خیبر پختونخوا کے جنوبی اور ضم قبائلی اضلاع میں بڑھتی دہشت گردی


دہشت گردی ایک مسلمہ بڑا عالمی مسئلہ ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے، پاکستان ان سرفہرست ممالک میں شامل ہے جنہیں دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ 2023 کے گلوبل ٹیررازم انڈکس کے مطابق پاکستان کا نمبر دنیا میں چوتھا ہے۔ برکینا فاسو، اسرائیل اور مالی کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ پاکستان طویل ترین عرصے سے اس فہرست میں ابتدائی نمبروں پر موجود رہنے والا ملک ہے۔

یعنی اس وقت پاکستان شام، صومالیہ، افغانستان سے بھی زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے۔ 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اچانک بہت زیادہ شدت آ گئی ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نئے آنے والے انڈکس میں پاکستان اس فہرست میں مزید اوپر آ جائے گا۔ پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے ہو کر آتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ طویل افغان جنگ اور اس میں پاکستان کی بلا واسطہ شرکت ہے۔

لیکن اس کے علاوہ انڈیا اور ایران سے بھی پاکستان میں دہشت گردی ہوتی رہتی ہے بلوچستان میں جو دہشت گردی ہوتی ہے اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران کا بھی براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ اس وقت ملک میں مذہبی، گروہی، لسانی اور اقتصادی دہشت گردی ہو رہی ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد بہت طویل اور دشوار گزار ہے۔ جس سے پاکستان میں دراندازی بہت آسان ہو جاتی ہے۔

آج کل خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور ضم قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اس مسئلہ سے بچاؤ کے لیے کئی آپریشن کر چکی ہیں اور حالیہ دنوں میں آپریشن عزم استحکام کے نام سے ایک نیا آپریشن کر رہی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد ان کے ساتھ لڑنے والے تحریک طالبان پاکستان کو بھی بہت زیادہ حمایت اور مدد ملی ہے۔

یہ دہشت گرد تنظیم اب افغانستان میں افغان طالبان کی مدد اور حمایت سے منظم ہو رہی ہے اور پاکستان میں کارروائیاں کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع ان کا آسان ہدف ہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں تک ان دہشت گردوں کی رسائی بہت آسان ہے۔ افغانستان سے آنے والوں دہشت گردوں کو ان علاقوں میں مقامی سپورٹ بھی حاصل ہے اور ان علاقوں میں شہری علاقوں کی طرح حکومتی انتظام بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ پھر ان علاقوں میں ہر طرف سمگلروں کا قبضہ ہے۔ دنیا جہاں کی غیر قانونی چیزیں یہ سمگلرز ان علاقوں میں سمگل کر کے لاتے ہیں اور یہاں سے پورے پاکستان اور بیرون ملک بھجواتے ہیں اور پاکستان سے بہت سی اشیا ان علاقوں سے افغانستان بھی سمگل ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں کی سرحدیں مسلسل استعمال میں رہتی ہیں جن کا فائدہ دہشت گرد بھی اٹھاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے چند بنیادی شہروں کو چھوڑ کر اس کے زیادہ تر علاقوں میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے خاص کر ضم قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے ناموں پر سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں نے کھربوں روپے کرپشن کر کے ان علاقوں کے لیے کوئی کام نہیں کیا، اس وجہ سے ان علاقوں میں نہ تو سکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سہولیات ہیں، نہ صحت کے مراکز ہیں، نہ ہی ان کی سڑکیں اور پینے کے پانی کا کوئی بنیادی نظام موجود ہے۔

ان علاقوں میں کسی بھی قسم کی صنعتیں اور دیگر کاروباری سہولیات میسر نہیں ہیں۔ ان علاقوں کو مسلسل ایف سی آر کے کالے قانون کے نیچے رکھ کر ان کے لوگوں کو سمگلنگ، منشیات اور اسلحہ کی آزادانہ خرید و فروخت کی دہائیوں تک کھلی اجازت دی گئی یوں یہ سب کچھ ان علاقوں میں ایک عام رواج کا حصہ بن گیا ہے۔ تعلیم کی کمی اور حکومتی نگرانی سے دوری نے ان لوگوں کو آسانی کے ساتھ سمگلنگ اور دہشت گردی کا شکار بنایا۔

افغان جنگ کے لیے ان علاقوں کو اور ان کے لوگوں کو ذریعہ بنایا گیا اور دنیا جہاں کی ساری خرابیاں یہاں جمع کی گئیں۔ چونکہ یہ سارے علاقے افغانستان کی سرحد پر واقع ہیں اس لیے یہاں بدامنی دوسرے علاقوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ پھر ان علاقوں میں افغان شہریوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ جن میں زیادہ تر افراد نے جعلی پاکستانی شناخت بھی حاصل کرلی ہے۔

اب چونکہ ان اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا ہے اور یہاں بھی قانون پاکستان کی مکمل عملداری پہنچا دی گئی ہے۔ ان علاقوں میں پولیس کا نظام آ رہا ہے۔ عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ اور حکومت اور حکومتی ادارے ان لوگوں پر بہت سارے معاملات میں سختی بھی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے معاش کے ذرائع متاثر ہو رہے ہیں جو کہ پاکستان کے قانون کے حساب سے غیر قانونی ہیں اس لیے یہاں کے لوگ ان علاقوں میں شورش کو پسند کرتے ہیں۔

اس لیے کہ شورش کے دنوں میں یہ آسانی کے ساتھ منشیات اور اسلحہ اور دیگر غیر قانونی اشیا کی سمگلنگ کر سکتے ہیں۔ اور اب تو ان علاقوں میں قدرتی معدنیات کی غیر قانونی کان کنی بھی شروع ہو گئی ہے جس سے یہاں سے بہت زیادہ کالا دھن ان کو حاصل ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بھی بہت سارے علاقہ اصل میں نوگو ایریاز ہیں۔ جہاں مذہبی شدت پسندوں کو دہائیوں سے ان علاقوں کا کنٹرول حاصل ہے۔

لکی مروت اور ٹانک کے بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت نے ان لوگوں کی سہولت کے لیے کوئی عملی کام نہیں کیا اور ان علاقوں کے نوجوان عملی طور پر ان دہشت گردوں کو دستیاب ہیں۔ دہشت گردی کے پس پشت محرکات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن یہ مذہب، لسانی علاقائیت،مسلک اور قومیت کی بنیاد پر ان علاقوں میں پروان چڑھتی ہے۔ طالبان جیسی عسکری دہشت گرد تنظیمیں بڑی آسانی کے ساتھ بنائی جاتی ہیں اور ان کو استعمال کیا جاتا ہے اس لیے کہ ان دہشت گردوں میں مختلف علاقوں سے مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں جو تھوڑے سے مالی مفاد کے لیے ان کو دئیے گئے اہداف تک جانے، لڑنے اور مرنے کو ہی زندگی کا اصل مقصد سمجھتے ہیں۔

آپ سوات کے فضل اللہ سے لیکر نور ولی مسعود تک سب کا جائزہ لیں تو ان میں کوئی علمی یا دوسری کوئی بڑی صلاحیت آپ کو نہیں ملے گی۔ یہ عام لوگ تھے اچانک ان کو کسی قوت نے ان گروہوں کا سربراہ بنا دیا۔ یہی صورتحال صومالیہ، سوڈان وغیرہ میں بھی ہے جہاں لوگوں کو روزگار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ دہشت گردوں کے آلہ کار بن کر دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔

دو سے زیادہ نسلیں جو کام دیکھیں اور جس ماحول میں رہنے لگیں ان کو وہی اصل اور حقیقی ماحول لگتا ہے۔ ان علاقوں کی یہ تیسری نسل ہے جو جنگ و جدل اور لڑائی جھگڑوں میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ ان علاقوں میں ڈی ریڈیکلائزیشن پر اگر کام کیا جاتا اور ان علاقوں میں تعلیم اور روزگار کے وسیلوں پر کام کیا جاتا تو یہ علاقے ان دہشت گردوں کی گرفت سے نکل آتے اور وہاں زندگی کا اصل مطلب ان کے مکینوں کو سمجھ آتا۔

مگر ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کوئی بھی قوت نہایت ہی آسانی کے ساتھ ان کا استعمال کرتی ہے۔ ان علاقوں میں مسلسل شورش کی وجہ سے ان علاقوں سے لوگوں کی مسلسل نقل مکانی بھی جاری ہے۔ جس سے پشاور اور دیگر شہروں پر مسلسل دباو بڑھ رہا ہے۔ اور ساتھ ہی ان شر پسندوں کو شہروں میں آنے اور رہنے کے محفوظ ٹھکانے بھی میسر آتے ہیں۔ ان علاقوں کی سرحدوں پر اگرچہ حفاظتی باڑ لگا دی گئی ہے مگر اس کے باوجود ان علاقوں سے در انداز پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں اور کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

دہشت گردوں کا پوری دنیا میں صرف ایک ہی بڑا مقصد ہوتا ہے کہ وہ دہشت پھیلاتے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں کا پورا نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔ ان علاقوں میں سیاحت و تجارت ختم ہوجاتی ہے۔ اور ان علاقوں میں دستیاب وسائل اس دہشت گردی کے نذر ہو جاتے ہیں۔ ہمارا بارڈر کنٹرول بہت ہی ناقص ہے۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو بارڈر بہت طویل اور دشوار گزار ہے۔ دوسرا بارڈر پر رہنے والے لوگوں کو بارڈر بند ہونے سے معاشی نقصانات ہوتے ہیں اس لیے وہ ایسا کرنے نہیں دیتے۔ پھر سمگلروں کے غیر قانونی دھندوں کا سارا دار و مدار ان سرحدوں سے نقل و حمل پر ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں سرحدوں پر تعینات بارڈر عملہ رشوت لیکر غیر قانونی نقل و حمل کے لیے مدد فراہم کرنے میں ملوث ہوتا ہے مگر ان علاقوں میں یہ سلسلہ کچھ زیادہ ہی سہولت اور تواتر کے ساتھ ہوتا ہے۔

پھر ان علاقوں میں قوم پرستی اور لسانی سیاست بھی زور شور سے کی جاتی ہے جس سے وہ ان مقامی ناخواندہ لوگوں کی حمایت حاصل کرلیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومت ان کے خلاف موثر کاروائی کرنے سے گریز کرتی ہے۔ یہ قوتیں اس ڈھیل کا فائدہ اٹھا کر اس علاقے کے لوگوں کو مزید گمراہ کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں پروپیگنڈا کا قدیمی سلسلہ رائج ہے۔ یعنی ان علاقوں میں جھوٹ کو شخصی طور پر اتنے موثر انداز میں پھیلایا جاتا ہے کہ مقامی لوگ اس کو ہی حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں اور پھر اس جھوٹ کی حفاظت اپنے ذمہ لے لیتے ہیں۔ جس کا توڑ حکومتی اداروں کے پاس نہیں ہوتا۔ ان علاقوں میں تعینات حکومتی اہلکاروں کو کرپشن کی ایسی لت پڑ چکی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی کام کو صرف اپنے مالی فائدے کے تناظر میں دیکھتے ہیں ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کے اس غیر قانونی کام سے کتنی تباہی آ سکتی ہے۔

سادہ مثال حالیہ دنوں میں چینیوں پر حملہ میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی کی دی جا سکتی ہے۔ جس کو افغانستان میں تیار کیا گیا، پھر بارڈر پر اہلکاروں کو پیسے دے کر پاکستان لایا گیا، پھر ہر ضلع میں راستوں پر رشوت لینے والے اہلکاروں کو رشوت دے کر ہزاروں میل دور شانگلہ پہنچا دیا گیا۔ وہاں گاڑی کو پیسے دے کر ایک جگہ کئی دنوں تک پارک کیا گیا اور پھر اس سے حملہ کر کے چینی انجینیئروں کو نشانہ بنایا گیا۔

یہی سب کچھ پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ان کو انجانے میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ ان سرحدوں پر سمگلروں کو کتنی سہولیات حاصل ہیں۔ جب تک ان علاقوں میں سمگلنگ کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور سمگلروں کو قانون کے شکنجے میں نہیں لایا جاتا اور ان سرحدوں پر تعینات تمام عملے کو قانون کی پاسداری نہیں سکھائی جاتی ان علاقوں اور پورے پاکستان میں دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ایک وقتی اور مبنی بر ضرورت عمل ہے جو پوری دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن دہشت گردی کی جڑیں ختم کرنے کے لیے پھر حکومتیں مسلسل کام کرتی ہیں۔ پاکستان میں طاقت کا استعمال تو مسلسل کیا جا رہا ہے لیکن اس کے بعد دہشت گردی کے پس پشت محرکات اور اسباب کو ختم کرنے پر کوئی کام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے یہ عفریت ایک دو برس میں زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیتی ہے۔

پاکستان میں جاری دہشت گردی کے ‏محرکات بیرونی مفادات اور سمگلروں کی سہولت کاری کی وجہ سے ہیں اسے کبھی مذہبی، کبھی لسانی اور کبھی علاقائی یا گروہی شکل میں سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ دہشت گردی بغیر فنڈنگ کے ممکن ہی نہیں۔ بیرونی فنڈنگ بھی ان سمگلروں کی توسط سے کی جاتی ہے۔ اس دہشت گردی میں استعمال ہونے والے لوگ صرف اس ایک مقصد کو سامنے رکھتے ہیں جو ان کو بتایا جاتا ہے۔

افغانستان سے جو دہشت گرد مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے پاکستان آتے ہیں ان کو مذہب کی بنیادی باتوں کی سمجھ بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیں ان اب ان خطوط پر سوچنا ہوگا کہ کہ اس مرتبہ طاقت کا بھی بھرپور استعمال کیا جائے اور پھر ان علاقوں سے سمگلنگ کی لعنت بھی ختم کی جائے جس سے ان علاقوں میں امن آ جائے گا اور پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی۔

لوگوں کو روزگار ملنے شروع ہوگا۔ لیکن ایک اور بڑی وجہ ہے جس کو حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی وہ ہے افغانستان کے تمام شہریوں کا پاکستان سے مکمل انخلا۔ جب تک ان سب افغان شہریوں کو ان کے ملک واپس نہیں بھیجا جاتا تب تک پاکستان میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ افغانستان میں موجود پاکستان دشمنوں کو ٹیرر فنانسنگ بھی انہیں سمگلروں کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی بقا کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے ورنہ ملک کے اندر آئی پی پیز، ذخیرہ اندوز، شوگر اور سینکڑوں دوسرے مافیاز، اور سرحدوں پر سمگلرز مافیاز نے اس قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب بھی اگر ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS