موجودہ حکومتی بندوبست کے ضامن

فیصلے کو آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ حکومتی زعماء کی جانب سے سپریم کورٹ پر تنقید کی شدت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی پر بطور سیاسی جماعت پابندی عائد کیے جانے کے حیران کن حکومتی اعلان کے بعد وزراء ایمرجنسی کے نفاذ جیسی در فتنیاں چھوڑ رہے ہیں۔ میڈیا میں موجود حکومتی کارندے اپنے طور پر عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لئے حکم عدولی کے پیغامات نشر کر رہے ہیں۔ معروف کورٹ رپورٹرز کے مطابق نظرِثانی درخواست کی فوری شنوائی کے لئے کوئی اور نہیں صرف چیف جسٹس مُصر رہے۔
اس دوران ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا بظاہر بے ضرر فیصلہ شکوک و شبہات کی دھند میں مزید اضافے کا سبب بنا۔ اس سب کے بیچ، حکومتی قانونی ٹیم اور چند مخصوص وکلاء تنظیمیں، ججوں کی جانب سے لکھا گیا خط ہو، انسانی حقوق سے متعلق شکایات ہوں، میڈیا پر پابندیاں ہوں، یا ایک سیاسی جماعت سے سلوک ہو، یا اِن جیسے دیگر امور ہوں، عام تاثر کے مطابق اعلیٰ عدلیہ میں موجودہ حکومتی بندوبست کی ضامن سمجھی جانے والی اہم شخصیت کے ساتھ کھڑی رہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون کا تعلق وکلاء کے اُس گروپ سے بتایا جاتا ہے کہ جس کی پہچان جمہوری اقدار، آئین و قانون کی عملداری، سویلین بالادستی اور انسانی حقوق کی علمبردار خاتون وکیل رہنماء کے نام سے وابستہ ہے۔ مرحومہ کی یاد میں ہی ہر سال ایک سیمینار بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ تقریب میں ملکی اور غیرملکی اہم شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے جو انہی معاملات پر ہم آپ کو ایک کے بعد ایک لیکچر سے نوازتے ہیں۔ ناچیز کبھی کبھار یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ اگر آج مرحومہ اپنے ہی نام سے منسوب سالانہ تقریب میں تقریر کے لئے آ جائیں تو درپیش حالات پر ان کا تبصرہ کیا ہو گا!
اندازہ یہی ہے کہ تبصرہ وہی ہو گا جو پہلے ہوتا تھا، تاہم تبصرے میں پہلے والا جوش و خروش اور گھن گرج شاید اب نہ ہو۔ دو روایتی سیاسی خاندانوں کے لئے تو آئین اور قانون پر عملداری، اور سیاسی بقاء اب دو مختلف راستے ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس پر آشوب دَور میں کہ جب عدلیہ اور الیٹ گروہوں کے مابین کشمکش جاری ہے، انصاف کے سیکٹر میں مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والی مرحومہ کی فکر سے وابستہ اہم افراد اپنے روایتی موقف سے کیونکر منحرف ہوچکے ہیں؟
درپیش صورتِ حال نے کئی وجوہ کی بناء پر اب سے سال ڈیڑھ سال پہلے کے زمانے کی یاد تازہ کر دی ہے کہ جب اس وقت کی حکومت نے صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل کیے جانے کے بعد مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ میں انتخابات کروانے سے انکار اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بے اثر اور بے وقار کرنے کے لئے انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے کو بے رحمی کے ساتھ دو حصوں میں کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ اس سے بڑی قومی بدقسمتی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ کشمکش کے اُس دور میں دو متحارب ’ہم خیال‘ گروہوں میں شامل عزت مآب ججوں کے نام زبان زدِعام رہے۔
حکومت، حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں، کُرم خوردہ پارلیمنٹ اور جانبدار الیکشن کمیشن نے عدلیہ کے انہی میں سے ایک حصے کی تائید اور اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے نتیجے میں اُس وقت کے چیف جسٹس کو عملی طور پر بے اثر کر کے رکھ دیا تھا۔ گو حکومت اپریل 2022 ء سے عملی طور پر نواز شریف کی ہی ہے، تاہم بظاہر وزیرِاعظم اس وقت بھی شہباز شریف تھے، آج بھی وہی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور وزیرِ قانون بھی وہی پرانے ہیں۔ اس بار سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں پارلیمنٹ مگر وہ نہیں ہو گی۔
سپریم کورٹ بھی وہ نہیں ہے۔ ججوں کی اکثریت جو سوچ رہی ہے، اس کے نتیجے میں آنے والے چند مہینوں کے اندر فروری کے انتخابات اگر کھُل گئے تو پارلیمنٹ سمیت پنجاب اسمبلی کی پوری ہیئت ہی تبدیل ہو جائے گی۔ یہی بات حکومتی بندوبست کو اندر ہی اندر کھائے چلی جا رہی ہے۔ یہی اندیشہ پنجاب کی حکمران کو مشتعل کیے ہوئے ہے۔
حکومتی بندوبست میں فیصلہ کن حیثیت رکھنے والے نواز شریف اب کیا سوچ رہے ہیں؟ لندن میں سرگرمیوں، میاں صاحب کے بیانات اور واپسی پر اُن کو دیے گئے پروٹوکول سے جو کچھ ظاہر ہوا، اب وہ کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ میاں صاحب لندن سے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کا وعدہ لے کر لوٹے تھے۔ گمان یہی ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ سے اُن کی مراد ڈبلیو ڈبلیو ای کی وہی نمائشی ریسلنگ رہی ہوگی کہ جہاں کے مقابلوں کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔
قرائن بتاتے ہیں کہ میاں صاحب کی خواہش یقیناً یہی رہی ہو گی کہ رِنگ کے اندر اٹھا کر پھینکے جانے سے پہلے اُن کے حریف کے ہاتھ پاؤں اچھی طرح باندھ دیے جائیں تو ہی وہ میدان میں اتریں۔ بلکہ یہ بھی کہ نا صرف میاں صاحب بلکہ ان کے تمام اتحادیوں اور حواریوں کو بھی پہلے سے گرائے گئے حریف پر یک طرفہ مکہ بازی کی پوری آزادی ہو۔ جبکہ ریفری اس دوران ایک کھلی آنکھ کے ساتھ سب تماشا دیکھتا رہے۔ مقابلہ بالکل ویسے ہی ہوا جیسے طے پایا تھا، تاہم تماشائیوں نے عین مقابلے کے دن سب بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ اب رِنگ سے باہر بیٹھا، تھکا ہارا پہلوان منتظر ہے کہ نادیدہ آسمانی قوتیں حریف کا خود ہی خاتمہ کر دیں تو وہ میدان میں اُترے۔
خطے میں دو عالمی طاقتوں کے مابین کشمکش کی حرکیات کو سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جاری ڈبلیو ڈبلیو ای کے نمائشی مقابلے کے پہلے سے طے شدہ نتائج کو امریکی ڈیپ سٹیٹ کی خاموش حمایت حاصل رہی ہے۔ صرف امریکی ڈیپ سٹیٹ ہی نہیں، پاکستان کے اندر بھی سیاست، میڈیا اور انصاف کے سیکٹر میں موجود مغرب کی حمایت یافتہ مگر موثر لابیوں سے منسلک عناصر خطے میں بھارت کو کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان عناصر کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ سے آزاد، ہندوستان سے تعلقات کی غیر مشروط بحالی کے لئے نواز شریف سے بڑھ کر کوئی موزوں شخصیت دستیاب نہیں۔
بظاہر یہی امریکی ڈیپ سٹیٹ کا بھی تجزیہ ہے۔ حالیہ سخت اینٹی سٹیبلشمنٹ رویے کے باوجود ہر دو کے نزدیک عمران خان اب بھی قابلِ بھروسا نہیں ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں پر محیط موجودہ حکومتی بندوبست کو جہاں ایک طرف بائیڈن حکومت کی خاموش مگر کامل تائید حاصل رہی ہے، تو وہیں پاکستان کے اندر کل تک آئین اور قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ کہلائی جانے والی مغرب زدہ لابیاں اِسی حکومتی بندوبست کے ہاتھوں ایک سیاسی جماعت کے ساتھ روا رکھے جانے والے جبر، پرامن شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، عورتوں کے ساتھ غیر معمولی بدسلوکی اور سب سے بڑھ کر انتخابات میں بے مثال دھاندلی کی مزاحمت کے سوال پر کبھی زیادہ پُرجوش دکھائی نہیں دیں۔ اسی طرز کے نام نہاد ’جمہوریت پسند‘ گروہ سے تعلق رکھنے والے وکلاء ہی گزشتہ دو برسوں سے حکومتی ایماء پر اعلیٰ عدلیہ میں موجود اُس اہم شخصیت کی پشت پر کھڑے ہیں کہ جنہیں موجودہ حکومتی بندوبست کے دوام کی ضمانت سمجھا جا رہا ہے۔

