قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (11)
سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1932ءمیں حیدرآباد سے رسالہ ’ترجمان القرآن‘ جاری کیا جس کے مضامین آہستہ آہستہ مذہبی اور سماجی موضوعات سے میدان سیاست کا رخ کرنے لگے۔ جولائی 1937 میں سید مودودی نے ترجمان القرآن ہی میں ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کی پہلی جلد اپریل 1938 میں شائع ہوئی۔ اس سلسلے کی تیسری اور آخری جلد 1943 میں شائع ہوئی۔ اس دوران سیاست میں دلچسپی رکھنے والے مسلم اہل دانش میں بہت سے مباحث جاری تھے۔ خیال رہے کہ یہ محترم حضرات مدرسہ جاتی اور مسلکی مذہبی پیشوائیت سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ اس ضمن میں 1942 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونے والے ظفر احمد انصاری سے گواہی لیتے ہیں جو مسلم لیگ کی مجلس عمل کے اسسٹنٹ سیکریٹری بھی رہے۔ ماہنامہ ’چراغ راہ‘ (کراچی) کے ’نظریہ پاکستان نمبر‘ (دسمبر 1960) میں ’تحریک پاکستان اور علما‘ کے عنوان سے صفحہ 233 پر لکھا، ’دراصل پاکستان کی قرارداد سے پہلے ہی مختلف گوشوں سے ’حکومت الہٰیہ‘، ’مسلم ہندوستان‘ اور ’خلافت ربانی‘ وغیرہ کی آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ علامہ اقبال نے ایک ’مسلم ہندوستان‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ مودودی صاحب کے لٹریچر نے حکومت الہٰیہ کی آواز بلند کی تھی۔ چوہدری افضل حق نے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مولانا آزاد سبحانی نے خلافتِ ربانی کا تصور پیش کیا تھا۔‘ ان میں سے علامہ اقبال کے اپنی وفات سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ سے تعلقات کی نوعیت جاننے کے لئے مسلم لیگ پنجاب کے جائنٹ سیکریٹری عاشق حسین بٹالوی کی کتاب ’اقبال کے آخری دو سال‘ کا مطالعہ مفید ہو گا۔ مودودی صاحب نے اگست 1941 میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ 1941 میں وفات پانے والے چوہدری افضل حق مجلس احرار کے فکری رہنما تھے۔ مولانا عبدالقادر آزاد سبحانی ’مدرسہ الہیات‘ کے بانی اور رسالہ ’روحانیات‘ کے مدیر تھے۔ 1957 میں لکھنو میں وفات پائی۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی کے سیاسی سفر میں ’ترجمان القرآن‘ اور جماعت اسلامی کے قیام میں ایک منزل متحدہ پنجاب کی شمالی تحصیل پٹھانکوٹ کے دارالسلام ٹرسٹ میں قیام بھی ہے جس کی بنیاد ایک ریٹائرڈ سول انجنیئر خان صاحب چوہدری نیاز علی نے 1936 میں رکھی تھی۔ سید مودودی کی ادارہ دارالسلام سے وابستگی کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ معروف صحافی میاں محمد شفیع (م ش) نے ہفت روزہ اقدام (لاہور) کے شمارہ 9 جون 1963 میں لکھا، ’علامہ اقبال مولانا (مودودی) کا ’ترجمان القرآن‘ جستہ جستہ مقامات سے پڑھوا کر سننے کے عادی تھے۔ میں سو فیصدی ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدرآباد دکن کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی۔ بلکہ وہ خط انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا‘۔
معروف صحافی خضر حیات خان نے 19 فروری 2016 کو ’فراموش شدہ محسن پاکستان‘ کے عنوان سے لکھا،’چودھری صاحب نے علامہ اقبال کو اس ادارے کے لئے کسی مسلم سکالر کو منتخب کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے علامہ غلام احمد پرویز کا نام تجویز کیا۔ اس وقت تک قائداعظم پرویز صاحب کو اسلامی اور قرآنی حوالوں سے مسلمانوں کو مطالبہ پاکستان پر قائل کرنے کے لئے ایک رسالے ’طلوع اسلام‘ کی ذمہ داری سونپ چکے تھے۔ اس لیے قائداعظم نے پرویز صاحب کو دارالسلام رسالے کے لئے کسی اور سکالر کو منتخب کرنے کے لئے کہا۔ پرویز صاحب حیدر آباد دکن میں نوجوان اور پرجوش مولانا مودودی کو جانتے تھے۔ انہوں نے مودودی صاحب کو یہ آفر دی جنہوں نے پٹھان کوٹ آ کر دارالسلام کی ذمہ داری سنبھالنے میں ذرا دیر نہ کی۔‘
چوہدری نیاز علی کے صاحبزادے کے ایم اعظم اقوام متحدہ میں سینئر معاشی مشیر کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ انہوں نے ’حیات سدید‘ کے عنوان سے اپنے والد کی سوانح مرتب کی جس کی رونمائی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام اکتوبر 2010 میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے صدر مجید نظامی مرحوم نے اس موقع پر فرمایا، ”قدرت اللہ شہاب مرحوم نے ’میں نہ مانوں‘ کلب بنایا تھا۔ اس کلب کے پہلے اجلاس میں مولانا مودودی صاحب اور میں بھی موجود تھے۔ مولانا مودودی صاحب نے ’پاکستان کیسا ہونا چاہیے‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ میں نے جواب میں کہا کہ ’ جناب! گستاخی معاف پاکستان کے قیام کی بنیاد 1946ءکے انتخابات میں رکھی گئی تھی۔ اس وقت آپ نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ ان انتخابات میں غیر جانب دار رہیں۔ میرے نزدیک یہ غیر جانبداری قیام پاکستان کی مخالفت کے مترادف تھی کیونکہ اگر آپ کے ساتھیوں کے ووٹ فیصلہ کن حیثیت کے حامل ہوتے تو پاکستان معرض وجود میں نہ آ پاتا۔ لہٰذا اب آپ کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے کہ پاکستان ایسا ہونا چاہیے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ‘
’دارالاسلام ٹرسٹ‘ کے حوالے سے علامہ اقبال اور سید مودودی میں براہ راست خط و کتابت کا کوئی دستاویزی ثبوت کہیں موجود نہیں۔ البتہ قیام پاکستان سے قبل اور بعد ازاں پاکستان کے بارے میں مودودی صاحب کے افکار تاریخ کا حصہ ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ ’مسلم لیگ کو ووٹ دینا حرام ہے‘ (ترجمان القرآن جلد نمبر 28 صفحہ 145)۔ ’محمد علی جناح جنت الحمقا کا بانی اور اجل فاجر ہے‘ (ترجمان القرآن فروری 1946 صفحہ 153)۔ ’پاکستان جنت الحمقا اور مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہے‘ (ترجمان القرآن 1946 صفحہ 154)۔ ’پاکستان کا قیام اور اس کی پیدائش درندے کے برابر ہے‘ (ترجمان القرآن جلد نمبر 31 صفحہ 59 اشاعت 48ء)۔ ’محمد علی جناح کا مقام مسند پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدالت کا کٹہرا ہے‘ (ترجمان القرآن جلد نمبر 31 صفحہ 62)۔ ’تقسیم ہند کے تین اداکار تھے اور محمد علی جناح کی اداکاری سب سے زیادہ ناکام رہی‘ (ترجمان القرآن جلد نمبر 31 صفحہ 70)۔ ’پاکستان لاکھوں، کروڑوں ڈاکوﺅں، لٹیروں، قاتلوں، زانیوں اور سخت کمینہ صفت ظالموں سے بھرا ہوا ہے‘ (ترجمان القرآن جلد نمبر 31 صفحہ 59)۔ ’مسلم لیگ خدا سے بے خوف اور اخلاقی بندشوں سے آزاد جماعت ہے جس نے ہمارے اجتماعی ماحول کو بیت الخلا سے بھی زیادہ گندا کر دیا‘ (جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد صفحہ 16)۔ ’مہاجر وہ بھگوڑے اور بزدل ہیں جنہوں نے قومیت کی جنگ لڑی اور جب سزا بھگتنے کی باری آئی تو راہ فرار اختیار کی‘ (نوائے وقت 29 اگست 1948)۔
(جاری ہے)

