خلیل الرحمٰن قمر کے نام کھلا خط
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ عرض ہے آپ کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے پر پوری قوم یک گونہ صدمے کی کیفیت میں ہے۔ آپ جو قوم کے دانشور ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے سنہری اقوال سے اہلِ دانش و بینش کو بے مزہ کر چکے ہیں، آپ کے ساتھ بقول آپ کے ایک ”دو ٹکے کی عورت“ نے جو سلوک کیا ہے وہ آپ کے شایان شان نہیں۔ بہتر تو یہ تھا کہ آپ کی مدارات میں کوئی کمی نہ کرتی، بہر حال اسی پر اکتفا کیجیے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا آپ گزشتہ کئی برسوں سے پورے خلوص کے ساتھ قوم کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عورت کا وجود ہی باعثِ ننگ و عار ہے۔ عورت خواہ مخواہ مرد کی برابری کرنے کی کوشش کرتی ہے، حالاں کہ وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ مرد کی برابری کر سکے۔ ایک انٹرویو میں آپ نے دعویٰ بھی کیا کہ ہمیشہ مرد ہی عورت کو اغوا کرتے ہیں اور پھر اس کا ریپ بھی کر ڈالتے ہیں۔ کبھی آپ نے نہیں سنا ہو گا کہ کسی عورت نے مرد کو اغوا کیا ہو۔
یہ آپ ہی کے الفاظ تھے۔ چوں کہ آپ عقل و خرد کی دولت سے مالا مال ہیں اسی لیے اغوا ہونے کے بجائے خود ہی اس کے گھر چلے گئے۔ وقت بھی آپ نے خوب چنا، آدھی رات کا وقت ایسی ملاقاتوں کے لیے نہایت مناسب ہوتا ہے۔ شاید آپ اس عورت کو رسوائی سے بچانا چاہتے ہوں گے کیوں کہ آپ عورتوں کے لیے بہت نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اور ان کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ انھیں گھر میں مقید رہنے کے مشورے دیتے رہتے ہیں۔ مگر اس عورت نے آپ کا چیلنج پورا کر کے آپ کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں۔
آپ نے سوچا ہو گا کہ اس عورت کے لیے آپ جیسی بھاری بھرم شخصیت کو اغوا کرنا مشکل ہو گا۔ اسی لیے محض اس کی سہولت کے لیے خود ہی اس کی دہلیز پر جا پہنچے۔ غالباً یہ گنگناتے ہوئے، تیرے در پر صنم چلے آئے، تُو نہ آیا تو ہم چلے آئے۔ مگر وہاں تو مسلح افراد تھے۔ جنھوں نے نہ صرف تشدد کیا بلکہ موبائل گھڑی اور نقدی بھی چھین لی، اے ٹی ایم سے ڈھائی لاکھ روپے ٹرانسفر کروائے اور پھر آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ویران جگہ پر چھوڑ دیا۔ حیف کہ ایسی مشہور و معروف شخصیت کو ایک ویران جگہ پر چھوڑ دیا۔ کم از کم کسی پررونق جگہ پر چھوڑتے جہاں آپ کے فین بھی موجود ہوتے اور فوری طور پر آپ سے آٹو گراف لینے کے بعد ہمدردی کے بول بولنے کی سعادت حاصل کرتے۔
ہم بھی آپ سے ہمدردی رکھتے ہیں اور آپ کے بارے میں یہ حسنِ ظن رکھتے ہیں کہ آپ یقیناً اس لڑکی کو جو آپ سے آدھی عمر کی ہے ”طاغوت“ کا مطلب بتانے گئے ہوں گے۔ آپ آن لائن ٹیوشن کیوں نہیں پڑھاتے؟
آپ کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنے والے دانشور اب آپ کو دو ٹکے کا مرد قرار دیں گے۔ حالاں کہ آپ دو ٹکے کے ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری کرنسی ٹکا نہیں روپیہ ہے۔ آنے یا پیسے کا لفظ استعمال کریں تو خیر الگ بات ہے اور آپ سے ایسے سوال کریں گے کہ ”آپ وہاں گئے ہی کیوں تھے؟“ جیسا کہ آپ ایسے واقعات کے بعد کہتے رہے ہیں کہ ”وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی؟“ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ یہ سوال پوچھنے کا جواز آپ نے بذاتِ خود فراہم کیا ہے۔
جب آپ خود کہتے رہے ہیں کہ بد سلوکی کا شکار ہونے والی عورت خود قصوروار ہے۔ وہ باہر نکلتی کیوں ہے؟ اور ایسے کپڑے پہنتی ہے کہ مرد مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یقیناً آپ نے ایسے کپڑے پہنے ہوں گے کہ وہ عورت مجبور ہو گئی ہو گی۔ براہ کرم اپنی ڈریسنگ پر توجہ دیں۔ کوئی اچھا سا برقع سلوا لیں۔ باہر نکلتے ہوئے کسی مرد کو ساتھ رکھیں۔ خاص طور پر جب رات کو تین بجے گھر سے نکلنا ہو۔
کچھ خود ساختہ دانشور کہتے ہیں کہ اس عورت نے آپ کے ساتھ ہونے والی میسجنگ اور چیٹ کے سکرین شاٹس شیئر کیے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس پر فریفتہ ہو چکے تھے۔ بہر کیف اس بات پر تو ہم کبھی یقین کر ہی نہیں سکتے۔ کیوں کہ جتنا ہم آپ کو جانتے ہیں آپ کی زبان عورت کے حوالے سے نا گفتہ بہ ہے۔ نمونے کے طور پر ماروی سرمد کے ساتھ ٹی وی شو میں ہونے والی گفتگو ہی لے لیجیے۔ کیسے آپ نے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے کہا تھا ”گھٹیا عورت! تیرے جسم میں ہے کیا، اپنا جسم دیکھو جا کے“ اور یہ بھی کہ ”تم پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں۔“ جب کہ چیٹ کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کے دو روپ ہیں۔
بہر حال آپ نے اپنے ناقدین کو سنہری موقع فراہم کیا ہے کہ وہ آپ پر کھل کر تنقید کریں اور آپ کو دو ٹکے کا مرد ثابت کریں۔ اس پر آپ کے چاہنے والے تشویش میں مبتلا ہیں۔ براہ کرم گھر میں رہا کریں اور اللہ اللہ کریں۔ فقط آپ کا شبھ چنتک۔


