آخری دو اشک: جاوید عباسی کا سندھی افسانہ
افسانہ نویس: جاوید عباسی
مترجم: یاسر قاضی
ولُو ہیروئنچی مر گیا۔
پُورے محلے میں ولُو کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ محلے والوں کے چہروں پر ولُو کی بیوی بختاور کے لیے ہمدردی اور بے چارگی کے مشترکہ تاثرات پھیل گئے۔ ولُو جس کو اس کے پڑوسی کافی عرصے سے ”ہیروئنچی۔ ہیروئنچی۔“ کے نام سے پکار کر، اسے اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کا احساس دلاتے رہتے تھے، اس ہیروئنچی کے بچھڑنے پر اب ہر آنکھ نم تھی۔ بختاور کو تو جیسے چپ نے گھیر لیا تھا۔ بختاور پر مسلسل خاموشی طاری تھی۔ ایک ہیروئنچی کے ساتھ زندگی گزارنے والی اس کی زندگی کے دوران اس قدر روئی تھی، کہ آج اس کی جدائی پر اس کی آنکھوں میں بہانے کے لیے دو آنسو بھی نہیں بچے تھے۔ بس خالی اور ویران آنکھوں سے سب کچھ دیکھے جا رہی تھی۔
پڑوسیوں کا دکھ میں مبتلا ہونا بھی ایک فطری بات تھی۔ ولُو تھا بھی ایسا ہی شخص۔ ہیروئن کی لت تو اس کو دو سال پہلے ہی لگی تھی۔ اس سے پہلے وہ پڑوس کے بچوں کا ”ماما ولُو“ اور بڑوں کا ”بھائی ولی محمّد“ تھا۔ اس کی پڑوس کی گلی کے نکڑ پر ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ کس چیز کی دکان تھی! ؟ اس کا تعیّن کرنا مشکل تھا۔ کیونکہ اس کی دکان سے ہر ضرورتمند کا کام ہو جاتا تھا۔ ولُو سو ہنر جاننے والا آدمی تھا۔ پڑوس کے لوگوں کی چارپائیاں بُنتا تھا۔ کُرسیاں بناتا اور بُنتا تھا۔ رنگ و روغن کے کام میں ماہر تھا۔ گھر کا چھوٹا موٹا کام ولُو کے لیے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ ہلکا پُھلکا بجلی کا کام بھی جانتا تھا۔ پنکھے، استریاں اور کبھی اس کا تُکا کام کر جائے تو ٹیلی ویژن سیٹ کی مرمت بھی کر لیتا تھا۔ بہت ہی خوشحال بندہ تھا۔ بعد میں ایک دن اس نے شادی کا فیصلہ کیا۔ اس کی شادی کی خبر بھی کسی کی موت کی خبر کی طرح جلد ہی پورے محلے میں پھیل گئی۔ پورے پڑوس نے اُس کی شادی میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور وہ بہت ہی لاڈ اور پیار کے ساتھ اپنی دلہن بیاہ کر اپنے گھر لے آیا۔
ولُو کے من میں جیسے نئی کونپلیں پُھوٹ اُٹھیں۔ ولُو آسمان میں اڑنے لگا۔ لیکن یہ خوشیاں زیادہ دیر اس کے پاس ٹک نہ سکیں۔ بہار کی چند گھڑیوں کی مسرت کو خزاں کی چادر نے جلد ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ بُری صحبت میں پھنس گیا اور نشہ استعمال کرنے لگا۔ موت کے سوداگروں نے اس کی زندگی کا سودا کر لیا۔ اس کی نشے کی طلب بڑھتی گئی اور موت اور تباہی مسکراتے ہوئے باہیں پھیلا کر اس کی طرف بڑھنے لگیں۔
اس کی بیوی بختاور اپنا بخت گوا بیٹھی تھی۔ وہ کبھی کبھار اپنے نام پر سوچتی تھی اور پھر اپنی حالت کو دیکھ کر مسکراتی تھی۔ ”اماں ابا کو مجھ پر رکھنے کے لیے اور کوئی نام ہی نہیں ملا تھا! ؟“ وہ اکثر یہ خیال لڑاتی رہتی تھی۔
ولُو جو ہم سب کا ”ماما ولُو“ تھا، ایک دن میں جیسے ہی ماما کے گھر میں داخل ہوا تو ماما چارپائی پر بیٹھا نیند کے جھونکے کھا رہا تھا۔ مجھے بھی پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اچانک سے میں نے اُن کو اس قدر زور سے آواز دی کہ ماما چونک اٹھے اور اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے چیخے : ”ارے پاگل! بیڑا غرق کر دیا!“
”کیا ہوا ماما!“ میں نے مذاق کے انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔
ماما جیسے بُجھ سے گئے اور کہنے لگے : ”ارے کم بخت! کیا اور کیا ہوا۔ میرے نشے ہی توڑ دیے تم نے۔ میری پُڑیا کا اثر ہی چلا گیا۔ بیڑا غرق کر کے رکھ دیا تم نے۔“
ماما نے دوبارہ نشے اور نیند کے جھونکوں میں واپس جانے کی کوشش کی تو مامی نے دور سے چیختے ہوئے کہا: ”ارے مردار۔ اُٹھو جا کر انڈے لے آؤ! سارا دن نشہ کر کے صرف جھونکوں میں ہی جُھولتے رہتے ہو۔ خدا تمہیں موت بھی نہیں دیتا کہ میری جان چھوٹے۔ اس دوزخ سے!“
مامی بختاور اکثر ماما کو بددعائیں دیتی رہتی تھی۔ مامی کی زندگی بھی درد سے بھرپور تھی۔ اس لیے وہ اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کبھی کبھار ماما سے لڑ بھی پڑتی تھی۔
”انڈے ونڈے رہنے دو۔ نہیں جاؤں گا انڈے لینے۔ خود جا کر لے آؤ!“
ماما ولُو نے ہوا میں ہاتھ ہلائے۔ تارے دکھائے۔ مامی کی طرف منہ بنا کر دیکھا اور دوبارہ سے نیند کے جھونکے لینے لگ گیا۔ ماما کا یہ انداز اتنا مضحکہ خیز تھا کہ میری ہنسی چھوٹ گئی اور میرے ساتھ مامی بختاور بھی ہنس پڑیں۔
جس دن ماما مامی کا جھگڑا ہوتا، اس دن مامی بہت روتی تھیں۔ ایک دن جب جھگڑے کے بعد مامی بختاور ایسے ہی اپنے منہ رو رہی تھیں، تو میں نے مامی سے کہا:
”طلاق کیوں نہیں لے لیتیں ماما سے! ؟ جان چھڑاؤ۔ یہ تمہیں آنسوؤں کے علاوہ اور دیتا بھی کیا ہے! ؟“
میرے یُوں کہنے پر مامی چِڑ کے آگ بگولا ہو گئیں۔ کیونکہ وہ ایک روایتی سندھی عورت جو تھیں۔ کہنے لگیں : ”ہمارے یہاں خاوند ایک بار ہی ملتا ہے بیٹا! ہم اپنا وارث تبدیل کرنا نہیں جانتے!“ وہ اس بات پر جذباتی ہو جاتی تھیں۔
”ہیروئنچی ہے تو کیا ہوا! ؟ ہے تو میرا خاوند۔ میرا مالک۔“
مامی، ماما ولُو کا خیال بھی بہت کرتی تھیں۔ بس ان کو اس وقت دکھ ہوتا تھا اور غصہ آتا تھا، جب پڑوس کے لوگ انہیں ”ولُو ہیروئنچی کی بیوی“ کے نام سے پکارتے تھے یا اس حوالے سے ان کا ذکر کہیں کرتے تھے۔ اس وقت مامی بختاور کی کیفیت عجیب ہو جاتی تھی اور وہ ماما کو بھی بددعائیں دیتی تھیں تو ہیروئن بنانے والوں کو بھی کوسنے لگتی تھیں۔ کہتی تھیں :
”دستگیر غرق کرے ان ہروئنچیوں کو۔ اور ہیروئن بنانے والوں کو۔“
وہ اس دن ماما کے ساتھ جھگڑا بھی ٹھیک ٹھاک کرتی تھیں۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان کو چائے بنا کر بھی پلا دیتی تھیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ آپس میں ان کی محبّت بھی بے حساب تھی۔ دراصل جب محبتیں من میں بَس جائیں تو دکھ اور تکلیفوں کا کتنا ہی زور کیوں نہ ہو، کوئی بھی جھونکا یا جھٹکا اس مضبوطی اور گھیرے کو توڑ نہیں سکتا۔ ماما اور مُومانی کے جسم اس مادی دنیا میں تو مشکل میں گِھرے تھے، لیکن ان کی روحیں ہمیشہ محبتوں اور چاہتوں کی خوشبوؤں سے معمور رہتی تھیں۔
آج ماما ولُو کی میّت پر پڑوسی ایسے ہی جمع ہوئے تھے، جیسے اس کی شادی پر آئے تھے۔ آتے بھی کیسے نہیں! ان کا ماما انتقال کر گیا تھا۔ یہ سب لوگ ”ولُو ہیروئنچی“ کی میّت پر نہیں آئے تھے، بلکہ ”ماما ولی محمّد“ کی موت کا پُرسہ دینے آئے تھے۔
اب تو کوئی بھی مامی بختاور کو ”ہیروئنچی کی بیوی“ کے نام سے نہیں پکارے گا۔
وہ بیوی رہی بھی کہاں تھیں!
وہ تو بیوہ بن چکی تھیں۔
مامی جو بالکل خاموش پتھر بن کر ایک کونے میں بیٹھی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے دو بڑے موتیوں جیسے اشک اس وقت ٹپکے، جب ماما کی میّت کی ڈولی کلمۂ شہادت کے ورد سے اٹھائی گئی۔ اس لمحے ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مامی بختاور کے نینوں میں شاید وہ آخری دو اشک بچے تھے، جو انہوں نے اپنے شوہر کی موت پر اس کو نذر کیے۔
اس کے بعد زندگی بھر کبھی بھی مامی بختاور کی آنکھوں میں ہم نے اشک نہیں دیکھا۔ بس ہر وقت ان کی آنکھوں سے ایک ویرانی جھانکتی نظر آتی تھی۔


