”حافظ“ عاشق نامراد
یونیورسٹی میں ہماری کلاس پنجاب بھر سے آئے طلبہ پر مشتمل تھی اور ہاسٹل اس سے بھی زیادہ متنوع، جہاں بے شمار کرداروں سے واسطہ پڑا، یونیورسٹی ایک بہترین (رسمی اور غیر رسمی) ذریعہ تعلیم ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ ہاسٹل لائف میں انہی کرداروں کا ہوتا ہے، جب دوستوں کا گروپ بنتا ہے تو اس میں شامل احباب مختلف شہروں اور خاندانوں کی عادات و اطوار اور خصائل لے کر مسلسل آپ کی تعلیم کا ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ تو نارمل ہوتے ہیں لیکن کچھ کردار ایسے ضرور ملتے ہیں جو اس کیٹگری میں شامل نہیں ہوتے، وہ ”ذرا ہٹ کے“ ہوتے ہیں، ایسے ہی کرداروں میں ایک کردار تھا ”حافظ قدیم حسرت“ (فرضی نام) ، حافظ قرآن تھے جس پر انہیں شدید ناز تھا (اور ناز ہونا بھی چاہیے، یہ اعزاز کے ساتھ کوئی چھوٹی بات نہیں ) ، ان کا رکھ رکھاؤ اور پہناوا بھی خوب تھا، چھوٹا قد (چھوٹے سے بھی تھوڑا چھوٹا) ، گندمی رنگت، سر پر بال کم لیکن گزارے لائق، گہری مونچھیں جو مڑ کر ہونٹوں تک آ رہی ہوتیں، ( مونچھوں کے نیچے ابھرے ہوئے ہونٹ) ، اکثر سوچتے ہوئے یا پریشانی میں ان سے کھیلتے رہتے، بالوں میں تیل لگا کر عمدہ طریقے سے نکلی ہوئی مانگ، کاٹن کے کلف لگے کپڑے، ہاتھ میں ڈائری تھامے کالے رنگ کے چمکدار سینڈلز چڑھائے، ضرورت سے زیادہ اکڑ کر پاس سے یوں گزر جاتے جیسے کوئی سپر سٹار گزر رہو ہے،
وہ کہتے ہیں نا، خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آ ہی جاتی ہے۔
ان کے بقول وہ ایک کھاتے پیتے خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، والد صاحب محکمہ تعلیم میں افسر تھے، جسے وہ اکثر یوں بیان کرتے جیسے سارے شہر کی ذمہ داری ان کے والد کے ناتواں کندھوں پر ہے، ڈی سی بھی کیا چیز ہے؟ ان کا کمرہ ان کے دعووں کا عکاس تھا، کارپٹ صاف ستھرا، عمدہ طریقے سے سجا جوتوں کا ریک، بہترین آئینہ اور ٹیبل پر سجی چیزیں ان کے ذوق کی نمائندہ تھیں۔
ایک دن مجھے گھیر گھار کر اپنا کمرہ دکھانے لے گئے، وہاں موجود چیزوں کا قیمتوں کے ساتھ مسلسل تعارف کرواتے رہے، ٹیبل پر کچھ کتابیں پڑی تھیں، نا جانے کیوں اچانک انہیں شاعری کا دورہ پڑا اور چند شعر سنانے کے بعد بولے، میں آپ کو اس شاعر کی کتاب دکھاتا ہوں، انہوں نے فوراً کتاب اٹھا کر کھولی تو اس میں سے ہزار ہزار کے کئی نوٹ گرے، حافظ صاحب سکتے میں آ گئے اور بولے یہ پیسے کہاں سے آئے؟ میں نے کب یہ پیسے ان کتابوں میں رکھے؟
ان کی پریشانی دیکھتے ہوئے میں بولا شاید اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مدد ہے، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، میں پھر بولا حافظ صاحب اگر واقعی اللہ تعالی کی مدد ہے تو اس میں تو میرا بھی حصہ بنتا ہے، اس پر ان کا سکتہ ٹوٹا اور ہنستے ہوئے تمام نوٹ سمیٹ کر اپنی سفید کلف لگی قمیض کے کھیسے میں کھسیاتے ہوئے ڈال لیے اور جلدی سے بات بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔
اگر حافظ صاحب آپ کو کینٹین میں مل گئے تو سمجھیں آپ کی چاندی ہو گئی، ہمارے کچھ پردہ نشین دوست تو اس انتظار میں ہوتے تھے کہ کب حافظ صاحب وہاں جائیں اور ہم وہاں پہنچیں، ان کی تعریفیں کریں اور بہتی گنگا میں نہائیں، کچھ احباب اس اشنان کے عادی ہو چکے تھے، آج کے چند افسروں کے ہاتھ کہنیوں تک اس خون میں رنگے ہوئے ہیں۔
حافظ صاحب کی فیاضی کی شہرت ساتھ والے ہاسٹل تک پہنچ چکی تھی، جس میں ہمارے بھی چند کلاس فیلوز گوشہ نشین تھے، ایک دن وہ حافظ صاحب کے کمرے سے سنگتروں کی پیٹی، مال غنیمت کے طور پر اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔
حافظ صاحب مقابلے کا امتحان پاس کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور روزانہ صبح اٹھ کر نیوز پیپر اسٹینڈ پر کالم یاد کر رہے ہوتے تھے، ایک دن ہم سب کمرے میں موجود تھے تو وہاں حافظ صاحب نمودار ہوئے اور بولے آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کا اٹامک پروگرام کیا ہے؟ اور ساتھ ہی آج ہی چھپا ایک رٹا ہوا کالم (جو ہم سب پڑھ چکے تھے ) زبانی بولنا شروع کر دیا، ہمارا دوست عمران جو خود مطالعے اور کاؤنٹر آرگیومنٹ کا شدید کھلاڑی تھا، نے حافظ صاحب کے تمام آرگیومنٹس کو چند منٹوں میں پچھاڑ دیا، حافظ صاحب شدید کنونس ہو گئے، غصے میں اٹھے، جیب سے کالم کا اخبار سے پھاڑا ہوا تراشہ نکالا، یہ بولتے ہوئے کہ یہ کالم نگار ہمیں بے وقوف بناتے ہیں، اس کے ٹکڑے کر دیے اور کمرے سے نکل گئے۔
ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ کے جس کوریڈور میں ہماری کلاس ہوتی تھی، ہم کلاس فیلوز اکثر بریک میں وہیں پائے جاتے تھے، کوریڈور کے دوسری جانب ایک اور ڈیپارٹمنٹ تھا، ہم نے مشاہدہ کیا کہ حافظ صاحب اکثر وہاں سے گزرتے ہیں، یا بریک ہوتے ہی اس کاریڈور میں کسی پلر کے ساتھ کھڑے ڈائری کھنگال رہے ہوتے ہیں، ایک دن وہاں کھڑے ”ورد“ کرتے ہوئے بھی پائے گئے، کیونکہ ان کے بڑے بڑے ہونٹ جس طرح ہل رہے تھے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ آیات، کلام یا جنتر منتر پڑھ رہے ہیں، یہ سب نارمل نہیں تھا، ہم نے بھی زیادہ توجہ نہ دی۔
کچھ عرصے بعد ایک صبح جب ہم کلاس روم کے باہر کھڑے اپنے پیریڈ کا انتظار کر رہے تھے تو حافظ صاحب نمودار ہوئے، ہم تمام دوستوں سے بالمشافہ ملے، ہمارے دوست خرم ڈوگر نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اسی پکڑے ہاتھ کے ساتھ ان سے پوچھنا شروع کر دیا کہ آج آپ لیٹ کیسے ہو گئے؟ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بتاتے، دو ڈیسنٹ سے انکلز نمودار ہوئے جن کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی تھی، اس نے دور سے اشارہ کیا کہ وہ کھڑا ہے، ہمیں کچھ سمجھ نا آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، حافظ صاحب نے ڈوگر سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی، ڈوگر کو کچھ معلوم نہیں تھا اس لیے اس نے ازراہ تفنن ہاتھ مزید مضبوطی سے پکڑ لیا، اب حافظ صاحب اور ڈوگر کے درمیان ایک کھینچا تانی چل رہی تھی، ڈوگر بول رہا تھا، حافظ صاحب بات تو سنیں کیا جلدی ہے؟
اور حافظ صاحب شدید گھبراہٹ میں ہاتھ کے ساتھ یوں رسہ کشی کر رہے تھے جیسے کوئی اتاولہ میمنہ رسی چھڑوانے کی کوشش کر رہا ہو، وہ ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑوا کر ایک طرف کو بھاگ نکلے، ان کا قد کافی چھوٹا تھا اس لیے لمحوں میں ایک چھلاوے کی طرح بھیڑ میں غائب ہو گئے، ان ادھیڑ عمر شخصیات سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟ وہ بولے ایک لڑکا ہماری لڑکی کا پیچھا کرتا ہے اور اسے تنگ کر رہا ہے۔
دہائی خدا کی، حافظ صاحب یہ آپ نے کیا کیا؟ چند ایک ٹیچر بھی وہاں موجود تھے جو ان شخصیات کو ذاتی طور پر جانتے تھے، اب ہم سب مل کر حافظ صاحب کو ڈھونڈنے لگے، ہمارا دوست عاطف بلوچ، جسے حافظ صاحب پر ان کی حرکتوں کی وجہ سے مفت میں کچیچیاں چڑھتی رہتی تھیں، وہ تو دل و جان سے حافظ صاحب کی تلاش میں تھا کہ کسی طرح انہیں پکڑ کر ان کی تلاش میں آئے لوگوں کے حوالے کیا جا سکے، لیکن حافظ صاحب تو یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ، ایک گھنٹے کی محنت کے بعد ان کی تلاش ترک کر دی گئی اور معاملہ اساتذہ کرام پر چھوڑ وہ لوگ رخصت ہوئے۔
اس شام ہاسٹل میں یہ ایک ہاٹ ایشو تھا، حافظ صاحب اپنے کمرے سے بھی غائب تھے، ہم بہت متجسس تھے اور بار بار ان کے کمرے کا چکر لگاتے رہے کہ پتہ کر سکیں یہ معاملہ کیا ہے؟
آخر ایک دن حافظ صاحب وہاں پہنچ گئے، معاملہ تقریباً کھل چکا تھا، ہم یہ سب حافظ صاحب سے سننا چاہ رہے تھے کہ لڑکی نے بے وفائی کیوں کی؟
ہم نے کہا حافظ صاحب یہ کیا ہو گیا؟ آپ جیسی شخصیت کے ساتھ دغا؟ اس بد قسمت لڑکی نے ایسا کیوں کیا؟
بس فرقان صاحب، دلاں دے سودے،
(اور زور دے کر سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے ) اے دلاں دے سودے نے،
( بس فرقان صاحب
یہ دلوں کے معاملات ہیں،
اور زور دے کر سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے،
یہ دلوں کے معاملات ہیں )
وہ بولے، مجھے تو خود سمجھ نہیں آ رہا،
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، میں روز اسے اس کے گھر تک چھوڑ کر آتا تھا، وہ ڈیپارٹمنٹ سے نکلتی تو میں ساتھ اسٹاپ تک جاتا، قدم سے قدم ملتے، باتیں ہوتیں، کمیونیکیشن ہوتی، میں بول رہا ہوتا تھا اور وہ خاموش۔
اب کمیونیکیشن کی جو ڈیفینیشن یونیورسٹی میں ہمیں پڑھائی جا رہی تھی اس میں تو ٹو وے کمیونیکیشن کا ذکر تھا، کہ کمیونیکیشن کمپلیٹ ہی تب ہوتی ہے جب دو طرفہ ہو، اب یہ کس قسم کی کمیونیکیشن تھی کہ ایک فریق مسلسل بولے جا رہا ہے اور دوسرا خاموش، آخر شاید خاموشی کی بھی تو زبان ہوتی ہے۔
خیر حافظ صاحب گویا ہوئے، اکثر وین میں وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی اور میں پیچھے بیٹھ جاتا اور کنڈکٹر سے بولتا :
جوان، فرنٹ سیٹ کا کرایہ ہو گیا، ان سے مت پوچھنا۔
پھر اس کا اسٹاپ آ جاتا، وہ اترتی اور میں پیچھے ہو لیتا، جب وہ اپنے گھر میں گھس جاتی تو میں واپس آتا۔
سب ٹھیک چل رہا تھا۔
کچھ دن پہلے جب میں انہیں گھر چھوڑنے جا رہا تھا، جیسے ہی ان کی گلی میں داخل ہوا، انہوں نے کسی کو اشارہ کیا، چند لوگوں نے آواز لگائی، ادھر ہی رک جاؤ جوان، میں نے مڑ کر دیکھا تو چار پانچ ہٹے کٹے جوان میری طرف بڑھ رہے تھے، میرے دل سے آواز آئی، بھاگ حافظ بھاگ، تیری عزت کا سوال ہے اور میں نے دوڑ لگا دی، گلیوں میں شور مچ رہا تھا، میں بھاگ رہا تھا، وہ میرے پیچھے تھے، کبھی اس گلی تو کبھی اس گلی، ایک گلی میں پہنچا تو آگے گلی بند، پھر میں نے کہا کہ حافظ اس وقت دنیا کی کوئی دیوار اہمیت نہیں رکھتی، ہمت کر اور آگے بڑھ، میں نے جمپ لگایا اور کودتے ہوئے دیوار پر چڑھ گیا، خوش قسمتی سے دوسری جانب ایک اور گلی شروع ہو رہی تھی، میں اس گلی میں کودا اور یوں اپنی عزت اور جان بچا کر واپس پہنچا۔
میں نے کہا حافظ صاحب بہت ہی ناہنجار اور بے وقوف لڑکی تھی، آپ جیسے شخص کو ٹھکرا دیا، اس نے تو لاکھوں میں کھیلنا تھا، حافظ صاحب کی آنکھوں میں نمی آ گئی، وہ بولے میں نے اسے پھولوں کی سیج پہ رکھنا تھا، ڈیفنس میں گھر لے کے دینا تھا، (زور دے کر) اے دلاں دے سودے نے، (یہ دلوں کے معاملات ہیں اس بار سینے پہ مکا مارتے ہوئے ) سب کچھ تو ٹھیک چل رہا تھا، کچھ سمجھ نہیں آ رہا، آخر کیا ہوا کہ یہ سب مجھے دیکھنا تھا۔
ہم نے کہا حافظ صاحب اس دن ڈیپارٹمنٹ میں کہاں غائب ہو گئے تھے، آپ کا تو پتہ بھی نہ چلا، وہ بولے جیسے ہی میں سیڑھیاں اترا، سامنے لان کے پار کچھ رکشے کھڑے تھے، میں بھاگ کر نہیں بلکہ تیزی سے چل کر گیا تاکہ کسی کی نظر میں نہ آؤں اور ایک دروازوں والے رکشے میں گھس گیا، ڈرائیور کے ہاتھ پر 100 کا نوٹ رکھا اور بولا خاموش، کہیں نہیں چلنا بس ادھر ہی بیٹھے رہو، سب مجھے رکشے کے آس پاس ڈھونڈتے رہے جبکہ میں رکشے کے اندر موجود تھا۔
اساتذہ کرام نے بیچ بچاؤ کیا، حافظ صاحب سے معافی منگوائی، حافظ صاحب کچھ دن ڈیپارٹمنٹ سے غائب رہے، اور یوں معاملہ رفع دفع ہوا۔
وہ لڑکی تھی بھی بہت خوبصورت، اس ایپیسوڈ کے بعد تو نا چاہتے ہوئے بھی دھیان اس کی طرف جاتا تھا، گورا چٹا رنگ، سرخ و سفید چمکتے ہوئے گال، عمدہ طریقے سے لیا ہوا دوپٹہ، ٹھیک ٹھاک قد، حافظ صاحب تو اس لڑکی کے کندھوں تک آتے ہوں گے، وہ جب بھی فائل اور چند کتابیں سینے سے لگائے سامنے آتی، اس سے پہلے کہ ہم اس کے حسن سے متاثر ہو کر کچھ سوچتے، دل ہی دل میں گنگناتے، بدقسمتی سے ہمیشہ حافظ صاحب یاد آ جاتے، ”تیرا ککھ نہ روے حافظا“ (حافظ تو ملن کو ترسے ) ۔
ایک دن صبح صبح حافظ صاحب کوریڈور میں کھڑے زیر لب وہی ورد کر رہے تھے، جبکہ کوریڈور کے دوسری جانب وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ کھڑی بار بار اپنا دوپٹہ درست کر رہی تھی، اس کی سہیلیاں ہنس رہی تھیں اور حافظ صاحب اپنا ورد جاری رکھے ہوئے بیچ بیچ میں ہماری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے، میرے ساتھ عاطف بلوچ کھڑا تھا، وہ (کچیچیاں لیتے ہوئے ) حسرت سے بولا، کاش اس دن خرم ڈوگر نے حافظ صاحب کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا ہوتا۔
(کسی بھی شخصیت یا کردار سے مشابہت اتفاقیہ ہوگی)


