ٹماٹروں کا سیاسی سرکس
ٹماٹروں کی لڑائی میں آلو نہیں آئے۔ گوبھی اور پالک دور کھڑے ٹماٹروں کی لڑائی دیکھتے وقفے وقفے سے قہقہہ لگاتے طنزیہ جملوں کا تبادلہ کرتے رہے۔ آلو اپنی پلٹن کے ساتھ ناچ ناچ کر ٹماٹروں کا مذاق اڑانے میں مگن رہے۔ کوئی بھی صلح صفائی کے لیے آگے نہ بڑھا۔
معاملہ کچھ یوں تھا کہ ٹماٹروں کے قبیلے آپس میں سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے سبب مرنے مارنے پر اتر آئے تھے۔ کچے ہرے ٹماٹر مشروم پارٹی کی حمایت میں تھے اور پکے سرخ ٹماٹر پٹسن رام پارٹی کے حق میں تھے۔ جبکہ گلے سڑے ٹماٹر چکرام طباش کی سیاسی قیادت سب سے بہتر جانتے تھے۔ سبزیوں کی کھیپ میں ہنگامہ اور بغاوت اس وقت شروع ہوئی جب ان کی رسائی سبز بک اور ڈیجیٹل ورلڈ تک ہوئی۔ خیر چھوڑیئے، اہم بات لڑنے بھڑنے کی ہے کیونکہ اس میں مصالحہ زیادہ ہے، تو چلیں لڑائی کا منظرنامہ پیش کیے دیتے ہیں۔
ٹماٹروں نے اپنے ہی حصے بخیے کر کے ٹانگ اور بازو بنا لیے تھے تاکہ لاتیں، گھونسے، مکے چلائے جا سکیں۔ پہلے پہل تو زبانی کلامی نوک جھوک ہوتی رہی۔ لغویات کا طوفانِ بدتمیزی برپا ہوا اور پھر آخر میں سارے ٹماٹر میدانِ جنگ میں کود پڑے۔
پکے، کچے اور گلے سڑے ٹماٹروں کے تینوں لشکر، تکون کی شکل میں میدان میں صف آرا تھے۔
ہر لشکر کے سربراہ نے زور سے نعرے لگائے۔ پکے ٹماٹروں کے سرخ رنگ کے سپاہیوں نے تلواریں بنا لی تھیں اور لڑائی کے لیے تیار کھڑے تھے۔ کچے ہرے ٹماٹر اپنی پھسلنے والی خاصیت کو استعمال کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ گلے سڑے ٹماٹر اپنے بدبو دار گولے پھینکنے کی حکمت عملی بنا رہے تھے۔
جنگ کے آغاز میں ہی پکے ٹماٹروں نے اپنے دائیں بائیں سے حملے شروع کیے۔ کچے ٹماٹروں نے پھسلتے ہوئے ان کے حملوں کو چکما دیا اور پیچھے سے وار کیا۔ گلے سڑے ٹماٹروں نے اپنے بدبو دار گولے پھینکنے شروع کیے، جن سے میدانِ جنگ میں عجیب سی بدبو پھیل گئی۔
آلو اور پالک اپنی ہنسی روکے نہ رہ سکے اور کہنے لگے : واہ، کیا نظارہ ہے، یہ تو اپنے ہی گند میں لڑ رہے ہیں۔
گوبھی نے قہقہہ لگا کر کہا، بالکل، سیاستدانوں جیسے ہو گئے ہیں، جو خود ہی اپنے فیصلوں سے برباد ہو رہے ہیں۔
اتنے میں، میدان میں ایک لمبے اور موٹے کھیرے نے آ کر کہا:
ارے بھئی، یہ سب کیا تماشا ہو رہا ہے؟
کھیرے کی بات سن کر سبزیوں نے ایک اور قہقہہ لگایا اور ساتھ ہی دما دم مست قلندر کا نعرہ بلند کیا۔
کھیرے نے چلا کر کہا:
جاہلو، نالائقو، تم سب اپنی اپنی سیاست میں اندھے ہو چکے ہو۔ یہ سب لڑائیاں اور جھگڑے، سب ایک بڑا مذاق ہیں۔ ہمیں آپس میں مل کر رہنا چاہیے، نہ کہ اپنے مقدس سیاستدانوں کی طرح لڑتے بھڑتے رہیں۔
یہ بھاشن ایک مولی سے برداشت نہ ہوا۔ قدامت پسند مولی اپنی لمبی داڑھی کو سہلاتے ہوئے معرکہِ حق و باطل میں اپنے غضبناک جملوں کی کلاشنکوف سے زہریلے لفظوں کا بارود اگلنے لگی اور کچھ اس طرح گویا ہوئی:
اے فرعون کے زمانے میں بندروں کی خوراک بننے والے کم بخت و نامراد کھیرے، تیری عقل کی کھوپڑی میں فقط ڈائنو سار کے انڈے ہیں جنہیں حنوط کر دیا گیا۔ جاہلوں کے پیشوا، تیرا بھیجا تو انسانوں نے چبائے بغیر کبھی ڈکار تک نہیں لیا اور تُو ہے کہ یکجہتی اور جمہوریت سے ہماری کھیتیاں ہری کرنے پر تُلا ہے؟ تُف ہے۔
اب معاملہ سنگین ہو رہا تھا، ایسے میں ایک پُرامن مگر ہوشیار گاجر نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے وعید سنائی:
ہا ہا ہا۔ ہو ہو ہو۔ کو کو کو۔ شو شو شو۔ را را رو۔ فٹے تہاڈے منہ۔
گاجر کی مترنم مگر بھرپور بے عزتی سب سبزیوں نے شدت سے محسوس کی، اور ان کی بے ساختہ ہنسی کا سلسلہ ایک دم جیسے پہلے کھوکھلا اور پھر مکمل روپوش ہو گیا۔
سبزیاں اب سبزیاں نہ رہیں، علم و عرفان و آگہی اور معرفت کی کتاب بن گئیں اور ٹماٹروں کے مشتعل ہجوم کے لیے تاریخ و فلسفہ سے پند و نصائح کے قیمتی، انمول، ان مٹ اور ناقابلِ فراموش واقعات و روایات کے گوہرِ نایاب تقسیم کرنے میں لگ گئیں۔ ٹماٹر شرم سے اور بھی سرخ ہو گئے اور پھر ہتھیار پھینک کر بیش قیمت علوم اور اسرار و رموز کی دنیا کے سفر پر نکل پڑے۔
گاجر کی بے ربط، مبہم اور غیر واضح باتوں کو سبزیوں نے سوچنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے نتیجہ نکالا کہ حالتِ استغراق میں کہے گئے چند الفاظ بھی زندگیاں بدلنے اور تاریکی و ظلمات کو غرق کرنے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔
گوبھی اور پالک نے گاجر کے نعرہِ مستانہ کی حمایت کی اور آلو بھی سر ہلاتے ہوئے بولے :
ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔ ہم سبزیاں ہیں تو کیا ہوا، ہمارا اپنا بھی تو ایک دماغ ہے جو استعمال کرنا زندگی کی صحت، خوشحالی، بھلائی اور ترقی و کامیابی و کامرانی کی اولین ضرورت ہے۔
اب معاملہ صلح، صفائی کے قریب پہنچ گیا تھا کہ تب اچانک ایک چھوٹی سی پیاز نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:
ارے ارے، سبزیوں کی دنیا کے معصومو، یہ سب تو ایک بڑا ڈرامہ ہے۔ یہاں سب کچھ پہلے سے طے ہے، یہ سب کھیل تماشا ہے، کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ چاہے تو اشٹام لکھوا لو۔
پیاز کی بات سن کر تمام سبزیوں کے چہرے پر حیرت چھا گئی۔ گاجر نے جھجکتے ہوئے کہا:
کیا؟ یہ سب طے شدہ ہے؟
پیاز نے ہنستے ہوئے جواب دیا:
بالکل، یہ سب سیاستدانوں کی چالیں ہیں، اور ہم سب ان کے کھلونے ہیں۔ کچھ بھی بدلنے والا نہیں۔
یہ سنتے ہی سبزیوں نے ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، مگر پھر خود ہی ایک اتحادی پارٹی بنا کر میدانِ جنگ کے اکھاڑے میں بھاری اکثریت سے ایک بِل پاس کیا جس میں درج تھا:
یہ لڑائی جھگڑا اور سیاست تو ایک بڑا مذاق ہے۔
کھیرا جو اس دوران بہت پیچ و تاب کھا رہا تھا، اُس نے ایک پریس کانفرنس بلائی جس میں میڈیا کے سارے سینیئر صحافی مدعو کیے، اور صرف ایک جملہ کہا جس کے بعد پریس کانفرنس کا وہیں اختتام ہو گیا:
دوستو، بھائیو، اور بہنو۔ ہم سب بے وقوف بن گئے تھے، اصلی سیاست کا سہرا تو پیاز کے سر ہے۔



خوبصورت تحریر
پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیےشکر گزار