خطرہ


پاکستان ایسا ملک دنیا میں دوسرا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے، پاکستان مثالی ملک کیسے ہو سکتا ہے؟ بے شمار سروے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملک خرابی کی لسٹوں میں اول نمبروں میں آتا ہے۔ میں ان اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کرتا۔ میرے تو اپنے معیارات ہیں اور ان پر یہ ملک پورا اترتا ہے۔ پاکستان کی لوکل بسوں کی ہی مثال لے لیجیے۔ پاکستان میں ایسی ایسی لوکل بسیں دوڑتی پھرتی ہیں جن کی عمریں پاکستان سے دو چار سال زیادہ ہی ہوں گی، مگر مجال ہے جو رفتار میں فرق آئے۔

ایک بار لوکل بس میں سوار ہوتے ہوئے، میں نے پایا کہ بس کی تمام سیٹیں بھر چکی ہیں۔ آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک ماں نے اپنے بچے کو دو سیٹوں پر ایسے لٹایا ہوا تھا کہ جیسے وہ بیمار ہو۔ (دیکھنے پر یوں ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی گمبھیر بیماری سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہے۔ ) پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اسے بس میں سونے کی عادت ہے۔ جب ایک سیٹ خالی کرنے کو کہا تو جواب ملا ”تم نوجوان ہو کھڑے ہو جاؤ۔ بچے کو ایک سیٹ تک محدود کرنے سے اس کی نیند خراب ہو گی۔“

مجھے سخت غصہ آیا اور سوچا کہ ہمارا ملک کیسا شاندار ہے کہ اس کی لوکل بس میں سیٹوں پر بچے سلا دیے جاتے ہیں اور فیوچر کو کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یہاں فیوچر سے مراد وہ ستم رسیدہ نوجوان ہیں جو بیک وقت یونی ورسٹیوں اور گھروں میں ذلیل ہو رہے ہوتے ہیں اور معاشرے میں خود کو معتبر گردانتے ہیں۔

مگر ان کی عظمت تو محض اتنی ہے کہ بچوں (شاید یہ ایسے بچے ہیں جن کو گھروں میں چارپائی تک میسر نہیں آتی اور وہ اس کا غصہ گاڑیوں کی سیٹوں پر بے جا سو کر اتارتے ہیں ) کی نیند ان کے علم و فن کو ایک لمحے میں خاک کر ڈالے۔

کیا ان کو بچہ کہا جا سکتا ہے، نہیں شاید نہیں، یہ بچے نہیں ہیں، ان کے ہاتھوں کی انگلیوں پر جلد خشک ہو چکی ہے۔ ان کے چہرے مئی جون کی گرمی نے جلا ڈالے ہیں۔ کیا ان کے سربراہ ان کی حفاظت نہیں کرتے۔ کرتے ہوں گے مگر بچے تو شرارتی ہوتے ہیں وہ بڑوں کی باتیں کہاں سمجھتے ہیں۔ نہیں شاید یہاں میرا اندازہ درست نہیں۔ یہ بچے نہیں ہیں گھر کے سربراہ ہیں۔ ان کی انگلیاں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ گھروں کو پالتے ہوں گے۔

کیا گھر کو پالنے کے لیے ایسی قربانی کار آمد ہوتی ہے کہ بچپن چھین کر، یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ بچپن چھوڑ کر یہ ہاتھوں کو اوزار بنا لیتے ہیں۔ ایسے اوزار جو زندگی کی گاڑی سنوارتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی کیوں نہیں سنور رہی۔ انہوں نے تو بہت جلد اوزار پکڑ لیے، کیا ان کی اس پسماندگی کے پیچھے بچپنے کی بھول ہے یا زندگی ہی اتنی کٹھور ہے کہ بچوں کے ہاتھوں سے آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔

شاید قصور میرا ہے کہ میں نے بچے کی نیند خراب کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ سیٹ سے اسے اٹھا دیا جائے۔ مگر وہ نہیں اٹھایا گیا۔ شاید اسے رات کو فیکٹری میں جانا ہو گا، اس لیے اس کی ماں نے اسے اٹھایا نہیں کہ یوں اس کی نیند خراب ہو گی۔

کیا اس کی نیند میرے سکوں سے زیادہ مقدم ہے۔ ہاں نہیں، نہیں ایسا نہیں۔ میرا سکون معتبر ہے۔ میں ملک کا فیوچر ہوں مگر وہ بچہ، وہ بچہ ایک گھر کا مستقبل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھر کے مستقبل کے لیے ملک کے فیوچر کو پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے۔

اگر معاملہ یوں ہے تو مجھے اس بچے کو اٹھانا ہو گا اور اپنے سکون کو اولیت دینا ہو گی۔ چلیں یوں ہی سہی، ملک کے فیوچر کو ایک سہارا تو مل جائے گا۔ کیا اس کی ماں مجھے ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔ نہیں، اس نے پہلے ہی اپنے مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دے رکھی ہے۔ اس کا یہ رویہ حکمرانہ کھنک رکھتا ہے۔ ہاں تو یہ بھی ہمارے حکمرانوں کی طرح حکمران ہی ہوئی۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais