فیڈریشن اور کنفیڈریشن


انسان سماج کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ اور اسی ضرورت ہی کی وجہ سے انسان ابتدائی دور سے لے کر آج تک عالمی رشتوں میں پرویا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح دینا بھر کے جتنے بھی ممالک ہیں وہ بھی امن، خوشحالی اور ترقی کا سفر اکیلے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے مختلف ممالک کسی نہ کسی معاہدے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور حتیٰ کہ لیگ آف نیشن سے ہوتے ہوئے یو۔ این۔ او تک آ پہنچے ہیں۔

انفرادی طور پر دنیا بھر میں ایک بھی ایسا ملک نہیں جس کے تمام شہری ایک ہی نسل، قوم، زبان، مذہب، مسلک اور تہذیب و ثقافت کے حامل ہوں۔ ہر ملک میں کسی نہ کسی بنیاد پر اس کے باشندوں میں تفریق ضرور ہوتی ہے۔ چنانچہ ایسے اور اس طرح کے کئی دیگر بنیادوں اور دیگر انتظامی اور مختلف وجوہ کی بنا پر بھی جدا جدا انتظامی اکائیوں جیسے صوبوں، ریاستوں وغیرہ کے ناموں سے یونٹوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

ملک کے ایسے تمام یونٹ اور مرکز ایک مرکزی سیاسی نظام کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس جوڑنے والے نظام کو ”فیڈریشن“ کہا جاتا ہے۔

فیڈریشن ایک سیاسی نظام ہے جس میں مرکز اور یونٹس کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہوتی ہے۔ مرکز کے پاس کچھ محدود اختیارات ہوتے ہیں جبکہ یونٹس یا صوبے اپنی اپنی حدود میں خود مختار ہوتے ہیں۔

یہ ایک بہترین نظام ہوتا ہے۔ مگر اس کے لیے نیک نیتی اور اختیارات کا بنیادی انسانی اور سیاسی اصولوں کے مطابق استعمال کرنا شرط ہے۔ عام طور پر اس نظام میں دفاع، مواصلات، کرنسی اور خارجی امور وغیرہ کے اختیارات مرکز کے پاس ہوتے ہیں۔ جبکہ دیگر تمام امور بشمول وسائل، پیداوار، زراعت، صنعت و حرفت، دفاع، تعلیم، صحت، ٹورازم، آبی و معدنی وسائل وغیرہ کے چلانے میں یونٹس خود مختار ہوتے ہیں۔ البتہ مرکز اور یونٹس بعض امور میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور امداد کرتے رہتے ہیں۔ ہندوستان 28 صوبوں اور 8 علاقوں (ایسے علاقے براہ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں ) جرمنی 16 یونٹس جبکہ امریکہ 50 یونٹس سمیت دنیا بھر میں بہت سی فیڈریشنوں کی مثالیں ہیں۔ ایسے یونٹس یا صوبوں یا ریاستوں کی خود مختاری کا اندازہ اس سے بہتر طور پر لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ جو کہ انسانیت کا پرچار اور ہر جگہ سزائے موت کی مخالفت کرتا ہے خود اس کی تقریباً 20 ریاستوں میں سزائے موت دیے جانے کا قانون موجود ہے۔

پاکستان جو ایک اسلامی جمہوریہ ہے سیاسی طور پر یہ بھی چار صوبوں اور تین علاقوں ( آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد وفاق) پر مشتمل فیڈریشن ہے۔ لیکن بد قسمتی سے یہاں ویسا بھائی چارہ، خوشحالی اور ترقی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ صوبوں کے سنگین تحفظات ہیں۔ جس میں دیگر کے علاوہ خود مختاری اور وسائل پر حقیقی اختیار سب سے بڑے تحفظات ہیں جو آڑے آرہے ہیں۔

کنفیڈریشن کی جب ہم بات کرتے ہیں تو یہ وہ سیاسی نظام ہے جس میں آزاد اور خود مختار ممالک ایک رضاکارانہ اتحاد کر لیتے ہیں۔ اس میں مرکزی ریاست یا ممبر کو محدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ جبکہ تمام امور ممبر ممالک کے باہم صلاح، مشورہ، مرضی اور اتفاق رائے سے ہوتے ہیں۔

کنفیڈریشن کی بنیادی ذمہ داری ممبر ممالک کا دفاع، تحفظ، مشترکہ مفادات کا حصول اور ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کے لیے تعاون کرنا ہوتا ہے۔ دنیا میں کئی کنفیڈریشن موجود ہیں اور انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کرتی رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات، یورپی یونین اور سوئس کنفیڈریشن اس کی بڑی مثالیں ہیں۔

زندگی مسلسل کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ ساتھ تجربات اور مشاہدات سے عبارت ہے۔ جس سے انفرادی اور اجتماعی فائدہ حاصل کرنا ہی دانشمندی اور دانائی ہے۔ بلکہ بہترین مفاد کے حصول کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستان جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے بنیادی طور پر ایک فیڈریشن ہے۔ اور اس کو فیڈریشن کی حقیقی روح کے ساتھ چلائے جانا ہی ملک اور اس کے شہریوں کی خوشحالی اور ترقی کا ضامن ہے۔

دوسری طرف پاکستان اگر چہ کئی بین الاقوامی فورمز کا ممبر ہے۔ جیسے سارک، اسلامی ممالک کی تنظیم، کامن ویلتھ، شنگھائی تعاون تنظیم وغیرہ۔ لیکن یہ سب حقیقی کنفیڈریشن کی شرائط پر پورے نہیں اترتے۔ اس لیے بہترین مفاد اور پر امن راستے سے ترقی کے زینے طے کرنے کے لیے پاکستان کا مناسب کنفیڈریشن بنانے یا حصہ بننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Facebook Comments HS