ڈاکٹر خاور نوازش۔ اردو کا ایک روشن تعارف
ڈاکٹر خاور نوازش شعبہ اردو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ وہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پلیٹ فارم بزوٹا سے دوسری مرتبہ جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر خاور نوازش کا شمار فعال اور مستعد اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ مرکز ترجمہ اور بین الثقافتی مطالعات بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ جنرل آف ریسرچ اردو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے مدیر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اردو تحقیق و تنقید میں ڈاکٹر خاور نوازش کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کی تنقیدی تحریریں قارئین کے بند فکری دریچوں کو وا کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوئی ہیں۔ وہ ایک قابل استاد ’متحرک منتظم اور انسان دوست اور علم پرور شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے اردو کی تشکیل‘ مختلف اصناف ادب اور تخلیق کاروں کے متن کے حوالے سے گراں قدر تحریری سرمایہ پیش کیا ہے۔
ادب کی نظریاتی اساس ہو یا ادب یا تعمیری ادب۔ تعمیری فکر کے سامنے استعماری قوتوں کی رکاوٹیں ہوں یا عالمگیریت ’مقامیت اور اردو کی نئی تشکیل کے سوالات۔ ڈاکٹر خاور نوازش کی تحریریں ہمارے ذہنوں میں نت نئے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اردو ہندی تنازع اور لسانی تفاوت کے حوالے سے ان کی تحقیق نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ مذہب اور کلچر کا رشتہ ہو یا سر سید اور اقبال کے تصورات تہذیب۔ ڈاکٹر خاور نوازش ان کو معاصر سیاسی‘ سماجی اور ثقافتی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔
وہ ایک کشادہ نظر اور کشادہ فکر استاد ہیں جنھوں نے ایک مستعد ’فعال اور کشادہ فکر کے حامل اردو استاد کی حیثیت سے اردو دنیا میں بہت کم وقت میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ وہ زبان و ادب کے روایتی مطالعات کے ساتھ ساتھ لسانیات کے جدید مباحث اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے پلیٹ فارم پر اردو اساتذہ کے حقوق کی بات ہو یا جامعاتی سطح پر حق گوئی کا معاملہ ہو۔ ڈاکٹر خاور نوازش ہر معاملے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اردو کا ایک روشن اور جگمگاتا تعارف ہیں۔ بے شمار سیمیناروں اور کانفرنسوں میں اردو کے حوالے سے انتہائی اہم گفتگو کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر خاور نوازش کا نام ذہن میں آتے ہی ایک متحرک استاد کی ہنستی مسکراتی تصویر نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان کے تدریسی ’تحقیقی‘ تنقیدی اور انتظامی امور کی رفتار اور انداز دیکھ کر ان کے روشن اور کامیاب مستقبل کی پیش گوئی بے جا نہ ہوگی۔ اردو زبان و ادب کے فروغ اور ترقی کے سلسلے میں ڈاکٹر خاور نوازش جیسے متحرک ’صاحب مطالعہ اور صاحب رائے استاد کی خدمات کو سراہنا ان کا بنیادی حق ہے۔ دعا ہے کہ اردو کا منظر نامہ ایسے روشن خیال‘ سنجیدہ فکر اور فعال اساتذہ سے عبارت ہو۔ ڈاکٹر خاور نوازش کے لیے ایک روشن اور کامیاب مستقبل کی بہت سی دعائیں۔



