طاغوت کی منزل سے گیا کون سلامت سامان لُٹا راہ میں یاں ہر ”قمری“ کا
ایک مدت سے خلیل میاں غلیل کَسے فاختاؤں کے در پے تھے مگر آخر وہ تاریخی غلیل ٹوٹ گئی۔ ایسے جیسے کبھی نسیم حجازی کی تلوار ٹوٹی تھی۔ فاتح نسوانیت، محافظ ِاسلام، پیکرِ حیا، دانائے راز اور لسان العصر مولانا خلیل الرحمان قمر اپنی حیاتِ مبارکہ کے باسٹھ کیک اور بے شمار موم بتیاں ضائع کرچکے ہیں۔ بھلے ضرورت نہ سہی مگر ان کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں کیونکہ دعا میں حرج ہی کیا؟ انھوں نے ہمیشہ اپنی اصلاح پر خواتین کی اصلاح کو فوقیت بخشی۔
دین اور سماج کی فکر دن رات انھیں ستاتی ہے۔ چونکہ پچانوے فیصد عورتیں جاہل اور جہنمی ہیں لہٰذا عورت کے لیے شدید فکر مند ہیں اور عورت ہر وقت ان کے اعصاب پر سوار ہے۔ خدا اور ابلیس دونوں سے گہرے روابط ہیں۔ اس غم میں عمر کٹی کہ مرد کو عورت کے لیے گھر کا سودا سلف کیوں لانا پڑتا ہے۔ مردوں کی برابری کرنے والی عورتوں کو راہ راست پر لانے کے لیے دن رات تبلیغ کی۔ یہی قصور تھا خلیل الرحمان کا جو طاغوت کو گوارہ نہ ہوا۔
پندرہ جولائی کی شب کی ایک مداح خاتون نے انھیں فون پر اپنے گھر بلا لیا۔ عورتوں سے لاکھ نفرت سہی مگر رات کے وقت وہ کسی نوجوان خاتون کا دل توڑنے کے قائل بھی نہیں۔ یوں اس خاتون کے ہاں بارہ بجے شب سرکار کچے دھاگے سے بندھے چلے آئے۔ اور آپ جانتے ہیں جب بارہ بج جائیں تو پھر کچھ بجا نہیں رہتا۔ پھر وقتے خوش گزرے اور نظرے خوش گزرے کے فطری تقاضے بھی پیش نظر ہوں گے۔ سوچا شاید وہ بوقت ِتہجد طاغوت کی بابت کچھ جاننے کی طالب ہے۔
مگر اس نے وہاں چھ سات مجسم طاغوتوں کو بلا رکھا تھا جنھوں نے اس عالمِ بے ریش کے ساتھ وہ کیا جو ناقابل بیان اور، ناقابلِ مذمت، ہے۔ خلیل میاں ذہین تو کافی تھے مگر خراب نیت کے ساتھ نظریں نیچی رکھنا بھول گئے۔ کیا ہی اچھا ہوتا جو روح، جنات اور طاغوت کے عامل ساحل عدیم کو بھی ساتھ لے کر جاتے۔ لیکن اس بار بھی اک، دو ٹکے کی عورت کے ہاتھوں خوار ہوئے۔ ان کا یہ کہنا جرم بن گیا کہ اگر عورتیں مردوں کی برابری چاہتی ہیں تو کبھی مرد کو اغوا اور ریپ کر کے دکھائیں۔
سو آج کی عورت نے یہ چیلنج بھی قبول کر ڈالا۔ یہی وجہ ہے خلیل میاں جیسے دانشور خواتین کو نکیل ڈالنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ امام غزالی بھی کہا کرتے تھے کہ عورتوں کو اچھے کپڑے مت لے دو، یوں وہ خود ہی باہر نہیں نکلیں گی اور مرد مجرد نہ بنیں اور دو تین بیویاں رکھیں۔ ایمان سے لبریز خلیل میاں نہیں جانتے کہ عورت کے پاس اتنے ہنر ہیں کہ اگر چاہے تو شوہر کو دوبارہ عاشق بنا دے اور عاشقوں کو چنے چبوا دے۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ عورت کو ناقص العقل سمجھنے والے خود عورت کو دیکھ کر اپنی عقل ِکامل کھو بیٹھتے ہیں۔
اور عورت کو فاحشہ، بے وفا اور بدکردار کہنے والے عورت کے بغیر ایک دن نہ گزار سکیں بھلے جنت میں ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ عورت کا ہی خاصا ہے جو بیک وقت دو خداوں اور کئی شیطانوں کو سہتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ مرد عورت کو جو کچھ دیتا ہے، عورت اسے دگنا کر کے واپس دیتی ہے۔ مرد نطفہ دے تو عورت بچے کی صورت میں مکمل انسان دیتی ہے۔ اگر گھر دو گے تو وہ مسکن دے گی۔ اگر سبزیاں، پھل دو گے تو تمھیں تیار کھانے لوٹائے گی۔
اور اگر اسے مایوس کرو گے تو گئی گنا مایوسی واپس کرے گی۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمھیں کچھ اچھا نہیں مل رہا تو تم بھی وہ سب بدلو جو تم اسے دے رہے ہو۔ مگر اپنے ہاں تو دانشوروں کی ماؤں سے ہی اپنے بچوں کی تربیت میں چوک ہو گئی۔ اب تو ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی مشہور زمانہ دھمکی سے اتفاق کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ ایسی انٹیلیکچوئل کلاس نہ ہی جنم لے۔ سوشل اینیمل سے سوشل میڈیا اینیمل کا خوفناک سفر جاری ہے۔
کسی نے خوب لکھا ہے،
طاغوت کی منزل سے گیا کون سلامت
سامان لُٹا راہ میں یاں ہر قمری کا


