گمشدہ خطوط اور کتابیں
جب اس گھر کے حقیقی وارث دوسرے شہر منتقل ہوئے تو اسے کرائے پر دینے کے لیے خالی کر دیا گیا۔ لیکن دہائیوں پرانے اور کئی نسلوں کے بسائے ہوئے گھر یوں خالی نہیں ہوا کرتے! گو کہ ارکان رخصت ہو گئے۔ لیکن گھر کا سامان اکٹھا کر کے چوبارے والے بڑے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اور یوں اس گھر نے خوشی یا بے دلی سے اپنی بانہیں کرایہ داروں کے لیے کھول دیں۔
ایک روز میں کرایہ داروں سے اجازت لے کر چوبارے والے کمرے میں سامان کی خبر لینے پہنچا۔ گو کہ وہ کمرہ بہت بڑا تھا لیکن سامان اتنا زیادہ تھا بمشکل قدم پڑ رہا تھا۔ ہر شے پر گرد کی ایک چادر بچھی ہوئی تھی۔ فرنیچر، کپڑے، برتن اور سب سے بڑھ کر کتابیں۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب وہ کتابیں چھتوں کو چھوتی الماریوں کی زینت ہوا کرتی تھیں۔ آج ایک اجڑے دیار کی مانند ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔ وہ کتابیں اس بسے گھر کا ایک لازمی حصہ تھیں۔ پھر وہ باسی ان کو پیچھے بے یار و مددگار کیوں چھوڑ گئے؟
اس سامان کو دیکھ کر مجھے ناسٹلجیا محسوس ہونے لگا۔ ہر شے میرے سامنے ایک منظر کھینچ لاتی۔ فضا میں رچی گرد گھر کے گزشتہ وقت میں سانس لیتی محسوس ہوئی۔ گو کہ میرا بدن اس کمرے میں محصور تھا۔ لیکن میری روح اس گھر کے چپے چپے پر پرواز کر رہی تھی۔ میرا جی چاہا کہ میں دنیا سے منہ چھپا کر اسی کمرے میں بسیرا ڈال دوں۔
میری نظر ایک کتاب پر پڑی۔ ”آج کی دوسری کتاب، چیک ادیب میلان کنڈیرا کی تحریروں کا انتخاب۔“ میں وہ کتاب لے کر اپنے گھر آ گیا۔ مندرجات پر نظر ڈالی تو ایک تحریر کا عنوان دلچسپ لگا: ”گمشدہ خطوط، ناول کا ایک حصہ۔“ پڑھنے بیٹھ گیا۔ وہ تحریر ناول ”خندہ اور فراموشی کی کتاب“ کا چوتھا حصہ تھی۔ اس کا ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا تھا۔ اس میں تمینہ نامی ایک بیوہ عورت کی کہانی بیان کی گئی تھی۔
تمینہ جلاوطنی میں اپنے دن گزار رہی تھی۔ اسے اپنے شوہر سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ اس کی یاد کو زمانے کے ہاتھوں مندمل ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ تمینہ ایک کیفے میں معمولی نوکری کرتی تھی۔ وہ ایک خوش اخلاق میزبان تھی اور اپنے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔ ایک روز تمینہ کی ایک دوست نے اسے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ پراگ جا رہی تھی۔ پراگ کا سن کر وہ چونک اٹھی۔ اس نے اپنی دوست سے درخواست کی کہ واپسی پر اس کی ساس کے گھر سے اس کا ایک پیکٹ لیتی آئے۔
کتاب پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اس گھر میں وہ کتابیں بھی گمشدہ اور بے گھر ہو چکی تھیں۔ اب وہ اوروں کے رحم و کرم پر تھیں۔ ان کا کیا مستقبل تھا؟ اس بات نے مجھے بے چین اور مضطرب کر دیا۔ اس بے یقینی کو کم کرنے ایک روز میں پھر اس گھر کے چوبارے والے کمرے میں پہنچ گیا۔ سب سے پہلے یہ تعین کرنا تھا کہ کون سی کتاب کہاں موجود تھی۔ پھر بکھری ہوئی کتابوں کو ترتیب دینی تھی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے خاصہ وقت اور اجازت درکار تھی۔ گو کہ وہ گھر اپنا تھا۔ لیکن اس وقت وہ پرائے ہاتھوں میں تھا۔
تمینہ اور اس کا شوہر چیکوسلواکیہ سے غیر قانونی طور پر نکلے تھے۔ مشتبہ نظر آنے سے بچنے کے لیے انہوں نے ساتھ صرف ایک سوٹ کیس رکھا تھا۔ اس پیکٹ میں ان کے ایک دوسرے کے نام خطوط اور نوٹ بکس تھیں۔ بیرون ملک اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اسے یہ احساس ستاتا کہ ماضی دھندلا کر اس کی دسترس سے باہر ہو رہا تھا۔ اس کے شوہر کا چہرہ حافظے سے غائب ہونے لگا تھا۔
اپنے شوہر کے کہنے پر اس نے ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔ ان ڈائریوں میں ان کے ماضی اور محبت کی جزئیات موجود تھیں۔ سو وہ شدت سے ان ڈائریوں اور خطوط کی بازیافت چاہتی تھی۔ یادوں کا وہ محل بنانا چاہتی تھی جس میں وہ رہ سکے۔ اسے یہ سوچ کر دہشت ہوتی تھی کہ وہ نوٹ بکس غیروں کے ہاتھوں میں تھیں۔ اگر کوئی اجنبی آنکھ اس کے عشقیہ خطوط پر پڑی تو ان کی ساری قدر و قیمت غارت کر دے گی۔ یوں اس کا اپنا تشخص بھی جاتا رہے گا۔ اپنی ہی ڈائریوں کو وہ غیروں کی آنکھ سے پڑھے گی۔
ادھر میں نے تواتر سے اس گھر جانا شروع کر دیا۔ مجھے بھی ان کتابوں کو بازیافت کرانا تھا۔ کرایہ دار میری حرکات و سکنات سے حیران و پریشان تھے۔ لیکن میں اپنی عادت سے مجبور تھا۔ میں کچھ وقت اس کمرے میں گزارتا، کتابوں کی ترتیب درست کرتا اور چند کتابیں اپنے ساتھ گھر لے جاتا۔ تاکہ کوئی مجھ سے پوچھ گچھ نہ کرے۔ یوں کتابوں کی ایک غیر محسوس ہجرت شروع ہو گئی۔ ان کتابوں میں یونیسکو ”پیامی“ اور ”ماہ نو“ کے شمارے، شفیق الرحمٰن کی ”مدوجزر“ ، ”ایک یوگی کی آپ بیتی“ ، جمیل جالبی کی ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ اور سید قاسم محمود کی مرتب کردہ ”شاہکار افسانے“ وغیرہ شامل تھیں۔
تمینہ کی دوست نے پراگ جانے کا ارادہ تبدیل کر لیا۔ تمینہ نے کیفے میں ایک شخص سے دوستی کر لی۔ اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ شخص پراگ سے اس کا وہ پیکٹ لانے میں مدد کرے۔ وہ شخص تمینہ سے محبت کرنے لگا۔ شوہر کی وفات کے بعد وہ کسی اور مرد سے دوبارہ تعلق قائم نہیں کر پائی تھی۔ وہ جب بھی کوشش کرتی تو اس کے شوہر کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔ اسے ایسا لگتا کہ وہ اپنے شوہر کی یاد کے ساتھ بے وفائی کر رہی تھی۔ اس شخص کو جب تمینہ کی غرض معلوم ہوئی تو اس نے پراگ جانے اور وہ خطوط لانے سے معذرت کر لی۔ جن کے بارے میں تمینہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ اب موجود بھی تھے یا نہیں۔
اور میں کچھ کتابیں ہی فراموشی کے چنگل سے بازیاب کرا سکا۔ معلوم نہیں باقی کتابوں کا کیا بنا۔ اچھی اور نئی کتابوں کا اس گھر سے ”برین ڈرین“ ہو گیا۔ وہ رعایتی قیمت پر فروخت ہو گئیں۔ وہ کس ہاتھ، کس گھر پہنچیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بہت سی پرانی کتابیں ردی کے بھاؤ بک گئیں۔ وہ کسی کباڑی کی دکان پر منوں کباڑ کے نیچے دب کر رہ گئیں ہوں گی۔ یا پھر ریڑھی فروشوں کے ہاتھوں صفحہ در صفحہ ان کا خون ہوا ہو گا۔ علم کی ایسی بے قدری! کچھ کتابیں اس امید سے وہیں رہ گئیں کہ گھر کے پرانے باسی کسی روز لوٹ کر آئیں گے۔ تب اس گھر کی رونقیں بحال ہوں گی۔ اور ان کتابوں کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا جائے گا۔


