خلیل الرحمٰن قمر: منافق سماج کا حقیقی چہرہ


ہمیں کسی کی ذاتی زندگی سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، نجی زندگی میں اور گھر کی چار دیواری میں کوئی کیا کرتا ہے وہ جانے۔ کس کے ساتھ سوتا ہے اور کس کے ساتھ بیدار ہوتا ہے یہ اس کا ایک انفرادی عمل ہے، ہمیں مداخلت کرنے یا مورل پولیسنگ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں اگر اس کی عادات و اطوار یا رویوں سے کسی کو کوئی تکلیف ہوتی ہے یا نقصان پہنچتا ہے تو ضرور اس کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔

لیکن اس منافق سماج کا کیا کریں کہ جہاں جابجا ”پیپنگ ٹامز“ بستے ہوں، جنہیں دوسروں کے بیڈ روم میں گھسنے اور نجی زندگیوں میں تاک جھانک کرنے کے علاوہ کچھ اور سجھائی ہی نہیں دیتا۔

باتوں سے پاکیزگی و تقوی کے چشمے پھوٹتے ہیں جبکہ کردار متعفن زدہ ہیں اور رویوں سے منافقت جھلکتی ہے۔ جس طرح کا ہجوم اس طرح کی باتیں کرنے لگ جانا، کبھی لبرل تو کبھی مذہبی لبادہ اوڑھ لینا۔ مطلب داد سمیٹو اور اپنی انا کے غبارے میں جی بھر کے شہرت کی ہوا بھر لو اور چلتے بنو، بھلے جتنے مرضی مذہبی ٹچ دینا پڑ جائیں کیا فرق پڑتا ہے؟

اپنے کھوکھلے کردار کی اٹھان کو بلند رکھنے کے لیے
” دو ٹکے کی عورت“
ایسا جملہ لکھنا پڑے تو لکھ دیں کیا فرق پڑتا ہے؟

جس سماج کے ”بڑے“ سنہری قول کے طور پر عورت کو کھلی کینڈی سے تشبیہ دینے لگیں تو اس سماج کی ذہنی سطح کا معیار کیا ہو گا؟

جلوت میں تو آپ اخلاقی بھاشن بازی ایک فیشن کے طور پر کریں، خواتین کو ان پڑھ اور کم عقل کہیں اور مختلف پوڈ کاسٹ میں سگریٹ سلگا کر انتہائی رعونت کے ساتھ کچھ اس قسم کی جملے بازی کریں

” جو خاتون شادی سے پہلے اپنے عاشق کے ساتھ سو گئی تو پھر وہ ساری زندگی جاگتی رہتی ہے“

پوچھنا تھا کہ اگر خلوت میں کوئی خاتون بھلے رات کے پچھلے پہر ہی ملنے کی خواہش کا اظہار کر دے اور اپ بنا سوچے سمجھے دوڑ لگا دیں اور مطلوبہ جگہ پر خوشبو لگا کے پہنچ جائیں تو سوال ہے کہ اس قسم کے رویے یا اتاولے پن کو کیا نام دیں گے؟

اگر کوئی مرد رات کے اندھیرے میں ”فین“ بن کر ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو کیا موصوف وہاں بھی اسی سبک رفتاری سے پہنچتے جیسے خاتون فین کے گھر جا پہنچے؟ اور بعد میں جو ہوا وہ ایف آئی آر سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر بھی تقریباً چھ دن کی تاخیر کے بعد درج کروائی گئی ہے، شنید ہے کہ موصوف اس معاملے میں پس و پیش سے کام لیتے رہے، ظاہر ہے ایک سلیبریٹی ہیں اور اخلاقیات کے پرچارک بھی۔ اب ایک تو انتہائی مخفی معاملہ، دوسری طرف خود کی بے وقوفی یا اتاولا پن، ظاہر ہے کئی مکھوٹے اترنے تھے اور بھی بہت کچھ خبر کی صورت میں ہائی لائٹ ہو جانا تھا اور سوالات اٹھنے تھے جو کہ اٹھ رہے ہیں۔

عمر چیمہ کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج کی تاخیر کی کہانی جب کھلے گی تو بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔

ایک شائستہ اور پڑھی لکھی خاتون ماروی سرمد کی گھٹیا ترین جملوں میں تضحیک کرنے والا دانشور اپنی نجی زندگی میں کس کردار کا مالک ہے؟ اپنی گفتگو میں خواتین کو کیٹاگرائز کرنا، کسی کو بازاری کہنا تو کسی پر لبرل آنٹی کے طعنے کسنا اور ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر خواتین کو سنگل آؤٹ کرتے ہوئے انتہائی تضحیک اور رعونت والے انداز میں کہنا ”کہ میں فلاں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہوں گا کیونکہ وہ چھوٹے کپڑے پہنتی ہے“

یہ کہاں کی اخلاقیات ہیں؟
آپ کو عقل کل بن کر دوسروں کے جسموں یا لباسوں پر نظر رکھنے کا اختیار کس نے ودیعت کیا ہے؟

آپ اپنے گھر میں جو بھی کوڈ آف کنڈکٹ یا لیونگ سٹائل رائج کرنا چاہیں، کریں کسی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

لیکن دوسروں کی بیٹیوں کی مورل پولیسنگ کرنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا ہے؟

موصوف کی ایک گفتگو کا کلپ آج سارا دن سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا جس میں موصوف انتہائی تکبر و رعونت کے ساتھ ارشاد فرما رہے ہیں

” کہ خواتین کس برابری کی بات کرتی ہیں، کیا آپ نے کبھی سنا کہ پانچ خواتین نے مل کر ایک مرد کو اغوا کر لیا ہو؟ جس پر انٹرویو کرنے والی خاتون ہنس پڑتی ہے اس کے بعد موصوف بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں تو پھر کرو ناں برابری؟ کس نے منع کیا ہے“ ؟

اب محترم دانشور سے سوال پوچھنا تو بنتا ہے نا! کہ ایف آئی آر کے مطابق ایک خاتون ہے جس نے موصوف کے ساتھ یہ سب کیا ہے تو اب آپ کی رائے خواتین کے متعلق تبدیل ہوگی یا نہیں؟

ویسے یہ کھلا تضاد نہیں ہے کہ آپ ایک خاتون سے اکیلے میں ملنے کے لیے پہنچ جائیں؟

آپ تو اخلاقی مبلغ ہیں اور مذہبی روایات کا جگہ جگہ حوالہ دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اگر اس معاملے کو مذہبی تناظر میں رکھ کے دیکھا جائے تو کیا ایک نامحرم اکیلے میں ایک ایسی خاتون کے ساتھ مل سکتا ہے جو اسے زندگی میں کبھی ملی نا ہو؟

ہمیں آپ کی نجی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، مسئلہ آپ کے دوغلے پن سے ہے۔ چونکہ آپ انسانوں کو مذہبی ترازو میں تولتے ہیں اور شرم و حیا کے بڑے بڑے لیکچر ببانگ دہل دیتے ہیں اور مزید یہ کہ آپ ایک ”پبلک فگر“ بھی ہیں تو سوال پوچھنا تو بنتا ہے نا! آپ جس نظریے یا فکر کے پرچارک ہیں اس پر قائم رہنا بھی تو آپ کی ذمہ داری ہے بلکہ فریضہ ہے۔ اگر آپ ادھر ادھر ہوں گے یا رنگ بازی کریں گے تو عوام کا سوال کرنا تو بنتا ہے بھائی۔ باقی ہمیں آپ کے کسی سے ملنے یا نہ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، آپ کی اپنی زندگی ہے جیسے جینا چاہیں جئیں لیکن دوسروں کو زبردستی اپنا فکری غلام بنانے کی کوشش مت کریں۔ کیمرے کے سامنے بیٹھ کر دوسرے انسانوں کو خاص طور پر خواتین کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی ایکٹنگ مت کریں۔

چونکہ آپ ایک لکھاری ہیں اور ادیب سماج کا آئینہ ہوتے ہیں کبھی فرصت ملے تو ہم ایسوں کو تحریر کی صورت میں یہ سمجھانے کی کوشش ضرور کیجئے گا کہ کیا برائی کرنے یا کسی مرد کی کے ساتھ رفاقت قائم کرنے کی ذمہ دار اکیلی خاتون ہوتی ہے یا مرد کا بھی کوئی کردار ہوتا ہے؟

خاتون کو تو دھڑلے سے طوائف یا رنڈی تک کہہ دیا جاتا ہے لیکن اس مرد کو کیا کہیں گے جو اس کے ساتھ ملوث ہوتا ہے؟ ریڈ ایریاز کو آباد کرنے والی تو ٹھہری طوائف لیکن گاہکوں کو کیا کہیں گے؟

Facebook Comments HS