گرین زون کا ایک اور مشترکہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا


جب مجھے یہ خوش خبری ملی کہ میری اور ثمر اشتیاق کی مشترکہ کتاب "گرین زون کا فلسفہ: پرسکون زندگی کی طرف سات قدم” کراچی میں چھپ گئی ہے تو مجھے یہ محسوس ہوا جیسے گرین زون کا ایک اور خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ہو۔

جب سے میں نے ’ہم سب‘ پر نفسیاتی کالم لکھنے شروع کیے ہیں اس وقت سے بہت سے دوست مجھ سے گرین زون کی کتاب مانگتے تھے اور جب میں انہیں اپنی انگریزی کی کتاب تحفے کے طور پر بھیجتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ ہمیں یہ کتاب اردو میں چاہیے۔ چنانچہ میں نے اپنی دوست ثمر اشتیاق سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ مل کر گرین زون کی اردو میں کتاب لکھیں۔ جب ثمر اشتیاق مان گئیں تو پھر میں نے اپنے ان گرین زون دوستوں سے ’جو میرے ساتھ گرین زون سیمیناروں مین شریک ہو چکے تھے اور گرین زون فلسفے سے استفادہ کر چکے تھے‘ کہا کہ وہ اپنی گرین زون کہانی لکھیں۔ اب اس کتاب میں بیس دوستوں کی گرین زون کہانیاں شامل ہیں۔

میرے بہت سے گرین زون دوست گرین زون کی ربع صدی کی کہانی سے واقف ہیں لیکن وہ لوگ جو پہلی دفعہ میرا گرین زون کا یہ کالم پڑھ رہے ہیں ان دوستوں کو میں یہ کہانی اختصار سے سناتا چلوں تا کہ وہ خود بھی اس کتاب سے مستفید ہو سکیں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی مشورہ دے سکیں کہ وہ اس کتاب کو پڑھ کر ذہنی طور پر ایک صحتمند ’خوشحال اور پرسکون زندگی گزار سکیں کیونکہ گرین زون کا فلسفہ اپنی مدد آپ کرنے کا فلسفہ ہے۔

گرین زون فلسفے کی ابتدا آج سے پچیس برس پیشتر ان دنوں ہوئی جب مجھے ایک مقامی ڈاکٹر نے ایک جوڑا نفسیاتی علاج کے لیے بھیجا۔ میں نے انٹرویو لیا تو پتہ چلا کہ شوہر کو غصہ بہت آتا تھا اور غصے میں وہ چیختا چلاتا بھی تھا اور اپنی بیوی کی تحقیر و تذلیل بھی کرتا تھا۔

پھر اگلے دن جب اسے احساس ندامت ہوتا تھا تو بیوی سے معافی مانگتا تھا۔

بیوی ایک عرصے تک تو معاف کرتی رہی لیکن ایک دن اس کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا اور اس نے اپنے شوہر سے کہا

اب ہمارا بیٹا دس برس کا ہو گیا ہے اور تم ایک اچھے رول ماڈل نہیں ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ تم سے عورتوں کو ذلیل کرنا سیکھے۔ اس لیے یا تم اپنے غصے کا علاج کرواؤ اور یا میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گی۔ یہ باتیں سن کر شوہر علاج کے لیے تیار ہو گیا۔

شوہر نے مجھے کہا کہ میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں۔
میں نے کہا میں عزت کے بغیر محبت کا قائل نہیں ہوں۔

شوہر نے مجھے بتایا کہ اس کا باپ بھی اپنی بیوی کی نہ صرف تذلیل کرتا تھا بلکہ اسے مارتا پیٹتا بھی تھا۔ اس شوہر کو اس بات پر فخر تھا کہ وہ اپنے باپ کی طرح اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔

میں نے اسے کہا کہ بعض دفعہ دل پر پڑنے والے زبان کے زخم جسم کے زخموں سے زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
شوہر نے مجھ سے کہا کہ میں ایک بہتر انسان اور بیوی کی عزت کرنے والا شوہر بننا چاہتا ہوں۔
ایک دن جب وہ مجھے غصے میں آپے سے باہر ہونے کی کہانی سنا رہا تھا تو میں نے کہا

مجھے ایک بات بتاؤ۔ جب تم ڈرائیو کر رہے ہوتے ہو اور ٹریفک کی لائٹ ییلو ہو جاتی ہے تو تم کیا کرتے ہو؟

کہنے لگا میں ایکسلریٹر پر پاؤں رکھتا ہوں
وہ کیوں؟ میں متجسس تھا
میں ہمیشہ جلدی میں ہوتا ہوں
دفتر جانے کی جلدی
بیٹے کو اٹھانے کے لیے بےبی سٹر کے پاس جانے کی جلدی
گھر آنے کی جلدی

میں نے کہا ایک دانا شخص ییلو لائٹ پر ایکسلریٹر پر نہیں بریک پر پاؤں رکھتا ہے۔ جب تمہیں غصہ آنے لگتا ہے تو تم ییلو زون میں جا رہے ہوتے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ اس وقت تم کمرے سے باہر نکل جاؤ اور اس وقت واپس لوٹو جب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہو اور تم واپس گرین زون میں آ گئے ہو۔

میری یہ بات اسے سمجھ آ گئی اور وہ میرے مشورے پر عمل کرنے لگا۔
چند ہفتوں کے بعد اس کی بیوی نے میرا شکریہ ادا کیا کہ گرین زون تھراپی سے اسے بہت فائدہ ہوا۔
اس مریض کے بعد میں نے اس فلسفے سے اور مریضوں کا علاج کیا اور وہ بہتر ہونے لگے میں انہیں بتاتا کہ
ٹریفک کی لائٹس کی طرح آپ بھی ذہنی طور پر تین زونز میں ہوتے ہیں
جب آپ زندگی سے محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنے گرین زون میں ہوتے ہیں
جب آپ قدرے پریشان اور اداس ہوتے ہیں تو آپ اپنے ییلو زون میں ہوتے ہیں
اور جب آپ ڈپریشن کا شکار ہو جائیں یا غصے میں آپے سے باہر ہو جائیں تو آپ اپنے ریڈ زون میں ہوتے ہیں۔

ہم نے گرین زون علاج کا ایک سات قدموں کا پروگرام بنایا ہے جس میں مریض دھیرے دھیرے ریڈ زون سے گرین زون کا سفر کرتے ہیں۔

ہم مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایک گرین زون ڈائری رکھیں اور سونے سے پہلے پچھلے چوبیس گھنٹوں پر غور کریں اور لکھیں کہ کتنے گھنٹے کس زون میں گزارے۔

ڈائری رکھنے سے لوگ اپنی شعوری اور لاشعوری کیفیات سے واقف ہوتے ہیں اور پھر اپنی سوچ اور طرز زندگی میں ایسی تبدیلیاں لا سکتے ہیں کہ ان کے گرین زون گھنٹے بڑھنے اور ریڈ زون گھنٹے گھٹنے لگتے ہیں اور وہ مریض جو برسوں سے ادویہ سے علاج کرواتے رہے ہیں وہ چند ہفتوں میں ہی اس گرین زون فلسفے سے اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں۔

آج سے بیس برس پیشتر جب میری پہلی گرین زون کتاب چھپی تھی تو ایک دن میرے شاعر دوست رشید ندیم کا فون آیا۔ کہنے لگا آپ کا گرین زون کا فلسفہ اتنا آسان ہے کہ میرے پانچ سال کی بیٹی افروز اور سات سال کے بیٹے امروز کو بھی سمجھ آ گیا ہے۔ پھر انہوں نے مجھے ایک واقعہ سنایا کہ ان کی بیٹی اپنے کمرے میں رو رہی تھی۔ رشید ندیم نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہتی ہے

پاپا میں ریڈ زون میں ہوں ابی بات نہیں کر سکتی
پانچ منٹ کے بعد بیٹی باپ کے پاس آئی اور کہنے لگی
پاپا میں اب ییلو زون میں ہوں بات کر سکتی ہوں
رشید ندیم نے شفقت سے پوچھا بٹیا کیا بات ہوئی ہے؟
بٹیا نے کہا پاپا میرے بھائی نے میری گڑیا کی ٹانگ توڑ دی ہے اس لیے میں ریڈ زون میں چلی گئی تھی

رشید ندیم نے جب پوچھا بٹیا میں کیا مدد کر سکتا ہوں تو کہنے لگی پاپا اگر آپ وعدہ کریں کہ مجھے نئی گڑیا خرید کر دیں گے تو میں واپس گرین زون میں آ جاؤں گی۔

رشید ندیم نے افروز کو پیار سے گلے لگایا اور نئی گڑیا خریدنے کا وعدہ کیا اور وہ گرین زون میں آ گئی۔

رشید ندیم نے مجھ سے کہا کہ اگرچہ میری بیٹی نے آپ کے فلسفے سے نئی گڑیا کا وعدہ لے لیا ہے لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہوئی کہ اسے آپ کا فلسفہ سمجھ میں آ گیا ہے۔

گرین زون کا فلسفہ بچے ہی نہیں بڑے بھی کامیابی سے استعمال کرتے ہیں۔
ہمارے ایک دوست روفی ایک کمپنی کے منیجر ہیں ان کے ادارے کے ساٹھ ملازمین ہیں۔
میری گرین زون کتاب پڑھ کر وہ بازار گئے اور انہوں نے اپنے دفتر کے لیے چھوٹے چھوٹے سے
ساٹھ گرین زون جھنڈے
ساٹھ ییلو زون جھنڈے اور
ساٹھ ریڈ زون جھنڈے
خریدے اور دروازے کے پاس میز پر رکھ دیے۔

جب ملازمین صبح دفتر آتے ہیں تو وہ ایک جھنڈا اٹھا کر اپنی میز پر رکھ دیتے ہیں۔ ملازمین انتظار کرتے ہیں کہ ریڈ زون جھنڈا گرین زون میں تبدیل ہوتو مکالمہ کریں کیونکہ گرین زون مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق گرین زون میں ہوں۔

ہم نے گرین زون کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ جیسے افراد گرین ییلو اور ریڈ زون میں رہتے ہیں اسی طرح رشتے ’خاندان اور معاشرے بھی گرین ییلو اور ریڈ زون میں زندگیاں گزارتے ہیں۔

پچھلے پچیس برس میں ہمارا گرین زون فلسفہ اتنا مقبول ہو گیا ہے کہ اب گھروں میں والدین اپنے بچوں کو، سکولوں میں اساتذہ اپنے شاگردوں کو اور تھراپسٹ اپنے کلینک میں مریضوں کو گرین زون کا فلسفہ سکھاتے ہیں تا کہ وہ اپنی مدد آپ کر سکیں اور ایک صحتمند خوشحال اور پر سکون گرین زون زندگی گزار سکیں۔

میرے ’ہم سب‘ کے وہ سب گرین زون دوست جو مدتوں سے اردو میں گرین زون کتاب کا شدت سے انتظار کر رہے تھے وہ اب سٹی بک پوائنٹ پبلشر کراچی کو فون کر کے

031 22306716
کتاب منگوا سکتے ہیں اور پھر کتاب پڑھ کر اپنی رائے مجھے بھیج سکتے ہیں
welcome@drsohail.com

ہم نے گرین زون دوستوں کے لیے فیس بک پر گرین زون کمیونٹی کا پیج بھی بنایا ہے۔ ڈاکٹر عارفہ بھٹو ایک گرین زون ایپ بھی بنا رہی ہیں جو اب اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ہم نے دوستوں کے لیے ایک گرین زون ویب سائٹ بھی بنی ہے

greenzoneliving.ca

گرین زون کا فلسفہ میرا انسانیت کے نام ایک محبت بھرا تحفہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ اس فلسفے سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کریں تا کہ اکیسویں صدی کی زندگی کے ریڈ زون سمندر میں ہر انسان ایک محبت کرنے والا پرسکون گرین زون جزیرہ بن سکے اور اس پرتشدد دنیا کو پرسکون گرین زون دنیا بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

میں ان سب گرین زون دوستوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے اس گرین زون خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں میری مدد فرمائی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail