بلوچستان میں ماحولیاتی تبدیلی، آگہی اور عمل کی فوری ضرورت
اکیسویں صدی کے انسان نے جہاں پوری دھرتی ماتا کو اپنی نام نہاد ترقی کے نام پر بانجھ کر دیا ہے، وہیں بلوچستان کی زمین بھی اس نائبِ خدا کی کارستانیوں پر نوحہ کناں ہے۔ متصورہ ترقی کا راہرو انسان زمین پر جال بن کر بچھ گیا۔ اس انسان کی کارستانیوں کا نقشہ علامہ نسیم رضوی نے بڑے خوبصورت الفاظ میں کھینچا ہے ”آج کا انسان ذرا سی قوت و طاقت ہاتھ میں لے کر آسمانوں پر کمندیں ڈالنے لگا، ہوا اس سے پناہ مانگنے لگی، فضا اس کی شرانگیزی سے کانپنے لگی، زمین کی اس نے طنابین کھینچ لیں، آسمانوں کو ایک جست کی مار بنا دیا۔
جنت سے نکالے اس انسان نے سمندر کی موج سے موج ٹھکرا دی، حباب کے دلوں پر حملہ کر کے انھیں توڑ دیا، فلک میں اڑتے ہوئے طائروں کو زمین پر بسمل کر کے رکھ دیا، ذرے کی آبرو سے کھیلنے لگا اور اس کا جگر چیر کا الیکٹرون، پروٹان اور نیوٹران نکال کر ساری دنیا کو لرزہ براندام کر دیا۔“ لیکن فطرت سے کھیلنے والے ترقی کے جنون میں مست یہ مجنوں بھول گیا کہ اس کی یہ ترقی زمین کی بقاء کے لیے کس خطرناک ثابت ہونے والی ہے۔
انسان نے دھرتی ماتا کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی صورت میں ایسا بھیانک مستقبل دیا کہ جس سے آنے والی نسلوں کے ساتھ موجودہ انسان پر بھی فطرت غضبناک ہو گئی۔ فطرت سے کھیلنے کا انجام یہ ہوا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا اور اس سے ایک نسل ہی نہیں بلکہ پورا عہد تباہی کے کنارے پر پہنچا ہوا ہے۔ جہاں پوری دنیا اس عالمی مسئلے کے شکنجے میں گرفتار ہے وہیں خطہ کوہ بیاباں بلوچستان بھی بری طرح اس سے متاثر ہوا ہے۔
پہاڑوں کی سرزمین، خزانوں سے بھرے وسیع و عریض رقبے پر مشتمل صوبہ بلوچستان کو خدا نے کس نعمت سے نہیں نوازا؟ معدنیات کی صورت میں فطرت نے یہاں اپنے خزانے لٹا دیے ہیں۔ بات محل وقوع کی ہو تو بلوچستان ایک بنیادی مرکزہ کی صورت قابلِ رشک ہے۔ پاکستان کے قریباً نصف رقبے پر پھیلا ہوا بلوچستان گرم پانیوں کے ساحل کی دولت بھی رکھتا ہے اور سنہرے صحراؤں کی چمک دمک بھی۔ آسمان کی وسعتوں کو شرمندہ کرتے میدانوں کی نظیر نہیں ملتی تو دوسری طرف فلک شگاف پہاڑوں کے سلسلے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
0 76 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر دنیا کی نظریں ہر وقت جمی رہتی ہیں۔ بے آب و گیاہ میدانوں اور پُر پیچ راہوں کے علاوہ یہاں کی زمین میں فطرت نے اپنی دریا دلی کا خوب مظاہرہ کیا ہے، جہاں زمین کی کوکھ میں خزانوں کے گوہرِ نایاب مثلِ جنین مستور بھی ہیں اور باہر آنے کو بے تاب بھی، تو سمندروں میں بھی گنجینہ ہائے گراں مایہ مدفون ہیں۔ فطرت کی ناز برداریوں سے بھر پور اس خطہ زمین پر مختلف موسم پائے جاتے ہیں اور فواکہ یہاں کثیر تعداد میں تعدد و تلون کے ساتھ دستیاب ہیں۔ سبز لباس اوڑھے صنوبر کے جنگل بھی اس خطہ زمین کو قابلِ رشک بناتے ہیں۔
مگر اب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے آئے دن کی بارشوں نے نظامِ حیات کا مزا پھیکا کر دیا ہے۔ بارشوں کا بے وقت برسنا اسے زحمتِ آسمانی میں بدل رہا ہے۔ اس کا سارا قصور حضرتِ انسان کے ان کارناموں کے سر جاتا ہے جو اس نے ترقی کے نام پر وقتاً فوقتاً سر انجام دیے ہیں۔ اگر بلوچستان اور سندھ کے صحرائے تھر کا گزشتہ ایک صدی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو سال بھر میں اوسطاً 50 سے 60 ملی میٹر بارش ہوتی تھی مگر اب ماحولیاتی تبدیلی کے باعث چند روز میں یہ مقدار 500 ملی میٹر ریکارڈ ہونے لگی ہے، جس کا لامحالہ نتیجہ سیلاب کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
گذشتہ دو سالوں کے دوران میں آنے والے سیلابی ریلوں نے بلوچستان کو سو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس کے ساتھ معیشت بھی رینگ رینگ کر چلنے پر مجبور ہے۔ صحراؤں میں خشک سالی اپنے خنجر ِبیداد کے ساتھ زندگیوں کا خاتمہ کر رہی ہے، گرمی اور سردی کی معمول سے زیادہ شدت نے انسانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اوزون لیئر میں جو سوراخ انسان نے اپنی غفلت سے کیا ہے، وہ در اصل انسانیت کے پیراہن کی جھولی میں لگنے والا سوراخ ہے جس سے آنے والی نسلوں کی خوشیاں چھن چھن کر نیچے گر رہی ہیں۔
سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر کے رکھنے والا انسان یہ بھول گیا کہ ان شعاعوں سے زمین کے درجہ حرارت میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ جب انسانوں کا یہ مسکن گولا ایک بگولے کی شکل اختیار کر جائے گا اور یہاں انسانی آبادی کو وہ خطرات لاحق ہوں گے جس کا مقابلہ جدید سے جدید ٹیکنالوجی سے بھی ممکن نہیں ہو گا۔ اس کی واضح مثال بلوچستان کا حالیہ بن جانے والا موسم ہے۔ کنکریٹ کی محبت نے بلوچستان کے باسیوں کے دلوں میں بھی رنگ جمایا تو شہروں میں پکی عمارات اور سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا لیکن اس بے سر و پا محبت میں وہ یہ بھول گئے کہ شہروں کو زندہ رکھنے کے لیے کنکریٹ کے ساتھ ساتھ درختوں کی شادمانی بھی ضروری ہے جن کے نیچے بیٹھ کر کوئی ہانی اپنے شہ مرید کے لیے شاخوں کو پکڑ کر انتظار کر سکے یا پھر شیر جان ان چتناروں کے سائے میں ماہ گل کو آنے والی بہار کے گیت سنا سکے۔
دوسری طرف سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی جوق در جوق آمد نے بھی ان تپتے صحراؤں کے سینے پر انگارے ڈالنے کا کام کیا۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، گرمی اور ایندھن کے جل کر گیسوں میں تبدیل ہونے کے عمل نے گل خان نصیر ؔ کی سر زمین پر فطرت کو چیلنج کیا اور نتیجے کے طور پر مون سون کی بے وقت بارشوں نے اس دیار بے شجر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ سنہرے صحراؤں کی چمک میں جہاں ایک طرف اضافہ ہو رہا ہے تو وہیں دوسری طرف ان علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح یوں نیچے جا رہی ہے گویا قحطِ کنعاں کو شرمندہ کرنے کا ارادہ باندھا گیا ہو۔ گرمی کی شدت نے ان صحراؤں کو دہکتے ہوئے لاوے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یوں ریت کا وہ بدن جس کی پہچان نرمی تھی اب گرمی بن گئی ہے اور زندگی روز بہ روز صحرا سے روٹھتی چلی جا رہی ہے۔
760 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ تاحدِ نظر سبز زمرد پھیلا ہوا ہے اور جو لاکھوں ماہی گیروں کے پیٹ کو پالنے کے ساتھ ساتھ ملک عزیز پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا باعث بنتی ہے، مگر اب موسمی تبدیلیوں کے شکنجے میں آنے کے بعد یہ زمرد رنگ پانی خوف و دہشت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ فطرت کے ساتھ انسانوں کی طرف سے ہونے والے کھلواڑ کا بدلہ لینے کے لیے فطرت تیاری کر رہی ہے۔ ان تیاریوں میں سطح سمندر کی بلندی کے ساتھ ٹراپیکل سائیکلون بننا وغیرہ شامل ہے جو کسی بھی وقت ساحل سے ٹکرا کر گوادر کے بلوچوں کو بے گھر، پسنی کی کشتیوں کو غرقاب اور جیوانی کے باسیوں کی زندگیوں کو نگل جائیں گے۔
زمین کے ماتھے کا جھومر جنگلات اور جنگلی حیات ہوتے ہیں۔ یہ زمینی کٹاؤ کو روکتے، زرخیزی میں اضافہ کرتے، زیرِ زمین پانی کی سطح کو بلند کرتے اور ڈیموں کو سلٹ سے بھرنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ سیم و تھور والی زمینوں کو بھی کار آمد بناتے ہیں، لیکن شومئی قسمت کہیے یا انجام بد اعمالی کہ رشکِ آسمان کے قابل طور ان و مکران کے اس خطہ زمین پر درختوں کے جھنڈ اب نظر نہیں آتے، اس پر مستزاد یہ کہ زیتون اور چلغوزہ کے ساتھ ساتھ جونیپر اور صنوبر کے قدرتی جنگلات بھی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ آئے دن انسانی زندگی نئے خطرات سے دو چار ہو رہی ہے اور اس پر اقبال کا مصرع صادق آتا ہے :
تیری بربادیوں کے تذکرے ہیں آسمانوں میں
اب وقت آ گیا ہے کہ شہسوارِ برق و افلاک انسان کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔ خاص طور پر خطۂ بلوچستان کے باسیوں کو موسمی حدت، تغیرات کی طرف فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ موقع ہے کہ عناصرِ عالم کو خاک بسر کرنے کی بجائے ان کے ساتھ راز و نیاز کر کے فطرت کو افہام و تفہیم پر آمادہ کیا جائے۔ اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ ”ضرورت ایک مرتبہ پھر ایجاد کی ماں بن کر ایسی مشینیں بنا ڈالے، جو زمین کو دھوئیں کے مرغولوں سے نجات دلائیں۔“ سرکاری اور قبائلی سطح پر شجر کاری مہم کا آغاز کیا جائے، اب سرونز، بینجو اور دمنبورہ کے سازوں کو فطرت کے منانے کے لیے استعمال کر کے علاقائی گیت کو ماحولیات کو منشور بنایا جائے۔ بولان کے چشموں، مولہ چٹک کے پانیوں، زیارت کے جنگلوں، گوادر کے ساحلوں اور نوشکی کے صحراؤں کو فطرت کی مار سے بچانے کے لیے جرگے بلا کر قومی فریضے کے طور پر ماحولیات کے بقا کی جنگ لڑی جائے۔ سخت قوانین کو نافذ کر کے برق رفتار ترقی کے نقصانات سے ماحول کو بچایا جائے۔
سیلاب اور زلزلوں کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے منصوبوں کو فرض اول سمجھا جائے اور غفلت کو موت سمان ادراک کرایا جائے۔ نصاب کو ماحولیات کا نقیب اور گاؤں کے منبر کو ماحولیات کی تحفظ کا ادارہ بنایا جائے۔ ہریالی میں اضافہ کر کے تازہ آکسیجن کی فراہمی کی کوشش کو سر دار سے لے کر چرواہے تک سب مل کر ثمر بار بنائیں۔ اب سموں کے خیموں کو اڑنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مست توکلی اپنے کلام کو ماحولیات کا مینی فیسٹو بنائے اور شیر جان، ماہناز کی زلفوں سے پہلے مادرِ زمین کے چہرے پر پڑنے والے فطرت کے طمانچوں کو روکے۔ بصورتِ دیگر واقفِ اسرارِ ہستی، امیرِ کائنات حضرتِ انسان کو خوراک اور پانی حاصل کرنا بھی محال ہو جائے گا اور زندگی موت کے نرغے میں آ جائے گی، جس کی دھمکی فطرت سر گوشیوں میں یوں دی رہی ہے :
تمھاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں


