آئی پی پیز کو قومی تحویل میں لیا جائے


80ء کی دہائی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا جن بوتل سے باہر نہیں آیا تھا اس کے بعد پھر یہ جن آج تک کسی کے قابو میں نہ آ سکا، 80 ءکی دہائی سے سے قبل بجلی تب ہی جاتی تھی جب کوئی مقامی یا نیشنل گرڈ میں کوئی نقص پیدا ہوتا تھا ورنہ دن رات کبھی ذہن میں ہی نہیں آتا تھا کہ بجلی بھی جائے گی، آمر ضیاء الحق گیارہ سال ملک پر مسلط رہا، اس کی وردی کی قوت اور ہیبت اتنی زیادہ تھی کہ کسی کو اس کے سامنے احتجاج تو دور کی بات بولنے کی بھی جرات نہ تھی، ان گیارہ سالوں میں بجلی کی طلب بڑھتی رہی مگر آمر کو صرف اپنی وردی سے پیار تھا اس نے بجلی کے معاملے پر توجہ ہی نہ دی اور یوں یہ بحران بڑھتا ہی گیا

فوجی آمر کی ہولناک موت کے بعد پاکستان میں جمہوریت بحال ہوئی اور پیپلز پارٹی کو حکومت ملی، بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں، پھرضیاء الحق کے منہ بولے بیٹے نواز شریف نے ان کا مشن آگے بڑھانے کی قسم اٹھائی اور اقتدار کی آنکھ مچولی شروع ہو گئی، 93 ءمیں بینظیر دوبارہ وزیراعظم بنیں تو اس وقت تک بجلی کا بحران شدت اختیار کرچکا تھا، ان حالات میں انہوں نے فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے انڈیپینڈنٹ پاور پلانٹس (آئی پی پیز) بنانے کے لئے معاہدے کیے کیونکہ ڈیم بنانے کے لئے لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے

پھر نواز شریف نے 97 ءمیں مزید پاور ہاؤسز لگانے کے معاہدے کیے یہ بینظیر اور نواز شریف ادوار میں مہنگے معاہدے تھے جس پر آج تک سوالات اٹھ رہے ہیں پھر مشرف دور میں 22 آئی پی پیز کے معاہدے کیے گئے، اس کے بعد پھر گیلانی دور میں بھی مزید معاہدے ہوئے اور پھر 2013 سے 2018 تک نواز حکومت میں آئی پی پیز کے معاہدوں کی لائن لگا دی گئی اور یہ نعرہ لگایا کہ مسلم لیگ نون نے ملک سے اندھیرے ختم کر دیے ہیں، یعنی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے، شہباز شریف نے یہ معاہدے اپنے دور حکومت میں مکمل کرنے کے لئے ”شبانہ روز“ محنت کی جس کا نتیجہ آج ساری قوم بھگت رہی ہے

اتنی مہنگی بجلی اس وقت دی جا رہی ہے جو عوام کی قوت خرید سے بہت باہر ہے، لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والے افراد بھی چیخ اٹھے ہیں، اس کی وجہ صرف مہنگے آئی پی پیز معاہدے ہیں، اس وقت چند مثالیں دے رہا ہوں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئی پی پیز کے گدھوں نے کس طرح حکومتوں کو نوچنا شروع کیا اور یہ سلسلہ جاری ہے

موجودہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے 2015 ءمیں نواز شریف کی حکومت میں ملک کو لوڈشیڈنگ سے باہر نکالنے کے لئے بہت بھاری سرمایہ کاری توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کی گئی جس کے بعد روپیہ نیچے جانا شروع ہوا، انٹرسٹ ریٹ اوپر گیا، معیشت آگے نہ بڑھی، بجلی کے پلانٹس بہت زیادہ لگا لیے ، بجلی اتنی استعمال نہ ہوئی جس کی وجہ سے جو بجلی بنی ہی نہیں تھی اس کا خرچہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے بجلی کے یونٹ کی قیمت اوپر سے اوپر جانے لگی، اس جنجال سے ملک کو کیسے باہر نکالا جائے یہ آج ہماری حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے، وفاقی وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم لیگ نون نے اندھا دھند پاور پلانٹس لگانے کے مہنگے معاہدے کیے

ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ آئی پی پیز مسلم لیگ نون کی حکومتوں میں لگائے گئے، نجی ٹی وی چینل کی اینکر ماریہ میمن نے اپنے پروگرام میں آئی پی پیز کے بارے میں بتایا کہ عوام کو دیے گئے بجلی کے تباہ کن بلوں کے پیچھے شریف خاندان کے لگائے گئے آئی پی پیز ہیں، 3 پاور پلانٹس ایسے ہیں جو بالکل بجلی نہیں بنا رہے لیکن کیپسٹی ادائیگیاں انہیں ادا کی جا رہی ہیں، 37 پاور پلائنٹس ایسے ہیں جو 25 فیصد سے کم بجلی پیدا کر رہے ہیں اور 60 پلانٹس ایسے ہیں جو 25 فیصد تک بجلی پیدا کر رہے ہیں لیکن کیپسٹی ادائیگیاں پوری وصول کر رہے ہیں، دنیا میں یہ اپنی نوعیت کے واحد پلانٹس ہیں جن کو بند رکھ کر بھی کمائی کی جا رہی ہے

معروف تحقیقاتی رپورٹر زاہد گشکوری نے سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں بتایا کہ حبکو پاور پلانٹ 1997 میں لگایا گیا، یہ پلانٹ کئی سالوں سے بند پڑا ہے لیکن حکومت اسے ماہانہ ایک ارب 98 کروڑ روپیہ دے رہی ہیں، یہ پلانٹ حکمران طبقے کا ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 56 بڑے سیاستدان اور شوگر ملز مالکان کے آئی پی پیز ہیں، یہ مجموعی طور پر 1275 ارب روپے لے چکے ہیں، یہ لوگ موجودہ اور گزشتہ حکومتوں میں رہے، انہوں نے مزید بتایا کہ 2019 میں عمران حکومت نے آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کی اور ریٹ میں بہت معمولی کمی کر کے ان پلانٹس کو دس سال تک کی توسیع دیدی، ان کا کہنا ہے کہ 1996 سے لے کر آج تک حکومت عوام کی جیب سے روزانہ 4 ارب روپے نکال کر ان آئی پی پیز کو دے رہی ہے، یہ پاور ہاؤسز 52 فیصد بند پڑے ہیں، معاہدوں کی وجہ سے حکومت پاکستان ان کو ادائیگیاں کرنے کی پابند ہے

سینئر اینکر عمران ریاض نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کے بیٹوں سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے بھی آئی پی پیز ہیں، اسلام آباد کے رپورٹر ذیشان یوسفزئی نے خبر دی ہے کہ 3 کول پاور پلانٹس کو سالانہ 700 ارب روپے کی کیپسٹی ادائیگی کی گئی، یہ فرنس آئل سے دوگنی مہنگی بجلی 60 روپے یونٹ بنا کر دے رہے ہیں، نیپرا متعدد بار اوور انوائسنگ کا ذکر کرچکی ہے

سابق نگران وزیر اعجاز گوہر بھی مہنگی بجلی پر پھٹ پڑے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 30 روپے بنتی ہے مگر حکومت 60 روپے میں دے رہی ہے، 52 فیصد پلانٹس حکومت کے ہیں جبکہ 48 فیصد آئی پی پیز 40 بڑے خاندانوں کے ہیں، وہ بھی پچاس فیصد کی کیپسٹی پر چل رہے ہیں مگر افسوس عوام سے پوری قیمت وصول کی جا رہی ہے، انہوں نے 106 آئی پی پیز کا ڈیٹا سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے، معروف کامرس رپورٹر مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کے لوگ سب پاکستانی ہیں کوئی باہر کا سرمایہ کار نہیں ہے، رواں سال ان کو دو ہزار ارب روپے دیے گئے اگلے سال 2700 ارب روپے دیے جائیں گے

مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اپنے ادوار میں ملک کو تباہی کی جانب دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، عمران حکومت ختم کر کے ملک بچانے کا دعویٰ کر کے آنے والوں نے ہی ملک کی بربادی کی بنیاد رکھی تھی، سب سے زیادہ آئی پی پیز مسلم لیگ نون نے لگائے، ملک کی اس وقت بجلی کی طلب 23 ہزار میگا واٹ ہے مگر سب نے مل کر 48 ہزار میگا واٹ کے پلانٹس لگانے کی اجازت دیدی، اس وقت 25 ہزار کمانے والے شہری کو 18000 روپے بجلی کا بل آ رہا ہے، لوگ جتنی بدعائیں حکمرانوں اور مہنگے پلانٹس لگانے والوں کو دے رہے ہیں اگر ان کی بدعائیں قبول ہو گئیں تو ان میں سے ایک بھی نہیں بچے گا

کہتے ہیں دنیا مکافات عمل ہے، آج شہباز شریف ملک کے وزیراعظم ہیں، یہ جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو موصوف مینار پاکستان پر ٹینٹ لگا کر ہاتھ والا پنکھا جھلتے ہوئے ڈرامے بازیاں کرتے تھے، آج جب وہ وزیراعظم ہیں تو انہی کے لگائے ہوئے پلانٹس کی مہنگی بجلی سے عوام مر رہے ہیں اور یہ اب بھی ملک کو پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے اپنے کپڑے بیچنے کا چورن بیچ رہے ہیں

مجھے تو حیرت ہوتی ہے جناب ”حافظ صاحب“ کو سرحدوں پر دشمن کی دہشتگردی تو نظر آ رہی ہے مگر سیاستدانوں نے مہنگی بجلی کے معاہدے کر کے عوام کے ساتھ معاشی دہشتگردی کی ہے وہ ان کو نظر نہیں آ رہی، قوم کی نظریں اب ان کی طرف ہیں کہ وہ ان معاشی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کب شروع کریں گے اور عوام کو ان سے نجات دلائیں گے

ماہر معاشیات شبر زیدی نے اس مسئلے کا ایک حل بتایا ہے کہ حکومت تمام آئی پی پیز خود خرید لے اور ان کو قسطوں میں ادائیگیاں کرے، حکومت 50 ارب روپے کی مالیت سے لگائے گئے ان پاور پلانٹس کو اب تک 450 ارپے روپے ادا کرچکی ہے مگر میرے نزدیک یہ کوئی حل نہیں، اگر حکومت نے یہ پلانٹس خرید لئے تو کل کو یہی پلانٹس پھر حکومت کے لئے درد سر بن جائیں گے جیسے پی آئی اے اور دیگر ادارے درد سر بنے ہوئے ہیں اس لئے بہتر ہو گا کہ تمام نجی پاور پلانٹس کو قومی تحویل میں لے لیا جائے اور ان کو دس سال بعد ادائیگیاں شروع کی جائیں کیونکہ انہوں نے عوام کو بہت لوٹ لیا ہے، یہ واحد حل ہے جس سے عوام کو سکھ کا سانس مل سکتا ہے ورنہ آئی پی پیز معاہدے 2036 تک کے ہوئے ہیں، اس وقت تک عوام میں شاید ہی کوئی زندہ بچا ہو گا۔

Facebook Comments HS