انسانی سماج کی تاریخ آخری قسط

سرمایہ داری:۔
اب کارخانہ دار نے خود کو آرگنائز کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنی تنظیمیں بنائی۔ جن کے پلیٹ فارم پر سر جوڑ کر اس پر سوچ بچار شروع کر دی کہ دولت ہمارے پاس زیادہ ہے۔ اس بادشاہی نظام میں جہاں اقتدار نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ بادشاہ کا بیٹا کل بادشاہ ہی ہو گا۔ اس نظام میں ان کے لئے کوئی گنجائش موجود نہیں کہ وہ بھی اقتدار کا حصہ بنے۔ اس کارخانہ دار یا ابتدائی سرمایہ دار نے اپنے کاریگروں جو مسلسل تقسیم محنت سے اپنے ہنر سے بے گانہ ہو چکا تھا اور ایک مزدور بن چکا تھا۔
ان مزدوروں اور کسانوں کو نئے نعرے دیے کہ سب کو اقتدار میں حصہ دیا جائے گا۔ سب کو باعزت روزگار ملے گا۔ صحت اور تعلیم سب کا حق ہو گا۔ سماج میں سب کو برابری کی بنیاد پر انصاف مہیا ہو گا۔ لہذا اس جاگیردارانہ نظام کی نشانی بادشاہ کو ختم کرنا ہو گا۔ اس کی جگہ جمہوریت نافذ کی جائے گی یعنی اقتدار کی مالک عوام ہوں گے۔
فرانس کے سرمایہ داروں نے اپنے مزدوروں، کسانوں اور عام لوگوں کو بادشاہت کے خلاف متحد و منظم کر لیا اور بادشاہت کا تختہ الٹ دیا۔ پانچ مئی 1779 کو انسانی سماج جاگیردارانہ عہد کو خیر آباد کہہ رہا تھا اور ایک نئے عہد سرمایہ دارانہ عہد میں قدم رکھ رہا تھا۔
انقلاب فرانس کے بعد پورے یورپ میں بڑی تیزی سے قومی جمہوری انقلابات برپا ہوئے اور بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ اس کی جگہ سرمایہ دارانہ جمہوریت نے لی۔ نچلے طبقات کو جاگیردارانہ نظام کی نسبت کئی طرح کی سہولیات ملی۔ لیکن حقیقی آزادی نصیب نہ ہوئی۔ اقتدار اعلیٰ میں برائے نام حصہ دیا گیا۔ اس کو ہنر سے محروم کر دیا گیا۔ پہلے انسان آقا اور غلام پھر جاگیردار اور مزارع اب سرمایہ دار اور مزدور (اجرتی غلام) میں تقسیم تھا۔
سماجی انصاف بھی طبقاتی تھا۔ محنت مزدور اور کسان کرتے تھے۔ جب کہ اس محنت کا ثمر سرمایہ دار لے جاتا تھا۔ انقلاب فرانس میں سب سے زیادہ بلکہ بنیادی رول مزدوروں، کسانوں اور عام شہریوں کا تھا۔ انہیں جو خواب دکھائے گئے تھے۔ اس کی تعبیر نہیں ہوئی تھی۔ جاگیردار اور سرمایہ دار طبقات نے سمجھتا کر لیا تھا۔ محنت کش طبقہ بے چین تھا۔ اس بے چینی کی وجہ سے پیرس کمیون کا واقعہ سامنے آیا۔ 18 مارچ 1871 کو پیرس کے محنت کشوں نے سرمایہ داروں کے خلاف بغاوت کر دی اور ایک مساوات پر مبنی سماج کی بنیاد رکھی۔ گو یہ بغاوت زیادہ دن تک کامیاب نہ رہ سکی اور 28 مئی 1871 کو اس کو بے دردی سے کچل دیا گیا۔ لیکن اس واقعہ نے پوری دنیا کے محنت کشوں کو ایک پیغام دیا کہ ایک ایسا سماج قائم کیا جا سکتا ہے۔ جہاں نجی مالکیت کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور ذاتی مالکیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے۔
اس سرمایہ دارانہ سماج میں تھوڑے ہی عرصہ میں پیداوار میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ دوسری طرف سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی اور پھر برطانیہ کے صنعتی انقلابات بالترتیب 1760۔ 1840 نے پوری دنیا کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔ بھاپ کے انجن کی ایجاد نے انسانی سماج جو پچھلے ہزاروں سالوں سے ریگ رہا تھا۔ اب اس کو ٹائر لگ گئے تھے۔
اب یورپ کی اقوام نے اتنی پیداوار کر لی تھی۔ جو ان کی لوکل منڈیوں کی طلب سے کئی گنا زیادہ تھی۔ انہوں نے نئی منڈیوں کی تلاش شروع کر دی۔ یورپی اقوام نے ایشیاء اور افریقہ کی اقوام کو نوآبادیاتی نظام کے تحت غلام بنا لیا۔ وہاں سے خام مال یورپ لے کر جاتے اور تیار مال مہنگے داموں افریقہ اور ایشیا کی منڈیوں میں فروخت کرنے لگے۔ دنیا میں ایک نئی لڑائی شروع ہو گئی۔ نوآبادیوں کے حصول کے لئے کھینچا تانی شروع ہو گئی۔
اسی کھینچا تانی نے 28 مئی 1914 کو انسانیت پر پہلی جنگ عظیم مسلط کی۔ جو 11 نومبر 1918 تک جاری رہی۔ جس میں تقریباً دو کروڑ سے زائد انسان زندگی کی بازی ہار گے۔ اسی جنگ نے روس میں ایسے معروضی حالات پیدا کیے ۔ جس سے اکتوبر 1917 میں بالشویک پارٹی نے لینن کی قیادت میں محنت کشوں کا انقلاب کشید کیا۔ ایک نئے سماج کی ایک نئے عہد کی بنیاد رکھی۔
پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی دوسری جنگ عظیم کی تیاری شروع ہو گئی۔ جاپان نے تقریباً پورے چین کو اپنی نو آبادی بنا لیا۔ امریکہ جو معاشی طور پر جاپان سے کئی گنا زیادہ مضبوط تھا۔ جاپان سے اپنے حصہ کا تقاضا کرنے لگا۔ دنیا کی معاشی طور پر مضبوط اقوام کا نوآبادیوں کی تقسیم کے قضیے کو مل بیٹھ کر حل کرنے کے لئے 10 جنوری 1920 کو لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن یہ عالمی ادارہ دوسری جنگ عظیم کو نہ روک سکا۔
یکم ستمبر 1939 کو دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا۔ روز کی بنیاد پر لاکھوں انسان سرمایہ داروں کی لالچ اور دولت کی ہوس کے لئے اس جنگ کا ایندھن بنے لگے۔ سیکنڈوں میں ہیرو شیما اور ناگاساکی میں لاکھوں انسانوں کو بسم کر دیا گیا۔ یہ جنگ 2 ستمبر 1945 تک جاری رہی۔ جس میں تقریباً سات کروڑ سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ لیکن سرمایہ کی ہوس کم نہ ہوئی اس جنگ کے اختتام پر امریکہ سپر پاور بن کر سامنے آیا۔
اس نے دنیا کو کنٹرول کرنے کے لئے 24 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی۔ لیکن دوسری طرف محنت کشوں کے انقلابات کا سلسلہ جاری رہا۔ اکتوبر 1949 کو انقلاب چائنہ، 19 اگست 1945 انقلاب ویت نام، 1959 کو انقلاب کیوبا دنیا نے دیکھے ہر روز محنت کشوں اور سرمایہ داروں کے درمیان کش و مکش میں اضافہ ہوتا رہا۔ تقریباً دو درجن ممالک میں اس سرمایہ دارانہ نظام کو خیر آباد کہنے کی کوششیں کی گئی۔
آنے والے ہر سال میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں تیز سے تیز تر اضافہ ہوتا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ترقی سے پوری انسانیت مستفید ہوتی۔ لیکن ہر دریافت اور تخلیق پر مٹھی بھر سرمایہ داروں نے کنٹرول حاصل کر لیا اور دنیا کی نصف آبادی خوراک سمیت تمام بنیادی ضروریات سے محروم سطح غریب سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آج اس سرمایہ دارانہ نظام نے لالچ اور حرص کی وجہ سے زمین کو طرح طرح کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جس رفتار سے فضا میں کاربن اور میتھین گیسوں کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو زمین پر انسان چند دہائیوں کا مہمان ہے۔
آج کے عام انسان کے پاس واضح دو راستے ہیں۔ ایک وہ سب کچھ سرمایہ داروں اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے اور دو لاکھ سال سے انسان جو اس زمین پر موجود ہے۔ اس کا اپنے ہاتھوں سے خاتمہ کر دے۔ دوسرا راستہ وہ اس سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ اس کی جگہ طبقات سے پاک سماج قائم کرے۔ انسان کی اجتماعی محنت سے جو سائنس و ٹیکنالوجی کا علم حاصل کیا گیا ہے۔ اس علم کے جو ثمرات ہیں۔ انہیں سب انسانوں تک برابری کی بنیاد پر پہنچایا جائے۔
منافع کی ہوس کی وجہ سے ماحول کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اس کو روکا جائے۔ ایسا ایک نئے سماج میں ہی ممکن ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل ہماری نسلیں اس زمین پر خوشگوار ماحول میں زندگیاں گزارے تو صرف ایک ہی راستہ ہے۔ جدوجہد اس سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد اور یہ جدوجہد انسان کی بقاء کے لئے ناگزیر ہے۔

