بچہ کس سٹیشن پہ کھڑا ہے؟
آپ میں سے بے شمار لوگ شاکی رہتے ہیں کہ نو مہینے ڈاکٹر کو چیک کروایا، سب ٹھیک تھا۔ درد زہ شروع ہوئے تب بھی سب بھلا تھا۔ دس بارہ گھنٹے درد برداشت کرنے کے بعد ڈاکٹر نے سیزیرین کر دیا کہ بچہ نیچے نہیں آ رہا۔ یہ کیا بات ہوئی؟ نرا دھوکا۔ پیسے کمانے کے ہتھکنڈے۔
اگر ہم گائناکالوجسٹ نہ ہوتے تو ڈاکٹر کا جواب سن کر یہ ضرور سوچتے کہ کہاں کھڑا تھا بچہ جہاں سے نیچے نہیں آ رہا تھا؟
لیکن ہمیں تو اس کے پیچھے موجود کہانی کا خوب علم ہے سو جی چاہتا ہے کہ بچے کے کھڑی ہونے کی کہانی آپ کو بھی آپ بھی سنائیں۔
نو ماہ کے حمل میں سب اچھا کی گردان اگر کی جاتی ہے تو وہ ماں اور بچے کی صحت کے متعلق ہوتی ہے، زچگی کے عمل کے لئے ہر گز نہیں۔ ماں اور بچے کا وزن، بچے کے گرد پانی، آنول نال کی پوزیشن اور بچے کی پوزیشن، بلڈ پریشر اور شوگر کے مسائل، بچے کے دل کی دھڑکن۔ یہ ہیں طبعی حمل کے مسائل اور اگر کوئی اور مسئلہ نمودار ہو جائے تو وہ بھی۔
زچگی کے دوران کے مسائل مختلف ہیں ؛ درد زہ شروع ہوئے۔
دس منٹ کے دورانیے میں کتنی بار درد آئے؟
تیز آئے یا ہلکے؟
درد کے ساتھ بچے کے دل کی دھڑکن ٹھیک رہی یا خراب ہونا شروع ہو گئی؟
بچے دانی کا منہ کتنا کھلا؟
زور لگوانے کا وقت آیا کہ نہیں؟
یہ ہیں وہ مسائل جن سے نمٹتے ہوئے ڈاکٹر بتاتی ہے کہ سب اچھا۔ اور صاف بات یہ ہے کہ اس وقت تک سب اچھا ہی ہوتا ہے۔
بچے کے نیچے آنے کا مرحلہ تب شروع ہوتا ہے جب بچے دانی کا منہ دس سینٹی میٹر یا چار انچ کے برابر کھل جائے اور بچے دانی بچے کو نیچے یعنی باہر کی طرف دھکیلنا شروع کرے۔ ابتدا میں زچہ کو ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ زور لگائے جب تک بچہ ایک خاص سٹیشن پر نہ پہنچ جائے۔
کون سا سٹیشن؟
بچہ ماں کے پیٹ سے آ رہا ہے یا کسی ٹرین میں بیٹھا ہے جو سٹیشنز پہ رکتی اور چلتی ہے؟
بچے کا دنیا کی طرف پہلا سفر ویجائنا میں طے ہوتا ہے اور ویجائنا کو میڈیکل سائنس نے مختلف سٹیشنز میں تقسیم کیا ہے تاکہ بچے کی پوزیشن متعین کر کے یہ حساب لگایا جا سکے کہ ماں اور بچہ یہ سفر کسی نقصان کے بغیر کیسے طے کر سکتے ہیں؟
ویجائنا ایک نالی نما راستہ ہے جس کا ایک سرا باہر کی دنیا سے اور دوسرا بچے دانی سے منسلک ہے۔ ویجائنا کی لمبائی تقریباً دس سینٹی میٹر یا چار انچ ہے اور بچے اس راستے کو دو یا تین گھنٹے میں طے کرتا ہے۔ اس لمبائی کے وسط میں کولہے کی ایک ہڈی کو ویجائنا میں ٹٹولا جا سکتا ہے جس کا نام اسکیل سپائن Ischial spine ہے اور یہ جگہ زیرو سٹیشن کہلاتی ہے۔ زیرو سٹیشن ایک اہم جگہ ہے کہ بچے کیا یہاں سے آگے کا سفر یہ فیصلہ کرواتا ہے کہ زچگی طبعی ہو گی یا سیزیرین؟
زیرو سٹیشن سے اوپر اور نیچے بہت سے سٹیشنز ہیں۔ زیرو سٹیشن سے اوپر بچے دانی کی طرف والے سٹیشنز کو مائنس کہا جاتا ہے اور زیرو سے نیچے والوں کو پلس۔
سٹیشنز کی تعداد امریکن اور برطانوی سسٹم میں مختلف ہے۔ ویجائنا کی دس سینٹر میٹر لمبائی کو امریکی سسٹم میں دس سٹیشنز میں تقسیم کیا جاتا ہے اور برطانوی اسے چھ سٹیشنز میں بانٹتے ہیں۔ پاکستان میں برطانوی سسٹم رائج ہے۔
سو حساب کتاب کچھ یوں ہو گا کہ اگر بچے کا سر زیرو سے ڈیڑھ سینٹی میٹر اوپر تو کہا جائے گا بچے کا سر مائنس ون یا منفی ایک پہ۔ اگر بچے کا سر زیرو سے تین سینٹر میٹر اوپر تو کہا جائے گا مائنس ٹو یا منفی دو اور اگر بچے کا سر ساڑھے چار سینٹر میٹر تو کہا جائے گا مائنس تھری یا منفی تین۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہماری سینئیر نے ہمیں کہا کہ ویجائنا میں اسکیل سپائن کو اپنی انگلیوں سے ٹٹول کر محسوس کرو۔ اللہ معاف کرے، دستانہ پہنے ہوئے دو انگلیاں اور ویجائنا کی اندھی تاریکی۔ سینئر کی ہدایات سنتی انگلیاں بھٹکتی پھریں کبھی دائیں کبھی بائیں، کبھی اوپر نیچے۔ لیکن کچھ سمجھ نہ آیا کہ کہاں ہے وہ ہڈی جو زیرو سٹیشن کہلاتی ہے۔ اس جدوجہد میں ابن صفی کا زیرو سٹیشن یاد آ گیا۔
ویسے اس جگہ پہ بہت سے تجربہ کاروں کے بھی پر جلتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ زیرو سٹیشن سے اوپر اور نیچے آنکھ سے دیکھ نہیں سکتے۔ مائنس ون، ٹو، تھری تصوراتی سٹیشنز ہیں جنہیں زیرو سٹیشن کی مناسبت سے یہ نام دیے گئے ہیں۔ اپنی انگلی کی مدد سے بچے کا سر ٹٹولنا، پھر زیرو سٹیشن کو کھوجنا اور پھر یہ حساب لگانا کہ انگلی ان کے درمیان جتنا فاصلہ محسوس کر رہی ہے وہ ڈیڑھ سینٹی ہے، دو، ڈھائی یا تین۔ ذرا دیکھیے اور پھر سوچیے کہ ایک سینٹی میٹر کتنا ہوتا ہے؟ اور اس کا ویجائنا میں اندازے سے متعین کرنا کس قدر مشکل؟ ویسے آپس کی بات ہے، جونئیر ڈاکٹرز کا یہ اندازہ کافی حد تک کمزور ہوتا ہے۔ برس ہا برس کی ریاضت ہی اس قابل بناتی ہے کہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔
بچے کا سر جب تک منفی تین، دو یا ایک پر رہتا ہے۔ زچہ کو زور لگانے سے منع کیا جاتا ہے۔ زیرو سٹیشن پر پہنچ کر کچھ امید بندھتی ہے کہ بچہ نیچے آ رہا ہے۔ زیرو سے نیچے کا سفر پلس ون، ٹو اور تھری زچہ کے زور لگانے سے طے ہوتا ہے۔
لیکن اس وقت کیا ہو جب بچہ زیرو پر یا پلس ون پر پھنس جائے؟ بچہ اس قدر نیچے ہوتا ہے کہ ہر درد کے ساتھ بچے کے بال نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن ابھی بھی بچہ باہر نکلنے کے مراحل سے دور ہوتا ہے۔
یاد رکھیے کہ اس سٹیج پہ سی ٹی جی ہونا ضروری ہے تاکہ آگے بچے کے دل کی دھڑکن خراب ہو تو علم ہو سکے۔
اگر بچہ مقررہ وقت پر زیرو سٹیشن یا پلس سٹیشن سے نیچے نہ آ سکے تو ڈاکٹر کے پاس دو ہی آپشنز بچتے ہیں ؛ بچے کو اوزار لگائے جائیں یا سیزیرین کیا جائے۔
اوزار کی کامیابی بھی سو فیصد نہیں ہوتی۔ اوزار لگا سر ایک خاص حد تک ہی کھینچا جا سکتا ہے اور اگر اس حد سے تجاوز کیا جائے تو بچے کو پہنچنے والے نقصان میں شدت آ جاتی ہے۔
اگر اوزار لگائے جائیں اور بچہ تب بھی نہ نکلے تب سیزیرین کیا جاتا ہے لیکن یہ سیزیرین کسی سینئیر کو کرنا چاہیے کہ ویجائنا میں ہونے والی کھینچا تانی نہ صرف اسے بری طرح چیر پھاڑ دیتی ہے بلکہ پیشاب اور پاخانے والے اعضا کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
اور یہی وہ مرحلہ ہے جب مریضہ بے حال پڑی ہوتی ہے، رشتے دار چیخ رہے ہوتے ہیں کہ سیزیرین کیوں؟ اور ڈاکٹر کے سر پہ زچہ و بچہ کو بچانے کا بھوت سوار ہوتا ہے۔
زچگی کی سائنس ایک تکنیک ہے اور آپ کو اسے سیکھنا چاہیے تاکہ جب ڈاکٹر آپ کو کہے کہ بچہ نیچے نہیں آ رہا تو آپ اسے یہ پوچھ کر حیران کر سکیں، کون سا سٹیشن؟


