جنگلات : تباہی اور تدارک
گزشتہ برسوں میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنگلات میں خوفناک آتشزدگی کی وجہ سے اربوں کی تعداد میں درخت جل کر راکھ ہو گئے جبکہ کھربوں روپوں کے نقصان کے علاوہ دیگر بہت قسم کے نقصانات بھی بلا واسطہ اور بالواسطہ اٹھانے پڑے ہیں۔ اس کے باوجود کئی سالوں سے تمام بڑے چھوٹے پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر فورموں پر یہ شکایات بلکہ واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں کہ سوات، کالام، شانگلہ، دیر، کوہستان اور چترال وغیرہ کے جنگلات کی بیدردی سے کٹائی جاری ہے۔ اور اب چند روز سے اگرچہ نامعلوم وجوہ کی بنا پر متذکرہ ایجنسیاں اس ضمن میں چپ ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر پوسٹس، ریلز، سٹوریز اور دیگر ویڈیو وغیرہ کا ایک طوفان کھڑا ہوا ہے۔ جنگلات کی کٹائی کے ایسے ایسے واقعات اور ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہے ہیں کہ کوئی بھی ذی شعور اور محب وطن مضطرب اور حیران و پریشاں ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہاں اگر خاموشی ہے اور وہ بھی مجرمانہ حد تک تو حکومت، متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں بشمول پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ہے۔ جس کی کوئی توجیہہ بھی نظر نہیں آ رہی۔
کسی بھی ملک کے لیے مختلف ادارے اور نظام اس کے دل، دماغ، ریڑھ کی ہڈی وغیرہ جانے جاتے ہیں۔ لیکن جنگلات کسی بھی ملک کے لیے پھیپھڑوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو اس کے نظام تنفس کے ساتھ ساتھ دیگر کئی نظاموں کو چلائے رکھتے ہیں۔ یہ قدرتی طور پر آکسیجن کی فراہمی اور زہریلی گیسوں کے انجذاب کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی روک تھام میں بھی موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ آب رسانی، آبپاشی اور پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے علاوہ گھریلو، تجارتی اور انڈسٹری کو لکڑی فرام کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی معاشی اور معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ مقامی اور ملکی سطح پر سماجی، معاشی میدان میں مثبت اور مفید کردار ادا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جنگلات لگانے اور شجر کاری پر نہ صرف زور دیا جاتا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے مناسب ضروری اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ تاکہ ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر جنگلات قائم ہوں۔ جنگلات کے لیے کسی بھی ملک میں عالمی معیار کے مطابق کم ازکم کل رقبے کا 31 فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ جبکہ پاکستان میں یہ تناسب محتاط اندازے کے مطابق محض 5.7 فیصد ہے جو خطرناک حد تک کم اور قابل تشویش ہے۔ اس کا بھی آدھے سے زیادہ حصہ صوبہ خیبر پختونخوا اور وہ بھی اوپر ذکر کردہ علاقوں میں ہی ہے۔ جس کی بے دریغ تھوک کے حساب سے کٹائی جاری ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں زیادہ تر درخت سینکڑوں سال کی عمر کے ہیں۔ اور ایسے درخت دوبارہ اگنے یا اگانے میں سینکڑوں سال ہی لگیں گے۔ جس انداز سے یہ کٹائی بلکہ تباہی جاری ہے خدشہ ہے کہ عنقریب ملک کے یہ تھوڑے بہت جنگلات بھی ختم ہو جائیں گے۔
پاکستان جس نے اقوام متحدہ کے کئی معاہدوں اور قراردادوں پے دستخط کیے ہوئے ہیں۔ اور کئی ایسے بین الاقوامی فورمز کا ممبر بھی ہے۔ جو جنگلات، ماحولیات، ثقافت اور ہریالی کے تحفظ سے متعلق ہیں اور اس کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کی یہ بین الاقوامی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے معاہدوں اور قرار دادوں کی پاسداری کرے اور جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کو ملکی سطح پر زیادہ سے زیادہ فروغ دے۔
اندرون ملک بھی اگرچہ جنگلات کے تحفظ اور ترقی کے لیے وزارتیں اور محکمے ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً ”مختلف منصوبے جیسے آشر پلانٹیشن، سونامی پلانٹیشن ، گرین پاکستان پروگرام ، بلین ٹری پروگرام اور اس طرح کے دیگر کئی پروگرام بنا رہے ہیں۔ لیکن اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو ان سب پر اربوں روپے کے خرچ کے باوجود جنگلات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نظر آنے کی بجائے اس کی تنزلی تباہی اور بربادی ہی نظر آ رہی ہے۔
جنگلات کی کمی اور اس کے تباہی کی وجہ سے ہمیں مستقل اور مسلسل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسے ہمارے گلیشیرز گر رہے ہیں۔ سیلاب آ رہے ہیں اور تباہی مچا رہے ہیں۔ زمینوں کا کٹاؤ اور نقصان ہو رہا ہے، پانی کی مقدار اورمعیار میں گراوٹ آ رہی ہے، ماحولیاتی آلودگی اور حیاتیاتی ناپیدگی کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر نقصانات اور تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔
جنگلات کے تحفظ اور ترقی کے لیے ٹھوس اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور ٹمبر سمگلنگ کے کنٹرول کا نظام سخت اور فول پروف بنانا ہو گا۔ ہر ذمہ فارسٹ افسر سے باقاعدہ اس کے ایریا میں موجود درختوں کی تعداد، اقسام اور اس کی کمی اور وجوہات کی رپورٹ لینی چاہیے، اس کو ایسی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اور ان کو انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والوں کی معاونت حاصل ہو۔ الغرض جو جو بھی مناسب ہوں اقدامات کرنے پڑیں گے ۔ کیونکہ جنگلات اللہ پاک کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کا کفران نہیں بلکہ نگران بننا چاہیے۔


