اسد محمد خان کے افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ


طیبہ طارق

chainofmotivation@gmail.com

تعارف :

اسد محمد خان وسط ہند کے علاقے کی ریاست بھوپال میں 4 ستمبر 1932ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں عزت محمد خان علاقے کے ہائر سیکنڈری سکول میں مصوری کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ والدہ منور بیگم مرزا غالب کے شاگرد نواب یار محمد خان شوکت کی پوتی تھیں۔ اس طرح اسد محمد خان ننھیال کی طرف سے نواب خاندان اور ددھیال کی طرف سے پٹھانوں کے آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ میرائی خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ پٹھانوں اور نوابوں کی ازلی جرات اور انا پسندی ان کے مزاج اور تحریر دونوں کا وصف خاص ہے، اسد محمد خان نے شاہجہانی ماڈل سکول بھوپال سے میٹرک کیا، انٹر میں عملی سیاست میں حصہ لینے لگے، کمیونسٹ پارٹی بنائی گرفتار بھی ہوئے سترہ دن حوالات میں رہے اس کے بعد باقاعدہ معافی نامہ لکھ کر دیا اور 1950ء میں پاکستان آ گئے۔

کراچی میں انٹر آرٹس میں داخلہ لیا اور سندھ مسلم کالج سے بی اے کیا، کراچی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا لیکن امتحان نہ دے سکے، ایل ایل بی میں بھی ایک سال پڑھا، روز نامہ احسان (لاہور) کے لیے کارٹون اسکیچ بنانے۔ اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر بھی رہے، کے پی ٹی بحیثیت کلرک بھرتی ہوئے اور ریٹائرمنٹ (1992ء) تک یہیں کام کرتے رہے۔ 1965ء کی جنگ کے دوران ریڈیو نیوز ریڈر بھی رہے دو شادیاں کیں۔

اسد محمد خان کی اولین ادبی تحریر دو تصوراتی خاکے تھے اس وقت وہ میٹرک کے طالب علم تھے اور یہ دونوں نثری خاکے سکول میگزین میں شائع ہوئے۔ 1960 ء میں انھوں نے شاعری شروع کی ’نو منزلہ بلڈنگ‘ ان کی پہلی مطبوعہ نظم ہے۔ 1970ء میں انھوں نے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔ ان کا پہلا مجموعہ ’کھڑکی بھر آسمان‘ ان کی نظموں اور افسانوں دونوں پر مشتمل ہے۔ اسد محمد خان نے تراجم بھی کیے ہیں۔ شاعری کے علاوہ موسیقی سے بھی خاص شغف رکھتے ہیں۔ انھوں نے وارث شاہ کے 39 سروں میں سے گیارہ سروں پر گیت لکھے ہیں۔

تصانیف :
کھڑکی پھر آسمان (کہانیاں اور نظمیں ) 1982ء
برج خموشاں (کہانیاں ) 1990ء
رُکے ہوئے ساون (گیت) 1997ء
غصے کی نئی فصل (کہانیاں ) 1997ء
نریدا اور دوسری کہانیاں (کہانیاں ) 2003ء
جو کہانیاں لکھیں (کلیات) 2005ء
ایک ٹکڑا دھوپ کا ( 12 افسانے ) 2010ء
ٹکڑوں میں کی گئی کہانیاں (افسانے ) 2016ء
اعزازات :
قومی ادبی ایوارڈ اکادمی ادبیات پاکستان) 2003ء
احمد ندیم قاسمی ایوارڈ برائے فکشن 2004ء
مجلس فروغ اردو ادب انعام 2007ء
شیخ ایاز ایوارڈ برائے ادب 2007ء
تمغہ امتیاز 2009
تہذیب ایوارڈ 2010ء
اسد محمد خان کی افسانہ نگاری :

اسد محمد خان کے افسانوں میں تاریخ، تہذیب معاشی استحصال کے جدید طریقے، معاصر زندگی کی جبریت اور اس کے پیچیدہ حقائق، مذہب کی ظاہری دنیا، تکلیف دہ عمومی معاشرتی رویے جیسے موضوعات ملتے۔ ان کے بعد کے افسانوں میں پاکستانی معاشرے کے سیاسی موضوعات بھی موجود ہیں مگر یہ موضوعات عام انسانی کرب کی کہانیوں میں ملفوف نظر آتے ہیں۔ اسد محمد خان کے پاس ان متنوع اور مشکل موضوعات کو پیش کرنے کا کافی سلیقہ بھی ہے۔ موضوعات کی پیشکش میں انھوں نے مشاہدے کی گہرائی کے ساتھ وسیع مطالعے سے بھی کام لیا ہے۔ ان کے افسانوں میں ڈرامائی عناصر بھی ملتے ہیں اور بعض جگہوں پر علامتی انداز بھی اپنایا گیا ہے

انوار احمد لکھتے ہیں :

”اسد محمد خان یوپی، پنجاب، سرحد اور کراچی میں آباد متنوع انسانوں کے ہر لہجے کی بازیافت تخلیقی سطح پر کر سکتا ہے۔ پھر اس کے مشاہدے، تجربے، مطالعے اور تخلیقیت نے اسے اتنا رنگارنگ مواد دیا ہے۔ جو اس کے معاصرین کو بہت کم نصیب ہوا ہے“

اسد محمد خان کے افسانوں پر ایک نظر:

اسد محمد خان ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے پاس زندگی کا ہر گہرا تجربہ، فطرت انسانی کا شعور اور اظہار کے لیے بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ زندگی سے لپٹی ہوئی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے نئے نئے فنی وسائل اور تکنیک میں ان کا ثانی کوئی نہیں۔

اسد محمد خان کے افسانوں کے موضوعات:
مختلف تجربات
طبقاتی کشمکش
علامتی انداز
مذہبی پہلو
سماجی مسائل کی ترجمانی
عہد جدید کی افراتفری کی عکاسی
مختلف تجربات:

اسد محمد خان زندگی کے مختلف تجربات سے گزرے ہیں۔ اس لیے وہ انسانی فطرت کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں عہد جدید کی تیز رفتار اور منتشر زندگی کے مسائل اور ان کے اظہار کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اس لیے ان کا اسلوب اساطیری، تاریخی حوالے اور ہندی الفاظ کا استعمال قاری کو عجیب حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

ان کی تکنیک پڑھنے والے کے خون میں سرایت کر جاتی ہے ان کے ہاں کئی مناظر زوال پذیر ہوتے ہیں ان مناظر میں کئی زمانوں اور علاقوں کے لوگ آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں ان کے ہاں کراچی کے جھگیوں میں بسنے والے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کے لہجوں کی بازیافت کی گئی۔

طبقاتی کشمکش :

اسد محمد خان نے اقتصادی حالات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبقاتی کشمکش کو موضوع بنایا ہے۔ انہوں نے بڑے شہروں کے حالات اور طبقاتی تفرقوں سے پیدا ہونے والی تلخیوں کو پیش کیا ہے۔ ان کے ہاں زمیندار، مالک اور مزدور میں دولت کی تقسیم سے پیدا ہونے والی طبقاتی کشمکش مختلف روپ دھار کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ اسد محمد خان نے علامتی انداز میں کہانیاں پیش کر کے حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں ان کا ایک افسانہ ”چاکر“ ہے جس میں اقتصادی مجبوریوں کے ساتھ طبقاتی کشمکش بھی نظر آتی ہے۔

اس افسانے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے طاقتور لوگ غریبوں کا استحصال کرتے ہیں اس افسانے میں قحط سالی کے زمانے میں لوگوں کی بے بسی، وڈیروں کے ظلم اور غیر انسانی حرکات کی ایک داستان دیکھنے کو ملتی ہے۔ ڈاڈا ملک جو کہ ایک مالدار شخص ہے وہ کیسے غریبوں کو خوراک دینے کے بدلے میں ان کی زمینیں اور گھر بار ہتھیا لیتا ہے۔ اس کا اندازہ افسانے کے اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔

”مگر یہ کھیت طرے والوں کے تھے اور دریا پر مچھلی پکڑنے کا ٹھیکا ڈاڈے ملک کا تھا جو کبھی کبھار پر خیرات کی طور پر گھنٹے دو گھنٹے کے لیے یا گھر، باڑے اور زمین کے چھوٹے ٹکڑوں کے عوض دو دو چار چار دن کے لیے مچھلی پکڑنے کی اجازت دے دیتا تھا۔ جب اس کے آدمی کاغذ پر انگوٹھے لگوا کر گھروں اور باڑوں سے گزر جاتے تب ہارے ہوئے جواریوں کی طرح مرے مرے قدموں سے گھر یا زمین کے سابقہ مالک اپنے حال اور مچھلی کے شکار کی چھڑیاں اٹھائے دریا کے کنارے پہنچتے اور دوچار دن تقدیر آزماتے ان کے نصیب کا جو کچھ ملتا دریا سے حاصل کر لیتے بغیر اجازت مچھلی پکڑنے والوں کا حشر چوروں سے بدتر کر دیا جاتا تھا۔ حق خدا کے نام پر خیرات نکالنے والے ملکوں نے قحط کی بھیانک شکل دیکھ کر اپنی اناج کی کوٹھیوں کے منھ بند کر دیے تھے“

علامتی انداز :

اسد محمد خان کی پہچان کی ایک اور وجہ ان کا علامتی انداز ہے۔ وہ تاریخی واقعات کو انتہائی شاندار طریقے سے پیش کرتے۔ ہیں ”شہر کوفے کا ایک آدمی“ کربلا کے تاریخی واقعات پر مبنی ان کا ایک علامتی افسانہ ہے۔ ایک شخص سوچتا ہے کہ اگر وہ جنگ کربلا کے وقت ہوتا تو بہت کچھ کر سکتا تھا۔ لیکن موجودہ وقت میں حق کے لیے جو جنگ ہو رہی ہے اس میں وہ خاموش ہے دراصل ہر شخص مصلحت اور منافقت کے کوفے میں آباد ہے اور چاہتے ہوئے بھی حق کی اس جنگ کا حصہ دار نہیں ہو پا رہا ہے۔

اقتباس ملاحظہ کریں۔

” اس نے آخری بات مجھ سے یہ بھی کہی بھائی میرے! میں بھی، تم بھی اور ہم سب اصل میں اپنی اپنی مصلحت اور منافقت کے کوفے میں آباد ہیں اور حق کے لئے جنگ کرنے والے کسی وجود سے آنکھیں نہیں ملا سکتے چاہے وہ استقامت کی سب سے بڑی علامت حسین رضی اللہ عنہ ہوں یا موجودہ تاریخ کے فلسطینی اور کشمیری ”

مذہبی پہلو : حج کی خواہش:

افسانہ ”باسودے کی مریم“ یہ ایک دل کو چھو لینے والی جذباتی کہانی ہے۔ مریم گھر میں کسی بزرگ کی حیثیت سے رہتی ہے اور اس کا بیٹا ممدو باسودے میں رہتا ہے۔ مریم حج پر جانے کی خواہش مند ہے جس کے لیے وہ پائی پائی جمع کرتی ہے۔ حج پر جانے کی ساری تیاریاں ہو چکی ہیں، ٹکٹ کا انتظار ہے۔ جبھی ممدو کی بیماری کا خط آتا ہے۔ مریم سارا مال و متاع جمع کر روتی بسورتی باسودا روانہ ہو جاتی ہے۔ ممدو کو لے کر وہ ہسپتال میں بھٹکتی رہتی ہے۔

اور پھر گھر واپس آجاتی ہے۔ بالآخر ممدو کا انتقال ہو جاتا ہے ایک بار پھر سے مریم حج کے کے لیے تیاریاں شروع کر دیتی ہے۔ خدا نے تو اس کے لیے کوئی اور ہی فیصلہ کر رکھا ہے۔ اس بار بھی وہ جج پر نہیں جا پاتی ہے کہ خدا کا بلاوا آ جاتا ہے۔ مرتے ہوئے مریم جو دو وصیتیں کرتی ہے ان میں سے ایک وصیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں یہ عرض کرنا ہوتا ہے کہ ممدو کے علاج میں اس کے سارے پیسے خرچ ہو گئے جس کی وجہ سے وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو سکی۔

اقتباس ملاحظہ کریں۔

” اماں حج کر کے لوٹیں تو بہت خوش تھیں کہنے لگیں منجھلے میاں! اللہ نے اپنے حبیب کے صدقے میں حج کرا دیا مدینے طیبہ کی زیارت کرا دی اور تمہاری انا ہوا کی دوسری وصیت بھی پوری کرائی عذاب ثواب جائے بڑی بی کے سر ہم نے تو ہرے گنبد کی طرف منہ کر کے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ! با سودے والی مریم فوت ہو گئیں مرتے وقت کہہ رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم جی سرکار! میں آتی ضرور مگر میرا ممدو بڑا حرامی نکلا۔ میرے سب پیسے خرچ کرا دیے“

اس افسانے میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے مال و متاع اور دولت کے نا ہونے کی وجہ سے غریب لوگ خدا کے گھر کا طواف اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت تک نہیں کر پاتے اور اسی آرزو کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

مریم کا کردار اسد محمد خان کے بہترین کرداروں میں سے ایک ہے یہ ایک جاندار اور حقیقی کردار ہے۔ اسد محمد خان کے کردار اپنے ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں مریم کا کردار اگرچہ ایک نا خواندہ کردار ہے۔ مگر وہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔

مبین مرزا اس کردار کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

”کیا مریم ہند اسلامی کلچر کے اس وقت کا استعارہ نہیں جو اپنے مرکز سے دور ہے اس کے تاریخی و جغرافیائی فکر و فہم سے عاری ہے لیکن اس کے باوجود یہ قوت کھینچتی ہے اپنے مرکز ہی کی طرف“

باسودے کی مریم کا بیانیہ سیدھا سادہ ہے اور بقول گوپی چند نارنگ

”اسد محمد خان نے علامتی و تمثیلی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے سیدھی سادی کہانیاں لکھیں کیونکہ علامتی یا تمثیلی کہانی ہی تو کل کہانی نہیں سیدھی سادی کہانی کی گنجائش بہر حال ہمیشہ رہے گی کیونکہ یہ انسانی فطرت کے ایک بنیادی تقاضے کو پورا کرتی ہے“

سماجی مسائل کی ترجمانی :

اسد محمد خان نے اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر موجود عہد کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی اصلاح کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے مختلف طبقوں کے مسائل اور پریشانیوں کی آواز انسان کے اندر ڈوب کر سننے کی کوشش کی ہے۔ اسد محمد خان عورت کی جسم فروشی کا ذمہ دار بھی معاشرے کو سمجھتے ہیں۔ اس کا مرتکب پورا معاشرہ ہے جو اس کا استحصال کر رہا ہے۔ یہ سماجی پہلو بھی ہمیں ان کے افسانوں میں واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے۔

عہد جدید کی افراتفری کی عکاسی

اسد محمد خان عہد جدید میں بڑھتی ہوئی بے یگانگی اور نفرت کو ختم کرنے کے لیے مختلف حربے آزماتے ہیں۔ مختلف کرداروں کے ذریعے پامال ہوتی اخلاقی اقدار اور بے لوث محبت اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک غریبوں کو بھی حق اور انصاف دیا جائے ان کی محنت پر اجارہ داری قائم کرنے کی بجائے خاندانی وجاہت کو بالائے طاق رکھ کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

اسد محمد خان نے اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعے نہ صرف عہد جدید کی بہترین عکاسی کی ہے بلکہ غریب لوگوں کے استحصال کو منفرد انداز میں قلمبند کیا ہے۔ یہ سب کرنے کے لیے بعض اوقات علامتوں کے ذریعے حقیقت کا اظہار کرتے ہیں۔ آج کا غریب انسان جس وحشت زدہ ماحول میں جی رہا ہے ان کے اندر سختیوں کی وجہ سے بغاوت سر اٹھاتی ہے۔ جہاں مذہب، عقیدے اور ملک کو نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لوگوں کی انا کو کچل دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں نفرتیں اور بغاوتیں ہی جنم لیں گی اس افراتفری میں اخلاقی نظام درہم برہم ہو گیا ہے قدریں روند ڈالی گئیں ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو گیا ہے۔ اسد محمد خان نے اس ساری صورتحال کی بہترین عکاسی اپنے افسانوں میں کی ہے۔

Facebook Comments HS