انسانوں کے دستوروں سے اینیمل فارم کے دستور تک
ایک مرتبہ لاہور میں ہیومن رائٹس کمیشن کے اجلاس میں مزدوروں کے ایک لیڈر کو تقریر کے لئے مدعو کیا گیا۔ ان صاحب کی تقریر نہایت عمدہ اور متوازن تھی۔ انہوں نے دیگر مسائل کے علاوہ اس مسئلہ کا بھی ذکر کیا کہ گو آئین میں تنظیم سازی کے حق کی ضمانت دی گئی ہے لیکن جب بھی مزدوروں کی کوئی یونین بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے اس عمل کو روکنے کی کوشش ہوتی ہے۔
جب سوال و جواب کا مرحلہ آیا تو اس عاجز نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ گو کہ آئین میں بہت سے بنیادی حقوق درج ہیں لیکن ان کے ساتھ کچھ لمبی چوڑی حدود و قیود بھی لگا دی گئی ہیں۔ ظاہر ہے جب نا جائز فائدہ اٹھانے کی بات ہو تو اس لحاظ سے بر سر اقتدار طبقہ کو ہی برتری حاصل ہو گی کہ وہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکے اور قانون کو موم کی ناک بنا کر اسے اپنی پسند کے مطابق ڈھال لے۔ مثال کے طور پر تنظیم سازی کے حق کی مثال ہی لے لیں۔ آئین کے آرٹیکل 17 میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی انجمن یا یونین بنائے لیکن ساتھ یہ لکھا ہے کہ یہ حق پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ یا سالمیت، امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں بنائے گئے قوانین کی عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ریاست یہ محسوس کرے کہ کسی یونین بنانے سے ان میں سے کسی کو خطرہ ہے تو وہ قانون بنا کر اس حق پر قدغن لگا سکتی ہے۔
اسی اجلاس میں ایک اور سیاسی کارکن نے اس بات کا شکوہ کیا کہ آئین میں اجتماع کی آزادی ہے لیکن جب حکومت کے مزاج کے خلاف کوئی جلسہ کرنے کا ارادہ کیا جائے تو دفعہ 144 لگا کر اس راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ آئین کے آرٹیکل 16 کی رو سے ہر شہری کو بغیر اسلحہ کے اجتماع کی آزادی ہے لیکن اس آرٹیکل کے شروع میں ہی لکھا ہے کہ یہ حق امن عامہ کے مفاد میں قانون میں عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہو گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی حکومت کی مرضی کے خلاف کوئی اجتماع، جلسہ یا جلوس ہو رہا ہو تو حکومت کو یہ مسائل نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں اور اس آڑ میں پابندی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آرٹیکل 15 میں ہر پاکستانی کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے ہر حصہ میں جائے اور سکونت اختیار کرے لیکن ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حق مفاد عامہ کے پیش نظر عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تحت ہو گا۔ لیکن جب بھی اس پر کوئی پابندی عائد کی جاتی ہے تو وہ معقولیت بالکل عاری ہوتی ہے۔ ہر کسی کو سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کا حق حاصل ہے لیکن یہ حق بھی پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور سالمیت کے مفاد میں عائد کردہ پابندیوں کے تابع قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں ایسی پابندیوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ کبھی کمیونسٹ پارٹی زیر عتاب آئی اور کبھی عوامی لیگ پر پابندی لگی۔ کبھی نیپ کی باری آئی اور اب تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا قضیہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ ہر مرتبہ حکومت وقت نے نہایت رقت سے ان فیصلوں کی لمبی چوڑی وجوہات بیان کیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی یہ پابندی معقول وجوہ کی بنا پر نہیں لگائی گئی۔ اور اس کے نہایت نامعقول نتائج بر آمد ہوئے۔
آرٹیکل 19 میں تقریر، اظہار خیال اور پریس کی آزادی کی دی گئی ہے لیکن یہ آزادی عطا کرنے سے قبل یہ لمبی چوڑی تمہید باندھی گئی ہے کہ یہ حق پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے پیش نظر بنائے گئے کسی قانون کی مناسب پابندیوں کے ماتحت ہو گا۔ پابندیوں کے فراہم کردہ یہ بہانے اتنے طویل ہیں کہ اس بنیادی حق کے الفاظ ان کے بوجھ تلے مدفون نظر آتے ہیں۔ آپ کل ہی حکومت کے خلاف موثر طریق پر اس حق کا استعمال شروع کریں، شرطیہ طور حکومت کا یہی موقف ہو گا کہ ان میں سے کسی نہ کسی کو صدمہ لاحق ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ کسی نہ کسی طرح یہ حق سلب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اب مذہبی آزادی کا ذکر کرتے ہیں۔ ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے لیکن آرٹیکل 20 شروع ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ یہ حق قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہو گا۔ جب 1974 میں دوسری آئینی ترمیم پر بحث ہو رہی تھی تو ان قیود کا ذکر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب اس حد تک چلے گئے کہ کہنے لگے اگر پارلیمنٹ چاہے تو دو تہائی اکثریت سے بنیادی حقوق کا تمام باب ہی آئین سے حذف کر سکتی ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اس سال اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے مذہبی آزادی کے حوالے سے جن سترہ ممالک کی صورت حال کوئی نہایت تشویشناک قرار دیا ہے ان میں وطن عزیز بھی شامل ہے۔ پاکستان تو پاکستان ہمارے تمام ہمسائے بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے مختلف دستوروں اور قوانین میں ایسی حدود کا ذکر کیا جاتا ہے۔ شاید ان حدود کو مکمل طور پر ختم کرنا بھی ممکن نہ ہو لیکن کم تو کیا جا سکتا ہے۔ ان کا غلط استعمال تو روکا جا سکتا ہے۔ ان تمام قانونی بحثوں سے قطع نظریہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان سمیت دنیا کی مختلف حکومتیں اس کا ناجائز استعمال کر کے یہ حقوق سلب کرتی ہیں کہ نہیں۔ میرے خیال میں کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ایسا ہو رہا ہے۔ ان قوانین کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان حقوق کی حفاظت کی جائے نہ کہ ان کو سلب کرنے کے نت نئے راستے دکھائے جائیں۔ اس اصول کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ بنیادی حقوق کسی دستور کی عطا نہیں ہیں۔ بلکہ ہر شخص کو پیدائشی طور پر یہ حقوق حاصل ہیں۔
اب اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق کے باب کے آغاز میں ہی لکھا ہے کہ مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو ان حقوق کو کم یا سلب کرنے کا باعث بنے اور ہر قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں بنایا جائے گا وہ اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہو گا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ آئین میں یہ نہیں لکھا کہ ایسا قانون کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ لکھا ہے ایسا قانون کالعدم ہو گا۔
ایک زمانہ گزر گیا۔ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اس قسم کی حدود و قیود کا فائدہ اٹھا کر حکومتوں نے عوام کے حقوق سلب کیے ۔ خاکسار آئندہ کچھ کالموں میں اس کی کچھ تفصیلات بیان کرے گا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو ان پر عائد حدود و قیود یاد کرائی جائیں ورنہ یہ منحوس چکر کبھی ختم نہیں ہو گا اور دنیا بھر کی ریاستیں کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر عوام کے حقوق سلب کرتی رہیں گی۔
بر سر اقتدار طبقہ کس طرح دستور کو موم کی ناک بنا کر اپنے اختیارات میں اضافہ کرتا رہتا ہے، جارج آرول نے اپنے ناول اینیمل فارم میں اس کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ اس ناول میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک فارم پر جانوروں پر بہت مظالم ہوتے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر انہوں نے انسانوں کا تختہ الٹ دیا اور اپنی حکومت قائم کر لی۔ پھر ایک آئین بنایا اور اس میں درج کیا گیا کہ کوئی جانور بستر پر نہیں سوئے گا اور کوئی جانور شراب نہیں پیے گا، کوئی جانور دوسرے جانور کو قتل نہیں کرے گا اور سب جانور برابر ہیں وغیرہ وغیرہ۔
لیکن پھر جانوروں کے ایک طبقہ نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ شراب بھی پینے لگ گئے اور سابق مالکوں کے بستروں پر بھی سونے لگ گئے۔ ایک دوسرے کو قتل بھی کرنے لگ گئے۔ برابری بھی ختم ہو گئی۔ نچلے درجہ کے جانوروں گھبرا کر اپنے دستور کو دوبارہ پڑھنا شروع کیا تو اس ترمیم شدہ دستور میں لکھا تھا کہ کوئی جانور بستر پر چادر سمیت نہیں سوئے گا۔ کوئی جانور زیادہ شراب نہیں پیے گا۔ کوئی جانور بغیر وجہ کے دوسرے جانور کو قتل نہیں کرے گا۔ اب رہ گئی آخری شرط کہ سب جانور برابر ہیں تو اس کی جہ لکھا تھا کہ سب جانور برابر ہیں لیکن کچھ زیادہ برابر ہیں۔ انجام یہ ہوا کہ اس ناول کے آخر میں عام جانور ایک میز پر اپنے حکمران جانوروں اور انسانوں کو برج کھیلتا اور آپس میں لڑتا دیکھتے ہیں۔ اور انہیں وہ سب ایک جیسے ہی نظر آ رہے ہوتے ہیں۔


