گورنمنٹ کالج میرپور کے سابق طلباء کے گروپ ”بزم یاراں“ کی برمنگھم میں تقریب

گورنمنٹ کالج میرپور آزاد کشمیر کا اولین اور معیاری تعلیمی ادارہ ہے جس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ساری دنیا میں بستے ہیں۔ کالج کے کچھ ہم خیال سابق طلباء کا ایک گروپ واٹس ایپ پر بنا ہوا ہے۔ بزم یاراں کے نام سے واٹس ایپ گروپ کو قائم ہوئے ابھی تین سال ہی گزرے ہیں۔ اس واٹس ایپ گروپ میں سیاسی اور مذہبی منافرت مواد پر مبنی پوسٹ نہ کرنے پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ گروپ ایڈمن بڑی سنجیدگی سے اس بات کا خیال رکھتے ہیں تا کہ گروپ کے کسی بھی ممبر کی دل آزاری نہ ہو۔ بزم یاراں کے گروپ کے پچھلے تین سال میں چھوٹے بڑے دس پروگرام ہو چکے ہیں۔
پچھلے سال کی طرح اس سال بھی برطانیہ میں بزم یاراں کے سالانہ اجتماع کا اہتمام کرنے کے لیے گروپ کے ممبران کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں بریڈ فورڈ سے طارق محمود، لندن سے ظہیر الدین، ہائی ویکمب سے راجہ ظفر اقبال اور شبیر احمد غوری، برمنگھم سے نثار احمد خواجہ، تصدق حسین آڑوی اور آزاد کشمیر کی نمائندگی کے لیے یہ فقیر سید شبیر احمد شامل تھا۔ برمنگھم برطانیہ کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے بزم یاراں کے اجتماع کے لیے ایک موزوں ترین جگہ ہے۔
اس لئے سب کا انتخاب اس دفعہ بھی برمنگھم شہر ہی ٹھہرا۔ سب کی مشترکہ رائے، دیگر ممبران کی سہولت اور آزاد کشمیر سے ممبران کی برطانیہ متوقع آمد کی وجہ سے 13 جولائی 2024 بروز ہفتہ ساڑھے بارہ بجے سے پانچ بجے تک اجتماع کا پروگرام فائنل ہوا۔ نثار خواجہ اور انعام الحق نے سروے کر کے لیڈی پول روڈ میں واقع ریستوران چسکا اینڈ چائے کی اوپر والی منزل کا انتخاب کیا۔ (انعام الحق بوجہ حادثہ تقریب میں شریک نہ ہو سکے ) کمیٹی کی طرف سے ایک خوبصورت دعوت نامہ طارق محمود اور ظہیر الدین نے ڈیزائن کیا جو سب ممبران کو بذریعہ واٹس ایپ پیشگی بھجوا دیا گیا تھا۔
ڈربی سے گروپ کے متحرک ممبر قیصر ریاض کی مہربانی سے ان کی گرے رنگ کی نئی مرسڈیز کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ان کی راہنمائی میں حسب روایت راقم وقت مقررہ سے دس منٹ پہلے جب ہال میں پہنچا تو وہاں اپنے ہم جماعت ڈاکٹر مقصود احمد کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ وہ پہلی دفعہ اس اجتماع میں شریک ہو رہے تھے۔ ہمارے پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ممبران کی آمد شروع ہو گئی۔ اس دفعہ کالج کے چند سابق طالب علم پہلی دفعہ بزم کے کسی بھی پروگرام میں پہلی دفعہ شریک ہوئے ان میں کالج کے سابق پرنسپل راجہ محمد عارف خان، آزاد کشمیر سے شوکت علی کیانی ایڈوکیٹ، پروفیسر طارق محمود اور چودھری محمد صادق آڑوی، امریکہ سے محمد یاسین چوہان اور لندن سے میرے ہم جماعت محمد اشفاق شامل تھے۔
عباس پور سے تعلق رکھنے والے کالج کے سابق طالب علم اور ریٹائر پرنسپل محمد نصیر خان امریکہ سے پاکستان واپس جاتے ہوئے اس پروگرام کے لیے خصوصی طور پر برطانیہ میں رکے اور محمد اشفاق کی وساطت سے شرکت کی۔ عبدالرؤف قریشی ایک اور مہمان کے ساتھ لیڈز سے شریک ہوئے۔ آکسفورڈ کے سابق لارڈ میئر چودھری محمد الطاف خان بھی پہلی دفعہ تقریب میں شامل ہوئے۔
بزمِ یاراں کے اس واٹس ایپ گروپ میں دنیا بھر سے ممبران کی تعداد پچاس ہے جن میں سے اٹھائیس ممبران برطانیہ میں بستے ہیں۔ آزاد کشمیر سے ہمیشہ تین چار ممبران اپنے عزیز و اقارب سے ملنے برطانیہ میں موجود ہوتے ہیں۔ ان تقریبات کے سپانسر خود ممبران ہی ہوتے ہیں سوائے مہمانوں کے۔ اس محفل میں شرکت کا دعوت نامہ فردا فردا سب ممبران کو بھیجا گیا تھا۔ دو ماہ پہلے ظہیر الدین اور طارق محمود نے ورکنگ کمیٹی کی مشاورت سے بزم یاراں کا نیا لوگو ڈیزائن کیا تھا جو نثار خواجہ نے اپنی فیکٹری میں پرنٹ کر کے فریم کروایا تھا۔ اس تقریب میں اس کی رونمائی کی گئی۔ سٹیج کے لیے بزم کے پچھلی تقاریب اور کالج کے دور کی چند پرانی تصاویر پر مشتمل اس اجتماع کے لئے سائن بورڈ بھی نثار خواجہ کی فیکٹری میں بنایا گیا تھا جو سٹیج کے ساتھ آویزاں کیا گیا تھا۔
ڈیڑھ بجے تک انتظار کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ بزم یاراں کی اس سال کی محفل کی نظامت کی ذمہ داری تصدق حسین آڑوی او ر
ظہیر الدین کے سپرد ہوئی تھی۔ تصدق حسین آڑوی نے تقریب کے مہمان خصوصی کالج کے اتھلیٹ اور ریٹائرڈ ایس ایس پی چودھری مشتاق حسین سے اپنی نشست سنبھالنے کی درخواست کرتے ہوئے سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تلاوت قرآن مجید کا شرف طارق محمود نے حاصل کیا۔ نثار خواجہ نے ممتاز شاعر خواجہ محمد عارف گروپ ممبر کی نعت ترنم سے پڑھنے کے بعد ادیب رائے پوری کی منقبت امام حسین تحت اللفظ میں پڑھی۔ پروگرام کے ابتدا میں کالج کے وفات پا جانے والے پرنسپل صاحبان اور اساتذہ اکرام اور گروپ ممبران کے حال ہی وفات پانے والے قریبی عزیزوں کے مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
طارق محمود نے اجتماعی دعا کروائی۔ اس کے بعد چودھری تصدق حسین آڑوی نے بزم یاراں کی تین سالہ کارکردگی پر ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔ تصدق آڑوی بہت اچھے نثر نگار ہونے کے علاوہ اچھا ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ ان کی نظامت میں بہت سے مشہور شعرا کے اچھے اچھے شعر سننے کو ملے۔ ظہیر الدین نے بزم میں آنے والے سب ممبران سے گروپ کی تشکیل کے مختلف مراحل پر بات کی۔
اس کے بعد بزم یاراں کے انتہائی متحرک ممبر راجہ ظفر اقبال نے یہ گروپ بنانے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ گروپ میں سیاسی اور فرقہ واریت پر مبنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر بڑی جامع پالیسی کو انتہائی مدلل طریقہ سے بیان کیا۔ ان کا شمار گروپ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ چونکہ کچھ شرکاء محفل پہلی دفعہ بزم کے کسی اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ سب شرکاء کو اپنا مختصر تعارف کرانے کو کہا۔ طارق محمود کے بنائے گئے فارمولے پر سب شرکا نے اپنا اپنا تعارف پیش کیا۔
انتہائی اختصار میں تعارف کروانے کے باوجود میں اس میں تقریباً ایک گھنٹہ صرف ہو گیا۔ تصویر کشی کی ذمہ داری راقم کو سونپی گئی تھی اس لیے راقم کو شرکا ء محفل کی اچھی اور مناسب تصویر کشی کے لیے خاصا متحرک ہونا پڑا۔ تعارف کے بعد سید شبیر احمد نے بزم یاراں کی طرف سے اس سال آزاد کشمیر میں بسنے والے اچھی کارکردگی کے مالک افراد کو دی جانے والی اور شیلڈ اور نقد انعامات دیے جانے کی تقریب کا مختصر مگر جامع احوال سے بزم یاراں کو آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ بزم یاراں گروپ کی طرف کھیل، تعلیم اور ادب میں اچھی کارکردگی کا مظاہر کرنے پر شیلڈ اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ جرمنی میں ہونے سپیشل بچوں کے اولمپک میں گولڈ میڈل لینے والی میرپور کی سپیشل بچی ماہ نور، دائم اقبال دائم لائبریری کے روح رواں محمد رفیق العصری اور نسیم کریم کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے گولڈ میڈل لینے پر شیلڈ اور بالترتیب پندرہ، پچیس اور بیس ہزار کے نقد انعامات دیے گئے تھے۔
کھانے کا وقت ہو چلا تھا اور لمبا سفر طے کر کے آنے والے شرکاء بھوک بھی محسوس کر رہے تھے۔ انتظامیہ کی درخواست پر ویٹر کھانا لگانے میں مصروف ہو گئے اور شرکا اپنے ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ میں۔ سب نے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا اور کچھ پرانی یادیں ایک دوسرے سے شیئر کیں۔ کھانے اور نماز کے وقفہ کے بعد پھر سب کرسیوں پر پہلے والی ترتیب سے براجمان ہوئے تو آڑوی صاحب نے طارق محمود کو سٹیج پر بلایا جنھوں نے کالج کے زمانے کی یادوں پر مبنی اپنی نظم ”آؤ یارو بزم سجائیں“ سنائی۔
ایف اے ایف ایس سی کے لیکچرز بی اے بی ایس سی کے لیکچرز
سارے الفے تھیٹے گامے کالج کے وہ سب ہنگامے
سب یادوں کو پھر لوٹائیں پھر وہی ہیرو بن جائیں
آؤ یارو عید منائیں نظم کے یہ بول سن کر سب ہی شرکا نے اپنے آپ کو کالج کی اپنے دور کی کلاسوں میں محسوس کیا اور پھر سے ہیرو بن گئے۔ نظم کو سب شرکا نے پسند کیا اور کھل کر داد دی۔
ان کے بعد سید شبیر احمد کو سٹیج پر آ کر ادب کے حوالہ سے بزم یاراں کے گروپ کے ممبران کی کارکردگی پر بات کرنے کی دعوت دی گئی۔ سید شبیر احمد نے ممتاز شاعر محمد عارف کے نئے مجموعہ کلام شہادت، تصدق حسین آڑوی کی کتاب یادوں کا سفر ٹاٹ سے ٹھاٹھ تک، محمد نصیر خان کی کتاب سفر حجاز، ساجد یوسف اور قیصر ریاض کی لائبریریوں، پروفیسر راجہ محمد عارف خان کی کتاب مطالعہ سیرت اکیسویں صدی میں، پروفیسر بشیر حسین کی کتاب اندر ہل کے مشاہیر، ڈاکٹر عبدالمناف کی شاعری اور اس فقیر کی اپنی کتاب مکتب عشق اور لوح اظہار کا مختصر تعارف پیش کیا۔ قیصر ریاض بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔ ان سے اشعار سننے کی فرمائش کی گئی لیکن انھوں نے فیض احمد فیض کی پنجابی زبان کی خوبصورت نظم تحت اللفظ میں پڑھ کر سنائی۔
ربا سچیا توں تے آکھیا سی، جل اوئے بندیا جگ دا شاہ ایں توں
ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں ساڈا نیب تے عالی جاہ ایں توں
پروفیسر ڈاکٹر راجہ محمد عارف نے گورنمنٹ کالج میں طالب علمی اور پھر وہیں بطور پرنسپل تعیناتی پر مختصراً بات کی۔ پروفیسر محمد نصیر خان، پروفیسر طارق محمود اوور شوکت کیانی نے مختصراً اًپنے خیالات کا اظہار کیا۔ خواجہ محمد عارف 13 جولائی کی مناسبت سے شہدائے کشمیر کو خراج تحسین کرنے کے لیے اپنی نظم پڑھی۔
سری نگر کے شہیدو! تمھیں خراج و سلام زمانے بھر سے جدا داستاں تمھاری ہے
غلام رہ نہیں سکتی بزور تیغ کبھی غیور قوم بڑی قدر دان تمھاری ہے
جملہ حاضرین نے ان کی نظم کو خوب سراہا جس کے بعد انھوں نے محرم الحرام کے تقدس اور احترام میں حضرت امام حسین پر لکھی ہوئی شاندار منقبت پیش کی۔
جرات ہے تو اٹھائیے پرچم حسینؓ کا ورنہ فضول رسم ہے ماتم حسین ؓکا
دیتا ہے حوصلہ یہ مصائب میں صبر کا رکھتا ہے غم سے دور ہمیں غم حسینؓ کا
بزم کے آزاد کشمیر میں مقیم چند اراکین نے اپنے پیغامات ریکارڈ کروا کر گروپ میں بھیجے تھے۔ کنڈور سے جاوید اقبال، کھوئی رٹہ سے پروفیسر خلیل انجم، میرپور سے شوکت مجید ملک، سویڈن گئے ہوئے لیڈز کے وسیم امجد کے پیغامات مائیک پر سنوائے گئے۔ محمد یاسین چوہان نے اتنا اچھا گروپ بنانے اور اس سے بڑھ کر خوبصورت تقریب منعقد کرنے پر سب ممبران کو مبارک باد دی اور تجویز پیش کی کہ گروپ کی وساطت سے تارکین وطن کے بچوں اور جوانوں کو اپنی ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے گروپ میں اپنے وطن بھیجنے کا بندوبست کیا جائے۔
سابق لارڈ میئر آکسفورڈ چودھری الطاف خان نے اپنی طرف سے گروپ کو تعلیمی میدان اور کالج کی سپورٹ اور میرپور میں ایک معیاری تعلیمی درسگاہ بنانے کے لیے چیرٹی شروع کرنے کی درخواست کی اور چیریٹی بنانے کے تمام مراحل میں اپنی سپورٹ کی پیش کش بھی کی۔ پروفیسر محمد نصیر خان نے بزم یاراں کی طرف سے میرپور میں ایک عالمی معیار کا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی تجویز دی۔ خواجہ نثار احمد تازہ تازہ دماغی آپریشن کے بعد تندرست ہوئے ہیں۔
انھوں نے کالج اور ہوسٹل کی یادوں پر مشتمل مزاح سے بھرپور ایک دھماکے دار مضمون تحریر کیا تھا۔ جس میں انھوں نے کچھ شرکاء محفل کے ہوسٹل میں قیام کے بارے میں ہوشربا انکشافات کیے۔ پہلی دفعہ پتہ چلا کو وہ جتنا اچھا گاتے ہیں اس سے کہیں بہتر وہ نثر نگار بھی ہیں۔ ان کے مضمون پڑھنے کے دل کش انداز پر سب نے بھرپور تالیاں بجا کر داد دی۔ بزم یاراں کے ممبر فنون لطیفہ میں بھی اچھی خاصی دلچسپی لیتے ہیں۔ محمد اشفاق لندن میں رہتے ہیں اور غزل کی گائیکی اور پہاڑی زبان میں گیت گانے کے ماہر ہیں۔ انھوں نے اپنے موبائل سے میوزک کی بیٹ پر ایک پہاڑی نغمہ ”ماڑے دل ناں جانی بہوں سو ہنڑا اے۔ تہاڑے نال محبتاں لائی بیٹھاں سنایا۔ تصدق حسین آڑوی بہت اچھی سر میں گنگناتے ہیں اور زیادہ تر پرانے نغمے گاتے ہیں۔ انھوں نے جی ایل راول کی لکھی ہوئی مکیش کی گائی ہوئی یہ غزل گنگنائی۔
جنھیں ہم بھولنا چاہیں وہ اکثر یاد آتے ہیں
بُرا ہو اس محبت کا وہ کیوں کر یاد آتے ہیں
حاضرین نے ان کی گائیکی کو بہت پسند کیا اور مزید کچھ اور سننے کی فرمائش کی۔ اس پر انھوں نے بڑے درد بھرے لہجے میں حسرت جے پوری کا لکھا مکیش کا گایا ہوا نغمہ ”جیون بھری ہیں یہ جیون کی راہیں۔ کوئی ان سے کہہ دے ہمیں بھول جائیں“ سنایا۔ ان کے گانے کے دوران محفل میں ایک سکوت چھا گیا تھا۔ حاضرین کی کچھ اور بھی سننے کا موڈ تھا لیکن وقت کی کمی آڑے آ گئی۔
چھ تو کب کے بج چکے تھے، شرکاء نے بہت دور جانا تھا اس لئے تقریب کے مہمان خصوصی مشتاق چودھری نے اختتامی الفاظ ادا کیے۔ ظہیر الدین نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی جس کے بعد گروپ فوٹو اور ایک دوسرے کے ساتھ فوٹو کچھوانے کا دور چلا۔ تقریب میں شرکت کی دعوت برطانیہ میں مقیم سب ہی ممبران کو دی گئی تھی پھر بھی بہت سے ممبران کی غیر حاضری سب کو محسوس ہوئی۔ تقریب میں لندن سے محمد اشفاق اور ظہیر الدین، ہائی ویکمب سے اراجہ ظفر اقبال اور شبیر احمد غوری، لیوٹن سے راجہ محمد عارف خان، برمنگھم سے خواجہ نثار احمد، خواجہ محمد عارف، چودھری مشتاق الرحمان، ڈاکٹر مقصود احمد، سرفراز احمد، چودھری تصدق حسین آڑوی، آکسفورڈ سے چودھری محمد اطاف، ڈربی سے قیصر ریاض، لیڈز سے عبدالروف قریشی، بریڈ فورڈ سے طارق محمود اور جاوید اقبال المعروف مسیر جاوید کے علاوہ امریکہ سے محمد یاسین چوہان اور آزاد کشمیر سے برطانیہ کے دورہ پر آئے پروفیسر طارق محمود، چودھری مشتاق حسین، شوکت علی کیانی ایڈوکیٹ، چودھری محمد صادق آڑوی اور راقم سید شبیر احمد نے اس پروقار تقریب میں شرکت کی۔ پانچ گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلنے والی یہ تقریب بزم یاراں کی ایک اور یادگار تقریب ہے جو مدتوں یاد رہے گی۔

