صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 14 : خداوند میرا چرواہا


” مسیح کا کلام تمہارے اندر پوری طرح بسا رہے، اور تم ہر طرح کی حکمت میں ایک دوسرے کو تعلیم دو اور نصیحت کرو، اور شکر گزاری کے ساتھ اپنے دلوں میں خدا کے لئے زبور، حمد اور روحانی گیت گاؤ۔“ کولسیوں 3 : 16

نومبر کے گلابی جاڑے میں اتوار کی صبح کو ہلکی سی خنکی ہونے کے باوجود ٹھنڈک کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ ہولے ہولے چلنے والی ہوا کا کوئی ہلکا سا جھونکا رخسار کو چھو لیتا تو ایسا لگتا جیسے کسی نے اپنی نرم انگلیوں سے بڑے پیار بھرے انداز میں آپ کے رخسار کو تھپتھپا دیا ہو۔ اس لمحے میں، ماحول کی ہر چیز، درختوں کے پتوں سے لے کر دور دور تک بکھری ہوئی دھند کی چادر تک، سب کچھ ایک پرسکون ہم آہنگی میں گھل مل کر ایک خواب ناک منظر پیش کر رہا تھا۔

دھند چھٹتے ہی فضا دھلی دھلی سی لگنے لگی۔ آسمان پر سنہرے اور سفید بادلوں کی ہلکی ہلکی تہیں جمی ہوئی تھیں، جیسے کسی ماہر مصور نے نیلے کینوس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے کشیدہ کاری کی ہو۔ زمین پر گرے ہوئے خزاں کے زرد پتے دھوپ کی ہلکی روشنی میں سونے کی طرح چمک رہے تھے۔ ہر طرف ایک سکون اور ٹھہراؤ کا احساس تھا۔ دور دور تک پھیلی ہوئی دھند کی چادر دھیرے دھیرے چھٹ رہی تھی، اور اس کے پیچھے ایک دُھلا دُھلا سا منظر ابھر رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وقت کچھ دیر کے لیے کھڑا ہو گیا ہو۔

جیسے ہی مریم کا رکشہ چرچ کے دروازے پر رکا اسے احساس ہوا کہ وہ تاخیر سے پہنچی ہے کیوں کہ باہر کوئی نظر نہیں آیا اور دروازہ بند تھا۔ اس نے ایک جانب جھک کر دیکھا تو میٹر چار روپے ساٹھ پیسے دکھا رہا تھا۔ اس نے پرس سے پانچ روپے کا نوٹ نکالا اور ڈرائیور کو دیتے ہوئے اتر گئی۔ جب وہ چرچ کی سیڑھیوں کی جانب بڑھی تو اس کا گلابی رنگ کا ٹخنوں تک کا اسکرٹ دھیمی ہوا میں ہلکے ہلکے لہرا رہا تھا۔ اسکرٹ کے ساتھ اس نے ایک سفید رنگ کی لمبی آستینوں کی بلاؤز پہنی تھی اور کندھوں پر دونوں جانب سلیقے سے تہہ کیا ہوا سرخ دوپٹہ لٹک رہا تھا۔ اس کے رخسار پر ہلکے سے گلابی رنگ کے شیڈ نے اس کی مسکراہٹ میں ایک خاص کشش پیدا کردی تھی۔ وہ اپنے دوپٹے کو سنبھالنے کے لیے رکی اور چونک کر اوپر دیکھا تو آسمان پر مرغابیوں کا ایک غول بڑا سا V بنا کر قیں قیں کرتا ہوا اڑ رہا تھا۔

اس نے چرچ کا دروازے کھول کر اندر جھانکا تو اس کی نظر پادری پال پر پڑی۔ وہ سروس شروع ہونے سے پہلے ہی منبر پر آ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور انتظار کرتے کہ حاضرین اپنی نشستوں پر آرام سے بیٹھ جائیں۔ اس دوران دانی ایل موسیقی کی کوئی دھن بجاتا رہتا۔ انہوں نے مریم کو اگلی صف کی جانب اشارہ کیا۔ وہ آ کر کونے کی خالی نشست پر بیٹھ گئی اور دوپٹہ اوپر کھینچ کر سر ڈھانپ لیا۔

مریم کے سامنے اسٹیج پر دانی ایل گرانڈ پیانو پر ایک ایسی مدھم دھن بجا رہا تھا جو دل کی گہرائیوں میں اتر کر ایک روحانی اور پر سکون اثر چھوڑ رہی تھی جیسے ہلکی ہوا سے پتّوں میں سرسراہٹ ہو رہی ہو۔ جب موسیقی کی لہریں چرچ کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتیں تو ہر نوٹ کا ارتعاش محسوس ہوتا۔ چرچ کا ماحول روحانیت سے پُر تھا۔ حاضرین خاموشی سے موسیقی سن رہے تھے یا سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے۔ دیواروں پر لگے بجلی کے شمع دانوں کی روشنی نے ہال کو مزید خوبصورت بنا دیا تھا۔ جب دانی ایل نے دھن کو ختم کیا، تو آخری نوٹ دھیرے سے چھو دیا، جیسے شام کی آخری روشنی دھیرے سے رات کی تاریکی میں مُدغم ہو گئی ہو۔ یہ آخری نوٹ ایک گہری خاموشی پر ختم ہوا، جس نے سامعین پر سکون طاری کر دیا۔ چند لمحات کے بعد پادری پال نے بائبل کھولی اور زبور کے 23 ویں باب کی تلاوت شروع کردی۔

”خداوند میرا چرواہا ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔
وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔
وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کے راستوں پر لے چلتا ہے۔

ہاں، خواہ میں موت کے سائے کی وادی میں سے گزروں، میں کسی بلا سے نہ ڈروں گا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے۔ تیرے عصا اور تیری لاٹھی، وہ مجھے تسلی دیتے ہیں۔

تُو میرے دشمنوں کے سامنے میرے لئے دسترخوان بچھاتا ہے۔ تُو نے میرے سر پر تیل ملا، میرا پیالہ لبریز ہے۔

یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا۔ ”

پادری پال نے بائبل بند کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ حاضرین نے بھی سر جھکا کر ہاتھ اٹھا دیے۔ پادری پال کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی، ”اے عظیم خداوند، ہم تیرے حضور حاضر ہیں، تیری حمد و ثنا کرتے ہیں اور تیری رحمتوں کے لیے شکرگزار ہیں۔ ہمیں اپنی راہوں پر چلنے کی توفیق دے، ہمیں اپنے فضل و کرم سے نواز، اور ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے۔ اے خدا، ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہمیں اپنی روشنی میں رکھ، آمین۔“

دعا کے بعد ، پادری پال نے چند لمحوں کے لیے خاموشی اختیار کی۔ ہال میں سناٹا تھا اور حاضرین سر جھکائے خاموش بیٹھے تھے۔ پھر ایک خفیف مسکراہٹ کے ساتھ پادری پال نے نصیحت شروع کی۔

”بھائیو اور بہنو، آج کی دنیا میں ہمیں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ خداوند ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی محبت اور رحمت بے حد و حساب ہے۔ ہمیں اپنے دلوں میں خدا کی روشنی کو جگہ دینی چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا برتاؤ کرنا چاہیے، اور کبھی بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہماری زندگی میں مشکلات آئیں گی، لیکن خداوند کی طاقت اور محبت ہمیں ہر آزمائش میں کامیاب کرے گی۔

ہمیں اپنی زندگی میں سچائی، انصاف اور محبت کو اپنانا چاہیے، اور خداوند کی راہوں پر چلتے رہنا چاہیے۔ آپ جو قدم باپ، بیٹے اور روح پاک کے نام پر اٹھائیں گے وہ آپ کو ہمیشہ کام یابی کی طرف لے جائے گا،“ انہوں نے حمدیہ گیتوں کی کتاب اٹھا کر کہا، ”اپنی حمدیہ گیتوں کی کتاب کھولیں۔ ہم صفحہ نمبر 425 پر دی ہوئی حمد گائیں گے۔ “

حاضرین نے اگلی نشستوں کی پشت پر بنے ہوئے خانوں سے حمدیہ گیتوں کی کتاب نکالی اور کھڑے ہو گئے۔ دانی ایل بھی پیانو کے سامنے جاکر بیٹھ گیا۔ ایک خوب صورت دھن ہال میں گونجی اور حاضرین نے بیک آواز گیت کا آغاز کیا:

خواتین: کہاں جاتے ہو مسافر
کہاں جانے کا سامان
مرد: ہم ہیں اپنے دیس کو جاتے
شاہ کا سُن کے یہ فرمان
سب: کر کے طے پہاڑ میدان کو
جاتے ہیں باپ کے مکان کو
جاتے ہیں باپ کے مکان کو
جاتے ہیں اس کے حضور
خواتین: کیا اس راہ میں خوف نہیں ہے؟
تم کم زور ہو راہ ویران
مرد: ہمیں کوئی خوف نہیں ہے
ہیں فرشتے نگہبان
سب: پیارا مُنَجّی بھی ہے ہادی
کیسی خوش نما ہے وادی
کیسی خوش نما ہے وادی
یہ ہی ہے وطن کی راہ
خواتین: جانے والو یہ بتاؤ
کس امید پہ جاتے ہو
مرد: صاف لباس اور تاج جلالی
باپ کے ہاتھ سے پانے کو
سب: پئیں گے حیات کا پانی
وہاں ہوگی خوش الحانی
وہاں ہوگی خوش الحانی
جائیں گے ہم باپ کے پاس

گیت کے دوران، ہر آواز ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو گئی اور چرچ کا ہال خدا کی حمد و ثنا سے گونج اٹھا۔ دانی ایل کی موسیقی کا جادو چرچ کے ہال میں گونجا تو یوں لگا جیسے خدا کی نورانی روشنی ہر سمت پھیل رہی ہو۔ اس کے پیانو کی دھن کسی جھیل کی سطح پر اٹھتی ہوئی ہلکی ہلکی لہروں کی مانند دلوں کو سکون اور روحانی طمانیت سے بھر رہی تھی۔ ہر نوٹ ایک دعائیہ سرگوشی کی مانند، دلوں کی گہرائیوں کو چھو تا ہوا گزر رہا تھا۔ مریم بھی اس گیت میں محو ہو گئی۔ اس کے چہرے پر سکون اور روحانی خوشی تھی۔

گیت کے اختتام پر، پادری پال نے ایک بار پھر دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے اور سب کو اِن کلمات کے ساتھ رخصت کیا، ”خداوند آپ سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، آپ کو ہر آزمائش میں مضبوطی عطا کرے، اور آپ کی زندگی کو اپنی روشنی سے بھر دے۔ آمین۔“ اس روحانی اور پر سکون لمحے کے بعد ، لوگ آہستہ آہستہ چرچ سے باہر نکلنے لگے۔ ان کے دلوں میں خدا کی محبت اور ایمان کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ پادری پال سے ہاتھ ملانے کے لیے پوڈیم کے سامنے جمع ہو گئے تھے۔

جوں ہی مریم اپنی نشست سے اٹھی، دانی ایل اسٹیج سے اتر کراس کے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے کہا، ”کہیے، آپ کو فادر پال کی سروس کیسی لگی؟“

”میں تو ان کی سروس سے زیادہ آپ کی موسیقی سے مسحور ہو گئی،“ مریم نے جواب دیا۔
” آپ کا بے حد شکریہ،“ دانی ایل نے کہا، ”میں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ “
”جی، فرمائیے،“ مریم نے چونکتے ہوئے کہا۔
”میں ایک دُھن صرف آپ کے لیے بجانا چاہتا ہوں۔ “
” اوہ، ضرور ضرور، شکریہ،“ مریم نے مسکرا کر کہا۔

”آپ وہاں ہال کے بیچوں بیچ بیٹھ جائیں،“ دانی ایل نے انگلی سے اشارہ کیا، ”مگر پہلے ہال خالی ہو جانے دیں۔“

”ضرور، میں جب تک فادر پال سے مل لیتی ہوں،“ مریم نے کہا اور منبر کی طرف چل دی جہاں اب پادری پال کے پاس اکّا دُکّا لوگ ہی رہ گئے تھے۔

”آؤ بیٹی،“ پادری پال نے مریم کو ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔
”صبح بخیر، فادر،“ مریم نے کہا۔
”صبح بخیر بیٹی، کہو، کیسی ہو؟“
”خدا کا شکر ہے۔“
”میں ذرا جلدی میں ہوں۔ چلو راستے میں باتیں ہوں گی۔“
”میں ابھی رُک رہی ہوں، فادر۔ دانی ایل نے مجھے کچھ میوزک سنانے کی پیش کش کی ہے۔“
”اچھا، تو تم رکو۔ پھر آتی رہنا،“ پادری پال نے مسکرا کر کہا اور منبر سے اتر گئے۔
(اگلی قسط پڑھنا نہ بھولیں۔ )

Facebook Comments HS