ریفریشر کورس: الٹی ہو گئیں سب تدبیریں


میں اپنی پرانی یادداشتیں دیکھ رہا تھا کہ 1985 میں ٹریننگ کالج ملتان میں کیے گئے ایک ریفریشر کورس کی تاریخ وار لکھی ہوئی ڈائری مل گئی میں نے پچھلے دنوں 2004 میں کیے گئے ایک ریفریشر کورس کی داستان تین چار کالموں کی شکل میں ہم سب پر شیئر کی تھی میں نے سوچا کہ اس سے انیس سال پہلے کیے گئے ایک دوسرے ریفریشر کورس کی داستان بھی انہی الفاظ میں شیئر کرتا چلوں جن الفاظ میں یہ اس وقت تحریر کی گئی تھی۔ تاکہ ناظرین کو اندازہ ہو جائے کہ انیس سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد ان محکمہ جاتی ریفریشر کورسز کے انعقاد کے سلسلہ میں کوئی مثبت تبدیلیاں واقع ہوئیں یا حالات جوں کے توں ہی رہے فیصلہ آپ پر چھوڑ رہا ہوں۔

یہ داستان تاریخ وار ڈائری کی شکل میں لکھی ہوئی ہے۔ جو تاریخیں درمیان میں مس ہو گئی ہیں اُن تاریخوں میں، میں وہاں سے غیر حاضر رہا اور اس غیر حاضری پر اپنے دفاع میں میرے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ ماسوائے اس کے کہ میں بھی اسی نظام کا ایک معمولی سا پرزہ تھا میں نے اب ان تاریخ وار لکھے ہوئے واقعات کو اُن کی مناسبت سے صرف ایک عنوان ضرور نیا دیا ہے۔ جو اشاعت کے لئے ضروری تھا۔ باقی سب کچھ انہی الفاظ میں ہے۔

حسب معمول کچھ دیر سے ہی سکول پہنچا۔ ہیڈ ماسٹر گرامی صاحب سے ملاقات کے بعد معلوم ہوا کہ ملتان میں ہماری اشد ضرورت ہے کیونکہ محکمہ تعلیم کی طرف سے ایک محبت نامہ ہمارے نام موصول ہوا تھا۔ جس میں ہمیں فوراً ملتان پہنچ کر اپنے علم کو دوبارہ تازہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔ اس ناگہانی آفت سے پیچھا چھڑانے کے لئے حیلے بہانے لیت و لعل، پس و پیش، معذوری و مجبوری، دھونس دھاندلی، منت سماجت غرض کہ ہر ہتھیار آزمایا مگر ہر وار اوچھا ہی پڑتا دکھائی دیا اور بسلسلہ تحصیل علم ملتان جانا ہی ہمارا مقدر ٹھہرا۔

گرامی صاحب نے کاغذات وغیرہ تیار کر کے ہمیں سکول سے فارغ کرنے میں انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ سکول سے فارغ ہوتے وقت ہمیں اس ادارے کا مستقبل آئندہ ایک ماہ کے لئے بالکل تاریک نظر آ رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل کو ڈھارس دی کہ سکول کی بھلائی کے ٹھیکیدار کوئی ہم ہی تھوڑی ہیں۔ انہی سوچوں میں غلطاں اس امید پر ایم سی ہائی سکول میں آئے کہ ملتان جاکر بارِ علم اٹھانے سے بچ جائیں۔

یہاں شفیع صاحب کو ایک بچے کے والد کے ساتھ محو گفتگو پایا۔ شفیع صاحب اسے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ تمہارا بچہ چھٹی جماعت میں داخلے کا اہل نہیں۔ جبکہ فریق ثانی اس بات پر مصر تھا کہ بچہ پانچویں جماعت پاس کر چکا ہے۔ اس کے بعد چھٹی جماعت میں ہی داخلہ ممکن ہے۔ چوتھی میں نہیں۔ بہر حال مذاکرات کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر تعطل کا شکار ہو گئے۔ مذاکرات میں ناکامی کے بعد موصوف ہماری طرف متوجہ ہوئے اور وجہ تشریف آوری دریافت فرمائی۔

ہم نے مریل سی آواز مین مدعائے دل کہہ سنایا۔ اظہار ہمدردی کے بعد انہوں نے حکم نما مشورہ دیا کہ ملتان جانا ہی بہتر ہو گا۔ غرض کہ ہر طرف سے مایوس ہو کر گھر آئے اور رخت سفر باندھنے کی تیاری کرنے لگے۔ کپڑوں کا جائزہ لیا گیا۔ پرانے سوٹ کیسوں سے بوسیدہ پتلونیں اور بشرٹیں نکال کر ان کا جائزہ لیا گیا اور قدرے کم بوسیدہ جوڑوں کو ساتھ لے جانے کے لئے بڑی احتیاط سے منتخب کیا گیا۔ اب ساز و سامان کو بند کرنے کے لئے کسی تھیلے یا بیگ کی ضرورت تھی۔

حاضر مال کو جانچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کباڑ خانے میں کوئی بیگ یا اٹیچی کیس اس قابل نہیں کہ ہمارے اس علمی سفر میں ساتھ نبھانے کا متحمل ہو سکے۔ نیا بیگ خریدنے کے ارادے سے بازار گئے۔ مختلف دکانوں کی جانچ پڑتال کے بعد ایک مخصوص دکان اور اس دکان میں موجود ایک مخصوص بیگ پر نظر انتخاب ٹھہری۔ دکاندار کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرنا شروع کیا۔ اس نے ڈیڑھ سو مانگا ہم خاموش رہے۔ ہوتے ہوتے دکاندار اسی روپے پر آ گیا۔

ہم پھر بھی خاموش رہے۔ ہماری یہ خاموشی ایک تجربہ کار گاہک کی خاموشی نہیں تھی بلکہ ہم تو یہ سوچ رہے تھے کہ ہم جس بیگ کے 140 روپے دینے والے تھے۔ وہ اسی روپے مل رہا ہے۔ مگر اب ذہن اس نکتے پر پھنسا ہوا تھا کہ شاید یہ صرف چالیس روپے میں ہی مل جائے۔ بہر حال سودا نہ ہو سکا اور ہم نے بیگ کی خریداری کا مرحلہ اگلے دن پر رکھ چھوڑا۔ آج کے دن کا سب سے پر لطف واقعہ اس وقت پیش آیا۔ جب شیخ صاحب سے دکان پر ملاقات ہو گئی۔ دکان میں گاہکوں کا رش تھا۔ اس لیے میں نے شیخ صاحب کو دکان کے پیچھے والے کمرہ میں آنے کو کہا۔ شیخ صاحب جونہی کمرے میں داخل ہوئے انہوں نے رمبا سمبا ناچنا شروع کر دیا اور وہ منہ سے آوازیں بھی اسی قسم کی نکال رہے تھے۔ جیسی آوازیں رمبا سمبا ناچنے والوں کے منہ سے نکلا کرتی ہیں۔ ہم حیران تھے کہ یہ اچانک انہیں کیا ہو گیا۔ ابھی تو بھلے چنگے دکان میں داخل ہوئے تھے۔ اور ان کا ناچنے گانے کو کوئی پروگرام نظر نہ آتا تھا۔ ہم نے ایک دو بار ان سے اس موڈ میں اچانک تبدیلی کی وجہ دریافت کر نے کی کوشش کی لیکن وہ اس کام میں اس قدر مگن تھے کہ جواب دینے کے لیے فرصت نہ تھی۔

ہم ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے۔ کہ شیخ صاحب کو اس کام سے روکا جائے یا رمبا سمبا ناچنے میں ان کا ساتھ دیا جائے کہ اچانک ایک پاؤ بھر کا چوہا ان کی شلوار کے پائنچے سے برآمد ہو کر پاس پڑی ہوئی روئی میں چھپ گیا اور ہم پر بھی حقیقت واضح ہو گئی۔ کہ شیخ صاحب ازخود نہیں ناچ رہے تھے بلکہ ان کی شلوار میں گھسا ہوا چوہا انہیں ناچنے پر مجبور کر رہا تھا۔ پتہ نہیں بعض اوقات بالکل بے ضرر قسم کی چیزیں انسان کو اتنا خوفزدہ کیوں کر دیتی ہیں۔

Facebook Comments HS