتی اور شہری زندگی کے رہن سہن کا فرق بھی شامل ہے۔

مادی اور غیر مادی ثقافت کا دوسرا فرق مخالفانہ یہ ہے کہ جہاں غیر مادی ثقافت مادی ثقافت کی تبدیلی، ترقی، قبولیت یا جدت پسندی کو رد کرتی ہے اور اس رویے کو پروان چڑھانے والی کمیونٹی یہ سمجھتی ہے کہ اسے اپنانے سے ہمارا سماجی ملبوس تار تار ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر ستر اسّی کی دہائی میں جب ٹی وی آیا تو گھر کے بزرگ آغاز میں شدید الفاظ میں رکاوٹ بنے کہ اس گھر میں یا تو ٹی وی رہے گا یا ہم رہیں گے۔ مابعد کہ بزرگوں نے ٹی وی کو گھر میں آنے تو دیا مگر احتجاجاً ٹی وی والے کمرے میں جانے سے پردہ کرتے رہے اور اسے نحوست اور بے برکتی کی علامت بھی سمجھا جاتا رہا۔

مگر غیر مادی ثقافت (پرانی فکر) نے جس طرح اب قریباً 2015 کے بعد ٹیکنالوجی اور نئی جنریشن کے سامنے خود کو بے اختیار کیا ہے کم از کم پاکستانی معاشرے کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

گھر گھر میں اینڈرائیڈ موبائل کا ورود، ہر گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت کی دستیابی جس تیزی سے ہوئی ہے یہ حیران کن اور بہت سرعت کے ساتھ ہوا ہے۔ مگر اس سے ضرور ہماری کچھ روایات کو ٹھیس پہنچی ہے

مثلاً

1۔ موبائل اور انٹرنیٹ آنے سے ہم لوگ ایک دوسرے سے جسمانی اور وجودی طور پر کٹ گئے ہیں جیسے ایک کمرے میں چار لوگ بیٹھے ہیں سب اپنے اپنے فون پر مشغول ہیں۔ ہوٹل کی ٹیبل پہ بیٹھے سات فیملی ممبر اپنے اپنے موبائل پہ آنکھیں چِپکائے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے مکمل لا پروا ہیں

2۔ احساسات اور جذبات یا تو ختم ہو گئے ہیں یا شِفٹ ہو گئے ہیں۔ گھر میں پڑے بوڑھے ماں باپ کی آہ و بکا ہمیں آزردہ نہیں کرتی۔ سندھ میں اونٹ کے کٹے پاؤں سے ہمیں آنسوؤں والی ایموجیز کی آمد ہوتی ہے

3۔ تیرہ سال سے چالیس سال کے درمیان کے لوگوں کی صحت بالخصوص بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر، آنکھوں کی بینائی اور گردن کے پٹھوں کی قوت میں کمی آئی ہے

4۔ ہم ایک لایعنی، غیر موہوم اور بے مصرف ہیجان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی تو کسی ایسے نوجوان کو دیکھیے جس کے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی ہے یا انٹرنیٹ پیکج ختم ہو گیا ہے اس بے چارے کے چہرے پر ایک گُو نہ پریشانی، آنکھوں میں مایوسی اور ان لوگوں کا بے تحاشا درد نظر آئے گا جو اپنی پوسٹوں پر اس کے کمنٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش کے بعد جب بجلی آئے گی تو وہ بجلی کی سی تیزی سے اپنے چارجر پہ جھپٹے گا اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر موبائل کو چارج کرے گا۔ (موبائل چارج کرنا مسئلہ نہیں وہ ہیجان یا نفسیاتی پریشر مسئلہ ہے جس میں سے وہ ”بالک“ گزر رہا ہے )

5۔ جنریشن گیپ وسیع ہوتا جا رہا ہے جس طرح کی بھی جدید ایجادات یا مشینیں ہیں ان کے زیادہ استعمال کرنے کی بنا پر ہماری آج کی نوجوان نسل کے پاس ساٹھ سال کی حد عبور کرتے بزرگوں کے پاس بیٹھنے کی فرصت نہیں۔ اس طرح وہ ”دیسی دانش“ جو صدیوں کے عمل سے نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے اب یہاں اس کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔ اور غیر مادی کلچر یہاں آ کر مادی کلچر کے آگے شکست یاب ٹھہرے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ اپنی زندگیوں کو آسان بنائیں مگر مشینوں کو انسانوں پر اور انسانی تقدس و احترام پر فوقیت نا دیں۔ اور چند اچھی اقدار جن کا بظاہر کوئی نقصان نہیں اور وہ ہماری ترقی میں رکاوٹ بھی نہیں ان کا تحفظ کریں۔

ایسا نہیں ہے کہ جدید ترین آلات یا جدید ٹیکنالوجی یا گیجیٹس صرف ہمارے ملک میں ہی وارد ہوئی ہیں۔ بلکہ امریکا، فرانس، جرمنی، چین، جاپان اور سنگاپور وغیرہ نے ان چیزوں کو ہم سے بیس تیس سال پہلے اپنا لیا تھا مگر وہاں کا لٹریچر اور وہ پاکستانی جو وہاں زندگیاں گزار رہے ہیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی علاقائی یا ضروری ثقافتی اقدار کو تہِ تیغ نہیں کیا۔

Facebook Comments HS