بیٹیوں کے نام: دو نظمیں
طلاق یافتہ بیٹی قبول نہیں
بیٹا طلاق نہیں ہونی چاہیے
دنیا والے کیا کہیں گے
ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے
جہیز میں تو ہم نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی
ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق تھی
پھر ایسا کیا ہوا جو بات طلاق تک پہنچی
ضرور تیری ہی غلطی ہوگی
گز بھر زبان ہے تیری
سمجھوتہ کر کے رہنا سیکھ
ہم سب نے بھی یہی کیا ہے
تیری دادی، نانی اور میں
ہم نے بھی ہر بات سہ لی
لیکن گھر نہیں ٹوٹنے دیا
آج کل کی لڑکیوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے
گھر بسانا انہیں آتا ہی نہیں
کیا تھا ایک تھپڑ ہی تو تھا نا
مجازی خدا ہے تمھارا
غصے میں اٹھ گیا ہو گا ہاتھ
ضرورتیں بھی تو وہی پوری کرتا ہے نا
ایسے گھرانے کہاں ملتے ہیں
قسمت والی ہو جو تمھیں کھاتا کماتا
مرد ملا ہے
بھائی:
اماں اسے کہیں اپنے گھر واپس جائے
میں چھوڑ آتا ہوں آپ کہیں تو
کب تک یہ ہم پر بوجھ بنی بیٹھی رہے گی
ویسے بھی جب ایک بار بیٹی رخصت ہو جائے
پھر اس کا جنازہ ہی اس گھر سے واپس آتا ہے
*** ***
چلتی ہوں، اماں پھر سے مرنے کے لئے
واہ اماں واہ
کہاں آپ میرے ذرا سی چوٹ لگنے پر تڑپ جاتی تھیں
اور اب
اب اپ کہتی ہیں کہ چپ چاپ جوتے کھاتی رہوں
بھائی تم تو مجھے روتے دیکھ کر تڑپ اٹھتے تھے
اب کیا ہوا وہ محبت سب ڈھکوسلہ تھی کیا
کیوں تم لوگوں کو میری خاموش چیخیں سنائی نہیں دیتی
اماں سمجھوتہ کیا تھا تبھی تو رہی اتنے سال اس کے گھر میں
اپنی خوشیاں اپنی پسند سب قربان کیا اس پر
اپنے خواب چھوڑ کر اس کے خوابوں کو پورا کرنے میں لگی رہی
پتا آپ سب کو
اس کی پسند کا کھانا کھاتی ہوں
اس کی پسند کے رنگ پہنتی ہوں
اس کی پسند کی باتیں کرتی ہوں
اس کے ساتھ ہنستی ہوں
اس کے ساتھ روتی ہوں
اب تو سوچتی بھی صرف اسی کی پسند کا ہوں
اماں مجھے تم نے پیدا کیا
بابا نے پالا پوسا تعلیم دلوائی
لیکن میں تو ہر چیز کے لئے اس کی محتاج ہوں
اس سے جڑے ہر رشتے کو
خوش رکھنے میں دن رات جتی رہتی ہوں
اماں میری روح مر رہی ہے دل تو کب کا مر چکا
کیونکہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں
نام اس کا،
گھر اس کا،
بچے اس کے حتیٰ کہ
میری ہر سانس پر حق اس کا
اماں کیا میں ژندہ ہوں
بابا کیا میں آج بھی آپ کی گود میں
چھپ سکتی ہوں
بچپن میں بادل کی گرج کے ڈر سے
اور اب، اب اس شخص کے خوف سے
جس کے ساتھ مجھے آپ لوگوں نے بھیجا تھا
یہ یقین دلا کر کہ وہ مجھے آپ سے زیادہ پیار دے گا
لیکن وہ تو مجھے بس ایک چیز سمجھتا ہے
جیسے چابی والی گڑیا
چابی بھرو اور دل خوش کرو
اماں مجھے وہ نہیں پسند
مجھے اس کا چھونا نہیں پسند
وہ بہت اذیت دیتا ہے
جب سختی سے مجھے اپنی جانب کھنچتا ہے
میں کچھ نہیں کہہ پاتی بس چپ چاپ سہ جاتی ہوں
اتنا سب کرنے کے بعد بھی وہ خوش نہیں مجھ سے
آپ لوگ ایک تھپڑ کی بات کرتے ہیں
یہاں میرے جسم پر اس کی وحشت کے ثبوت ہیں
آپ کو دنیا کا، رشتے داروں کا ڈر ہے
اور میں میں کیا کروں؟
چلتی ہوں اماں،
بھائی اگلی بار میرا جنازہ لینے تم آنا
اور ہاں وہ موتیے کے گجرے اور ہار بھی لانا
آخری بار تم ہی نے مجھے چاند رات پر لا کر دیے تھے


