ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے


میرے والد رشاد محمود کی وفات پر اپنے جذبات کا اظہار میرے لیے کوئی آسان کام نہیں کیوں کہ وہ ساٹھ برسوں تک میری زندگی کا محور بنے رہے۔ زندگی کے سفر میں ہر قدم پر میرے معاون بنے رہے۔

وہ اپنی عمر کے بانوے سال پورے کرنے سے صرف دس دن پہلے اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ وہ زمانے چلے گئے جب بچے والدین کے ایک اشارے پر سر تسلیم خم کر دیا کرتے تھے۔ آج کے بچے جب اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو اُنہیں ہی اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں جن کی اُنگلی پکڑ کر چلنا سیکھتے ہیں۔ لیکن جلد یا بدیر اُن پر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ زندگی میں آپ کی کامیابیوں پر آپ سے بھی زیادہ خوش جو لوگ ہوتے ہیں وہ آپ کے والدین ہی ہوتے ہیں۔ میرے والد صاحب نے میرے اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے جو کچھ کیا اُس کا شکر یہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ والد صاحب کی وفات کو ایک ہفتہ ہو چکا ہے اور میں ان ہی کے کمرے میں بیٹھا یہ الفاظ سپردِ قلم کر رہا ہوں۔ اپنی زندگی کی آخری تین دہائیاں انھوں نے اسی کمرے میں گزاریں ایسا لگتا ہے کہ وہ آج بھی میرے آس پاس اسی کمرے میں موجود ہیں مجھے اُن کی آواز اب بھی سنائی دیتی ہے۔

جولائی 2022 کو جب وہ نوے سال کے ہوئے تو اُن کی زندگی کے بارے میں میں نے مضامین کا ایک سلسلہ قلم بند کیا تھا جس کا عنوان تھا ”زندگی سے بھرپور نوے سال بمبئی سے کراچی کا سفر“ یہ تمام مضامین آن لائن پڑھے جا سکتے ہیں اس لیے میں وہ تمام باتیں دہرانا نہیں چاہتا میں صرف اپنے بچپن کی کچھ یادوں میں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں جو والد صاحب سے تعلق رکھتی ہیں یہ میرے بچپن کے وہ واقعات ہیں جنہوں نے میری شخصیت سازی میں اہم کر دار ادا کیا۔ یہ 1970 کی بات ہے جب میرے والد کی عمر 38 سال اور میں صرف چھ سال کا تھا لیکن آج بھی مجھے یاد ہے لیاقت آباد کراچی کا وہ گھر جس میں ہم رہتے تھے اور اُس گھر کا وہ کمرہ جس میں پہلی بار ابا نے نیا ٹی وی لا کر لگایا۔ اُس دور میں وہ عوامی نیشنل پارٹی (ولی خان ) کے کارکن کی حیثیت سے پارٹی کی انتخابی مہم میں شریک تھے۔

میرے والد لڑکپن میں ہی ماں اور باپ دونوں سے محروم ہو گئے تھے۔ اب آپ اِسے قسمت کہیں یا اتفاق کہ اُنہیں روشن خیال اور ترقی پسند دوستوں کی صحبت ملی اور وہ بائیں بازو کی سیاست کا حصہ بن گئے۔ وہ اپنے اسکول کی تعلیم مکمل نہیں کرسکے تھے لیکن علم دوست حلقۂِ احباب کی بدولت انہیں نوجوانی ہی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملا جہاں اُن کے لیے سیکھنے اور سمجھنے کو بہت کچھ تھا۔

علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور نیاز حیدر نے اُن کی علم کی پیاس کو بھانپ لیا اور مطالعے کے لیے ایسی کتابیں فراہم کیں جنہیں پڑھ کر اُن کی زندگی بدل گئی۔ اُن میں مطالعے کا ایسا شوق پیدا ہوا کہ اُن کا کوئی دن مطالعے کے بغیر نہیں گزرتا تھا۔

دنیائے ادب کے تمام بڑے ناموں کی تحریریں پڑھنے کے بعد دیگر سماجی علوم پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے تاریخ، فلسفہ اور نفسیات کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعے نے اُن میں یہ صلاحیت پیدا کی کہ وہ قوم پرستی، فرقہ ورانہ تنگ نظری اور مذہبی شدت پسندی کے رجحانات سے بالا تر ہو کر معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کرسکیں۔

1954 میں جب وہ پاکستان آئے تو اُنہوں نے بائیں بازو کے لوگوں کو ڈر اور خوف کے ماحول میں کام کرتے دیکھا لیکن اس ماحول میں بھی بائیں بازو کی قیادت کو بے خوفی اور بہادری سے قائدانہ کردار ادا کرتے دیکھا جن میں باچا خان، ڈاکٹر اعزاز نذیر، میاں افتخار الدین، حسین شہید سہروردی، بھاشانی اور حسن ناصر شامل تھے۔

1971 میں وہ اپنے ساتھیوں سے مشرقی پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن اور اُس کے ممکنہ نتائج پر بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے اور یہی گفتگو سیاست سے میرا پہلا تعارف بن گئی۔ وہ آمرانہ طرزِ حکومت کے سخت مخالف تھے اور جمہوریت اور ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے تھے۔ وہ میرے لڑکپن ہی میں مجھے تاریخ، ادب اور دیگر موضوعات پر پرانی کتابیں لاکر دیا کرتے تھے۔ وہ مجھ میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا چاہتے تھے جس میں وہ کامیاب رہے۔

پڑھائی کے بعد میرے لیے لازم تھا کہ میں دکان پر اٗن کے ساتھ کام کروں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ آپ کو کام کی عادت بچپن ہی سے ہونی چاہیے کیوں کہ یہ ہی عادت روزگار کے حصول کے لیے آپ کی معاون بنتی ہے۔ بچپن میں اسکول کے بعد کام پر جانا ہمیں سخت ناگوار لگتا تھا کیوں کہ میرے زیادہ تر دوست کھیل کود میں لگے رہتے تھے اور ہمیں کام کرنا پڑتا تھا۔ والد صاحب کا خیال تھا کہ اٹھارہ اُنیس سال کی عمر تک آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہوجانا چاہیے اور اپنے والدین پر بوجھ بننے کے بجائے اُن کا سہارا بن جانا چاہیے۔

اُن کی سیاسی دور اندیشی کمال کی تھی جس کا مشاہدہ ہم نے کئی مواقع پر کیا مثلاً جب پاکستان قومی اتحاد نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی تو بائیں بازو کے لوگوں نے مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا لیکن اُس وقت والد صاحب نے بھٹو کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جو بعد میں بالکل درست ثابت ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر میرے سامنے ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو ہوں اور دوسری طرف مذہبی جماعتیں خواہ اُن کی حمایت بائیں بازو کے لوگ کر رہے ہوں اس صورت میں بھی میرا ووٹ بھٹو کے لیے ہو گا۔

خاندان کی کفالت کے لیے عمارتی شیشے کا کاروبار کامیابی سے چلایا اور اُس کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ وہ اکثر ہمیں ادبی اور سیاسی محفلوں میں اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ کراچی پریس کلب، آرٹس کونسل، پی ایم اے ہاؤس، بزمِ علم وہ جگہیں تھیں جہاں ہم اکثر والد صاحب کے ساتھ جاتے تھے۔

1980 میں جب میں طلباء سیاست میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے خبردار کیا کہ سیاست ایک خطرناک کھیل ہے۔ 1984 میں جب میں ہندوستان گیا تو اُن کے پُرانے ساتھی بازو پھیلائے میرے استقبال کے لیے کھڑے تھے خصوصاً انیس جیلانی، نیاز حیدر، مقیم فاروقی، راج بہادر گوڑ، راجیشور راؤ اور بہت سے دوست جو اُن کی کمی اب بھی محسوس کرتے تھے۔ جب میں ماسکو پہنچا تو مسعود علی خان، شانتی رائے اور خاص طور پر منیش نارائن سکسینہ اور اُن کی فیملی نے میرا خیال اس طرح کیا جیسے میں اُن کی فیملی کا فرد تھا۔ میرے لیے اس سے زیادہ قابلِ فخر بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ والد صاحب کے پرانے ساتھیوں کے دل میں اُن کی عزت و احترام پہلے کی طرح موجود تھا۔

ہم ابھی اسکول ہی میں تھے جب والد صاحب ہمیں پڑھنے کے لیے اخبار دینے لگے۔ اُن کی کوشش اور خواہش ہوتی کہ ہم روزانہ اخبار ضرور پڑھیں اور پھر کچھ ہی عرصے میں اخبار پڑھنا میری عادت بن گئی۔ یہ عادت میرے اُس وقت کام آئی جب روس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مجھے روسی زبان سیکھنا پڑی۔ میں نے روسی زبان کے اخبار پراودا کا مطالعہ شروع کر دیا۔ جس سے نہ صرف زبان سیکھنے میں مجھے مدد ملی بلکہ اس دوران روس میں ہونے والی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں بھی جاننے کا بھرپور موقع ملا۔

80 کی دہائی جب اختتام پذیر تھی میں پاکستان واپس آ گیا۔ سرخ انقلاب کا خواب بکھر چکا تھا۔ میرے والد پوری زندگی مارکسی نظریات پر قائم رہے۔ جب اُنہیں علم ہوا کہ میرے خیالات بدل چکے ہیں اور میں تمام مسائل کا حل سوشلسٹ انقلاب کو اب نہیں سمجھتا تو انہیں افسوس ہوا لیکن انہوں نے اپنے خیالات اور نظریات مجھ پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ میرے اختلافِ رائے کے حق کو تسلیم کرتے تھے۔

کراچی میں جب لسانی سیاست کا آغاز ہوا تو کراچی کے بے شمار نوجوان ایم کیو ایم میں شامل ہونے لگے۔ ہمارے بہت سے دوست، عزیز اور رشتے دار الطاف حسین کے مرید بن گئے لیکن والد صاحب نے آنے والے طوفان کی آہٹ سن لی تھی وہ جانتے تھے کہ جب سیاست میں لسانیت، فرقہ واریت اور مذہبیت کی ملاوٹ شروع ہو جائے تو اس کے نتائج بہت بھیانک نکلتے ہیں۔ وہ الطاف حسین کو شیطان کا چیلا سمجھتے تھے جو اپنا شیطانی کھیل کھیل رہا تھا۔ ہمارے ملک میں یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور چیلے کی جگہ کھلاڑی نے لے لی ہے۔

زندگی بھر کتابیں اُن کی دوست بنی رہیں وہ روزانہ چار اخبارات کا مطالعہ کرتے اور اُن میں چھپنے والے کالموں پر گفتگو کرتے۔ قومی اور بین الاقوامی سیاست اُن کا پسندیدہ موضوع تھا اور اس کے بعد جو وقت بچتا وہ شاعری پڑھتے اور اس سے لطف لیتے تھے۔ میر، غالب، جون ایلیا اور افتخار عارف اُن کے پسندیدہ شعراء تھے۔ وہ ان کا کلام ہمیں سناتے اور سمجھاتے۔

اُن کی مادری زبان ترکی اور والد کی گجراتی تھی پھر بھی اردو زبان پر اَن کی دسترس مثالی تھی۔ اشعار میں استعمال ہونے والے مشکل استعاروں کی وضاحت عام فہم الفاظ میں بڑی آسانی سے کر دیا کرتے تھے۔

اُن کی زندگی میں کچھ کوتاہیاں بھی ہوئیں جن سے اگر وہ چاہتے تو گریز کیا جاسکتا تھا۔

تریسٹھ سال کی عمر میں وہ اپنے بچوں کی شادیوں سے فراغت پا چکے تھے اور وہ سب اپنے خاندانوں کی کفالت اچھی طرح کر رہے تھے۔

والد صاحب لکھنے کی اچھی صلاحیت رکھتے تھے اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنانے میں مہارت رکھتے تھے لیکن نہ جانے کیوں وہ لکھنے میں ہمیشہ پس و پیش سے کام لیتے رہے۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے اُن کے کئی طویل انٹرویو ریکارڈ کیے اور اُنہیں ”نگاہِ آئینہ ساز میں“ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کر دیا۔ والد صاحب نے مضامین کا ایک اور سلسلہ شروع کیا تھا جیسے کامریڈ ایوب ملک نے ”مارکسزم اور آج کی دنیا“ کے عنوان سے کتابی شکل دی۔

بانوے سال کی عمر میں بھی انہوں نے چھڑی کا سہارا لینا گوارا نہیں کیا۔ عمر رسیدہ لوگوں کے لیے یہاں ایک سبق یہ ہے کہ بڑھاپے میں چھڑی کا سہارا لینے سے ہرگز گریز نہ کریں۔

16 فروری 2024 کے دن وہ گھر میں اچانک گر گئے اور اس کے بعد پھر وہ اپنے پیروں پر کبھی کھڑے نہیں ہو سکے۔ اُن کی علالت طویل ہوتی چلی گئی۔ چار ماہ بستر علالت پر رہنے کے بعد ستائیس جون دو ہزار چوبیس کو وہ ہم سے بہت دور چلے گئے۔

میری لکھنے اور پڑھنے کا شوق رکھنے والے تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ صرف مطالعہ ہی کافی نہیں لکھنا اُس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اگر آپ ساٹھ سال کے ہوچکے ہیں تو اپنے وقت کا استعمال دانش مندی سے کیجیے اور اپنی یادداشتیں لکھ ڈالیے، کوئی ایک کہانی لکھ دیجیے، مزاج اگر شاعرانہ ہے تو کوئی شعر کہہ دیجیے۔

میرے والد نے بچپن سے بہت کٹھن زندگی گزاری۔ اپنی ذات پر خرچ کرنا اُن کا مزاج نہیں تھا۔ زندگی کی آسائشوں اور سیر و تفریح کو وقت اور پیسے کا ضیاع گردانتے تھے۔ وہ زندگی بھر سیکولر نظریات پر کاربند رہے۔ ہمیں ہمیشہ کتابیں پڑھنا اور سنبھالنا سکھایا۔ جمہوریت کی بالا دستی پر یقین رکھنا، لسانی، مذہبی اور قومیت کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست سے فاصلہ رکھنے کا درس دیا۔

ابا جان آپ نے ایک بھرپور صحت مند اور طویل زندگی گزاری اور جو کچھ ہمارے لیے کیا، اُس کا شکریہ ہم کبھی بھی ادا نہیں کر پائیں گے۔

زمانہ بڑے شوق سے سُن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے

Facebook Comments HS