کیا آپ نوجوانوں کے لیے سائنسی خواب دیکھتے ہیں؟
مصنفین: ڈاکٹر خالد سہیل
قدیر قریشی
قدیر قریشی کے نام سائنسی محبت نامہ
محترمی و معظمی قدیر قریشی صاحب!
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ انٹرنیٹ پر ”سائنس کی دنیا“ کے ساتھ ایک مدت سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے نوجوانوں کو سائنسی سوچ سے متعارف کروا رہے ہیں۔ میرے دو اشعار ہیں
حدیث کرب نہاں اب کرے بیاں کوئی
سنائے جبر مسلسل کی داستاں کوئی
ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں
کہاں سے آئے گا آزاد نوجواں کوئی
قبلہ و کعبہ!
ہماری قوم تو صدیوں سے جس رسم اور رواج ،مذہب اور روایت کی اندھی تقلید کی عادی ہو چکی ہے اس تاریکی میں علم و دانش کی شمع جلانا قابل صد تحسین عمل ہے۔
اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں نے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا
آپ کو خط لکھتے ہوئے مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جس نے مجھے سائنسی سوچ سے متعارف کروایا۔
میں بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ پشاور کی عیدگاہ کے پاس چارسدہ روڈ پر رہا کرتا تھا۔ عید گاہ میں سال میں دو دفعہ عید کی نماز پڑھائی جاتی تھی باقی سارا سال ہم عید گاہ کے باغ میں فٹبال کھیلا کرتے تھے۔
جب میری عمرہ بارہ برس کی تھی ایک شام جب ہم سب دوست عیدگاہ میں فٹ بال کھیلنے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں افراد وہاں نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی۔ کیونکہ نہ تو وہ عید کا دن تھا اور نہ ہی صبح کا وقت۔
ہمارے محلے کے ایک بزرگ قریب سے گزر رہے تھے میں نے پوچھا
،باباجی یہ لوگ کس قسم کی نماز رہے ہیں؟،
باباجی نے بڑی شفقت سے کہا
،بیٹا یہ نماز استسقا پڑھ رہے ہیں، ۔
،وہ کیا ہوتی ہے؟، میں نے اپنے تجسس کا اظہار کیا
باباجی نے کہا ،کئی ہفتوں سے بارش نہیں ہو رہی۔ سخت گرمی پڑ رہی ہے۔ لوگ حرارت کی شدت سے نڈھال ہو رہے ہیں۔ اس لیے لوگ بارش کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ ،
بابا جی کی بات میرے دل کو نہ لگی۔
اگلے دن جب میں نے اپنی سکول کے سائنس ٹیچر سے پوچھا
،سر کیا دعا کرنے سے بارش ہو سکتی ہے؟
میرے ٹیچر نے کہا
،آپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟،
میں نے اپنے ٹیچر کو بتایا کہ گزشتہ کل عید گاہ میں سینکڑوں لوگ بارش کی دعائیں مانگ رہے تھے۔
میرے سائنس کے ٹیچر نے کہا
،بیٹا! چاہے
وہ بارش ہو یا طوفان
سردی ہو یا گرمی
دھوپ ہو یا آندھی
تمام موسم اور ان میں تغیرات قوانین فطرت کی وجہ سے ہوتے ہیں دعاؤں کی وجہ سے نہیں۔ ،
باباجی کی اور اپنے سائنس کے ٹیچر کی باتوں میں تضاد کو حل کرنے اور سچ جاننے کے لیے میں نے بارش کا انتظار کرنا شروع کر دیا
ایک دن دو دن تین دن
ایک ہفتہ دو ہفتے تین ہفتے
جب ایک ماہ گزر گیا اور بارش نہ ہوئی تو میں نے بابا جی سے پوچھا
،بابا جی سینکڑوں لوگوں نے دعائیں مانگیں لیکن چار ہفتوں سے بارش کیوں نہیں ہوئی؟،
بابا جی حسب عادت مسکرائے اور کہا
،بیٹا! دعا مانگنے والے سب گنہگار تھے۔ خدا صرف نیک لوگوں کی دعائیں قبول کرتا ہے، ۔
باباجی کے جواب نے میری الجھن کو سلجھانے کی بجائے اور الجھا دیا اور میں سوچنے لگا۔ انسان نیک ہوں یا بد وہ سب خدا کے بچے ہیں اور اگر خدا ماں کی طرح مہربان ہے تو اپنے بچوں کو اتنا ترسانا نہیں چاہیے اور بارش کا تحفہ بھیج دینا چاہیے۔
جب میرے سائنس کے ٹیچر نے قوانین فطرت کا ذکر کیا تو میرے تجسس میں اضافہ ہوا جو میڈیکل کالج میں اور بڑھا۔
میں نے لائبریری جا کر کتابیں پڑھنی شروع کیں اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ قوانین فطرت کس نے دریافت کیے۔ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ سائنس کی ابتدا یونان کے فلسفیوں سے ہوئی۔
یونانی فلاسفر تھیلز آف میلیٹس وہ پہلے فلاسفر تھے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کائنات کو خدا نہیں چند قوانین فطرت چلا رہے ہیں۔ تھیلز آف میلیٹس نے فلسفیوں اور سائنسدانوں سے کہا کہ ان کی یہ سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق کریں اور قوانین فطرت جانیں۔
جب میں میڈیکل کالج میں تھا اور طب کا مطالعہ ہو رہا تھا تو مجھے پتہ چلا کہ یونانی فلاسفر اور طبیب بقراط وہ پہلے طبیب تھے جنہوں نے مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔ اسی لیے اب بقراط
FATHER OF MEDICINE
کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔
بقراط کی تعلیمات سے پہلے یونانی مریض یہ سمجھتے تھے کہ ان کی بیماریاں ان کے گناہوں کی سزا ہیں۔ وہ بیماری سے شفایاب ہونے لیے خدا سے دعائیں مانگتے تھے اور قربانیاں دیتے تھے۔
بقراط نے اپنے مریضوں کو بتایا کہ ان کی بیماریوں کا ان کے گناہوں سے کوئی تعلق نہیں۔ بیماریوں سے بچنے کے لیے انہیں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ بقراط اپنے مریضوں کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ
متوازن خوراک کھائیں
بہت سا پانی پئیں
ہر روز ورزش کریں اور
رات کو گہری نیند سوئیں
بقراط کے مشورے آج بھی اتنے ہی قیمتی ہیں جتنے وہ دو ہزار سال پہلے تھے۔
بقراط نے جس سائنسی سوچ کی بنیاد رکھی اس پر ہر صدی میں سائنسدانوں اور ڈاکٹروں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔
بیسویں صدی میں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مسائل پر بھی تحقیق کی گئی۔ اس سلسلے میں سگمنڈ فرائڈ ،کارل ینگ، ہیری سٹاک سالیوان اور مرے بوون جیسے ماہرین کی خدمات قابل قدر ہیں۔
میں نے بھی اپنے کلینک میں ایک نفسیاتی طریقہ علاج دریافت کیا ہے جسے ہم گرین زون تھراپی کہتے ہیں۔ یہ ایک اپنی مدد آپ کا پروگرام ہے
SELF HELP PROGRAM
ہم اپنے مریضوں کی مدد کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسیاتی مسائل کو شعوری طور پر خود سمجھیں اور پھر اپنی مدد آپ کر کے دوبارہ صحتمند ہوں۔
قدیر قریشی صاحب!
میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب والدین ،سب اساتذہ اور سب ماہرین نفسیات کی سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سائنسی تعلیم دیں تا کہ وہ اپنے مسائل کا حقیقت پسندانہ حل تلاش کر کے اپنی زندگی میں دانشمندانہ فیصلے کر سکیں اور ایک صحت مند، خوشحال اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔
قدیر قریشی صاحب!
اب جبکہ میری عمر بہتر سال ہو گئی ہے اور میں زندگی کی شام میں داخل ہو چکا ہوں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ
تجربہ
مشاہدہ
مطالعہ
اور
تجزیہ
وہ راستے ہیں جن پر چل کر ہم زندگی کے راز جان سکتے ہیں اور بہتر انسان بن سکتے ہیں۔
حضور والا!
اب میں آپ سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کے جوابات سے "ہم سب” کے قارئین آپ کے خیالات و نظریات سے واقف ہوں گے۔
”سائنس کی دنیا“ کب وجود میں آئی؟
آپ ”سائنس کی دنیا“ میں کب اور کیسے متعارف ہوئے؟
آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
آپ کے پاکستانی نوجوانوں کے بارے میں کیا سائنسی خواب ہیں؟
جانے سے پہلے آپ کو دو اشعار سناتا جاؤں۔ امید ہے موضوع کے حوالے سے آپ کو یہ اشعار پسند آئیں گے۔
نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے
ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے
حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا
ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے
جواب کا منتظر۔ خالد سہیل
قدیر قریشی کا جواب
محترم خالد سہیل صاحب
آپ کی ذرہ نوازی کے لیے بے حد مشکور ہوں۔
آپ کی طرح مجھے بھی بچپن سے ہی کتابوں میں دلچسپی تھی۔ لیکن کتابیں پڑھنے کا جنون نوجوانی میں ہوا جس کے محرکات علمی یا ادبی نہیں بلکہ محض لاہور کی شدید گرمی سے کچھ وقت کے لیے بچنا تھا۔ لاہور میں ہم لکشمی چوک کے پاس نسبت روڈ پر رہتے تھے۔ ہمارے نواح میں دیال سنگھ لائبریری تھی جو لاہور کی بڑی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زمانے میں ائرکنڈیشننگ تو میسر نہیں تھی لیکن دیال سنگھ لائبریری کی عمارت بہت بلند تھی، بلند چھتوں کی وجہ سے لائبریری میں درجہ حرارت باہر کی نسبت بہت کم ہوتا تھا۔
اس لیے گرمیوں کی چھٹیوں میں میرا تمام دن دیال سنگھ لائبریری میں گزرتا تھا۔ لائبریری کے ہال میں ایک میز پر ان کتابوں کا ڈھیر ہوتا تھا جو ممبران نے واپس کی ہوتی تھیں۔ میں ان میں سے کوئی ایک کتاب اٹھا کر ایک کونے میں بیٹھ جاتا اور اکثر اوقات کتاب ختم کر کے ہی لائبریری سے نکلتا۔ اس طرح اردو ادب سے میری روشناسی ہوئی
دیال سنگھ لائبریری کے علاوہ گرمیوں میں میری دوسری جائے پناہ لاہور میں امریکن سینٹر کی لائبریری تھی جس میں کتابیں تو کم تھی لیکن لائبریری ائرکنڈیشنڈ ہوا کرتی تھی۔ وہاں پر زیادہ تر کتابیں امریکی طرز حکومت اور امریکی سیاست پر تھیں جن میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہاں پر میگزینز بہت سے میسر تھے۔ اس لائبریری میں میرا زیادہ وقت سائنٹیفک امریکن اور پاپولر مکینکس میگزین پڑھتے گزرتا۔ اس طرح مجھے نہ صرف اس وقت کی جدید ترین سائنسی تحقیق کے نتائج کا علم ہونے لگا بلکہ سائنس میں عمومی دلچسپی بھی بڑھنے لگی۔ یہ دلچسپی نہ صرف ابھی تک موجود ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے
اس کے علاوہ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا بھی شدت سے احساس ہوتا گیا کہ ہمارے ہاں سائنسی طرز فکر کا مکمل فقدان ہے۔ اکیسویں صدی میں کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اس قوم کی نوجوان نسل میں سائنسی سوچ پروان چڑھے، ان میں درست انفارمیشن تلاش کرنے کی قابلیت ہو اور درست اور غلط انفارمیشن میں تمیز کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اکیسویں صدی انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور بائیو ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ اگر ہماری قوم کے نوجوانوں کو مستقبل میں بین الاقوامی لیول پر کامیاب ہونا ہے تو نوجوانوں کے لیے ان فیلڈز میں مہارت حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان فیلڈز میں مہارت کے لیے منطقی سوچ بنیادی ضرورت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت عرصے سے میری خواہش تھی کہ اپنی جاب سے ریٹائر ہونے کے بعد میں تعلیم و تدریس کا کوئی سلسلہ شروع کروں۔ یہ خواہش اس وقت سے تھی جب ابھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایجاد نہیں ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا کی ایجاد کے بعد یہ کام قدرے آسان ہو گیا کہ اب ہم گھر بیٹھے بہت سے لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں، ان سے سیکھ سکتے ہیں، ان سے انفارمیشن کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ جب میں نے فیس بک، یوٹیوب وغیرہ استعمال کرنا شروع کیا تو ایسی سائٹس تلاش کرنے لگا جہاں سے مستند سائنسی معلومات لی جا سکیں۔ بہت جلد مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ کون کون سی سائٹس سے قابل اعتماد انفارمیشن مل سکتی ہے
انہی دنوں مجھے فیس بک پر ایک گروپ نظر آیا جس کا نام ”سائنس کی دنیا“ تھا۔ چونکہ مجھے سائنس میں ہمیشہ دلچسپی رہی ہے اور یہ گروپ سائنس سے متعلق انفارمیشن اردو میں فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا تھا اس لیے میں بھی اس گروپ کا ممبر بن گیا اور گاہے بگاہے ممبران کے مختلف سوالات کے جواب دینے لگا۔ یہ واقعہ آج سے ٹھیک دس سال پہلے یعنی اگست 2014 کا ہے۔ اس وقت اس گروپ میں لے دے کر کچھ اڑھائی ہزار ممبرز تھے۔ اس وقت مجھے یہ معلوم نہیں تھا لیکن کچھ ہی دنوں بعد یہ معلوم ہو گیا کہ ”سائنس کی دنیا“ گروپ اگست 2014 میں ہی تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کی تشکیل منیب احمد ساحل صاحب اور کچھ دوسرے احباب نے مل کر کی تھی۔ گویا میں گروپ کے آغاز سے ہی گروپ کے ساتھ منسلک ہو گیا تھا
کچھ ہفتے یونہی ممبران کے کمنٹس کے جواب دیتے گزر گئے۔ پھر ایک پوسٹ دیکھی جس میں سوال تھا ،ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں، ۔ میں نے اپنی نیورو سائنس کی سطحی سی سمجھ کے مطابق اس پوسٹ پر کمنٹ میں ایک دو پیراگراف پر مبنی جواب لکھ دیا۔ اس جواب پر کافی لائیکس آئے اور کچھ ممبران نے درخواست کی کہ میں اس کمنٹ کو باقاعدہ پوسٹ بنا کر پوسٹ کروں۔ اس وقت مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کی کسی گروپ پر پوسٹ کیسے کی جاتی ہے۔ بہرحال اپنے اس کمنٹ میں کچھ کانٹ چھانٹ کر کے اور کچھ اضافی جملے لکھ کر میں نے ،ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں، کے عنوان سے سائنس کی دنیا گروپ پر پوسٹ ڈال دی۔ یہ سائنس کی دنیا گروپ میں میری پہلی پوسٹ تھی۔ پھر اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
میری پوسٹس اور کمنٹس کچھ مقبول ہونے لگے اور مثبت فیڈ بیک ملنے لگی تو مجھے گروپ کی انتظامیہ میں شامل کر لیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی ٹیم میں نئے لوگ شامل ہوتے گئے اور کچھ پرانے ٹیم ممبرز اپنی مصروفیات کی وجہ سے گروپ چھوڑ گئے۔ اب گروپ کی انتظامیہ کی موجودہ ٹیم میں شاید میں سب سے پرانا ممبر ہوں
اس وقت سائنس کی دنیا کے ممبران کی تعداد لگ بھگ پونے آٹھ لاکھ ہے۔ اتنے بڑے گروپ میں ڈسپلن قائم رکھنا، پوسٹس کا معیار قائم رکھنا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ گروپ میں ہمیشہ مستند سائنسی انفارمیشن ہی شیئر ہو بہت محنت طلب کام ہے جس پر بہت وقت لگانا پڑتا ہے۔ ہمارے فورم کے قواعد خاصے کڑے ہیں۔ فورم پر مذہب، سیاست یا سائنس کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو ممنوع ہے۔ اس کے علاوہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ممبران ایک دوسرے سے تہذیب کے دائرے میں رہ کر گفتگو کریں۔
گروپ میں ہمیشہ ایک دوسرے کو "آپ” کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، کسی کو "تم” یا "تو” کہہ کر مخاطب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر کسی پوسٹ پر کسی متنازعہ مسئلے پر بحث ہو رہی ہو تو خاص طور پر اس بات پر توجہ دی جاتی ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔ گروپ کا مقصد صرف مستند سائنسی انفارمیشن فراہم کرنا اور سائنسی سوچ پیدا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ ممبران کو مہذب محفلوں میں گفتگو کے آداب سکھانا بھی ہے۔
ارتقاء کا موضوع ہمارے ہاں خاص طور پر متنازعہ سمجھا جاتا ہے، ارتقاء کے نظریے کے خلاف بہت زیادہ منفی پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور اسے الحادی نظریہ قرار دیا جاتا ہے جو ہمارے عقائد کے منافی ہے۔ اس لیے بہت سے ممبران جب ارتقاء پر کوئی پوسٹ دیکھتے ہیں تو بعض اوقات انہیں یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمارے فورم پر الحاد کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ ہمیں بار بار ممبران کو یہ سمجھانا پڑتا ہے کہ ارتقاء کا نظریہ بیالوجی کی سائنس کا بنیادی نظریہ ہے جس کا الحاد یا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
فورم پر مذہب اور الحاد دونوں کے پرچار پر مکمل پابندی ہے اور اس اصول پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ فورم کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور گروپ کے خلاف الزام تراشی سے نہیں چوکتے۔ میری رائے میں سائنس کی دنیا فورم کو مکمل طور پر مذہب یا الحاد سے الگ رکھنا اور صرف مستند سائنس پر ہی فوکس کرنا ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا بہت سا وقت غیر ضروری پوسٹس کو ریجیکٹ کرنے، نامناسب کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنے اور قواعد کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ بعض اوقات مجھے شدید فرسٹریشن محسوس ہوتی ہے کہ جو وقت ہمیں سائنس کے بارے میں لکھنے یا ممبران کے سوالات کے درست جوابات دینے میں صرف کرنا چاہیے، وہ وقت ہم اشتہارات، سیاسی جلسوں، یا اسی قسم کی دوسری بے معنی پوسٹس کو ڈیلیٹ کرنے پر صرف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ فورم کی کوالٹی کو برقرار رکھا جا سکے
لیکن ان سب مسائل کے باوجود مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کو سائنس میں دلچسپی ہے اور ممبران کی اکثریت میں وہ تجسس موجود ہے جو سائنسی تحقیقی کے لیے بنیادی ضرورت کا درجہ رکھتا ہے۔ میری رائے میں سائنس کی دنیا کا ایک اہم کنٹریبیوشن یہ ہے کہ سائنس کی دنیا نے سائنس پر لکھنے والے نوجوانوں کی ایک نئی کھیپ کو انسپائر کیا ہے۔ اس وقت بہت سے نئے لکھنے والے سائنس کے مختلف موضوعات پر بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سے ممبران ہمیں سائنس کی دنیا گروپ میں کمنٹس کی صورت میں اور انباکس میں یہ فیڈ بیک دیتے ہیں کہ سائنس کی دنیا گروپ نے ان کی سوچ میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور اب وہ تعصبات اور توہمات کی دنیا سے نکل کر منطقی سوچ کے قابل ہو گئے ہیں۔ ہمیں ایسے کئی ممبران کی فیڈ بیک ملتی ہے جنہوں نے سائنس کے کسی شعبے میں ایم ایس سی کر رکھی ہے لیکن ان کے اپنے بیان کے مطابق سائنس کی دنیا کی بدولت انہیں اپنے فیلڈ کی سمجھ اب آنے لگی ہے۔ جس تیزی سے سائنس کی دنیا گروپ نوجوانوں میں مقبول ہو رہا ہے اس سے یہ امید بندھ چلی ہے کہ پاکستان میں سائنس اور سائنسی سوچ کا مستقبل روشن ہے
آپ اور آپ جیسے بہت سے سینیئر لکھنے والے میرے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہم سب کا مشن ایک ہی ہے، کہ اپنی تحاریر سے لوگوں کے ذہنوں میں وسعت پیدا کی جائے اور لوگوں میں خود سوچنے، سوال کرنے، اور پرکھنے کی قابلیت پیدا کی جائے۔ اس مشن میں ہم کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن سوشل میڈیا کی بدولت ہم سب مل کر جو دیپ سے دیپ جلا رہے ہیں، اس کی روشنی پھیلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی
دعا گو
قدیر قریشی




Once again very thoughtful article and pleasure meeting with Qadeer Sahab and happy to know still in Pakistan such mindset are available who believes and thinking and work for betterment of our .
young fragile youth of Pakistan