ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا


14 اپریل 2022ء کو میجر جنرل بابر افتخار نے ایک اہم پریس کانفرنس کی تھی جس کا کلیدی جملہ یہ تھا کہ ’ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں‘ نیز یہ کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے۔ ‘ گزشتہ روز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی مہم ہے جس کا مقصد دہشت گردوں اور مجرموں کا گٹھ جوڑ ختم کرنا ہے۔ ‘ انہوں نے ایک بامعنی اشارہ یہ بھی دیا کہ ’ہمارا عدالتی نظام 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گا تو ملک میں انتشار مزید پھیلے گا‘۔ 14 اپریل 2022ء سے 22 جولائی 2024ء تک ملکی سلامتی اور عوام پر بہت سی قیامتیں گزر گئی ہیں۔ پاک افغان سرحد پر صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ پاک فوج میں ترجمان کے نہایت حساس عہدے پر فائز ان افسروں کے مذکورہ بیانات ہماری قومی پالیسی کے بنیادی خدوخال سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے پس پشت پاک افغان تعلقات کی طویل کہانی میں ہم سے اندازے اور حکمت عملی کی بہت سی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ محب وطن حلقوں میں یک گونہ اطمینان پایا جاتا ہے کہ قومی قیادت ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے درست سمت میں آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

افغانستان میں اپریل 1978ء سے شروع ہونے والی لڑائی پر 46 برس گزر چکے۔ پاکستان دسمبر 1979ء میں باقاعدہ طور پر اس تصادم کا حصہ بنا۔ روس کی گرم پانیوں تک پہنچنے کی مبینہ خواہش محض ایک سفارتی موقف تھا۔ جنرل ضیاالحق افغان لڑائی کی مدد سے اپنی آمریت کا دوام چاہتا تھا۔ امریکا افغانستان میں سوویت یونین کی ناک رگڑنا چاہتا تھا۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں بالادستی کا خواہاں تھا۔ امریکا اور سعودی عرب اسلحے اور دولت کے ذریعے جلتی پر تیل ڈال رہے تھے۔ پاکستان براہ راست سیاسی، تمدنی، معاشی اور سفارتی مفادات کی قربانی دے رہا تھا۔ تیس لاکھ افغان مہاجر یہاں آن بیٹھے۔ مذہبی انتہا پسندی، اسلحے اور منشیات کی ثقافت نے سماج کو مفلوج کر دیا۔ 1980ء میں چند سو مذہبی مدارس کی تعداد بڑھ کر 35000 تک جا پہنچی۔ ملک عزیز میں افغان مہم جوئی کی مخالفت کرنے پر جمہوریت پسند حلقے غدار قرار پائے۔ 14 اپریل 1988ء کو جنیوا معاہدہ طے پایا تو جونیجو حکومت رخصت کر دی گئی۔ اس مرحلے پر پاکستان کے لیے ڈیورنڈ لائن کی بین الاقوامی سرحد کا احترام کرتے ہوئے افغان معاملات سے لاتعلق ہونا ممکن تھا لیکن اس قضیے میں ناجائز معاشی اور سیاسی مفادات آڑے آئے۔

چھ سالہ افغان خانہ جنگی بالآخر طالبان کے ظہور پر منتج ہوئی۔ طالبان حکومت بین الاقوامی قوانین سے انحراف کی بدترین مثال تھی۔ اس حکومت نے کبھی پاکستان کا کوئی جائزمطالبہ تسلیم نہیں کیا بلکہ پاکستان میں موجود مذہبی انتہا پسندوں کی نظریاتی اور عملی اتحادی رہی۔ امریکا میں نائن الیون ہوا تو پاکستان میں ایک اور فوجی آمریت نمودار ہو چکی تھی جسے عالمی سطح پر کوئی گھاس ڈالنے پر تیار نہیں تھا۔ کولن پاول کے فون پر پرویز مشرف نے فوراً ہر شرط ماننے کا فیصلہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ مشرف دہشت گردی کے خلاف تھے۔ مشرف کو طویل افغان جنگ میں اپنے اقتدار کی ضمانت نظر آ رہی تھی۔ اس دوران امریکا عراق پر چڑھ دوڑا۔ افغان جنگ پس منظر میں چلی گئی اور پاکستان میں نمودار ہونے والی تحریک طالبان نے قیامت اٹھا دی۔ یاد رہے کہ نام نہاد امن معاہدے کے باوجود پاکستان کے فوجی جوانوں کا قاتل نیک محمد جون 2004ء میں ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔

امریکا نے 7 اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر حملہ کیا۔ عمران خان اکتوبر 2002ء کے انتخابات تک پرویز مشرف کے حامی رہے۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا خواب جھوٹا پڑنے کے بعد مشرف کی افغان پالیسی کی مخالفت شروع کی۔ عمران خان قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کے مخالف تھے۔ طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرتے تھے۔ ان ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے تھے جن میں یکے بعد دیگرے ٹی ٹی پی کے سرکردہ لوگ مارے گئے۔ اچھے اور برے طالبان کا من گھڑت مفروضہ دہراتے تھے۔ نیٹو سپلائی روکنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ رواں صدی کی پہلی دہائی میں عمران خان پاکستان میں مسلح طالبان کا سیاسی چہرہ تھے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ دسمبر 2014ء میں طالبان نے حکومت پاکستان سے مذاکرات کے لیے جو تین نام تجویز کیے ان میں عمران خان شامل تھے۔

آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان میں پناہ لینے والے ٹی ٹی پی کے کارندے سرحد کے دونوں طرف اپنے سرپرستوں کی پناہ میں تھے۔ اگست 2021ء میں دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو عمران خان نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا، ’افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالی ہیں‘۔ یکم اکتوبر 2021ء کو عمران خان نے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا انکشاف کیا۔ دراصل اپنی حکومت کے آخری دنوں میں عمران خان نے پارلیمنٹ یا کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر ہزاروں طالبان کو پاکستان واپس آنے کی اجازت دی اور درجنوں دہشت گردوں کو رہا کیا۔ جون 2022ء میں طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ طالبان نے یک طرفہ طور پر نومبر 2022ء میں ختم کر دیا۔ جنوری 2023ء میں پشاور کی مسجد پر حملے میں سو افراد شہید ہوئے جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی۔ دسمبر 2023ء میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس تنصیبات پر حملے میں 23 اہلکار شہید ہوئے۔ 2023ء میں کل ملا کر 700 دہشت گرد حملے کیے گئے۔ پاکستان کی فوج اور شہریوں پر تحریک طالبان کے حملوں کو افغان طالبان پاکستان کا داخلی معاملہ قراردیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکاری ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور معاشی حالت کے پیش نظر افغان طالبان کا پاکستانی طالبان سے کھلا اتحاد پاکستان کی سلامتی کے لیے بدترین خطرہ ہے۔ اس قضیے کے معاشی، تمدنی اور سیاسی زاویے موجود ہیں۔ ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف عسکری ذرائع کے علاوہ سیاسی، ابلاغی اور قانونی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی حکومت اور قومی سلامتی کے ادارے ’عزم استحکام‘ سمیت جو بھی قدم اٹھائیں، قوم کو غیر مشروط طور پر اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS