ایک کامیاب عام آدمی کی کہانی
انسان کی پہچان اس کے منفرد کام سے ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی زندگی میں ایسا منفرد کام کر جاتے ہیں جو ان کی شناخت بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثریت عام آدمی کی ہے، اور آج میں ایک کامیاب عام آدمی کی کہانی آپ سے شیئر کروں گا۔ جنہوں نے اپنے خطے میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے محدود وسائل ہونے کے باوجود اُس وقت صحافت کے سفر کا آغاز کیا۔ جب ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور نہ ہی دیگر ذرائع ابلاغ جیسے وسائل تھے۔
اُنہوں نے ستر کی دہائی میں کئی کئی میل سفر پیدل طے کر کے انٹرویو ریکارڈ کیے ۔ آج وہ اپنے خطے جنوبی پنجاب ضلع لیہ، بلکہ پاکستانی صحافت کا ایک بڑا نام ہیں۔ وہ صحافت کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاست میں بھی اہم رکن ہیں۔ اور اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں۔ فخرِ لیہ جناب انجم صحرائی کی، جن کی خدمات لیہ میں صحافتی، سماجی اور سیاسی قابلِ تعریف ہیں۔ جنہیں ضلع لیہ میں بابائے صحافت کہا جاتا ہے۔ انجم صحرائی ایک نامور کالم نگار اور مصنف بھی ہیں۔ اُن کی پاکستانی اقلیتیں سمیت پانچ کتب پبلش ہو چکی ہیں۔ ”شب و روز زندگی“ ان کی سوانح حیات ہے جو گزشتہ سال شائع ہوئی۔
حال ہی میں میری ملاقات ان کے آفس جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں ہوئی۔ جہاں میں اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ ماسٹر ٹی وی کے لیے ان کا انٹرویو ریکارڈ کرنے گیا۔ جہاں انہوں نے بڑی محبت، عاجزی اور اپنائیت سے قبول کیا۔ میری اُن سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ وہیں میری گفتگو ان کے ساتھ بڑی خوشگوار ثابت رہی، اور میں ان کی شخصیت اور خدمات سے بہت متاثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں نے آج سے 40 سال قبل صحافت کا آغاز کیا تھا تو اس وقت نہ تو ڈیجیٹل میڈیا اور نہ سوشل میڈیا جیسے میڈیمز تھے، بلکہ ٹرانسپورٹ جیسے بے شمار مسائل اور چیلنجز تھے۔ ایک واقعہ انہوں نے ہمارے گاؤں کا شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ میں قاضی ِآباد سے پیدل سفر طے کر کے لوریتو گاؤں ”فادر فلکس“ کا انٹرویو ریکارڈ کرنے گیا۔ جو تقریباً 10 کلومیٹر کا سفر بنتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود میں نے کبھی ہمت نہ ہاری، بلکہ اپنی انتھک محنت، لگن اور سیکھنے کی جستجو میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی سوچ رکھی۔
انجم صحرائی صاحب کہتے ہیں کہ میں ایک عام آدمی ہوں، اور میں عام آدمی کی بھوک، درد اور تکلیف سمجھتا ہوں۔ میں نے اس وقت سماجی سرگرمیوں کا آغاز کیا جب میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ آج خدا کا شکر ہے میرے پاس سب کچھ ہے، اور میں سماجی سرگرمیوں میں متحرک ہوں۔ انہوں نے اپنے حلقے لیہ سے متعدد بار ایم این اے کا الیکشن لڑا اور ہر بار ناکام رہے۔ اس کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کا کہنا ہے کہ انجم صحرائی عام آدمی کی بات کرتا ہے اور وہ ہمیشہ عام آدمی کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔
میں سمجھتا ہوں ان کی جنوبی پنجاب لیہ جیسے علاقے جہاں آج سے 30، 40 سال قبل قبائلی سوچ، پسماندہ علاقہ جہاں تعلیم کی کمی اور آج بھی پنجاب کے دیگر علاقوں کی نسبت شعور اور آگاہی میں کمی ہے۔ وہی ان کی اس آزادانہ سوچ، ہمت، جرت اور محنت کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اور یہ آرٹیکل لکھ رہا ہوں۔ انجم صحرائی جیسی شخصیت لیہ کی دھرتی کا فخر ہے اور لیہ کی تاریخ میں اپ کو ہمیشہ سنہرے الفاظ سے یاد رکھا جائے گا۔ انجم صحرائی لیہ کی سرزمین کے نوجوانوں کے لئے خاص طور پر جو صحافت، سماجی اور سیاست میں آنا چاہتے ہیں ان کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔
انجم صحرائی اپنی کتاب شب و روز زندگی جو ان کی سوانح حیات ہے، اُس میں لکھتے ہیں۔
شب و روزِ زندگی میں سب سے مشکل اپنے بارے سچ بولنا، سچ لکھنا اور سچ سہنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شب و روز زندگی کوئی تاریخ کی کتاب نہیں یہ بس میری یا دیں ہیں اور میری ذاتی زندگی کے واقعات و مشاہدات ہیں۔



