مردم شماری 2023 کے اہم نتائج
پاکستان بیورو آف شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے، آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اگر یہ رفتار جاری رہی تو 2050 تک آبادی دوگنی ہو جائے گی۔ آبادی میں اضافے کی شرح پنجاب میں 2.53 فیصد، سندھ میں 2.57 فیصد، خیبرپختونخوا میں 2.38 فیصد اور بلوچستان میں 3.2 فیصد ہے۔
کل آبادی کا 51.48 فیصد مرد اور 48.51 فیصد خواتین پر مشتمل ہے، پوری دنیا میں صرف صحارا افریقہ میں یہ شرح پاکستان سے زیادہ ہے۔ باقی دنیا میں پاکستان آبادی میں اضافے کے لحاظ سے سب سے اوپر ہے۔
چونکہ اس ڈیجیٹل مردم شماری میں شناختی کارڈ کی کوئی شرط نہیں تھی، خاص طور پر کراچی میں رہنے والے افغان اور بنگالی جن کے پاس جعلی شناختی کارڈ ہیں، وہ اب یہاں کے شہری بن چکے ہیں۔ اگرچہ اس مردم شماری میں افغانوں، چینیوں اور دیگر کو الگ الگ خانوں میں شمار کیا گیا ہے لیکن ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے۔
اس ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق کراچی کی اردو بولنے والی آبادی جو 2017 میں 42 فیصد تھی اس بار 50.62 فیصد ہو گئی ہے۔ جب کہ کراچی میں سندھی آبادی 2017 میں 10.67 فیصد تھی، اسے 11.2 فیصد دکھایا گیا ہے۔ کراچی میں اردو بولنے والی آبادی میں پانچ سالہ ہیڈ کاؤنٹ میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ 1998 سے مسلسل کم ہو رہی تھی۔ کراچی کی اردو بولنے والی آبادی 1981 میں زیادہ سے زیادہ تھی، یعنی 54 فیصد تھی جو 1998 میں 48.52 فیصد، 2017 میں 6.22 فیصد کی کمی کے ساتھ 42.30 فیصد ہو گئی، جو کہ پانچ سالوں میں 8.32 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے، جس نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کو پھر سے متنازع بنا دیا ہے۔ ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری 5 اگست 2023 کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والی مشترکہ مفادات کونسل میں دی گئی جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی۔
سندھ کے عوام کو شروع ہی سے ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے خدشات تھے، پھر وفاقی حکومت گنتی میں پانچ مرتبہ اضافہ کر دیا، جس سے یہ سارا عمل مکمل طور پر متنازع ہو گیا۔ چیف کمشنر مردم شماری نعیم ظفر نے گنتی کے عمل سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے کی آبادی 5 کروڑ 79 لاکھ ہے، کراچی کی آبادی 1 کروڑ 73 لاکھ ہے جو کہ 98.58 فیصد مکمل ہے، یعنی ڈیڑھ فیصد آبادی کی گنتی رہتی ہے۔
اب جب کہ آبادی کے حتمی اعداد و شمار جاری ہوچکے ہیں، پورے سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ ظاہر کی گئی ہے جو کہ پہلی گنتی سے 26 لاکھ کم ہے۔ دوسری جانب کراچی کی آبادی جو ایک کروڑ 73 لاکھ بتائی گئی تھی جو تقریباً 14 لاکھ کے اضافے سے ایک کروڑ 88 لاکھ 58 ہزار ہو گئی ہے۔ جبکہ کراچی کے علاوہ دیگر اضلاع میں تقریباً 35 لاکھ آبادی کم تعداد مین ظاہر کی گئی ہے، جن میں لاڑکانہ، خیرپور، جیکب آباد، شکارپور اور سانگھڑ شامل ہیں۔ جس کو بعض ماہرین نے ”ڈیموگرافک انجینئرنگ“ کہا ہے۔
1947 سے سندھ کی آبادی میں غیر سندھیوں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سندھی آبادی کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے۔ 2017 کے انتخابات میں پہلی بار چاروں صوبوں میں آبادی کے تناسب کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستیں تبدیل کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی کی 7 نشستیں کم ہوئیں جو کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبے میں شامل کی گئیں۔
2017 کی مردم شماری کے نتائج پر نواب شاہ، نوشہرو فیروز اور شکارپور کی ایک ایک صوبائی اسمبلی نشست کم کر کے دو نشستیں کراچی ڈویژن میں شامل کی گئیں۔ ضلع خیرپور کی زیادہ گنتی کے باعث وہاں ایک نشست کا اضافہ کیا گیا ہے، جیکب آباد، کشمور کی قومی اسمبلی کی ایک نشست کراچی میں شامل کی گئی۔ اسی طرح 2024 کے الیکشن میں 2023 مردم شماری کے مطابق کے پانچ سال میں ضلع سانگھڑ کی آبادی میں کمی کی وجہ سے ایک قومی اسمبلی کی ایک صوبائی اسمبلی کی نشست ایک خیرپور کی صوبائی اسمبلی کی نشست کو کراچی ڈویژن میں شامل کیا گیا۔
بدقسمتی سے کراچی کی بڑھتی ہوئی گنتی اب کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر ڈویژنوں اور اضلاع کی نشستیں کم کر رہی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندی میں دیگر ڈویژنوں کی نشستیں کم ہوں گی۔ اس لیے اب سندھ میں سیاسی کشمکش شہری اور دیہی علاقوں کے حوالے سے بڑھے گی۔
2023 کی مردم شماری میں سالانہ شرح نمو بلوچستان میں 3.20، سندھ میں 2.57، پنجاب میں 2.53 اور خیبرپختونخوا میں 2.38 ظاہر کی گئی ہے، 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 صوبوں کا حصہ پنجاب کا حصہ 53.0 تھا۔ 2023 میں کم ہو کر 52.9 ہو گیا۔ 2017 میں سندھ کا 23.00 جو کہ معمولی اضافے کے ساتھ 23.1 ہے، خیبر پختونخوا کا 2017 میں 17.1 تھا اب 16.9 ہے، جب کہ بلوچستان کا حصہ 2017 میں 16.9 فیصد تھا اب 2023 کی مردم شماری میں 17.1 فیصد ہے۔
2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ شہری آبادی 53.97 فیصد ہے، جب کہ اسلام آباد کی شہری آبادی 46.91 فیصد، پنجاب میں 40.71 فیصد، خیبر پختونخوا میں صرف 15.01 فیصد، اور بلوچستان کی شہری آبادی 30.96 فیصد ہے۔ 5 لاکھ یا اس سے زیادہ آبادی والے پاکستان کے 22 بڑے شہروں میں سے سندھ کے صرف چار شہر کراچی، حیدر آباد، سکھر اور لاڑکانہ یہ درجہ حاصل کر پائے ہیں۔
2023 کی مردم شماری میں پاکستان میں مادری زبانوں میں سب سے بڑا فرق اردو کی آبادی میں نظر آیا ہے، جس کے مطابق 2017 میں اردو بولنے والوں کی تعداد 7.25 فیصد تھی، اب وہ 2023 میں بڑھ کر 9.25 فیصد ہو گئی ہے۔ 2017 میں سندھی 14.57 فیصد، 2023 میں 14.31 فیصد، 2017 میں پشتو بولنے والوں کی تعداد 18.24 فیصد، 2023 میں 18.15 فیصد، بلوچ 2017 میں 3.2 فیصد، 2023 میں 3.23 فیصد، 2017 میں سرائیکی بولنے والے 12.19 فیصد 2023 میں 12 فیصد، ، براہوی 2017 میں 1.24 فیصد اور 2023 میں 1.16 فیصد بنتے ہیں۔
2023 کی مردم شماری میں ملک کی شرح خواندگی اسلام آباد میں 84 فیصد، پنجاب میں 66 فیصد، سندھ میں 58 فیصد، خیبرپختونخوا میں 51 فیصد اور بلوچستان میں صرف 42 فیصد رہی ہے۔


