ناصر ملک: نمایاں اُردو سخن ور
مجھے خوشی ہے کہ میرا تعلق جنوبی پنجاب کی اس دھرتی سے ہے، جس نے محدود وسائل اور پسماندگی کے باوجود علم و ادب کی پرورش کی ہے۔
اس دھرتی نے ہر دور میں ایسے صاحبِ علم اور انسان دوست ادیبوں کی جنم دیا ہے جنہوں نے معاشرے میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔
گزشتہ دنوں جب میں اپنے گاوٴں لوریتو، چک نمبر 270 ٹی ڈی اے، لیہ گیا تو اس مرتبہ اپنے علاقہ کے معروف شاعر، ادیب اور مترجم جناب ناصر ملک سے ملنے چوک اعظم، اُن کے پبلشنگ ہاوٴس، آرٹ بک لینڈ گیا۔
جناب ناصر ملک سے رابطہ گزشتہ سال فیس بک کے ذریعے ہوا اور اس دفعہ پہلی بار ملاقات، 9 جولائی کو چوک اعظم میں ان کے کتب خانے میں ہوئی۔
ناصر ملک ایک فکشن رائٹر، شاعر، مترجم اور ناشر ہیں۔ انہوں نے اپنا پبلشنگ ہاؤس ”اُردو سخن“ کے نام سے قائم کیا ہے۔
ناصر ملک نے بڑے خلوص اور گرم جوشی کے ساتھ خوش آمدید کیا، ان کے ساتھ ادب، اپنے خطے کی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ علاوہ ازیں ان کے ساتھ ہمارے گاؤں اور کمیونٹی کی اجتماعی صورتحال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ناصر ملک دھرتی سے جڑے ہوئے وہ سپوت ہیں جنہوں نے حالات اور علاقائی پسماندگی کا رونا نہیں رویا بلکہ اپنی دُنیا آپ پیدا کی ہے۔ انہوں نے جہاں ادبی دُنیا میں اپنا منفرد مقام بنایا ہے، وہاں اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کی وجہ سے بھی کامیاب رہے ہیں۔ ناصر ملک صاحبِ کتاب، علم و فہم سے آشنا اور انسان دوستی کی حامل شخصیت ہیں۔ میرے لیے ان کا مشاہدہ، مطالعہ اور تجربہ ہماری کمیونٹی کے متعلق ایک حیرت انگیز انکشاف تھا۔
جہاں میں نے انہیں اپنی زندگی، کام اور ادبی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا تو انہوں نے بھی اپنا کلام مجھے سنایا۔
اور اپنا شاعری مجموعہ ”نمایاں“ بھی پیش کیا۔
ناصر ملک نے اپنے براہ راست تجربے کی بنیاد پر کہا کہ کرسیچن کمیونٹی اور گاؤں اس لیے ترقی نہیں کر پائے،
کہ کمیونٹی میں مطالعے کا رجحان بہت کم ہے،
پڑھے لکھے لوگ بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں،
اور نوجوان نسل نشے کی جانب بہت جلد راغب ہو جاتی ہے۔
میری نظر میں ناصر ملک کی رائے بہت حد تک درست ہے۔
یقیناً اس کے دیگر اسباب بھی ہیں لیکن یہ قابل ذکر نکات ہیں۔
میرے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا علاقائی پسماندگی کسی ادیب کی عملی اور تخلیقی صلاحیتوں کو معدوم کرتی ہے، کہ جواب میں ناصر ملک نے ایک واقعہ سنایا کہ جب وہ کم عمری میں ہی لاہور کی ادبی شخصیات سے ایوارڈ لینے کے بعد ملاقات کر رہے تھے تو انہوں نے اس بات کا شکوہ کیا کہ چھوٹے علاقوں کے ادیبوں کو زیادہ مواقع نہیں ملتے ہیں۔ جس پر سینیئر ادیبوں نے کہا کہ یہ آپ کی سوچ ہے، ہم سب، خود چھوٹے چھوٹے علاقوں سے آ کر لاہور میں آباد ہوئے ہیں اور اپنے کام اور صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ اس لیے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر وہ تخلیقی صلاحیتیں موجود ہیں تو اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور مین سٹریم میں اپنا لوہا منوائیں۔
ناصر ملک نے کہا کہ اس دن سے انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ جو کچھ بھی کریں گے چوک اعظم میں رہتے ہوئے ہی کریں گے۔ اپنی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کا اظہار کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی پسماندگی ضرور انسان کی تخلیقی صلاحیتوں آڑے آتی ہے، لیکن یہی ایک فنکار کی اصل صلاحیت ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو لوگوں کے سامنے لائے۔
وقت کم تھا اور باتیں بہت ساری تھیں۔ جناب ناصر ملک نے کھانے کی پیشکش کی لیکن ہم نے چائے پی کر ہی ان سے اجازت چاہی اور وعدہ کیا ہے کہ جب میں کراچی سے دوبارہ اپنے گاؤں آوٴں گا تو ان کے ساتھ بھرپور نشست رکھیں گے۔
چوک اعظم سے نکلتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ واقعی انسان کے اندر چھپے ہوئے خزانوں کی تلاش ہی اس کی اصل اور بنیادی کامیابی ہے، جس کا پھل لوگوں کو بعد میں نظر آتا ہے۔
بالکل اسی طرح جس طرح ناصر ملک نے تھل کے صحرا میں اپنی ہی ادبی دُنیا تخلیق کی ہے اور معاشی آسودگی کے لیے کوشاں لوگوں کی بھیڑ میں علم دوستی کا پرچم سر بلند کیے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔
وہ زمانے کے پیش امام ہوئے
جو کتابوں سے ہم کلام ہوئے۔
ہم کتابوں کے ڈسے لوگ نہیں بچ سکتے
اب بھلے سر سے یہ تلوار ہٹا دی جائے گی
جو تجھ کو پسند آئیں وہ جوہر نہیں رکھتے
ہم لوگ مگر راہ میں پتھر نہیں رکھتے
اِک امن میسر ہو تو دنیا ہے غنیمت
اور امن کی بنیاد یہ لشکر نہیں رکھتے
جب کچھ نہ رہا پاس تو احساس ہوا ہے
دستار کمینوں کے سر پر نہیں رکھتے
رہبر ہو تو رہبری سی کوئی ایک ادا ہو
پچھلوں کے گلے لب پہ سکندر نہیں رکھتے
یہ شوخ اُچھلتے ہیں اِشاروں پہ شب و روز
بے باکی مگر شیر سی بندر نہیں رکھتے
تجھے سایہ تعصب تو خدا بھی نہیں رکھتا
وہ کون سی نعمت ہے جو کافر نہیں رکھتے


