غلام جائیداد۔ دوسری اور آخری قسط
اب للؔی ماں بننے والی تھی۔ مسٹر سینڈز ایک دن دوپہر کے وقت ایک ڈاکٹر کے ساتھ آیا۔ ڈاکٹر نے للؔی کے معائنے کے بعد مسٹر سینڈز کو بتایا کہ وہ اس حمل کو گرا سکتا تھا۔ لیکن مسٹر سینڈز نے للؔی کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئیے کہا۔ ”یہ ایک بد چلن لڑکی ہے، یہ اب اپنے کیے کا انجام بھگتے گی۔“ اس کے بعد للؔی کا جنسی استحصال کم ہو گیا۔ اب ایک دائی ہر ہفتے اس کے پاس آتی۔
نو مہینوں کے بعد سولہ سال کی للؔی ایک ماں بن چکی تھی۔ اس کی زندگی اور مشکل ہو گئی تھی، ایک ننّھا منّا غلام معصوم بچہ جس کا نام للّی نے الیکس رکھا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ بوڑھے مسٹر سینڈز کی بگڑتی ہوئی حالت۔
للؔی کو اپنی سہیلی کے ذریعے پتا چلا کہ مسز سینڈز للؔی اور اپنے شوہر سے سخت ناراض تھی اور اصرار کر رہی تھی کہ للؔی کو بیچ دیا جائے۔ لیکن مسٹر سینڈز اس کی بات کا جھلّا کر ایک ہی جواب دیتا۔ ”للؔی میرے والد کی دیکھ بھال سیکھ گئی ہے اور اس کی ہر تکلیف اور ہر ضرورت کو اچھی طرح سمجھ سکتی ہے۔ میں اپنے باپ کے ساتھ یہ زیادتی نہیں کر سکتا کہ اسے بیچ کر کسی اور غیر تربیت یافتہ غلام کو لے آؤں۔ “
کچھ دنوں بعد مسٹر سینڈز نے اسے پھر شام ڈھلنے کے بعد اسی بڑے درخت کے پاس انتظار کرنے کے لئے کہا۔ سولہ سالہ ماں پھر اپنے مالک کے لئے جنسی گڑیا بن چکی تھی۔
اب للؔی ایک بیٹی بھی پیدا کر چکی تھی۔ مسٹر سینڈز نے اسے سختی سے تاکید کی ہوئی تھی کہ وہ دونوں بچوں کا اچھی طرح سے خیال رکھے۔ للؔی نے ایک بار جھک کر التجا کی۔ ”میں نے ہمیشہ آپ کی تابعداری اور وفاداری کی ہے۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنی ذمے داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھایا ہے۔ میرے ان دونوں بچوں کو آزادی کا پروانہ دے دیں۔ میں آپ کی ساری عمر غلامی کرتی رہوں گی۔“ یہ کہہ اس نے اپنے آقا کے جوتوں کو ہاتھ لگایا۔
”سن اے لڑکی، تو میری غلام ہے۔ اسی طرح قانون کے مطابق یہ بچے بھی میرے غلام ہیں۔ میں جب چاہوں انہیں بیچ دوں یا ان کے ساتھ جو مرضی کروں۔ تو اپنی حیثیت کے اندر رہ۔ میں نے تجھ پہ بہت احسانات کیے ہیں۔ تجھے یہاں جو کچھ کھانے پینے کے لئے ملتا ہے میرے دوسرے غلام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جس طرح کا لباس تو پہنتی ہے کیا تو نے کسی اور غلام کو ایسے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے؟ آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہیں کرنا۔“
للؔی پھر جھکی۔ ”اگر آپ انہیں آزاد نہیں کرتے تو ان کو میری آنکھوں کے سامنے ہمیشہ رہنے دیں۔ ان کو کہیں اور نہیں بیچیں۔ “
سٹر سینڈز نے اسے زور سے کندھا پکڑ کر اٹھایا۔ ”اے لڑکی، جتنی میں تیرے ساتھ نرمی برتتا ہوں اتنا ہی تیرا دماغ خراب ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تجھے کچھ کوڑے لگوانے پڑیں گے۔ تو اور تیرے بچے میری جائیداد ہیں جس طرح یہ گھوڑا اور اصطبل میں اس کے بچے۔ یہ کبھی چوں چرا نہیں کرتے۔ تجھ کو زبان لگ گئی ہے، تو یہ نہ سمجھ کہ تو غلام نہیں ہے۔ “
للؔی نڈھال ہو کر زمین پہ گر گئی۔ اسے ٹاپوں کی آوازیں آ رہی تھیں جو کچھ لمحوں کے بعد غائب ہو گئیں۔ اسے لگا جیسے مسٹر سینڈز اس کا مستقبل بھی ہمیشہ کے کیے غائب کر گیا تھا۔ ”میرے بچے میرے بچے، ان کا کیا ہو گا! یہ ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور کسی نامعلوم مقام پر رہیں گے اور میں کبھی بھی ان سے مل نہ پاؤں گی۔“ اور وہ اپنے بچوں کی ممکنہ جدائی کے غم میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی۔
للؔی کو ہر لمحہ اپنا دشمن محسوس ہوتا تھا، اس کو پوری کائنات ایک خونخوار ہستی لگ رہی تھی۔ ”آخر میرے بچوں نے کیا قصور کیا ہے جو ان کو مجھ سے علیحدہ کیا جائے گا۔ پتا نہیں کون ان کو خرید کر دنیا کے کس انجان کونے میں لے جانے گا۔ پھر وہ کبھی بھی مجھ سے مل نہیں پائیں گے۔ ان پہ پتا نہیں کیا کیا ظلم ہو گا!“ حالانکہ دونوں بچے ابھی بہت چھوٹے تھے اور مسٹر سینڈز نے کہا تھا کہ کچھ سال کا بعد ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا، لیکن یہ سوچیں للؔی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھیں۔ وہ اکیس سال کی عمر میں ہی ایک مردہ انسان بن چکی تھی۔ اس نے کئی مرتبہ سینئر مسٹر سینڈز سے بھی اس بارے میں التجا کی لیکن وہ بیمار بوڑھا شخص للؔی کی بات نہیں سمجھ سکا۔ جب بھی وہ کام سے فارغ ہوتی تو بچوں کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی جیسے ان کو مسٹر سینڈز سے بچا رہی تھی۔
مسٹر سینڈز اپنے باپ کو دیکھنے کے لئے ہفتے میں اب صرف ایک بار آتا تھا۔ للّی کو ایک غلام دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ اب مسٹر سینڈز کی دلچسپی کسی اور غلام لڑکی کی طرف مبذول ہو گئی تھی۔ وہ مسٹر سینڈز کی طرف التجا کی نظروں سے دیکھتی لیکن مسٹر سینڈز کے رویے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اب وہ للؔی سے کم سے کم بات کرتا اور اسے نظر انداز کر دیتا۔
اب للؔی کا بیٹا دس سال کا تھا اور بیٹی اس سے ایک سال چھوٹی تھی۔ مسٹر سینڈز جب بھی آتا انہیں گھور گھور کر دیکھتا رہتا۔
للؔی کو پتا تھا کہ فروخت کا دن قریب آتا جا رہا تھا۔ آخر ایک دن مسٹر سینڈز ایک اور غلام جوان مرد اور ایک سفید فام مرد کے ساتھ آیا اور بچوں کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ جب للؔی نے بین ڈال ڈال کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو سفید فام شخص نے دو کوڑے للؔی کو رسید کیے ۔ للؔی کی قمیض پھٹ گئی اور اس میں خون رسنے لگا۔ وہ واویلا مچاتی ہوئی بچوں کی طرف لپکی۔ ایک اور کوڑے کی ضرب نے اسے نڈھال کر دیا اور وہ بے ہوش ہو گئی۔
بچوں کی آنکھیں سیلاب امڈ رہی تھیں اور ہچکیوں کا ایک نہ رکنے والا طوفان تھا۔ سفید فام جلاد نے کوڑا ان کی طرف گھمایا تو دونوں سہم کر نیچے جھک گئے۔ سفید فام شخص نے پھر کوڑا گھمایا اور بچوں کو ایک ویگن میں دھکیل دیا۔ اگلے ہی لمحے گھوڑے نے ویگن کو کھینچنا شروع کر دیا اور چند ہی سیکنڈوں میں بے ہوش ماں ان کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔
ان بچوں کو کچھ پتا نہیں تھا سوائے اس کے کہ ان کے اوپر سے ایک بے پناہ محبت کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اٹھ چکا تھا اور اس کی جگہ ایک شدید گہری ظلمت کے بھیانک سائے نے لے لی تھی۔ دونوں بچے ایک دوسرے کو ایسے گھور کر دیکھ رہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کی شکل کو اپنے اندر سما لینا چاہتے تھے، جیسے وہ ایک دوسرے کے لئے دنیا میں سب سے بڑا سہارا تھے۔ دونوں اپنے رب سے یہی دعا مانگ رہے تھے ان دونوں کا خریدار ایک ہی ہو لیکن دعائیں تو شاذ و نادر ہی قبول ہوتی ہیں۔
دو دن بعد الیکس اور اس کی بہن الگ الگ خریداروں کے حوالے کیے جا چکے تھے۔ اس ترقی یافتہ نئی تہذیب نے ان کے بچپن کو دو تین روز ہی میں قتل کر کے غلامی کے طوق کو ساری عمر کے لئے ان کے گلے میں ڈال دیا تھا۔ اب ان کی کوئی شے بھی اپنی نہیں تھی۔ نہ جسم، نہ روح، نہ پسند، نہ کوئی رشتہ، نہ حال نہ مستقبل۔ نہ انہیں محبت کرنے کا حق تھا اور نہ ہی شکایت کا۔
یہ سفید فام مالک ترقی اور امارت کی منزلیں طے کر رہا تھا اور یہ دو بچے انسانی ارتقا کے بجائے انسان کے درجے سے گر کر حیوان سے بھی نچلے درجے پہ منتقل ہو رہے تھے۔
پچھلی قسط کے لئے کلک کریں : https://www.humsub.com.pk/556850/habeeb-sheikh-116/
حوالہ: یہ کہانی درجِ ذیل خود نوشت سے متاثر ہو کر لکھی گئی:
Incidents In The Life Of A Slave Girl
by Harriet Jacobs; pseudonym Linda Brent ; published in 1861


