میں تری جستجو میں رہتا ہوں
شکور احسن سے سلام و دُعا تقریباً دو عشروں پر محیط ہے، ایک دو مواقع پر تعلقات میں ہلکے پھلکے اتار چڑھاؤ یا ادبی نوک جھوک کو چھوڑ کر اب یہ مراسم دوستانہ دائرہ سے نکل کر برادرانہ تعلقات کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں، ہمارے اس بیبے گوجر خانیے دوست کا تعلق یوں تو پنجاب پولیس سے ہے لیکن سر تا پا اپنے ادبی مزاج کے باعث وہ پولیس کی نوکری کے لئے ”مسِ فٹ“ بلکہ یوں کہیے ”اَن فٹ“ ہے، اسی لیے وہ متعدد ادبی محاذ سر کرنے کے باوجود تاحال کوئی ”محکمانہ کامیابی“ یا ”محکمانہ ترقی“ حاصل نہیں کر سکا، شکور احسن میدان تحقیق میں اترا تو ”گوجر خان میں فنون و ادب کی مختصر تاریخ“ اور اپنے گاؤں کے متعلق تحقیقی کتاب ”کہانی ایک گاؤں کی“ لکھ ڈالی، بچوں کے ادب کی طرف آیا تو ”تحفہ“ اور ”بابا چراغوں والا“ کے نام سے بچوں کی کہانیوں پر مبنی دو کتابیں شائع کر دیں، اردو افسانہ لکھنے پر آیا تو ”لہو میں ناچتی وحشتیں“ اور ”آنکھ میں چبھتی ریت“ کے نام سے دو افسانوی مجموعے قارئین کی خدمت میں پیش کر دیے، گیت نگاری کا شوق چڑھا تو ”نیلی اَکھیاں آلی“ کے نام سے پوٹھوہاری گیتوں کی کتاب شائع کر دی، ماہیا نگاری پر آیا تو ”پینگاں“ کے نام سے پوٹھوہاری ماہیوں کی کتاب لکھ ڈالی، پوٹھوہاری غزلوں کی کتاب ”بنمبل“ ، پوٹھوہاری نظموں اور غزلوں کی کتاب ”چکھڑ سبھے منظر ٹہھکے“ ، پوٹھوہاری شعرا کے کلام کا انتخاب ”کوسے کوسے ساہ“ ، اردو غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ”آنکھیں پڑھ لیں“ ، پوٹھوہاری غزلوں کا مجموعہ ”اُکرے“ بھی شکور احسن کی محنت شاقہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں، کتابی سلسلے ”مضراب“ کے مدیر کے طور پر ”گوجر خان میں اردو افسانہ نگاری کا ارتقا“ اور ”گوجر خان میں پوٹھوہاری افسانہ نگاری ناں ارتقا“ کے زیر عنوان دو خصوصی نمبروں کی اشاعت بھی اس کے کریڈٹ پر ہے، اس کا تازہ ترین کارنامہ خطہ پوٹھوہار کی منتخب ادبی شخصیات پر مضامین کی کتاب ”سبز آوازیں“ کی اشاعت ہے۔ جس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کا مستحق ہے۔
شکور احسن اپنی محکمانہ تعیناتیوں کے دوران جس شہر میں بھی جاتا ہے وہاں ادبی سرگرمیاں عروج پکڑ لیتی ہیں، ادبی تنظیمیں بنانا تو جیسے اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، ٹیکسلا، واہ کینٹ، کہوٹہ، چونترہ، راولپنڈی میں تعیناتی کے دوران وہ ادبی تنظیم سازی میں مصروف رہتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس کی مساعی سے بنی بعض ادبی تنظیمیں اب غیر فعال ہیں، گوجر خان کی بات کریں تو ادبی تنظیم ”بزم سخن“ کے زیر اہتمام مسلسل دس سال تک تنقیدی نشستوں کا انعقاد کر کے کئی پرانے جغادریوں کی ”ہٹیاں“ بند کرا دیں جو خالی دکان کے کاؤنٹر پر بیٹھ کر کئی سالوں سے ”سودا“ فروخت کر رہے تھے۔
شکور احسن کو پولیس ملازمت کے باعث یہ ”ایج“ حاصل ہے کہ وہ ”ممنوعہ“ اور ”غیر ممنوعہ“ نشہ کی سہولت کسی بھی وقت حاصل کر سکتا ہے لیکن حیران کن طور پر ہمارے اس دوست کو اگر کوئی ”لت“ (یہاں پوٹھوہاری زبان والی لت بھی استعمال ہو سکتی ہے ) پڑی بھی ہے تو وہ صرف اور صرف شعر و ادب کی ہے، اور یہ ایسا نشہ ہے جو شکور احسن چھوڑنا چاہے بھی تو نہیں چھوڑ سکتا۔ کئی بار ادبی وٹس ایپ گروپوں پر ہم نے اس کی طرف سے یہ ”اطلاع عام“ سنی کہ ”اب میں ادبی سرگرمیاں چھوڑ کر گھر اور بچوں پر وقت صرف کروں گا“ لیکن پھر چند ہی ہفتوں بعد خود ہی قسم توڑ کر پھر شعر و ادب کی آبیاری کرنے لگتا ہے۔ ان ”مخصوص ایام“ میں وہ جس ادبی دوست سے ملتا ہے اس سے سن گن لیتا رہتا ہے کہ آج کل کس کتاب پر کام کر رہے ہو، فریق ثانی جب اس سے پوچھ لے کہ آپ آج کل کیا کر رہے تو ہنس کے ٹال دیتا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ان ”مخصوص ایام“ سے فراغت ملتے ہی کوئی نہ کوئی نئی کتاب منظر عام پر لے آتا ہے۔
یہ مختصر تحریر چونکہ فی البدیہ لکھ رہا ہوں اس لیے شکور احسن کی اردو اور پوٹھوہاری شاعری کی کتابوں سے منتخب اشعار پیش کرنے سے قاصر ہوں البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس کے دو اردو اور ایک پوٹھوہاری شعر مجھے ازبر ہے جو یہاں بھی تحریر کیے دیتا ہوں۔ آپ بھی پڑھیے اور شکور احسن کو داد دیجیے۔
ہم زمانے میں کِس کِس کی پوجا کریں
جو بھی اچھا لگا وہ خدا ہو گیا
۔
اس لیے بھی وضو میں رہتا ہوں
میں تری جستجو میں رہتا ہوں
۔
سنگیو! آپوں ہلنا پیسی
ہتھ اِچ سورج مَلنا پیسی
۔
نوٹ:مضمون نگار محقق، شاعر، تین پوٹھوہاری کتابوں کے مرتب اور روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد میں سب ایڈیٹر ہیں )


