ہنی ٹریپ۔ خلیل الرحمٰن قمر کے بعد ڈاکٹر فیصل قیصرانی۔ کیا سچ کیا فسانہ؟


dr tehreem javaid

”معاشرہ برے مرد کی وجہ سے نہیں بری عورت کی وجہ سے تباہ ہوتا ہے“ جیسے شہرہ آفاق جملوں کے خالق خلیل الرحمٰن قمر کے مبینہ اغوا کی خبریں چلیں تو ہر نئے موڑ پہ کہانی رخ بدلنے لگی۔ کچھ لوگ لبرل لوگوں پر جو وطن عزیز میں بمشکل ہزار بارہ سو ہوں گے تنقید کرنے لگے کہ خدارا یہ وکٹم بلیمنگ نا کیجیے۔ جیسے بچپن میں امائیں کاکوں کو الو بناتی ہیں کہ بیٹا پھر تم میں، اور ان میں کیا فرق رہ جائے گا۔

موصوف کو ماروی سرمد پہ تنقید سے شہرت ملی تھی۔ عورت مارچ کرنے والی عورتوں کو بد کردار قرار دیتے تھے کیونکہ بقول ان کے ”میرا جسم میری مرضی“ کا تو مطلب ہی فری سیکس سوسائٹی ہے۔ معاشرے کو ان بری عورتوں سے بچانے کا ٹھیکا جناب خلیل الرحمان قمر نے از خود ہی لے لیا تھا۔

”میرے پاس تم ہو“ سے شہرت کی نئی بلندیوں کو چھو لینے والے موصوف ہر پوڈ کاسٹ میں کھلم کھلا سگرٹ پی کر کول بننے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ بہرحال اب جناب
جذب کے اس عالم میں پہنچ چکے تھے جہاں اداکاراؤں کے کیرئیر بنانے اور اجاڑنے کی گارنٹیاں دیتے تھے لیکن Karma is a bitch۔

تو ہوا یہ کہ مچھلی پھانستے پھانستے خود شکار ہو گئے۔ اصل کہانی ابھی بھی دبائی جا رہی ہے لیکن کیا یہ کہانی کم ہے کہ اس شکار قمر سے کسی کو رتی برابر بھی ہمدردی نہیں ہے۔ دھونس کی انتہا دیکھیں کہ اس لڑکی آمنہ عروج کو کئی دن قانونی کارروائی کے بغیر ہی حراست میں رکھا گیا تا آنکہ خلیل قمر کے آگے اس نے گھٹنے نہیں ٹیک دیے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ساری انڈسٹری ایسے شخص کا بائیکاٹ کرتی لیکن وہ تو مظلوم بنا ہر پوڈ کاسٹ میں جا کر تاویلیں دے رہا ہے۔ کہ بھائی اپنی لڑکیوں کو سنبھالو۔ ارے بھائی سنبھل تو خود تو نا سکا۔ اتنی عورتوں کے ساتھ تعلق کے باوجود رال ٹپکانے پہنچ گیا۔ ہمارے لوئر کلاس کے مرد بڑی تکلیف کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پہ، ادھر ادھر جو سامان دیکھتے ہیں اسے افورڈ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ پاکستانی مرد عمر ڈھلے ذرا سا آسودہ حال ہوا نہیں کہ پہلا خیال دوسری شادی کا آ گیا۔ پھر شادی کے بغیر نپٹائے جانے والے معاملات ہیں۔ تو ایک ایسے مرد کے بارے میں جب ”ہنی ٹریپ“ کا چونا لگایا جائے گا جس کی کئی شادیاں اور گرل فرینڈز ہوں تو کون کافر مانے گا۔

ابھی اسی واقعے کی باز گشت تھمی نا تھی کہ ڈاکٹر فیصل قیصرانی سی ای او ہیلتھ، ملتان، بھی ہنی ٹریپ کا مزا لینے پہنچ گئے۔ اب ان کی بھی درد بھی کہانی سن لیں۔ فرماتے ہیں میں تو نوکری دینے گیا تھا۔ یہ لوگ تو جو لوگ نوکریاں کر رہے ہوتے ہیں ان کی چھیننے کے درپے رہتے ہیں اور یہ مرد مجاہد دینے ہی پہنچ گیا۔

اس سادگی پہ کون نا مر جائے اے خدا۔

قربان جائیں ڈاکٹر صاحب کی نیک طبیعت پہ۔ ماشا اللہ عملی با شرع مسلمان ہیں لیکن نا محرم خاتون کے پھینکے جال میں پھنسنے سے خود کو نا روک سکے اور ویڈیو بنوا بیٹھے۔ شیطان بھی کیسے کیسے روپ بدل بدل کر وار کرتا ہے۔ خدا بچائے سب مسلمانوں کو۔

حل کیا ہے۔ سائبر کرائم کے قوانین کو مزید بہتر بنائیں۔ قابل رسائی بنائیں۔ یہ نا ہو کہ خلیل الرحمن قمر کے آگے بچھ بچھ جائیں اور کوئی قسمت کی ماری لڑکی آ جائے تو اس پہ پل پڑیں۔ دوسرا مسئلہ جنسی نا آسودگی اور ادھوری خواہشات کا ہے۔ شادی یہاں پہ خاندانوں اور جسموں کے بیچ ہوتی ہے۔ دماغوں اور روحوں کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہوتا۔ یہ وجہ ہے کہ مار کٹائی کے بیچ بھی آٹھ دس بچے ہو ہی جاتے ہیں کیونکہ سہارا چاہیے ہوتا ہے ماں باپ کو، جنہیں خود اولاد کا سہارا بننا تھا۔

اتنے بچے پیدا کرنے کے بعد عورت خون کی کمی کا شکار، خود سے بے زار، اولاد کو پالنے سے اوازار زندگی کے مسئلوں کے بیچ جھول رہی ہوتی ہے کہ اب ذرا آسودہ، چار پیسے کمانے والا اس کا مرد دوسرے چکروں میں پڑ جاتا ہے۔ باہر پھرنے والی تیز طرار، کم عمر دوشیزہ من کو بھانے لگتی ہے۔ یہ اور بات کہ یہ ادائیں بیوی دکھائے تو جوتے ہی کھائے۔ خماری کے اس عالم سے نجات تب ملتی ہے جب عالم مدہوشی کے لمحات کی بن جاتی ہے ویڈیو اور پھر نام لگ جاتا ہے بے چارے ہنی ٹریپ کا۔

برسبیل تذکرہ یہ اعداد و شمار بھی دیکھتے جائیے۔ جولائی کے صرف 24 دنوں میں پاکستان کے صرف ایک شہر منڈی بہاؤ الدین میں خواتین کے اغوا اور جنسی زیادتی کی 46 ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں۔ یہ آج کے ڈان اخبار کی خبر ہے۔ اس میں ایک اور رپورٹ کا حوالہ ہے جس کے مطابق 2023 کے دوران پنجاب میں اوسطاً ہر 45 منٹ میں ایک خاتون کا ریپ ہوا۔

”خاتون وزیر اعلیٰ کو خواتین کے تحفظ کے لیے کچھ کرنا چاہیے،“ یہ فرماتے ہیں مبشر زیدی۔ ارے بھیا تم امریکہ میں چین کی بنسری بجاؤ۔ ہمیں نا نیند سے جگاؤ۔ اس مملکت خدا داد میں عورتوں کو سب حقوق مل چکے ہیں یہ ڈیٹا امریکا کا ہو گا۔ ہمارے ملک میں عورتیں بہت محفوظ ہیں۔ اتنی کہ گروہ بنا کر وارداتیں کرنے لگی ہیں۔ یہ اور بات کہ آمنہ عروج کا کہنا ہے کہ وہ دونوں اطراف سے بلیک میل ہو رہی تھی۔ کچھ نا سمجھے خدا کرے کوئی۔

Facebook Comments HS