سید راس مسعود بحیثیت ماہر تعلیم
سید راس مسعود (1889-1937) سر سید احمد خان کے خاندان کے گل سرسبد تھے۔ وہ مشہور ماہر قانون جسٹس سید محمود ( 1850۔ 1903 ) کے اکلوتے بیٹے اور مصلح قوم، فلاسفر، ماہر تعلیم سر سید احمد خاں (1817۔ 1898 ) کے پوتے تھے۔ ان کی شہرت کی وجہ بحیثیت ایک ماہر تعلیم کے ہے۔
ان کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محمود کے ایک قریبی گہرے وکیل دوست کا نام راس Ross تھا اس لئے انہوں نے اپنے بیٹے کا نام راس رکھا۔ جسٹس محمود کا دماغ قانون کے لئے بنا تھا۔ ان کے عدالتی فیصلوں سے ان کی حذاقت، تحقیق، اور ذوق سلیم کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ نامور دادا نے ان کی رسم بسم اللہ بڑی دھوم دھام سے منائی تھی۔ اس موقعہ پر سر سید نے ہندو، مسلم، اور عیسائی یگانگت کی عمدہ مثال پیش کی تھی۔ پوتے کی ابتدائی تعلیم کی نگرانی انہوں نے خود کی تھی۔ صغر سنی میں ہی دادا کا سایہ راس مسعود کے سر سے اٹھ گیا۔ اگلے سال 1899 باپ کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ والد ماجد کی زندگی میں ہی کالج کے پرنسپل مسٹر تھیوڈور ماریسن کے ساتھ رہنے لگے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ کالج میں داخل ہو گئے مگر ابھی انٹر میڈیٹ کا امتحان دینے نہیں پائے تھے کہ حکومت ہند سے تعلیمی وظیفہ ملنے پر برطانیہ روانہ ہو گئے تاکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کر سکیں۔ وہاں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے سابق پرنسپل تھیوڈور موریسن کا گھر گویا اپنا ہی گھر تھا۔ آکسفورڈ میں داخلہ کے لئے لاطینی کا امتحان پاس کرنا لازمی تھا۔ جس کے لئے ای ایم فورسٹر ان کے ٹیوٹر مقرر ہوئے۔
اس طرح مسعود اور فورسٹر کی سترہ سال لمبی دوستی کا آغاز ہوا۔ Responsions کا امتحان پاس کرنے کے بعد مسعود نے 1907 کو نیو کالج آکسفورڈ میں تعلیم کا آغاز کیا۔ ( یہ امتحان 1960 میں ختم کر دیا گیا تھا) ۔ تین سال بعد 1910 میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کر نے کے بعد لنکنز اِن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ 1912 میں ہندوستان واپس لوٹنے پر پٹنہ میں وکالت شروع کی۔ چند ایک مقدمات میں آپ نے کامیابی سے وکالت کی مگر ان کے نتائج سے نبرد آزما نہ ہو سکے اور اگلے سال انڈین ایجوکیشنل سروس میں ملازمت ملنے پر پٹنہ میں کالج کے پرنسپل کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔ دو سال بعد گورنمنٹ کالج کٹک میں بطور پروفیسر آف ہسٹری تبادلہ ہو گیا اور کچھ عرصہ یہاں بھی پرنسپل کے عہدہ پر فائز رہے۔
راس مسعود کی تاریخ حیات کے تین تابندہ دور ہیں۔ حیدرآباد ریاست میں ڈائریکٹر ایجوکیشن، دوسرا علی گڑھ میں وائس چانسلر اور تیسرا بھوپال میں وزیر تعلیم۔ ریاست حیدر آباد نے برطانوی سرکار سے ان کی خدمات کچھ عرصہ کے لئے مستعار لیں۔ جب انڈین ایجوکیشن سروس میں ان کی واپسی کا وقت آیا تو نظام حکومت نے ان کو ملازمت کی پیش کشی کی جس کو انہوں نے منظور کر لیا۔ یہاں وہ بارہ سال ڈائریکٹر ایجوکیشن رہے یعنی 1916۔ 1928۔ ریاست حیدر آباد کی تاریخ میں ان کا دور ایک درخشاں دور تھا۔ حضور نظام نے ان کو مسعود جنگ کے خطاب سے نوازا۔
پانچ سال کے عرصہ میں حیدرآباد میں مدارس تحتانیہ کی تعداد 1,712 1 ور ان مدارس میں تعلیم پانیوالے طلبہ کی تعداد 118,242 کا اضافہ ہوا۔ مسعود جنگ کے دور میں زبردست ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ بارہ سال میں مدارس میں طلبہ کی تعداد میں تین گنا اضافہ لؤا۔ محکمہ تعلیم کا بجٹ سترہ لاکھ سے بڑھ کر ساٹھ لاکھ (چھ ملین) سے زیادہ ہو گیا۔
راس مسعود پرائمری کی تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ 1921 میں پوری ریاست میں تعلیم مفت قرار دی گئی۔ ان کے ناظم تعلیم (ڈائریکٹر ایجوکیشن) مقرر ہونے کے وقت حیدر آباد میں دو کالج تھے۔ ان کی قیادت میں کالجوں کی تعداد آٹھ ہو گئی۔ مدارس فوقانیہ کی تعداد 22 سے 42 ہو گئی۔ مڈل سکول (مدارس وسطانیہ ) 88 سے بڑھ کر 108 ہو گئے۔ مدارس تحتانیہ (پرائمری) کا پوری ریاست ایسا جال بچھا دیا گیا کہ شاید ہی کوئی گاؤں بچا ہو جہاں تعلیم کا تسلی بخش انتظام نہ ہو۔ ان کی تقرری سے مدارس کی تعداد 4,188 اور طلبہ کی تعداد 271,821 پہنچ گئی۔ یہ حیران کن ترقی ہے۔ پرائمری تعلیم کے علاوہ ان کو تعلیم بالغاں میں بھی بڑی دلچسپی تھی۔
ان کے بارہ سال کے دور نظامت میں وہ تعلیم کی توسیع اور اصلاح کے لئے نئی نئی اسکیمیں تیار کرتے رہے۔ ان اسکیموں میں تین انٹرمیڈیٹ کالجوں کا قیام (سٹی کالج، اورنگ آباد کالج، زنانہ کالج) ، عثمانیہ ٹیکنیکل کالج، ٹریننگ کالج، فزیکل ایجوکیشن کالج کا قیام، محکمہ تعلیم کے ملازمین کی تنخواہوں کے اسکیل میں اضافہ، اسکاؤٹنگ اور گرلز کائیڈ کی ترویج شامل ہے۔ تعلیم نسواں کا بھی آپ کو حد درجہ فکر تھا جس کے لئے متعدد زنانہ مدارس اس بات پر شاہد و عادل ہیں۔
عثمانیہ ٹریننگ کالج حیدر آباد کے علاوہ مدارس تعلیم المعلمین (ٹیچر ٹریننگ) ، و معلماۃ کھولے گئے۔ مسعود نے دائرۃ المعارف (بیورو آف ٹرانسلیشن) اور جامعہ عثمانیہ (یونیورسٹی) کی تاسیس میں بڑا حصہ ادا کیا۔ دار الترجمہ کے دس بڑے پایہ کے سکالرز ممبر تھے۔ خود اس کے سیکرٹری تھے۔ قابل اشاعت قدیم کتابوں کی تحقیق و تلاش کی گئی۔ ایک شخص کو بیرون ملک بھیج کر مختلف اداروں، کتاب خانوں سے نا یاب مخطوطات کا پتہ لگا یا گیا۔
قابل اشاعت کتابوں کی فہرست تیار کی گئی۔ اس کے مطابق قلمی نسخے فراہم کے گئے۔ طباعت و اشاعت کا انتظام کیا گیا۔ دائرۃ المعارف نے 130 سال میں 240 کتابیں شائع کیں۔ حدیث کی کتاب سنن الکبری، عربک ڈکشنری جمہارۃ الغٰت، ابن حجر اسقلانی کی کتاب ترجمہ کی گئیں۔ علم مناظر کے جد امجد ابن الہیشم کی کتاب المناظر کی صرف ایک جلدلائیڈن لائبریری میں محفوظ تھی۔ زبردست تلاش کے بعد ہندوستان میں اس کی چار مزید کاپیاں دریافت ہو گئیں، اور یہاں سے شائع ہوئی۔
جاپان کی تعلیمی ترقی کا راز دریافت کرنے کے لئے دو دفعہ جاپان کا سفر کیا اور واپس لوٹنے پر پر مغز اور مبسوط مقالہ Japan and its Educational System زیب قرطاس کیا جو کتاب کی شکل میں طبع ہوا۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کوڈ اف کنڈکٹ ترتیب دیا گیا۔
محکمہ تعلیم میں ان کی ہر دلعزیزی کا یہ عالم تھا کہ ان کے وہاں سے جانے کے بعد ملازمین نے ان کی یاد میں سکالر شپ فنڈ قائم کیا۔ جس سے کم تنخواہ والے ملازمین کے بچوں کو وطائف دیے جاتے تھے تاکہ وہ یونیورسٹیز میں داخلہ لے کر اعلیٰ تعلیم جاری رکھیں۔
جامعہ عثمانیہ کا قیام
ایم اے او کالج کو یونیورسٹی بنانے کا خیال سب سے پہلے سید محمود کے دل میں پیدا ہوا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے قائم ہو نے سے قبل حیدر آباد میں واحد کالج تھا جہاں سے ہر سال دو تین گریجوایٹ نکلتے تھے۔ راس مسعود نے اس کالج کا معیار بلند کرنے کی پوری کوشش کی اور عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے باوجود اس کالج کو قائم رکھا۔
جامعہ عثمانیہ کے قیام کے لئے نظام کا فرمان جاری ہوا، اور 7، اکتوبر 1918 کو جامعہ کا قیام عمل میں آیا۔ رسم افتتاح اگست 1919 کو انجام پائی۔ افتتاحی تقریب کے وقت راس مسعود برطانیہ میں تھے۔ واپس آتے ہی کلیہ جامعہ عثمانیہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ نظام نے پہلے انہیں ناظم تعلیمات پر مامور رکھا اور کچھ عرصہ بعد سکرٹری ایجوکیشن مقرر کیا۔ جامعہ کے دستور کے لئے سہ رکنی کمیٹی کے طور پر راس مسعود نے جانفشانی اور محنت سے کام کر کے جامعہ کا آئین اور قواعد و ضوابط مرتب کیے ۔
جامعہ سے وابستہ ایک طبقہ سائنسی اصطلاحات کے ترجمہ کا حامی تھا۔ مئی 1920 میں مجلس اعلیٰ جامعہ نے باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ سنایا کہ فی الحال بین الاقوامی اصطلاحات ہی کو اختیار کیا جائے لیکن اس کے ساتھ اردو میں اصطلاحات کا کام جاری رکھا جائے۔ جامعہ کے قیام کے ڈیڑھ سال پہلے اردو میں کتابوں کے تراجم کے لئے نظام کے فرمان کے مطابق بیورو آف ٹرانسلیشن قائم ہوا تھا۔ یہاں سے ترجمہ ہونے والی کتابوں کی کتابت، تنوع، طباعت، جلدسازی اعلیٰ قسم کی تھی۔ مسعود کتابیں لوگوں کو دکھاتے اور فخر کرتے تھے۔ مسعود جنگ کی قابلیت، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور جامعہ عثمانیہ کے لئے ان کی خدمات، کے اعتراف میں جامعہ عثمانیہ نے ان کو ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کی۔
مسعود جنگ کا سب سے اہم کارنامہ سائنس کالج کا قیام تھا جس کے لئے انہوں نے ایک شاندار عمارت کروائی۔ تحقیقات کے لئے لیبارٹری کا جدید ساز و سامان مہیا کیا۔ اس کے لئے حکومت ہند سے پندرہ لاکھ اور ریاست حیدرآباد سے دس لاکھ (ایک ملین) کے گرانقدر رقم حاصل کی گئی۔ علی گڑھ میں وائس چانسلر کے عہدہ سے مستعفی ہونے کے بعد انگلستان چلے گئے۔ جب ہندوستان واپس آئے تو نواب صاحب ریاست بھوپال نے ان کو منسٹر آف ایجوکیشن مقرر کیا۔ تادم آخر اس عہدہ پر اس خدمت جلیلہ پر مامور رہے۔
ماہر تعلیم کی حیثیت سے راس مسعود کی ملک کے طول و عرض میں عزت کی جاتی تھی۔ آل انڈین مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں کے صدارتی خطبہ میں انہوں نے پردہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رواج زیادہ دنوں تک رائج نہیں رہے گا۔ تعلیم نسواں کے زبردست حامی تھے۔ ان کی رائے تھی کہ لڑکیوں کو ایسی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے کہ بڑے ہو کر وہ جاپانی عورتوں کی طرح قوم کے کلچر اور روایات کی محافظ بن سکیں۔ جس زمانہ میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے حکومت برطانیہ کی طرف سے ان کو نائٹ ہڈ کا خطاب عطا ہوا۔
وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی
راس مسعود نے خرابی صحت کی بناء پر حیدر آباد کی ملازمت سے 1928 میں استعفیٰ دے دیا۔ بحالی صحت کے لئے وہ انگلستان روانہ ہو گئے گھریلو الجھنوں اور صحت کی خرابی کی بنا وہ اس قدر دلبرداشتہ ہو گئے تھے کہ انہوں نے یورپ میں مستقل رہائش اختیار کرنے کے لئے ارادہ کر لیا تھا بلکہ پیرس میں مائیکل اسٹریٹ پر ایک مکان بھی حاصل کر لیا تھا۔
بہ سلسلہ علاج جب وہ جرمنی میں مقیم تھے تو ان کو دو متضاد عہدوں کی پیش کش ہوئی۔ حیدر آباد میں پولیٹیکل سکرٹری کا عہدہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وائس چانسلر کی پیش کش۔ اگرچہ حیدرآباد کی پیش کش زیادہ آسان، زیادہ تنخواہ اور ترقی کی امید والی تھی جبکہ علی گڑھ کی ملازمت مشقت طلب تھی۔ علی گڑھ کی ملازمت قبول کرنے میں علی برادران کا بڑا ہاتھ تھا۔ راس مسعود جرمنی سے حیدرآباد اور وہاں سے علی گڑھ پہنچ کر 20، اکتوبر 1929 کو وائس چانسلر کے عہدہ کا چارج لے لیا۔
علی گڑھ آنے پر انہوں نے اصلاح اور تعمیر نو کا کام شروع کر دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے تن مردہ میں دلسوزی اور دلجمعی سے نئی روح پھونک دی۔ مساوات اور اخوت کا احساس پیدا کیا۔ ان کے پانچ 1929۔ 34 سالہ دور میں انقلابی تبدیلیاں رو نما ہوئیں۔ اعلیٰ پیمانے کی تحقیق پر توجہ دی گئی۔ طلبہ میں نظم و ضبط اجاگر ہوا۔ متعدد شعبوں کی از سر نو تنظیم کی گئی۔ حکومت نے 1.5 million (پندرہ لاکھ) روپے یک مشت ادا کیے ۔ سالانہ گرانٹ 125,000 روپے سے بڑھا کر 300,000 روپے کر دی۔ نظام آف حیدرآباد نے ایک ملین روپے کا عطیہ دیا اور سالانہ گرانٹ چھتیس ہزار روپے سے بڑھا کر ساٹھ ہزار روپے کردی۔ یونیورسٹی کا ریزرو فنڈ 700,000 تھا ان کی ان تھک محنت اور سعی پیہم سے یہ اٹھارہ لاکھ ہو گیا۔ نوابوں، تاجروں سے 3.5 ملین روپے کی رقم حاصل کر کے یونیورسٹی کو مالا مال کر دیا۔ یونیورسٹی کو پھر ایسا محبوب اور مقبول وائس چانسلر نہ ملا۔ نظام آف حیدر آباد کی مالی امداد سے علی گڑھ یونیورسٹی میں فزکس اور کیمسٹری میں کثیر رقم کی دو نظام چیئرز قائم کیں۔ راس مسعود سے پہلے علی گڑھ کی سڑکوں کے نام نہیں تھے ان کے نام رکھے۔ یونیورسٹی میں 1930 میں بجلی لے کر آئے۔
ڈاکٹر عابد حسین کے بقول: جس وقت راس مسعود علی گڑھ میں وائس چانسلر بن کر آئے مسلم یونیورسٹی شہر خموشاں معلوم ہوتی تھی۔ ان کے آتے ہی درس و تدریس میں، علمی و ادبی انجمنوں میں، معاشرتی صحبتوں میں، ورزشی کھیلوں میں، غرض طلبہ و اساتذہ کی زندگی کے ہر شعبہ میں جان پڑ گئی اور ہر طرف ہنگامہ حیات بر پا ہو گیا۔
علی گڑھ میں سائنس کی تعلیم
سائنس کے مضامین کی تعلیم علی گڑھ میں ابتدا سے شروع ہو گئی تھی۔ لیکن سائنسی تعلیم کی ترقی کا زمانہ راس مسعود سے شروع ہوا۔ اپنی وائس چانسلری کے پہلے دو سال انہوں نے سائنس کے شعبوں کی ترقی اور توسیع کے لئے مخصوص کیے ۔ وہ برطانیہ جرمنی فرانس کے ممتاز پروفیسروں کو علی گڑھ لائے۔ ان کے مد نظر یہ اصول تھا کہ یونیورسٹی ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جس کی علمی فضا کے لئے مختلف اقوام کے استادوں کا تدریس کا فریضہ سر انجام دینا اچھا شگون ہو گا۔ اس کے لئے غیر مسلم اور غیر ملکی قابل اساتذہ کا تقرر کیا۔ یہ بھی خیال رکھا کہ غیر ملکی محض انگریز ہی نہ ہوں بلکہ یورپ کے دیگر ممالک کے بھی استاد ہوں۔ وہ علی گڑھ کو آکسفورڈ کی طرح ایک خود مختار ادارہ بنانا چاہتے تھے۔
غیر ممالک سے وہ حساب کی تدریس کے لئے فرنچ ریاضی دان اندرے وائل Andre Weil کو لائے جو اپنی فیلڈ میں ممتاز شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی بائیوگرافی The Apprenticeship of a Mathematician میں انڈیا میں اپنے قیام اور دور دراز شہروں کے اسفار پر پورا باب رقم کیا ہے۔ ان کی وجہ سے علی گڑھ کے متھے میٹکس ڈیپارٹمنٹ کو ملک گیر شہرت ملی۔ وہ یہاں صرف دو سال 1930۔ 1932 تک رہے، کیونکہ انہوں نے الہ آباد میں ایک کانفرنس میں بغیر اجازت کے شرکت کی تو ان کا کنٹریکٹ یونیورسٹی انتظامیہ نے ختم کر دیا۔ بیوگرافی books۔ google۔ com پر پڑھی جا سکتی ہے۔
راس مسعود نے آئین سٹائن کو پرنسٹن یو نیورسٹی نیوجرسی امریکہ خط لکھ کر گزارش کی کہ فزکس کے کسی لائق و فائق استاد کو علی گڑھ بھجوائیں۔ انہوں نے طیف پیمائی (Spectroscopy) کے ماہر سیموئل کو اپنے سفارشی خط کے ساتھ بھیجا جنہوں نے اس قدر اچھا کام کیا کہ علی گڑھ سکول آف سپیکٹر سکوپی چار دانگ عالم مشہور ہوا۔ ان کا قیام چھ سال 1936 تک رہا۔ کیمسٹری کے لئے راس مسعود آر این ہنٹر R۔ N۔ Hunterکو لائے جنہوں نے ریسرچ کے کام کو 1936 تک دن دوگنی ترقی دی۔ عربی کے شعبہ کے لئے وہ ما ہر اسلامیات ڈاکٹر کرینکو Fritz Krenkow کو لائے جو دو برس تک وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے علی گڑھ میں رہے۔ اس کے بعد مشہور جرمن مستشرق ڈاکٹر آٹواشپیز کا 1932 پروفیسر و صدر شعبہ عربی تقرر ہوا۔ ان کا قیام 1936 تک رہا۔

فرماں روا بھوپال نواب حمید اللہ خاں نے سائنس کالج کا سنگ بنیاد 1926 کو رکھا اور دو لاکھ روپے عطا فرمائے۔ سائنس کے تین بلاک کیمسٹری، زوآلوجی اور باٹنی کی تعمیر راس مسعود کے زمانہ میں ان دو لاکھ روپے سے عمل میں آئی۔ 1932 سے سائنس کالج کا آغاز ہوا۔ راس مسعود سے پہلے سائنس کالج کی عمارتوں کا نقشہ تیار کیا گیا تھا مگر انہوں نے خود ایک اور نقشہ تیار کرا کے عالی شان عمارتیں تعمیر کروائیں۔ فزکس، کیمسٹری، باٹنی اور زوآلوجی کی نئی لیبارٹریز جدید ساز و سامان سے آراستہ کی گئیں۔ ٹیچر ٹریننگ کالج کے لئے 1931 میں نئی عمارت تعمیر کروائی اور اگلے سال وہاں درس و تدریس کا کام شروع ہو گیا۔
مسلم یونیورسٹی بننے کے بعد دس سال 1921۔ 1931 میں عطیات اور چندوں کی صورت میں بارہ لاکھ روپے وصول ہوئے لیکن راس مسعود کی انتھک کوششوں سے تین سال کے عرصہ 1930۔ 33 میں ستائیس لاکھ روپے وصول ہوئے۔ مجموعی طور پر کم از کم چالیس لاکھ روپیہ یونیورسٹی کو ملا۔ اپنے مخیر حلقہ احباب سے ہزاروں روپیہ لے کر غریب طلبہ کی امداد پر صرف کیا۔
افسوس علم و عمل، فضل و کمال، خود داری کا یہ تابناک سورج، نواب مسعود جنگ بہادر سرَ سید راس مسعود، بی اے آکسن، بار ایٹ لاء، ایل ایل ڈی، ڈی ِلٹ، بھوپال میں 30 جولائی 1937 کو غروب ہو گیا۔ ان کی تدفین علی گڑھ یونیورسٹی کی عالی شان مسجد میں ان کے بر گزیدہ دادا کے پہلو میں ہوئی۔ اس ہیچمدان کو ان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے اور دعا کا موقع نصیب ہو چکا ہے۔
علامہ اقبال راس مسعود کے مداح تھے۔ کہتے تھے کہ ان کا دماغ انگریز اور دل سچے مسلمان کا ہے۔ علامہ نے اس فقرہ کو مختلف مواقع پر دہرایا۔ ایک بار مسعود نے اس کے جواب میں کہا:اقبال غنیمت ہے کہ میرا دماغ مسلمان کا اور دل انگریز کا نہیں ہے۔ علامہ نے مسعود کی وفات پر ان کی والدہ (بیگم جسٹس محمود) کو انگلش میں جو ٹیلی گرام دیا اس کا ترجمہ یوں ہے : ”اسلام اور ہندوستان کا ناقابل تلافی نقصان ہو گیا، ہم سب آپ کے ناقابل برداشت غم میں شریک ہیں“ ۔
علامہ اقبال نے راس مسعود کی وفات پر درج ذیل اندوہ ناک شعر کہے تھے :
رہی نہ آہ زمانہ کے ہاتھ سے باقی وہ یادگار کما لات احمد و محمود
زوال علم و ہنر مرگ ناگہاں اس کی وہ کارواں کا متاع گراں بہا مسعود
کتابیات
جلیل احمد قدوائی : شعلہ مستعجل 1982 اور خیابان مسعود 1970 کراچی
پروفیسر سید ظل الرحمن علی گڑھ: راس مسعود 2011 بیو گرافی





