بھرواں ٹینڈے
گرمیاں ہوتیں تو وہ گیراج کے اختتام پر یا تو سامنے چھ فٹ چوڑی، تیس فٹ لمبی، بنا چھت کے اس گلی میں سوئی ملتی جو پچھلے حصے کے صحن، پھر دالان اور باورچی خانے تک جاتی تھی۔ یا گیراج کے الٹے ہاتھ والے صحن میں۔ لکڑی کی سوتی بنی چارپائی پر بغیر کسی بستر کے، پائینتی کی طرف ملتانی ٹھنڈا کھیس ڈالے۔ ابا کی آواز پر فجر کی نماز کے لئے اٹھتی، مندی آنکھوں سے نماز ادا کرتی اور قرآن کا رکوع تلاوت ہوتا۔ اور صبح کے جھٹپٹے میں انھی بند آنکھوں کے ساتھ وہ سامنے والے صحن یا گلی کے شروع میں وہاں چارپائی گھسیٹتی جہاں دھوپ دیر سے پہنچے۔
اور ساتھ ساتھ اس اعلان کو دہراتی جاتی جو پچھلی رات سونے سے پہلے جاری ہوا تھا کہ ’کوئی مجھے اس وقت تک نہ اٹھائے، جب تک میں خود نہ اٹھوں۔ میری دو چار چھٹیاں ہیں۔ مزے کرنے دیں۔ اور اماں مجھے ناشتے کے لئے نہیں جگانا۔ میں خود اٹھ کے بنا لوں گی یا آپ نے بنانا ہو تو بھی ٹھیک ہے۔ میں ٹھنڈا بھی کھا لوں گی۔ آج کیا پکانا ہے، وہ پوچھنے کو تو بالکل بھی نہیں اٹھانا۔ آپ کو پتہ ہے میں سب کھاتی ہوں‘ ۔ اور غڑاپ نیند میں۔
اسے یہ سب بار بار دہرانا ہوتا کیونکہ ابا فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک سونے کے حق میں نہ ہوتے کہ برکت کا سمے ہوتا ہے۔ اور اماں نے ناشتے میں اس کے پکے آملیٹ سے پراٹھا کھانا ہوتا۔ اور جب وہ کہتیں، ’میں تے تیرے انتظار وچ ناشتہ وی نہیں کیتا۔ تیرے ہتھ دے بنے آملیٹ نوں بڑا جی سی‘ تو وہ بے چینی سے سو نہ پاتی۔ اور اماں کے آج کیا پکاؤں؟ کے جواب میں ابا کہتے : اس سے پوچھ لینا، ہم تو روز ہی بتاتے ہیں۔ کئی دن بعد آئی ہے۔ جو وہ کہے، ہم کھا لیں گے۔
بڑی بہنیں اور بھائی بھی اس بات پر راضی ہوتے۔ لیکن چھوٹی کو اعتراض ہوتا، اماں اس سے تو نہ ہی پوچھئے گا۔ سبزیوں کا کہے گی اور جن سبزیوں کا خصوصاً وہ آپ کو مجھ سے زیادہ پتہ ہے۔
وہ خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے زرعی ضلعے سے لاہور انجینیئرنگ یونیورسٹی پڑھنے گئی تھی۔ مہینوں بعد چکر لگتا تو ابا کی نماز کے بعد نہ سونے کی پابندی پر اکثر رعایت مل جاتی۔ لیکن اماں کی سنبھال سنبھال کر آملیٹ والی فرمائش آدھے دن ہی پوری ہوتی۔ اور جب پکانے والا سوال بار بار اس سے پوچھا جاتا تو اس کا جواب ہوتا ’بھرے ہوئے ٹینڈے‘ ۔ کیونکہ ادھر جامعہ میں وہ جس چیز کو بہت یاد کرتی۔ جس کے لئے ’گواچی گاں‘ بنی ہوتی وہ تاروں سے بھرا آسمان، کھلے صحن میں سونے کی خواہش، صبح دم میٹھی میٹھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں استراحت اور کھانے میں اماں کے ہاتھ کے بنے ٹینڈے۔ سردی، گرمی ہاسٹل کے بند کمروں میں سونا اس کے لئے وبال جان ہوتا اور گھر سے باہر پاکستان میں سبزیاں آلو، مٹر، گاجر کی مکس سبزی سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ کجا کہ ٹینڈے وہ بھی بھرے ہوئے۔
اسی لئے ادھر وہ یہ بتاتی کہ کیا کھانا ہے۔ ادھر ابا کو تاکید ہو جاتی کہ دیسی ٹینڈے لانے ہیں۔ دیکھ بھال کے تازہ تاکہ اندر گودا ہو نہ کہ سخت بیج، ایک سائز کے تاکہ یکساں ایک ہی حرارت پر اکٹھے گل جائیں۔ دفتر سے واپسی پر ابا سبزی لاتے (فریجوں میں سارے ہفتے کی سبزیاں لا لا کر بھرنے کا دستور کافی کم تھا) ۔ اگلے مراحل اماں کے ذمے۔ ان کو دھوتیں، چھری سے رگڑ کر ہلکا ہلکا رواں اتارتیں، پھر ہر ایک کے اوپر والے حصے سے گول باریک ڈھکن اتارتیں، باقی رہ جانے والے بڑے حصے میں سے چمچ کی مدد سے گودا نکال نکال کر ایک برتن میں اور پیالہ نما خالی ٹینڈا بنا کر دوسرے برتن میں رکھتی جاتیں۔
اس کے بعد نرم نکلے گودے کو سل پر بہت باریک پیس لیتیں۔ اس کے اندر ادرک لہسن، نمک، سبز، سرخ مرچیں، ثابت سوکھا دھنیا، انار دانہ، ہلدی بھی پستا اور یکجان مصالحہ سامنے آتا۔ جسے خالی ٹینڈوں کے اندر تین چوتھائی سطح تک بھرا جاتا۔ پھر چولہا جلتا، چوڑے پیندے اور کھلے منہ والی پیتل کی کڑھائی میں زیادہ سارا تیل ڈلتا، سبھی ٹینڈے اس میں رکھے جاتے۔ درمیانی ہلکی آنچ پر ڈھک کر پکنے کو رکھ دیتیں۔ اسی دوران کٹے ٹماٹر، موٹے موٹے پیاز (ایک پیاز کے چار ٹکڑے ) اور ٹینڈوں کے ڈھکن ایک پیالے میں اکٹھے کر لیتیں۔
آٹا گوندھتیں۔ بچوں میں سے کوئی تندور گرم کرتا۔ جب ٹینڈے آدھے پک جاتے تو ٹماٹر اور بقیہ لوازمات کڑھائی میں ڈال کر پھر ڈھکن بند۔ بھاپ اور مدھم آگ پر سبزی اپنے ہی پانی میں پکتی رہتی۔ جب تک یہ ہو رہا ہوتا۔ اماں تپے تندور میں مکھن والے سرخ پراٹھے بنا بنا کر رکھتی جاتیں اور ان کو اوپر سے بھی مکھن لگاتیں۔ جب ادھر سے فارغ ہوتیں۔ تب تک ہنڈیا بھی تیار ہوتی۔ کڑھائی کو چولہے سے نیچے اتارتیں۔ زائد تیل کو ڈبے میں نکال لیا جاتا۔
اور بھرے ٹینڈوں کے اوپر پسا گرم مصالحہ اور دھنیا کاٹ کر ڈالا جاتا۔ جب تک اماں ڈونگے میں سالن نکالتیں، دودھ کی کچی یا دہی کی لسی ٹھنڈی کی جاتی۔ ٹی۔ وی لاونج میں دسترخوان لگتا۔ اور سب اہل خانہ کھانا تناول کرتے۔ اور اس کا دل کھا کھا کر نہ بھرتا۔ اسے مچھلی بھی بے حد پسند تھی۔ لیکن اس دن اسے ان کے سامنے گوشت، مچھلی بھی ہیچ لگتے۔ اپنے ہی گودے سے بھرے رسیلے، ذائقے دار ٹینڈے جو اسے کبھی قیمے سے بھرے اچھے نہ لگتے۔
اماں اس کی زندگی کے تیس سال تک اس کے لئے ’بھرواں ٹینڈے‘ پکاتی رہیں۔ سبزیوں کو لذیذ بنانے کا فن ان پر ختم تھا۔ سادہ، مشکل، روایتی کچھ بھی، ان کے ہاتھ سے گزرا اور کھانے والے کو مدتوں یاد رہا۔ اور پھر وہ یہ سارا ہنر وراثت میں اپنی بیٹیوں کو دے گئیں۔ جو یہ ورثہ اپنے سسرال ساتھ لے گئیں۔ جہاں آج بھی وہ نوکری پیشہ گھر گرہستنیں بھرے ٹینڈے بنانے کا محنت طلب کھانا شوق سے بناتی ہیں۔ اور اماں آج بھی ان کے باورچی خانوں میں زندہ مسکراتی کھڑی ہیں۔


